• Thu, 22 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

اوڑھنی اسپیشل: میری ایک کوشش سے کسی کی اصلاح ہوئی

Updated: September 14, 2023, 2:27 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ایک طالبہ کو تعلیم کی طرف متوجہ کیا


موجودہ دور ٹیکنالوجی کا ہے لیکن اس کے برے اثرات بھی دکھائی دیتے ہیں۔ موبائل فون کا نوجوان نسل پر کافی برا اثر پڑا ہے۔ ایک استاد کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنے طلبہ کو نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تعلیم بھی سکھائیں۔ میری کلاس کی ایک طالبہ جو کافی ہوشیار تھی لیکن اُس نے تعلیم کی جانب بے توجہی برتے ہوئے غلط قدم اٹھایا، میں نے اسے کافی سمجھایا۔ موجودہ دور کے لڑکے کس طرح لڑکیوں کو اپنے جال میں پھنسا کر دھوکہ دے رہے ہیں، اس سے بھی آگاہ کیا۔ ساتھ ہی ساتھ آخرت کا ڈر و خوف بھی دلایا۔ بار بار سمجھانے کے بعد وہ راہ راست پر آگئی، اس نے پڑھائی کی جانب دوبارہ توجہ دی اور ایچ ایس سی میں کالج میں پہلا مقام حاصل کیا۔ اس اصلاح کی وجہ سے مجھے کافی خوشی ہوئی۔ تم جہاں کہیں رہو اللہ سے ڈرو۔ (ترمذی) ہمیں ہر وقت اس حدیث کو یاد رکھنا چاہئے۔
میرن عبدالرشید دکنی (شولاپور، مہاراشٹر)
میری یہ چھوٹی سی کوشش رنگ لے آئی
میری ایک اسلامی بہن جو کہ بد اخلاقی و بے راہ روی کی شکار تھی، فیملی کا ہر فرد اس کے رویے سے متنفر تھا۔ لیکن مَیں نے نفرت کرنے کے بجائے اس کی اصلاح کا فیصلہ کیا۔ انتہائی نرم انداز اپناتے ہوئے میں نے اس سے کہا کہ اسلامی اخلاق و آداب، حسن معاشرت کی بنیاد ہیں۔ حسن اخلاق کی اہمیت اسی سے دو چند ہو جاتی ہے کہ ہمیں احادیث مبارکہ سے متعدد ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں عبادت کرنے والوں کے اعمال کو اُن کی بد اخلاقی کی بنا پر ضائع کر دیا گیا۔ میں نے مزید یہ بھی کہا کہ حسن اخلاق سے مراد گفتگو اور رہن سہن سے متعلقہ امور کو بہتر بنانا ہی نہیں بلکہ اسلامی تہذیب کے تمام تر پہلوؤں کو اپنانا اخلاق کی کامل ترین صورت ہے۔ با اخلاق انسان ہمیشہ دوسروں کے ساتھ محبت و احترام کے ساتھ پیش آتا ہے۔ لیکن تم نے ایک ایسی چیز کو اپنایا جس سے تمہارے اپنے ہی تم سے دور ہونے لگے۔ اسے بات سمجھ میں آنے لگی۔ نتیجتاً میری محنت رنگ لائی اور آج اس نے اپنے آپ کو بد اخلاقی و بے راہ روی سے بہت حد تک دور کر لیا ہے۔
زیبا فاطمہ عطاریہ (امروہہ، یوپی)
میری ساتھیوں کی اصلاح ہوئی


یہ اس وقت کی بات ہے جب مَیں آٹھویں جماعت میں تھی۔ اُس روز ۲۶؍ جنوری یعنی یوم ِ جمہوریہ تھا۔ اسکول میں پروگرام میں شرکت کے لئے ہم سب طلبہ حاضر ہوئے تھے۔ ہمیں پہلے ہی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ پروگرام کے دوران زمین پر بیٹھنا ہے، اس لئے زمین پر بچھانے کے لئے گھر سے پلاسٹک کی تھیلی یا اخبار ساتھ لانا ہے تاکہ یونیفارم گندا نہ ہو۔ اس پر ہم سبھی طلبہ نے عمل کیا لیکن پروگرام کے بعد سبھی پیپر اور پلاسٹک کی تھیلی یونہی چھوڑکر چلے گئے۔ صفائی والی ملازمہ نے اٹھانا شروع کیا تو مَیں بھی اٹھانے میں ان کی مدد کرنے لگی۔ یہ دیکھ کر دیگر طلبہ بھی صفائی کے لئے جٹ گئے۔ گھنٹے دو گھنٹے کا کام ۲۰؍ منٹ میں ہوگیا۔ صفائی ملازمہ نے مجھے کہا، ’’آپ کی وجہ سے سبھی نے میری مدد کی۔‘‘ اس طرح میری کوشش سے میرے سا تھیوں کی اصلاح ہوئی۔
صبرالنساء وارثیہ (وسئی، پال گھر)
وہ عورت اب سسرال والوں کے ساتھ رہتی ہے


میں ایک معلمہ ہوں۔ کچھ مائیں اپنے بچوں کو اسکول چھوڑنے کے لئے آتی ہیں تو ان سے تھوڑی بہت باتیں ہوجاتی ہیں۔ ایک مرتبہ ایک طلبہ کی والدہ میرے پاس آئی اور انہوں نے روتے ہوئے مجھے اپنے حالات سنائے۔ وہ اپنے شوہر اور سسرال والوں سے بدظن تھیں۔ سسرالی رشتے دار الگ گھر میں رہتے تھے، وہ الگ رہتی تھیں۔ شوہر اور بچے بار بار دوسرے گھر چلے جاتے اور یہ اکیلی رہ جاتیں۔ یہ تھوڑی سی ضدی مزاج خاتون ہیں۔ اب وہ اس بات پر بضد تھیں کہ میں انہیں ایسا کوئی وظیفہ بتاؤں کہ ان کا شوہر بس ان کا ہوکر رہے۔ میں نے انہیں بہت سمجھایا۔ شوہر کی بات ماننے، شوہر کا خیال رکھنے اور ان پر توجہ دینے کے لئے اصرار کیا۔ کچھ دیر بحث کرنے کے بعد انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ جیسا میں نے بتایا ہے وہ ویسا ہی کریں گی۔ کچھ عرصہ بعد وہ مجھ سے ملنے آئیں تو بہت خوش تھیں۔ اپنی ضد چھوڑ شوہر کے سامنے تھوڑا سا جھک جانے سے سارے مسئلے حل ہوگئے تھے۔ آج وہ جوائنٹ فیملی میں رہتی ہیں۔ 
نکہت انجم ناظم الدین (جلگاؤں، مہاراشٹر)
بچیوں کو پردے کی اہمیت بتا کر اصلاح کی
ہمارے گھر کے سامنے ایک چھوٹا سا میدان ہے۔ محلے کی بچیاں اکثر وہاں کھیلنے آتی ہیں۔ سن شعور کو پہنچنے والی بچیوں کو بغیر دوپٹے کے دیکھنا بڑا عجیب لگتا ہے۔ ان میں سے کچھ بچیوں کو بغیر دوپٹے کے دیکھا تو مَیں نے کوشش کی کہ ان کو پردے کی اہمیت بتائی جائے، پھر مَیں نے انہیں تنہائی میں بلا کر حکمت عملی سے سمجھایا، پردہ کے متعلق حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی سیرت سنائی، بچے تو معصوم ہوتے ہیں۔ الحمدللہ کچھ بچیوں نے اس کا اثر لیا اور انہوں نے دوپٹہ اوڑھنا شروع کر دیا۔
بنت شبیر احمد کملداھا (ارریہ، بہار)
اس طالب علم کی اصلاح کی کوشش کی مگر


اِن دنوں میں خود کالج میں تھی اور جنید آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھا۔ اسے پڑھائی سے کوئی دلچسپی نہیں تھی اس کے والد ایک ٹائر کمپنی میں نوکری کرتے تھے مگر ہر شام شراب کے نشے میں گزر جاتی۔ اسلئے اس کی والدہ اسے پڑھا لکھا کر ایک لائق انسان بنانا چاہتی تھی۔ جنید کی والدہ چاہتی تھی کہ میں اس کی پڑھائی میں مدد کروں مگر وہ ضدی اور اکڑو قسم کا لڑکا تھا۔ میں نے اسے پڑھانا شروع کیا۔ میری سختی کرنے پر اس نے بدتمیزی بھی کی مگر میں نے ہمت نہیں ہاری اسے تعلیم کی جانب متوجہ کرتی رہی۔ دھیرے دھیرے وہ قائل ہو گیا۔ جیسے تیسے دسویں جماعت تک پہنچا مگر کامیاب نہ ہو سکا پھر اس نے موٹر بائیک کا کام سیکھا اور اپنی والدہ کا بے حد خیال رکھنے لگا اس طرح اس کی والدہ کو کچھ سکون و راحت ملی۔ کچھ سال بعد ایک ٹرین حادثے میں جنید کا انتقال ہو گیا۔ اس عنوان کے تحت جنید کی یاد آگئی کہ میری ایک چھوٹی سی کوشش سے اس کی تھوڑی بہت اصلاح تو ہوئی مگر زندگی اس کا ساتھ نہ دے سکی۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
طلبہ کی اصلاح کا موقع ملا


۳۰؍ سال بطورِ معلمہ میں اپنے ہر طالب علم کی اصلاح کی کوشش میں مصروف رہی۔ نصاب مکمل کرنے کی تگ و دو کے علاوہ ان کے گھریلو مسائل، اسلاف کی پیروی، اقدار کی ترغیب، مزید اعلیٰ تعلیم کے حصول کی رہنمائی، مذہبی امور اور ان کی پیچیدگیوں کو سلجھانے میں مدد کی۔ زندگی کے اگلے باب میں اللہ نےاپنے فضل سے دین کی سوجھ بوجھ سے سرفراز کیا تو سب سے پہلے خود کی اصلاح، پھر اہل خانہ، پڑوسی، رشتہ دار غرض کہ جہاں موقع ملا وہاں اصلاح کا موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ اصلاح اور یاددہانی کا فریضہ اللہ کے رسول محمدؐ کو سونپا گیا تھا، آپؐ کے امتی ہونے کے ناطے اب ہم‌ پر ایک دوسرے کی اصلاح و رہنمائی کرنا لازم و ملزوم ہے۔ اللہ اس کارخیر میں خودنمائی سے بچائے اور اپنی بارگاہ اقدس میں قبولیت کا شرف بخشے (آمین)۔ 
رضوانہ رشید انصاری (امبرناتھ، تھانے)
ایک ماں کے لئے ایک بیٹے کی اصلاح کی


میرا ایک عزیز سعودی عرب کے شہر تبوک میں بحیثیت انجینئر ملازمت کرتا تھا۔ اپنی شادی کے کچھ دنوں بعد اپنی دلہن کو لیکر تبوک چلا گیا۔ اس کے والد اس کے طالبعلمی کے دوران ہی رخصت ہوگئے تھے۔ والدہ نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس کی تعلیم مکمل کروائی اور تبوک بھیجنے کے مراحل میں ہر ممکن کوششیں کیں۔ اپنی دلہن کو تبوک لے جانے کے بعد وہ لڑکا تعطیلات میں بیوہ والدہ سے ملنے نہ اپنے گاؤں آتا تھا اور نہ انہیں کبھی اپنے پاس لے گیا۔ ان کی سعادت حج کی حسرت تھی۔ ۶؍ سال بعد وہ اپنی بیگم اور ایک بچے کے ساتھ دربھنگہ آیا۔ اس دوران انہیں اپنے گھر بلا کر اس معاملے پر بات چیت کی۔ بالآخر چھٹیوں کے اختتام پر اس کی والدہ کا نہ صرف تبوک کا سفر ہوا بلکہ ان کے تبوک پہنچنے کے دوسرے سال اللہ تعالیٰ نے انہیں سعادت حج نصیب فرمائی۔ 
ناز یاسمین سمن (پٹنه، بہار)
سب کے سامنے ٹوکنا بری بات


ہمارے تلوجہ میں کافی ساری عورتوں کو ملا کر مَیں نے اسلامی گروپ بنایا ہے۔ یہاں ہم سب عورتیں مل کر کسی کے گھر کوئی دینی کام ہو یا کچھ پڑھائی ہو تو ہم سب جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ہمارے گروپ میں ایک عورت ہے جو ہمیشہ ساڑی پہن کر کوئی بھی دینی کام کرنے یا پڑھائی کرنے آتی ہے لیکن ایک دن کچھ عورتوں نے ان کو ٹوک دیا کہ آپ ساڑی میں دین کی پڑھائی نہیں کرسکتیں تو میں نے انہیں سمجھایا تھا کہ اگر ایسی کوئی بات ہے تو آپ کو انہیں تنہائی میں سمجھانا چاہئے۔ سب کے سامنے نہیں اور عبادت لباس کی محتاج نہیں ہوتی، بس عبادت اللہ کو پسند آنی چاہئے۔ اس کے بعد ہمارے گروپ میں ایسی بات کبھی کسی نے نہیں کی۔
صدف الیاس شیخ (تلوجہ)
ایک شخص کی بری عادت چھڑوائی
میرے محلے میں ایک غریب فیملی رہتی تھی۔ بڑا بیٹا مزدوری کرتا تھا۔ بری صحبت کی وجہ سے گٹکھا کھانے کی عادت پڑگئی۔ وہ کھانا کم کھاتا لیکن گٹکھا ہر وقت اس کے منہ میں ہوتا۔ ایک دن اچانک اس کے گلے میں تکلیف ہونے لگی۔ ڈاکٹر کو بتایا تو ڈاکٹر نے کہا کہ کینسر کی بیماری ہے۔ اس کا علاج شروع ہوگیا۔ میں ایک دن اس کے گھر گئی۔ میں نے اسے سمجھایا کہ گٹکھا کھانا چھوڑ دو ورنہ یہ مرض جان لیوا ہو جائے گا۔ میں نے ایک شناسا کی مثال اسے دی کہ فلاں شخص کی موت گٹکھا کھانے سے ہوئی تھی۔ بہتر ہے اللہ نے زندگی دی ہے اس کی قدر کرو اور بری عادتوں سے بچو۔ اس کے دماغ میں میری بات بیٹھ گئی۔ اس نے گٹکھا کھانے سے توبہ کر لی۔ علاج بھی جاری تھا۔ اب وہ بالکل صحتمند ہوگیا۔
شہناز عابد حسین (مالیگاؤں، ناسک)
ایک بچے کو روزگار مل گیا
میری گلی میں ایک عورت رہتی ہے۔ اس کا ایک ہی بیٹا ہے۔ غریبی و جہالت کی وجہ سے لڑکا آوارہ گردی کرتا ہے۔ ماں دوسروں کے گھروں میں جھاڑو برتن کرتی ہے۔ ایک روز اس کی ماں میری امی سے اس کی شکایت کرنے لگی۔ مَیں نے کہا کہ بیٹے کو میرے پاس لانا۔ وہ دوسرے دن لے آئی۔ مَیں نے اس لڑکے کو سمجھایا۔ تعلیم و ہنر کی اہمیت بتائی۔ اسے بات سمجھ میں آئی۔ مَیں نے نائٹ اسکول میں اسکا داخلہ کروایا۔ اس نے آٹھویں جماعت پاس کرکے ۶؍ مہینے کا ویلڈنگ کا ہنر سیکھ لیا۔ اب وہ خود کا کام کرتا ہے۔ لوہے کی کھڑکی، دروازہ بناتا ہے۔ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا ہے۔ اس کی ماں بھی خوش ہے۔ اللہ سب کو حلال روزی کمانے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)۔
شمائلہ عابد (مالیگاؤں، ناسک)
ایک کنبے کی اصلاح
میرے جاننے والوں میں ایک غریب فیملی ہے۔ ان کے بچوں نے نہ اسکول نہ مدرسے کا منہ دیکھا۔ بڑی کسمپرسی کے حالات ہیں۔ میرے پاس بچوں کی ماں آتی ہے۔ اللہ نے مجھے جو کچھ دیا ہے اس میں اس کی مدد کرتی ہوں۔ میں نے اسے کہا کہ بچوں کا کارپوریشن اسکول میں داخلہ کرواؤ۔ مدرسہ میں داخل کرو۔ اسے تعلیم کی اہمیت بتائی۔ اسے نماز پڑھنے کی تلقین کی۔ کچھ دن بعد میں نے دیکھا کہ اس کے بچے اسکول اور مدرسہ جانے لگے۔ بڑے بچے دکان پر مزدوری کرنے لگے، یہ دیکھ کر خوشی ہوئی۔
فاطمہ فردوس (مالیگاؤں، ناسک)
اذان کے دوران گفتگو نہ کرنا


ہمارے ایک بہت ہی قریبی شناسا ہے جن سے اکثر فون پر بات چیت ہوتی ہے۔ شروع میں جب باتوں کا سلسلہ تھا تو اس جانب ان کی توجہ اتنی نہیں تھی لیکن میری ایک عادت جو انہوں نے بھی اپنا لی اور وہ یہ کہ اذان کے دوران بات کرنے سے پرہیز کرنا۔ کبھی ایسا ہوا کہ سامنے سے ان کی کال آئی اور اگر اذان ہو رہی ہے چاہے وہ کسی بھی وقت کی ہوں مثلاً ظہر، عصر، مغرب یا پھر عشاء کی تو مَیں نے ان سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ اذان ہو رہی تھی اس لئے میں نے کال اٹھائی نہیں یا پھر بعض اوقات ایسا بھی ہوا کہ فون پر گفتگو جاری ہے اور اذان شروع ہوگئی تو گفتگو جاری نہیں رکھی۔ میری اس عادت کو انہوں نے بھی اپنا لیا۔ وہ بھی اذان کے دوران گفتگو کرنے یا فون پر بات کرنے سے گریز کرنے لگے۔ اس بات کا اعتراف انہوں نے خود بھی کیا کہ آپ کی اس عادت پر سختی سے عمل کرتا ہوں جسے سن کر مجھے اچھا لگا کہ شاید میری وجہ سے کسی کی اصلاح ہوسکی۔
قریشی عربینہ محمد اسلام (بھیونڈی، تھانے)
نئے قلمکار کی مدد کرتی ہوں


جب سے میں رائٹنگ کمیونٹی سے جڑی ہوں نئے قلمکاروں کو اس میں جوڑنے کی کوشش کرتی رہتی ہوں۔ کچھ قلمکار ایسے بھی ہیں جن کو ہندی اچھے سے نہیں آتی تو میں اس میں ان کی مدد کرتی ہوں جس سے ان کو ان کی غلطیاں معلوم ہو جاتی ہے اور وہ اسے درست کر لیتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ لوگ اوپن مائک میں بولنے سے گھبراتے تھے تو میں نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور جہاں اصلاح کی ضرورت ہوئی ان کی مدد کی۔ کچھ قلمکار ایسے بھی ہیں جو مجھ سے مشورہ کرتے ہیں اور جو لفظ ان کو سمجھ میں نہیں آتا وہ مجھ سے پوچھتے ہیں۔ ان کی اصلاح کرکے خوشی ملتی ہے۔
ہما انصاری ( مولوی گنج، لکھنؤ)
ایک بچی کی تعلیم کے لئے کوشش


آج بھی کئی ایسے والدین ہیں جو لڑکیوں کی تعلیم کو معیوب سمجھتے ہیں۔ ایسے ہی ایک والدین سے میری ملاقات ہوئی جن کی تین بچیاں ہیں۔ ایک کے بعد ایک تین سال تک میرے پاس تعلیم حاصل کرتی رہیں۔ دو لڑکیوں کو انہوں نے خاندانی روایت کے تحت آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی۔ بہت سمجھانے کے بعد بھی خاندان والوں کی مخالفت کے ڈر سے والدین ہمت نہ کرسکے مگر جب ان کی تیسری لڑکی نے ایس ایس سی میں اچھے نمبرات سے کامیابی حاصل کی تو ان والدین سے میں نے پھر درخواست کی اور انہوں نے اپنی خاندانی روایت کیخلاف جا کر اپنی بچی کو آگے پڑھنے دیا۔
عالیہ ترنم محمد انیس انصاری (کرلا، ممبئی)
ایک لڑکی کو غصے پر قابو پانے میں مدد کی


جس وقت میں آٹھویں جماعت میں زیر تعلیم تھی میری جماعت میں ایک لڑکی تھی۔ اچھی بھلی لڑکی تھی، پڑھائی میں بھی ٹھیک ٹھاک تھی مگر اس میں ایک بری عادت تھی کہ اسے غصہ بہت زیادہ اور بہت جلدی آتا تھا اس وجہ سے ساری لڑکیاں اس سے دور دور رہا کرتی تھیں۔ ایک دن میں نے وقفے میں اس سے بات کرنے کی ٹھانی۔ مَیں نے اس سے کہا کہ وہ ایک بہت اچھی لڑکی ہے بس اس کے غصے کی عادت کی وجہ سے کوئی لڑکی اس سے دوستی نہیں کرتی تھی۔ میں نے اسے پیار سے بہت کچھ سمجھایا۔ بالآخر وہ اپنے غصے پر قابو کرنا سیکھ گئی اور اپنی اس عادت سے چھٹکارہ پا لیا۔
رضوی نگار اشفاق (اندھیری، ممبئی)
ایک بچی کو تعلیم کی جانب متوجہ کیا


معلمہ ہونے کی حیثیت سے ہر قسم کے بچوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ انہی میں ایک ایسی بچی تھی جو جماعت سے بہت زیادہ غیر حاضر رہتی تھی۔ اس کی والدہ سے رابطہ قائم کرنے پر انہوں نے بتایا کہ چونکہ اس کی ساری سہیلیاں دوسری ڈویژن میں چلی گئی ہیں اس لئے اس کا دل جماعت میں نہیں لگتا۔ خیر! اگلے دن وہ بچی اسکول آئی۔ میں نے اکیلے میں لے کر اسے سمجھایا کہ ضروری نہیں کہ تمہاری سہیلیاں اس جماعت میں نہیں ہیں تو ہم کسی اور کو دوست ہی نہ بناؤ۔ زندگی تبدیلی کا نام ہے۔ اس نے اپنی اصلاح کرلی۔ اب اسے ہنستا مسکراتا دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔
ناہید رضوی (جوگیشوری، ممبئی)
ضرورتمندوں کو کپڑے دینے کی ترغیب


میری ایک شناسا ہیں۔ اُن کی ایک عادت یہ تھی کہ وہ اپنے پرانے کپڑے جمع کرتیں اور اُنہیں برتن بھانڈی بیچنے والے کو دیتیں اور بدلے میں اُن سے من چاہا برتن لے لیتیں۔ وہ مجھے ہمیشہ اِس کے متعلق بتایا کرتی تھیں۔ مجھے اُن کا یہ عمل بالکل پسند نہیں تھا۔ ایک دن میں اُن سے ملنے اُن کے گھر گئی اور باتوں باتوں میں اُنہیں سمجھایا کہ وہ اپنے پرانے کپڑے کسی ضرورت مند کو دیں۔ اگر انہیں واقعی کسی برتن کی ضرورت ہے تو وہ بازار سے خرید سکتی ہیں۔ میری باتیں اُن کی سمجھ میں آگئی اور اُنہوں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ اب سے وہ ہمیشہ اپنے کپڑے ضرورت مندوں کو دیں گی۔
عارفہ خالد شیخ (ناگپاڑہ، ممبئی)
طلبہ کی اصلاح کرتی ہوں


ایک معلم و معاشرے کی فرد ہونے کے ناطے میں تا بہ مقدور کوشش کرتی ہوں کہ اچھائیوں کو اپناؤں، برائیوں سے دور رہوں۔ ہر طرح سے اپنی اصلاح کرتی رہوں، جن باتوں پر عمل کرتی ہوں۔ اپنے اطراف و اکناف کے ساتھ ہی ساتھ اپنے طلبہ کو بھی اس کی تلقین کرتی ہوں۔ انہیں برائیوں سے پرہیز کرنے، نیک اعمال میں جست لگانے، اپنے کردار اور سیرت کو بہترین بنانے، زندگی کے مختلف معاملات میں در گزر اور صبر و تحمل سے کام‌لینے کو کہتی ہوں۔ اس کوشش سے کسی ایک کی اصلاح ہوئی یہ کہنا تو مشکل ہے لیکن دعا گو ہوں کہ اللہ اصلاح کی شمع جلائے رکھنے میں میری مدد فرمائے۔
فردوس انجم شیخ آصف (بلڈانہ، مہاراشٹر)
بچے کو ایک موقع مل گیا


میرے اسکول میں ایک بچے کے والدین اس کا ایڈمیشن کروانے کیلئے آئے تو میں نے اُس کا داخلہ لے لیا۔ بچہ ۹؍ سال کا تھا۔ اُسے پڑھنا لکھنا بالکل بھی نہیں آتا تھا اس وجہ سے اُسے دوسری جماعت میں داخل کیا گیا مگر کچھ والدین نے اعتراض کیا۔ دراصل اس نے اپنے دوست کو پانی میں ڈوبا دیا تھا جس کی وجہ سے یہ جیل بھی جا چکا ہے اب اسے کوئی اسکول میں داخلہ نہیں دیتا ہے۔ میں نے لوگوں کو سمجھایا کہ ابھی یہ بچّہ ہے اس کی تعلیم کے ذریعے ہی اصلاح کی جاسکتی ہے ورنہ یہ ایسے ہی گھومتا رہے گا۔ میرے سمجھانے پر والدین مان گئے۔ آج وہ بہتر زندگی جی رہا ہے۔ 
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)

اگلے ہفتے کا عنوان: مَیں اپنی غلطی کا اعتراف کرنا اس لئے ضروری سمجھتی ہوں۔ اظہار خیال کی خواہشمند خواتین اس موضوع پر دو پیراگراف پر مشتمل اپنی تحریر مع تصویر ارسال کریں۔ وہاٹس ایپ نمبر: 8850489134

Odhani Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK