۸؍ مارچ کو عالمی یوم ِ خواتین منایا جاتا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد خواتین کو بااختیار بنانا اور انہیں درپیش مسائل کے خلاف بیداری پیدا کرنا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے انقلاب نے چند پروفیشنل ویمن سے رابطہ کیا جنہوں نے نہ صرف مختلف شعبوں میں اپنے جوہر آزمانے کی کوشش کی بلکہ ان میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنا نام سنہری حرفوں میں لکھا۔ ترتیب و پیشکش: صائمہ شیخ
سیّد آفرین مظفر حسین: کارپوریٹر

میرا روڈ کی کارپوریٹر سیّد آفرین مظفر حسین نے بارنیس اسکول اینڈ جونیئر کالج (دیولالی) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ آر آئی ایم ایس انٹرنیشنل اسکول اینڈ جونیئر کالج (ممبئی) سے بارہویں امتیازی نمبرات کے ساتھ مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایونٹ مینجمنٹ میں ڈپلوما جبکہ آسٹریلیا کی گریفتھ یونیورسٹی سے ہوٹل مینجمنٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ہوٹل مینجمنٹ میں اینڈ کلینری کوکنگ میں بیچلر بھی کیا ہے۔ ڈیسٹی نیش ویڈنگ پلانر میں پوسٹ گریجویشن کیا ہے۔ اس دوران انہوں نے ممبئی کی متعدد مشہور و معروف کمپنیوں سے وابستہ رہیں مگر ان کے سامنے آسماں اور بھی تھے لہٰذا اپنی خاندانی سیاسی وراثت کو آگے بڑھاتے ہوئے اس میں قدم رکھا۔ وہ کانگریس کی سرگرم لیڈر ہیں۔ حال ہی میں منعقد ہونے والے میرا بھائندر میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں نیا نگر علاقے کے پینل نمبر ۲۲؍ بی سے کارپوریٹر کے طور پر منتخب ہوئی ہیں۔ وہ میرا بھائندر ضلع کانگریس کمیٹی کی نائب صدر بھی ہیں اور وہ سماجی کاموں میں پیش پیش ہیں۔
شاہینہ مقادم: فنانشل ایڈوائزر

ممبئی کی شاہینہ مقادم فنانشل ایڈوائزر ہیں۔ فنانس کے شعبے میں خواتین کی تعداد کم نظر آتی ہے مگر شاہینہ مقادم نے اس پیچیدہ شعبے میں اپنی منفرد شناخت بنائی ہے۔ انہوں نے کارمل کانوینٹ (باندرہ) سے ابتدائی تعلیم حاصل کی ہے۔ نرسی مونجی کالج آف کامرس اینڈ اکنامکس (ممبئی) سے بی کام کیا ہے۔ ۱۹۹۱ء میں ممبئی کی انسٹی آف چارٹرڈ اکاؤنٹینٹس سے سی اے کی تعلیم مکمل کی۔ سی اے کوالیفائی کرنے کے بعد انہوں نے ’آسک ریمنڈ جیمز‘ میں بطور ریسرچ انالسٹ اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔ یہیں سے انہیں کام کی نئی سمت اور حوصلہ ملا۔ وہ برلا مارلین اور موتی لال اوسوال جیسی نامور فنانس کمپنیوں سے وابستہ رہیں۔ آئی ڈی بی آئی کیپٹل میں ریسرچ اینڈ ایکویٹیز کی سربراہ رہ چکی ہیں۔ ۲۰۰۸ء میں انہوں نے اپنی مالیاتی مشاورتی فرم قائم کی۔ اس کے علاوہ مالی امور میں رائے دیتی ہیں اور متعدد بزنس میڈیا پر بازار کا حال بتاتی ہیں۔ حسب مزاج وہ مالیات کے شعبے میں مسلسل تحقیق میں مصروف ہیں۔
ماہین رحمان خان: مائننگ فارمین

تمسر، ناگپور سے تعلق رکھنے والی ماہین رحمان خان مائننگ انجینئر ہیں۔ ڈی اے وی موئل پبلک اسکول، سیتاساونگی (مہاراشٹر) سے دسویں کیا۔ اس کے بعد انہوں نے وویک آنند پولی ٹیکنیک کالج (سیتاساونگی) سے کان کنی اور مائن سروے میں انجینئرنگ کا ڈپلوما مکمل کیا۔ انہوں نے مائننگ اینڈ مائننگ سرویئنگ میں ڈپلوما انجینئرنگ مکمل کیا ہے۔ ایم او آئی ایل (میگنیز اور انڈیا لمیٹڈ، چکلا مائنس) سے ارضیائی امور کی تربیت حاصل کی ہے۔ ان کی محنت اور لگن کا ہی نتیجہ ہے کہ انہیں جھارکھنڈ میں ٹاٹا اسٹیل لمیٹڈ کے نامونڈی آئرن اینڈ مائنز میں ملازمت حاصل ہوئی۔ ماہین خان اپنی برانچ کے محکمہ کان کنی میں داخلہ لینے والی پہلی خاتون ہیں۔ فی الحال وہ ٹاٹا اسٹیل لمیٹڈ (جھارکھنڈ) میں بحیثیت جونیئر انجینئر اور آپریشن اسسٹنٹ (مائننگ فارمین) کام کر رہی ہیں۔ کان کنی کے کاموں کی منصوبہ بندی کرنا، ضروری ہدایات فراہم کرنا، کام کے طریقہ کار کی پابندی کو یقینی بنانا اور حفاظتی معیارات کو برقرار رکھنا جیسے کام ان کے ذمے ہیں۔
عظمیٰ خوشحال: کارڈیولوجسٹ

بھیونڈی کی عظمیٰ خوشحال ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے صمدیہ ہائی اسکول (بھیونڈی) سے دسویں جبکہ عابدہ انعامدار جونیئر کالج، اعظم کیمپس پونے سے بارہویں مکمل کیا ہے۔ ایم آئی ایم ای آر میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس جبکہ ٹوپی والا نیشنل میڈیکل کالج اینڈ نائر ہاسپٹل (ممبئی) سے ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے بامبے ہاسپٹل اینڈ میڈیکل ریسرچ سینٹر (ممبئی) سے کلینکل اینڈ نان انویسیو کارڈیولوجی میں ایڈوانس ٹریننگ حاصل کی ہے۔ بامبے ہاسپٹل اینڈ میڈیکل ریسرچ سینٹر، فورٹس ہاسپٹلس اور ٹوپی والا نیشنل میڈیکل کالج میں کارڈیالوجی کی تشخیص اور مریضوں کی دیکھ بھال کا وسیع تجربہ حاصل کیا ہے۔ فی الحال ڈاکٹر عظمیٰ خوشحال بھیونڈی اور تھانے میں ایک کنسلٹنٹ کارڈیک فزیشن کے طور پر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور ایکو کارڈیوگرافی، ای سی جی، اسٹریس ٹیسٹنگ اور دیگر ٹیسٹ کے ذریعے دل کی بیماری کا ابتدائی وقت میں پتہ لگانے اور علاج کرنے پر جیسی خدمات انجام دے رہی ہیں۔
طاہرہ شیخ: سافٹ ویئر انجینئر

ممبئی سے تعلق رکھنے والی طاہرہ شیخ سافٹ ویئر انجینئر ہیں۔ انہوں نے مدنی ہائی اسکول سے ایس ایس سی کیا، بعدازیں ممبئی یونیورسٹی سے بیچلر آف انجینئرنگ اور ماسٹر آف انجینئرنگ مکمل کیا۔ نیویارک کی پیس یونیورسٹی سے ماسٹر آف سائنس کی ڈگری حاصل کی۔ ۲۰۲۳ء سے وہ نیو جرسی کی ’دی پنشن بورڈز آف یو سی سی‘ نامی کمپنی میں بطور اسوسی ایٹ سافٹ ویئر انجینئر کام کر رہی ہیں۔ طاہرہ نے جدید طریقے سے ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی پہل کی اور مختلف نئے ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے کام کاج کو منظم کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ وہ ڈیٹا تجزیہ کے شعبے میں نمایاں کام انجام دے رہی ہیں۔ کمپیوٹر کی جدید دُنیا کے بارے میں ان کی نالج زبردست ہے اور محنت و لگن کے ساتھ اس شعبے میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ وہ ۲۰۲۲ء میں ٹھاکر کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (ممبئی) میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر خدمات انجام دے چکی ہیں۔ پروگرامنگ لینگویجز میں انہیں عبور حاصل ہے اور یوآئی ڈیولپمنٹ میں بنیادی معلومات رکھتی ہیں۔
ڈاکٹر زینب اسلم انصاری: پروفیسر

بھیونڈی سے تعلق رکھنے والی زینب اسلم انصاری ڈاکٹر ہیں۔ فی الحال ممبئی میں رہائش پذیر ہیں۔ ابتدائی تعلیم بھیونڈی کے ڈاکٹر اوم پرکاش انگلش ہائی اسکول سے حاصل کی ہے۔ نوبھارت ایجوکیشن سوسائٹی سے گیارہویں اور بارہویں مکمل کیا۔ ٹوپی والا نیشنل میڈیکل کالج (نائر اسپتال) سے ایم بی بی ایس اور ایم ڈی کی ڈگری حاصل کی۔
فی الحال ڈاکٹر زینب ای ایس آئی سی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، اندھیری کے کمیونٹی میڈیسین ڈپارٹمنٹ میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اپنی خدمات مستعدی سے انجام دے رہی ہیں۔
ماریہ مسعود خان: وکیل

جوگیشوری کی ماریہ مسعود خان وکیل ہیں۔ انہوں نے الاتحاد اُردو ہائی اسکول، سے دسویں جبکہ پاٹکر وردے کالج سے بارہویں مکمل کیا۔ وہ کم عمری ہی سے وکیل بننا چاہتی تھیں لیکن لاک ڈاؤن کے دوران انہیں اپنا خواب پورا ہوتا ناممکن سا لگ رہا تھا۔ لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بالآخر ۲۰۲۱ء میں لاء اینٹرنس امتحان میں کامیابی حاصل کی اور بالا صاحب آپٹے کالج آف لاء (دادر) سے ایل ایل بی مکمل کیا۔ وہ ممبئی میں سول کورٹ، فیملی کورٹ اور ہائی کورٹ میں وکالت کر رہی ہیں اور مختلف قانونی معاملات میں اپنے مؤکلین کو قانونی مشورہ اور نمائندگی فراہم کررہی ہیں۔
سمرن وحید غیبی: کمرشیل پائلٹ

ممبئی کی سمرن وحید غیبی کمرشیل پائلٹ ہیں۔ سینٹ ایزابیل اسکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی جبکہ بارہویں سینٹ زیویئرز سے مکمل کیا۔ ان کی پرورش نانا نانی نے کی جو نظم و ضبط کے پابند تھے۔ سمرن اپنے نانا علی اسماعیل ڈنگنکر سے خاص طور پر متاثر ہیں۔ اُن کی کامیابی میں ان کے نانا کا اہم کردار ہے۔ انہوں نے ہندوستان میں ۲۱؍ سال کی عمر میں ۲۰۰؍ گھنٹے کی پرواز کے ساتھ کمرشل پائلٹ کی تربیت حاصل کی ہے۔ کیپٹن سمرن انڈیگو ایئر لائنس سے گزشتہ ۳؍ سال سے وابستہ ہیں اور اب تک ۲؍ ہزار گھنٹے کی پرواز کا تجربہ حاصل کرچکی ہیں۔ ان کے حوصلے بلند ہیں۔
ذکریٰ انصاری: کمپیوٹر انجینئر

نوی ممبئی کی ذکریٰ انصاری کمپیوٹر انجینئر ہیں۔ انہوں نے انجمن اسلام سیف طیب جی ہائی اسکول، ممبئی سینٹرل (اُردو میڈیم) سے دسویں جبکہ جے ہند کالج سے بارہویں مکمل کیا۔ بھارتی ودیا پیٹھ کالج آف انجینئرنگ سے بی ای مکمل کی۔ بی آئی ٹی ایس پلانی سے ایم بی اے (فنانس) جاب کے ساتھ مکمل کیا۔ گزشتہ ۸؍ برسوں سے بحیثیت سافٹ ویئر انجینئر کام کر رہی ہیں۔ فی الحال سافٹ انجینئرنگ اسپیشلسٹ (ٹیکنیکل لیڈ) ہیں اور پچھلے چار سال سے ایکسنچر میں ’فول اسٹیک ڈیولپر‘ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔ اس سے قبل وہ ایل ٹی آئی مائنڈٹری میں کام کر چکی ہیں۔
صائمہ شیخ: سی اے

ممبئی کی صائمہ شیخ چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ (سی اے) ہیں۔ انہوں نے الاتحاد اُردو ہائی اسکول سے دسویں مکمل کیا۔ بارہویں میں امتیازی کامیابی حاصل کی جبکہ نرسی مونجی کالج سے بی کام مکمل کیا ہے۔ پہلی کوشش میں ہی انہوں نے سی اے کلیئر کیا۔ حال ہی میں انہوں نے ایل ایل بی کی بھی ڈگری حاصل کی ہے۔ گزشتہ ۹؍ برسوں سے انہیں اِن ڈائریکٹ ٹیکسیشن کے شعبے میں کام کرنے کا تجربہ ہے۔ وہ مشہور کمپنی ایل اینڈ ٹی میں بھی اپنے جوہر دکھا چکی ہیں۔ فی الحال صائمہ بطور منیجر جیو اسٹار میں اِن ڈائریکٹ ٹیکس کمپیلینس، ایڈوائزی اور لیٹیگیشن کی ذمہ داری سنبھال رہی ہیں۔
زویا اویس: ریسرچ انالسٹ

ریسرچ انالسٹ زویا اویس کا تعلق نوی ممبئی سے ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپیجے اسکول، نیرول سے حاصل کی ہے۔ انہوں نے ہوم سائنس سے بی ایس سی کیا ہے۔ مارکیٹنگ سے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے۔ وہ فی الحال ایم ایم آر ریسرچ نامی ایک مشہور مارکیٹ ریسرچ فرم میں گزشتہ ۴؍ برسوں سے کام کر رہی ہیں جو پروڈکٹ ٹیسٹنگ ریسرچ کرنے میں مہارت رکھتی ہے۔
اس کے علاوہ وہ انسانی رویے اور صارفین کے رجحان کو سمجھنے میں گہری دلچسپی رکھتی ہیں۔ انہیں مصوری اور فٹ نیس سے بھی گہری دلچسپی ہے۔