نوعمر بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنا بہتر ہوتا ہے

Updated: June 21, 2022, 11:40 AM IST | Syeda Naushad Begum Mahmood

موجودہ دور میں نئی نسل تعلیمی میدان میں اپنے لئے صحیح راہ کا انتخاب نہیں کر پا رہی ہے۔ کہیں نہ کہیں اس کیلئے والدین ذمہ دار ہیں۔ بعض دفعہ والدین بچوں کی مرضی جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے، بس اپنی حسرتیں اُن پر تھوپتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے نوعمر بچے باغیانہ رویہ اختیار کر لیتے ہیں۔ والدین کو اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنی چاہئے

Teenagers want the full attention of parents.Picture:INN
نوعمر بچے والدین کی بھرپور توجہ چاہتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

دورِ جدید کے والدین نے اپنے بچوں سے جو زبردست توقعات وابستہ کر رکھی ہیں اُس کے سبب سماجی اور ذاتی زندگی کی الجھنوں میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ والدین یا سرپرست، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب کی بے جا توقعات ان ٹین ایجرز بچوں کے ذہنوں پر کاری ضرب لگا رہی ہے۔ اور بچّے اپنے آپ کو مشینی دور کا ایک کل پرزہ ہی سمجھ رہے ہیں۔ سنِ بلوغت میں رونما ہونے والی تبدیلیاں اُنہیں مزید مشکلات میں مبتلا کرتی ہیں۔ اُن کے حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اب اُن بچوں کی پہچان ۹۲؍ فیصد اور ۸۶؍ فیصد سے ہی ہورہی ہے۔ اُن کے نامو ں سے نہیں۔ اسی لئے بھی وہ انسانی حقوق اور فرائض کے ساتھ انصاف نہیں کر پا رہے ہیں۔ کاروبار دنیا کی مُسابقت اور ترقی کی دوڑ میں مقابلہ آرائی کی بناء پر اُن کی معصومیت اور فطری خوشبو کہیں گُم ہو چکی ہے۔ آج جدید سائنس کا دور ہے اور جدید آلات نے احساسِ مروّت کو بُری طرح کچل دیا ہے۔ خلوص کی خوشبو اُڑ گئی ہے اور انسان خود غرض بن گیا ہے۔
اُڑ رہی ہے ہرسو خود غرضی کی دُھول
سر سے پاتک اٹ رہا ہے آدمی
 بچوں کے سفید، دُھند لائے ہوئے اور تناؤ ذدہ چہرے اس بات کی غمازی کررہے ہیں کہ اُن کے احساسات اور جذبات کو کس بے دردی سے کچلا جارہا ہے۔ جب بچوں کے آنگن میں مسرت کے پھول کھلتے ہیں اور امن و سکون کی بادِ بہاری چلتی ہے ٹھیک اُسی عمر میں اُن کے نازک دلوں میں عجیب قسم کی ہلچل مچی ہوئی ہے اور وہ اپنے آپ کو نہایت بے بس محسوس کرتے ہیں۔ یہ نوجوان نسل اپنے لئے متوازن راہ منتخب کرنے میں نااہل ثابت ہورہی ہے۔ وہ خود یہ فیصلہ نہیں کرپارہے ہیں کہ ہمارا نصب العین کیا ہے؟ اور سب کے پس پُشت اُن کے والدین کی سوچ اور بے جا توقعات اُن پر یلغار کررہی ہے۔ اُن کا وجود محض ایک کٹھ پتلی بن کر رہ گیا ہے۔
 والدین سے براہِ راست میرا ایک سوال ہے کہ بچوں کو اُن کی پسند کا تعلیمی شعبہ اور طرزِ زندگی اپنے طور پر گزارنے کی آزادی دینا کیا غلط بات ہے؟ اور اُن کے کریئر کے چناؤ میں اُن کی رہبری کرے نہ کہ اُن پر اپنی مرضی تھونپے۔ بچوں پر ذہنی دباؤ ڈالنا کہاں تک مناسب ہے۔ اپنی خواہشات اور توقعات کی قربان گاہ پر اُنہیں بھینٹ کیوں چڑھائیں۔ اگر ہم ’’عمدہ سرپرست‘‘ بننے کے متمنی ہیں تو ہمیں ایسے نازک موڑ پر ہر وقت اُن کا ساتھ دینا چاہئے نہ کہ اعتراضات پیدا کئے جائیں کہ یہ نہیں وہ شاخ منتخب کرو۔ رہنمائی کرنے اور زیادتی کرنے میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے۔ جب ہم بچوں کی رہنمائی کرتے ہیں تو اُن کے ذہن پر کسی طرح کا دباؤ نہیں آتا بلکہ وہ آزاد فضا اور ماحول میں اپنے تعلیمی شعبہ کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ اگر کوئی بات غلط لگتی ہے تو نہایت ہی اچھے طریقے سے سمجھا دیں۔ نفع نقصان کافرق سمجھا دیں۔ محبت کی زبان انسان تو کیا جانور بھی سمجھتے ہیں ساتھ ہی اُن کے خیالات کو بھی اہمیت دیں۔ اُنہیں اپنی معاونت عطا کریں ۔ والدین اپنے بچوں کا سہارا بنیں۔ کئی مرتبہ بطور والدین ہم اُن کی نگہداشت اور پرورش میں اپنا کردار بخوبی نبھا نہیں پاتے۔ کچھ کمیاں رہ جاتی ہیں۔ اچھی سرپرستی جو کہ ایک فن ہے، والدین کو کبھی سکھایا نہیں جاتا بلکہ وہ گرد و پیش کے حالات کا مشاہدہ کرکے سیکھ لیتے ہیں اور بچے بھی ہماری طرح زندگی گزاریں یہ سوچتے ہیں۔ لیکن وقت کے تقاضے کو ہم یکسر فراموش کردیتے ہیں۔ ہم اُن کی اچھائیوں پر شاباشی دیتے ہیں۔ تعریف وتوصیف کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں لیکن ٹھیک اُسی وقت اُن کی نا سمجھی اور نادانی پر اُنہیں بُری طرح جھڑک بھی دیتے ہیں۔ یہ منفی رویّہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ ان تمام توقعات کے پس پشت والدین کے دل میں پوشیدہ ناکام حسرتوں کی تلافی کا جذبہ ہی کار فرما ہوتا ہے۔ ہم کہاں غلطی کررہے ہیں اگر والدین یہ بات سوچیں تو بچے باغی نہیں بنیں گے۔ ہم اپنی زندگی کی محرومیوںکاا زالہ کرنے کیلئے اُن کی طفلانہ ترقی کی راہوں میں رُکاوٹ کا سبب نہ بنیں اپنی غلطیوں کی فوراً اصلاح کرکے اُنہیں بذاتِ خود اپنے طور پر کی آزادی دیں۔ یہی مشورہ میرا والدین کو ہے۔ ایک سنہری کہاوت ہے کہ نونہالوں سے پیار کیا جاتا ہے، اسکول جانے والے بچوں پر نظر رکھی جاتی ہے اور ٹین ایجر بچوں کے ساتھ دوستوں جیسا سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ والدین کو یہی مشورہ ہے کہ وہ اپنے ٹین ایجر بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کریں۔ دوستانہ رویے کے سبب آپ ان کے دل کی بات بڑی آسانی سے جان سکتے ہیں۔ ٹیج ایجرز بچوں سے تعلقات بہتر بنانے کے لئے صرف یہی کافی نہیں کہ آپ ان پر بھرپور توجہ دیں اور صرف انہیں ہدایات دیتے پھریں، اس کے لئے بچوں کی بات کو بھی سمجھنے اور سننے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ ان کی بہتر رہنمائی کر پائیں گے اور اچھے سرپرست بھی ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK