آن لائن ہوتی زندگی، آف لائن ہوتے رشتے

Updated: June 30, 2020, 9:22 AM IST | Inquilab Desk

شام کے وقت پورے گھر والے ساتھ ہوتے ہیں۔ مگر آپ اپنے موبائل فون کی اسکرین پر ہی دیکھ رہے ہیں تو باقی لوگوں کو بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر آپ سب کے ساتھ ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر آپ ڈیجیٹل ورلڈ میں ہوتے ہیں۔ اس طرح آپسی رشتے بکھر جاتے ہیں

Online Life - Pic : INN
آن لائن زندگی ۔ تصویر : آئی این این

کی بورڈ پر انگلیاں، ہونٹوں پر مسکراہٹ اور دھڑکنیں تیز.... کبھی اپنی تصویر پر ڈھیروں لائیکس دیکھ کر، تو کبھی بہت سارے کمینٹس پاکر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بہت کچھ حاصل کر لیا ہو.... سوشل میڈیا نے ہمیں بہت سے جانے انجانے لوگوں سے آسانی سے کنیکٹ تو کر دیا ہے لیکن اس کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ ہماری زندگی جتنی زیادہ آن لائن ہو رہی ہے ہمارے رشتے اتنے ہی آف لائن ہو تے جا رہے ہیں جن سے ہم پہلے سے حقیقی زندگی میں جوڑے رہتے ہیں، ان سے ہم دور ہوتے جا رہے ہیں....
ڈیجیٹل ورلڈ کیوں دلکش لگتا ہے؟
ز ماہرین کہتے ہیں کہ سوشل سائٹس پر ہم نئے نئے لوگوں سے ملتے ہیں۔ ان کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے لئے بے چین رہتے ہیں۔ ان کی پسند ناپسند، ان کی ذاتی زندگی اور وہ بھی اتنا ہی دلچسپی لیتے ہیں جس سے ہمیں خاص محسوس ہوتا ہے۔
ز ہمیں یہ سب بے حد اچھا لگتا ہے کیونکہ روز کچھ نہ کچھ نیا ہو رہا ہوتا ہے۔ ہمیں روز دوسروں کے بارے میں نئی باتیں، نئی چیز جاننے کو ملتی ہے۔
کیوں آف لائن ہونے لگتے ہیں رشتے؟
ز ماں بہت دیر سے کھانا کھانے کے لئے بلا رہی ہے، لیکن حنا چیٹنگ میں مصروف ہے۔ کسی طرح حنا کھانے کی میز پر آگئی تو سب سے پہلے پوسٹ کرتی ہے.... اس دوران اس کا دھیان ہی نہیں ہے کہ اس کی ماں کافی دیر سے بھوکی ہے اور اس کے ساتھ کھانا چاہتی ہے۔ والدین کے جذبات کو سمجھے بغیر بچے اپنی اس دنیا میں مصروف رہتے ہیں۔ اپنے والدین سے بات کرنے، ان کے ساتھ وقت گزارنے کی اہمیت وہ بھولتے جا رہے ہیں۔
ز میاں بیوی بیڈروم میں اپنے اپنے فون پر یا لیپ ٹاپ پر مصروف ہیں۔ وہ اپنے اپنے ڈیجیٹل ورلڈ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں کہ رات کا یہی وقت تو ان کے پاس ہے، جو وہ ایک دوسرے کے ساتھ گزار سکتے ہیں۔ اپنا مسئلہ بتا سکتے ہیں۔ یہ سب آپسی رشتے کا بگاڑ کا سبب بن جاتا ہے۔ دیر ہونے سے قبل سنبھل جانا ضروری ہے۔
ز شام کے وقت پورے گھر والے ساتھ ہوتے ہیں۔ مگر آپ اپنے موبائل فون کی اسکرین پر ہی دیکھ رہے ہیں تو باقی لوگوں کو بہت برا محسوس ہوتا ہے۔ جسمانی طور پر آپ سب کے ساتھ ہوتے ہیں مگر ذہنی طور پر آپ ڈیجیٹل ورلڈ میں ہوتے ہیں۔ اس طرح آپسی رشتے بکھر جاتے ہیں۔ اگر اس بات وہ ناراضگی کا اظہار کر دے تو آپ طیش میں آتے ہیں... اس سے رشتے میں تلخی بڑھنے لگتی ہے۔
 ماہرین کہتے ہیں کہ اگر ان رویوں کو ترک کردیا جائے یا ان پر کنٹرول کیا جائے تو  رشتے میں محبت، عزت، احترام اور آپ کی اہمیت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ ذیل میںان باتوں کا ذکر کیا جا رہا ہے، مضبوط رشتوں کیلئے انہیں ترک کرنا ضروری ہے:
موبائل فون کو اولین ترجیح نہ بنائیں
 سوشل میڈیا کے اس دور میں موبائل فون کا استعمال اس قدر زیادہ ہوگیا ہے کہ اسمارٹ فون استعمال کرنا اولین ترجیح بن گئی ہے، جس سے انسان موجود تو کہیں ہوتا ہے لیکن اس کی توجہ کہیں اور ہوتی ہے، لیکن رشتوں کو مضبوط بنانے کے لئے ضروری ہے کہ جب آپ اپنے اہل خانہ یا اپنے کسی خاص دوست کے ساتھ ہوں تو موبائل پر توجہ دینے کے بجائے ان رشتوں کے ساتھ وقت گزاریں اور انہیں اہمیت دیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کوشش کریں کہ کھانے کے دوران، اپنے شریک حیات کے ساتھ یا کسی ایسی محفل میں جہاں سب دوست احباب ساتھ ہوں، موبائل فون استعمال نہ کریں اور ممکن ہو تو اسے بند کردیں۔
حسد محسوس نہ کریں، بھروسہ کریں
 اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کبھی آپ کے شریک حیات کو دیر رات کسی کا میسیج آجاتا ہے اور وہ فوراً جواب دینے لگ جاتے ہیں، جس کے باعث اعتماد و بھروسے میں کمی آجاتی ہے اور دماغ پر دباؤ پڑتا ہے جس کی وجہ سے رویوں میں تلخی پیدا ہوجاتی ہے۔ ایسی صورت میں کوشش کرنی چاہئے کہ شریک حیات کی جس عادت یا روئے سے جذبات مجروح ہوتے ہیں ان کو اپنے ساتھی سے شیئر کریں اور آپس میں بات کر کے مسئلے کو حل کرلیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ پیغام بہت ضروری ہو اس لئے جواب دینا ضروری تھا، لہٰذا کسی بھی بات کو اپنے دل میں نہ رکھیں۔
میسیج پر لڑائی کرنا فاصلہ بڑھاتا ہے
 یہ ایک حقیقت ہے کہ میسیج پر لب و لہجہ بیان نہیں کیا جاسکتا، اس سے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خفگی کا موضوع کچھ اور ہوتا ہے اور سمجھ کچھ اور آتا ہے جس سے لڑائی ختم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جاتی ہے۔ ماہرین اس بات کی سختی سے تاکید کرتے ہیں کہ میسیج پر کسی بھی مسئلے پر بات نہ کی جائے کیونکہ اس کے ذریعے جذبات کا اظہار نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی آپ کو یہ پتہ چل سکتا ہے کہ سامنے والا کس طرح اس بات کو سمجھ رہا ہے۔ ہمیشہ اپنے جذبات کا اظہار سامنے کرنا چاہئے، اس طرح بہت سے معاملات پیچیدہ ہونے کے بجائے حل ہوجاتے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK