Inquilab Logo Happiest Places to Work

مائیں بچوں کو شجرکاری کی اہمیت سے واقف کروائیں

Updated: August 23, 2023, 1:21 PM IST | Shaikh Saeedah Ansari | Mumbai

بچوں میں درختوں سے اُنسیت اور لگاؤ کو فروغ دینا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق تربیت کی جادو کی چھڑی دو اشخاص کے پاس ہوتی ہے، ماں اور استاد۔ ماں بچے کی شخصیت کو کافی متاثر کرتی ہے۔ یہ واحد ہستی ہے جس کی ہر بات بچے کیلئے قابل تقلید ہوتی ہے۔ لہٰذا شجرکاری کیلئے بچوں کو ترغیب بھی ماں ہی دے سکتی ہے

 Have children plant plants in the terrace or gallery so that the habit of gardening develops in them.Photo. INN
ٹیرس یا گیلری میں بچوں سے پودے لگوائیں تاکہ ان میں شجرکاری کی عادت پروان چڑھے۔ تصویر:آئی این این

بچوں اور نوجوانوں میں شجرکاری کی اہمیت کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ کرۂ ارض پر زندگی کی بقا کے لئے درختوں کا وجود اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اپنی کارکردگی کی بدولت قدرت کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہیں اسی لئے تو درخت لگانے کو سراپا رحمت کہا گیا ہے۔
 دور حاضر میں یہ صاف نظر آرہا ہے کہ درختوں کی نگہداشت اور تحفظ کی جانب اب توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔ یہ ایک خطرناک المیہ ہے کیونکہ درخت کرۂ ارض کی بقا کا اہم ذریعہ ہیں۔ درختوں کا تحفظ، نگہداشت اور شجرکاری کے تئیں بیداری لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
 بیداری لانے کے لئے حکومت کی طرف سے ریلیاں نکالی جاتی ہیں، ان کی افادیت پر نعرے بازیاں ہوتی ہیں اور اس جانب توجہ دلائی جاتی ہے۔ مگر اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے۔ فرق تب پڑے گا جب مائیں اور اساتذہ بچوں کے ذہنوں پر چھائی جمود کو صاف کریں گے۔
اس کی تکمیل کے لئے بچوں میں درختوں کے تئیں احترام اور لگاؤ کو فروغ دینا چاہئے۔ ماہرین کے مطابق تربیت کی جادو کی چھڑی دو اشخاص کے پاس ہوتی ہے، ماں اور استاد۔ ماں بچے کی شخصیت کو کافی متاثر کرتی ہے۔ یہ واحد ہستی ہے جس کی ہر بات بچے کے لئے قابل تقلید ہوتی ہے۔ اکثر مائیں بالکونی یا برآمدے کو مختلف رنگ کے پودوں سے سجاتی ہیں۔ اس طرح شعوری طور پر وہ بھی پودوں سے لگاؤ محسوس کرتا ہے۔ بچوں کو بھی اس کا حصہ بنائیں۔ انہیں پانی دینے، کھاد ڈالنے اور پودے لگانے کی ترغیب دیں۔ 
 وقت کے ساتھ آمد و رفت کے ذرائع کا بے تحاشا بڑھنا کاربن کے اخراج کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق آمد و رفت کے ذرائع سے مونوکاربن، مہلک گیس کے تجربات سے سلفر مونو آکسائیڈ، فیکٹریوں اور کارخانوں سے کاربن کا اخراج ہوتا ہے جنہیں درخت جذب کرتے ہیں اور ہوائی آلودگی کم کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ کاربن کا اخراج بڑھتا ہی جا رہا ہے جسے جذب کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جانے چاہئیں تاکہ زمین کی خوبصورتی قائم رہے۔
 یہ بات بھی ذہن نشین ہونی چاہئے کہ فریج اور ایئر کنڈیشن جو ہماری زندگی کی آسائش ہیں، ان سے بھی مہلک گیسوں کا اخراج ہوتا ہے۔ زہریلی گیسیں اوزون کی تہ میں سوراخ کررہی ہیں اور بالائے بنفشی انسانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ ایک سروے کے مطابق، اگر اوزون کی پرت ۵؍ فیصد متاثر ہوتی ہے تو انسانوں کو ۲۰؍ فیصد جلدی امراض اور کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ 
 بڑھتی آبادی کے مسئلہ کی بدولت درختوں اور جنگلات کو کاٹ کر فلک بوس عمارتیں وجود میں آ رہی ہیں۔ شدید بارش یا سیلابی کیفیت میں مٹی درختوں کی جڑوں میں رک جاتی ہے بہہ نہیں پاتی جس سے انسانی آبادی زیادہ متاثر نہیں ہوتی۔ ان بے شمار افادیت کی بنا پر درخت کرۂ ارض کا نایاب تحفہ ہیں اس لئے ان کے متعلق آگاہ ہونا ہر انسان کیلئے ضروری ہے۔ 
 حکومت اور بہت سے این جی اوز شجرکاری مہم کے تئیں متحرک ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ صرف حکومت یا این جی اوز کی ذمہ داری ہے؟ شجرکاری کرۂ ارض پر بسنے والے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ 
 برآمدے یا بالکونی کو پودوں سے سجانے کے ساتھ اسے بلڈنگ کے گراؤنڈ یا خالی جگہوں میں بھی لگائیں۔ یہ ایک بہترین کوشش ہوگی۔
 اساتذہ بھی طلبہ کو درختوں کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کریں اور انہیں شجرکاری کی جانب مائل کریں۔ ان سے اسکول کی گیلری اور میدان میں پودے لگوائیں تاکہ ان میں شجرکاری کی عادت پروان چڑھے۔
شجرکاری سے بچوں کو حاصل ہونے فوائد
 پودے لگانے سے بچوں میں صحت بخش کھانا کھانے کی عادت پروان چڑھتی ہے۔ وہ اپنے ہاتھوں سے لگائے ہوئے پھل اور سبزی شوق سے کھانا پسند کرتے ہیں۔
 موجودہ دور میں ہر کوئی ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے، یہاں تک کہ بچوں کے ذہن پر بھی بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔ شجرکاری کے ذریعے وہ تناؤ سے دور رہتے ہیں۔ ان کا مزاج خوشگوار ہوتا ہے۔
گارڈننگ کے ذریعے بچے بہت کچھ سیکھتے ہیں۔ پودے لگاتے وقت انہیں معلوم ہوتا ہے کہ پلانٹنگ کے کتنے مراحل ہیں۔ پودوں کو کیڑے مکوڑے سے کس طرح بچایا جاتا ہے؟ یہ باتیں بھی معلوم ہوتی ہے۔
 شجرکاری کے ذریعے بچوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے، ساتھ ہی وہ فطرت سے محبت کرنے لگتے ہیں۔
شجرکاری کے ذریعے بچے جسمانی طور پر فعال رہتے ہیں۔ اس سے ان کی جسمانی صحت اچھی رہتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK