جب سامنا مشکل ترین امتحان سے ہو تو پھر مسلسل محنت ہی واحد راستہ

Updated: June 08, 2022, 12:11 PM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

یوپی ایس سی کےسول سروس ایگزام(سی ایس ای) ۲۰۲۱ء  میںنمایاں کامیابی حاصل کرنے والی مہوش ٹاک سے خصوصی بات چیت

Mehwish Tak 386th place winner in Civil Service Examination.Picture:INN
سول سروس امتحان میں ۳۸۶؍واں مقام حاصل کرنے والیمہوش ٹاک یوپی ایس سی کے دفتر کے باہردیکھی جاسکتی ہیں۔ ۔ تصویر: آئی این این

ممبئی کے مضافاتی علاقہ میرا روڈ سے تعلق رکھنے والی ۲۳؍ سالہ  مہوش  ٹاک  یوپی ایس سی کے سول سروس  امتحان ۲۰۲۱ءمیں نمایاں کامیابی   حاصل کرکے طالبات کے لئے مشعل راہ بنی ہیں۔ انہوں نے اس باوقار اورمشکل سمجھے جانے والے امتحان میں  قومی سطح پر  ۳۸۶؍ ویں رینک سے کامیابی حاصل کی ا ور اپنے والدین و علاقے کا نام روشن کیا ہے۔  مہوش کی اعلیٰ سرکاری افسر بننے کی دیرینہ آرزو تھی، اسی خواب نے اس کو مسلسل  متحرک رکھا اور اس نے محنت، لگن ،سنجیدگی کے ذریعہ اس ہدف کو پالیا۔
اسکولی تا کالج تعلیم میرا روڈ میں ہوئی
 روزنامہ انقلاب کے لئے کی جانے والی اس خصوصی گفتگو میں مہوش  ٹاک نے بتایا کہ ان کی  ابتدائی تعلیم میرا روڈ کے نیو کیمبرج اسکول سے ہوئی  جہاں سے دسویں کا امتحان ۷۷؍ فیصد نمبرات سے کامیاب کیا تھا بعد ازیں بارہویں کے لئے مہوش نے رائل کالج میرا روڈ کا رخ کیا ۔ وہاں سے آرٹس فیلڈ میں۷۷؍ فیصد نمبرات سے بارہویں جماعت کا امتحان کامیاب کیا۔ 
پڑھائی کے ساتھ دیگر سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی
 بچپن سے دیکھے ہوئے خواب کی تکمیل کے لئے مہوش نے پولیٹیکل سائنس مضمون میں۸۶؍  فیصد نمبرات کے ساتھ گریجویشن کی ڈگری حاصل کی۔ مہوش گریجویشن کی تعلیم کے دوران ہر سال اول رینک حاصل کرتی رہی۔ وہ کالج کی ذہین طالبہ  رہی جس نے پڑھائی کے علاوہ بھی کالج کی دیگر سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور بہترین کار کردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی موجودگی درج کرواتی رہی۔ 
مقابلہ جاتی امتحان کو منتخب کرنے کی وجہ
 مہوش نے مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ ’’مجھے بچپن سے  اعلیٰ سرکاری افسر بننے کی خواہش تھی۔ جیسے ہی میرا گریجویشن مکمل ہوا میں نے اس کی تیاری شروع کردی ۔‘‘
سول سروس امتحان کی تیاری کے لئے پہلے حج ہاؤس اور پھر جامعہ کا رخ کیا
 مہوش نے آگے بتایا کہ   ۲۰۱۹ء  میں ممبئی حج ہاؤس کی سول سروس امتحان کی کوچنگ کلاس سے جڑگئی۔ یہاں کی ابتدائی کوچنگ اور انتظامات سے میں بہت مطمئن ہوئی۔ یہاں کے پڑھائی کا ماحول، شاندار لائبریری، بلند و بالا عمارت کے پرسکون ماحول نے مجھے بہت متاثر کیا۔ بعد ازیں میں نے دہلی جاکر جامعہ ریسڈنشیل کوچنگ جوائن کی ، یہاں سینئرس کی رہنمائی سے پڑھائی میں مزید دلچسپی پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ پڑھائی کے جامع انداز سے واقفیت حاصل ہوئی۔
ابتداء میں ناکام ہونےپر مہوش کا ردعمل یہ تھا
  ابتدائی ناکامی نے مجھے مزید دل لگا کر جامع انداز سے پڑھائی کرنے پر مجبور کیا۔ میں منصوبہ بند طریقے سے مسلسل کئی کئی گھنٹے پڑھائی کرتی رہی۔ کووڈ وباء کی صورت حال کے درمیان میں بھی میں  لگاتار۹؍سے ۱۰؍ گھنٹے تک پڑھائی کرتی تھی۔ اس تیاری کے دوران   پڑھے گئے اسباق کا بار بار اعادہ کرتی رہی۔  ایک دیگر سوال پر مہوش نے کہا کہ کبھی کبھی پڑھائی سے دل میں اکتاہٹ بھی محسوس ہوتی تھی۔ لیکن جب آ پ کا سامنا ایک مشکل ترین امتحان سے ہو تو پھر مسلسل محنت ہی واحد ایک راستہ ہے جو آپ کو کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ میرا ہدف مجھے مزید دلجمعی سے پڑھائی پر مجبور کرتا گیا۔ ۲۰۲۱ء  کے امتحان کو میں نے جامع تیاری سے اَپیئر کیا اور الحمد للہ یکے بعد دیگر پریلیم، مینس اور انٹرویو کے تینو ں مراحل کو خوش اسلوبی سے عبور کیا اور مجھے یوپی ایس سی-سی ایس ای  ۲۰۲۱ء  میں ۳۸۶؍  واں رینک حاصل ہوا۔ 
 مہویش نے انقلاب سے خصوصی گفتگو کے درمیان بتایا کہ حج ہاؤس کی ابتدائی کوچنگ میرے لئے کافی سود مند ثابت ہوئی۔میں نے سول سروس امتحان میں   پولیٹیکل سائنس اینڈ انٹرنیشنل ریلیشن کو خاص مضمون کے طور پر رکھا تھا جس کا مجھے خاطر خواہ فائدہ ہوا چونکہ میرا گریجویشن پالیٹیکل سائنس میں تھا۔
طلبہ کے لئے یہ باتیں کہیں
 مہوش نے طلبہ کے نام پیغام میں کہا کہ وہ اپنے مقصد کا تعین کریں، مسلسل محنت کو اپنا شعار بنائیں، جامع منصوبہ بندی کے ساتھ پڑھائی کریں چاہے جس پروفیشن میں آپ جانا چاہے جو بھی آپ کا خواب ہو مگر سماج کی خدمت کا دیا اپنے دل میں جلائے  رکھیں۔ 
والدین کو طلبہ کے لئے کیا کرنا چاہئے؟
 مہوش نے اسکولی تعلیم کی ابتدائی تعلیم کو بہت اہم قرار دیا۔ انہوں نے گفتگو کے دوران والدین کے لئے یہ پیغام دیا کہ طلباء  کو صرف کتابی کیڑا نہ بنائیں بلکہ انہیں  ان کی  پسندیدہ سرگرمی میں مہارت حاصل کرنے کا موقع فراہم کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور انہیں مختلف سرگرمیوں سے جوڑے رکھیں۔  اپنی فیملی کے متعلق استفسار پر مہوش نے بتایا کہ ان کے والد عبدالکریم ٹاک ایک پرائیوٹ فرم میں ٹائپسٹ کم ٹرانسلیٹر کے فرائض انجام دے رہے ہیں  اور والدہ خاتونِ خانہ ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK