انسان کا سب سے پہلا رشتہ جس سے جڑتا ہے وہ ماں کا رشتہ ہوتا ہے۔ اولاد کی پہلی حرکت کا جسے احساس ہوتا ہے، جو اولاد کو دنیا میں لانے کے لئے خوشی خوشی تکلیف برداشت کرتی ہے، جو بظاہر تو ایک کمزور سی ہستی ہے لیکن اپنی اولاد کی خوشی اور اس کی کامیابی کے لئے ہمہ وقت کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی ہے، وہ ہستی ماں کہلاتی ہے۔
ماں اپنی اولاد کے ہر دکھ اورتکلیف کو اپنے وسیع آنچل میں سمیٹ لیتی ہے۔ تصویر : آئی این این
انسان کا سب سے پہلا رشتہ جس سے جڑتا ہے وہ ماں کا رشتہ ہوتا ہے۔ اولاد کی پہلی حرکت کا جسے احساس ہوتا ہے، جو اولاد کو دنیا میں لانے کے لئے خوشی خوشی تکلیف برداشت کرتی ہے، جو بظاہر تو ایک کمزور سی ہستی ہے لیکن اپنی اولاد کی خوشی اور اس کی کامیابی کے لئے ہمہ وقت کچھ بھی کرنے کو تیار رہتی ہے، وہ ہستی ماں کہلاتی ہے۔ ہمیں ہر رشتے کا احساس دنیا میں آنے کے بعد ہوتا ہے لیکن ماں کا اولاد سے اور اولاد کا ماں سے رشتہ دنیا میں آنے سے ۹؍ مہینے پہلے ہی جڑ جاتا ہے۔ پورے ۹؍ مہینے مشقت جھیلتی ہے اور تکلیف سے اپنی اولاد کو دنیا میں لاتی ہے۔ اور بچے کی پیدائش کے بعد اپنے دن کا چین اور رات کا سکون اس کے لئے قربان کر دیتی ہے۔ ماں کی محبت کی اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ اللہ نے اپنی محبت کو ماں کی محبت سے تشبیہ دی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ دنیا میں سب سے پُرخلوص رشتہ ماں کا ہی ہوتا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی ماں کا سایہ سلامت ہے۔ اور بہت ہی بدقسمت ہیں وہ لوگ جن کی مائیں حیات ہیں لیکن وہ ان کی قدر نہیں کرتے بدتمیزی سے پیش آتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ اپنی ماؤں کی قدر کریں اور ان سے دعائیں لیں۔ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
ماں تیرے بعد بتا کون لبوں سے اپنے
وقت ِ رخصت مرے ماتھے پہ دعا لکھے گا
یہ ماں ہی ہوتی ہے جو اپنی اولاد کی بدتمیزی پر اسے کبھی بددعا نہیں دیتی۔ یقین جانیں جن کی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی قدر نہیں کرتے ان کی خدمت نہیں کرتے وہ بہت بڑے خسارے میں ہیں اور ایک عظیم سعادت سے محروم ہیں۔ ماں کا اولاد سے ایسا رشتہ ہوتا ہے اس کی محبت ایسی محبت ہوتی ہے جس کا نعم البدل کوئی نہیں ہوسکتا۔ ماں کو اور اس کی محبتوں کو اگر سوچا جائے تو آنکھیں ڈبڈبا جائیں۔ اور جو لوگ اپنی ماں کی قدر ان کی زندگی میں نہیں کرسکے افسوس ہے ان کے لئے انہوں نے کیسی عظیم نعمت گنوا دی۔ یہ حقیقت ہے کہ ماں کی محبت اس کے خلوص و ایثار کے حدود کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔ اللہ نے ماں کے قدموں کے نیچے جنت رکھ ماں کی عظمت اور اہمیت کی پہچان کروائی ہے۔ اب جو چاہے جنت حاصل کرے اور جو چاہے اسے اپنی بے حسی کی نذر کر دے۔
ماں شفقت و خلوص، بے لوث محبت اور قربانی کا دوسرا نام ہے۔ دنیا کا وہ سب سے پیارا رشتہ جس کا خیال جیسے ہی ذہن میں آئے ایک خوبصورت سا احساس جاگتا ہے۔ وہ صرف اور صرف ماں کا رشتہ ہے۔ جو اپنی اولاد کے ہر دکھ کو ہر تکلیف کو اپنے وسیع آنچل میں سمیٹ لیتی ہے۔ اور لبوں پر مسکراہٹ سجائے زندگی کی شاہراہ پر رواں دواں رہتی ہے جو کبھی نہیں تھکتی کبھی نہیں رکتی اور نہ کبھی احسان جتلاتی ہے اور نہ ہی اپنی محبتوں کا صلہ مانگتی ہے۔ یہ حقیقت ہے ماں کی اس محبت کی اس عظمت کی جس کا اندازہ لگانا ہمارے بس کی بات نہیں! اللہ تعالیٰ ہمیں ان کی خدمت کرنے اور ان سے محبت کرنے کی توفیق دے (آمین)۔