ناصر سید : احمد نگرکے ایک گاؤں کا نوجوان جوآئی آئی ٹی سے پڑھائی کرکے اب امیزون سے وابستہ ہے

Updated: November 23, 2020, 1:12 PM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

ناصر نے رحمانی ۳۰؍کا داخلہ امتحان برائے انجینئرنگ کوچنگ کامیاب کیا ، پھر آئی آئی ٹی سے پڑھائی مکمل کی اورامسال اسے امریکی کمپنی کی حیدر آباد برانچ میں پرکشش تنخواہ پر ملازمت ملی ہے

Nasir Syed with Family
ناصر سید اپنے والدین کے ساتھ

 آج آپ کی  ملاقات  ریاست مہاراشٹر کے احمد نگر کےاَرن گاؤں کے ایک ایسے نوجوان سے کروا رہے ہیں  جس نے آئی آئی ٹی  دھنباد سے کمپیوٹر سائنس میں بی ٹیک کی ڈگری حاصل کرکے دنیا کی  مشہور کمپنی امیزون میں سافٹ ویئر انجینئر کی نوکری حاصل کی ہے۔
 اپنی ابتدائی تعلیم سے متعلق کچھ عرض کریں؟
ناصرسید:  جی میں نے اپنی جماعت اول تا دہم تک تعلیم مہر انگلش اسکول ارن گاوں ضلع احمد نگر سے حاصل کی ہے۔ ۲۰۱۴ء  میں اپنا دسویں جماعت کا امتحان۹۰ء۸۰؍  فیصد سے کامیاب کیا۔ دسویں جماعت کے دوران ہی میں نے رحمانی ۳۰؍کا داخلہ امتحان انجینئرنگ کی کوچنگ حاصل کرنے کے لئے دیا تھا جس میں الحمداللہ مجھے کامیابی ملی۔میرا انتخاب گیارہویں بارہویں سائنس کی پڑھائی کے علاوہ انجینئرنگ کی کوچنگ کیلئے ممبئی کے مشہور ادارہ انجمن اسلام کے صابو صدیق ٹیکنیکل کالج میں ہوا۔
 آپ کی ابتدائی تعلیم احمد نگر میں ہوئی ممبئی  آنے کے بعد آپ کو یہاں کا ماحول کیسا لگا اور آپ نے کس طرح پڑھائی کی؟
ناصرسید: جب مجھے معلوم ہوا کہ اب میری آگے کی تعلیم ممبئی میں ہوگی تو یہ جان کر  مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ممبئی آکر پڑھائی کرنے کا جوش اور جذبہ کچھ اور ہی تھا۔ یہاں آنے کے بعد  ابتدائی دن کے بعد ذرا مشکل پیش آنے لگی لیکن میں نے یہاں کے ماحول سے اپنے آپ کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی اور الحمدللہ میں اس میں کامیاب بھی ہوا۔ کیونکہ جو بچے یہاں پڑھائی کےلئے  آئے تھے ان کا سلیکشن ا ن کی  محنت اور ذہانت کی بنیاد پر ہوا تھا  اس لئے یہ مقابلہ سخت تھا مجھے رفتہ رفتہ پڑھائی کی فکر ہونے لگی۔ مجھے بہت اچھے دوست ملے تھے جن کے ساتھ پڑھائی کرنے سے میرا حوصلہ  بڑھا۔ رحمانی ۳۰؍ کی پڑھائی کا طریقہ کار ذرا مختلف تھا سیلف اسٹڈی کی اتنی عادت نہیں تھی میں نے محنت کرنا شروع کی جس کا مجھے کافی فائدہ ہوا۔ یہاں گروپ ڈسکشن ہوتا تھا جس سے اسباق کی تیاری اور اس کا اعادہ کا موقع بھی ملتا تھا ۔ دوستوں کے ساتھ ڈسکشن سے ڈاؤٹ بھی کلیئر ہوتے تھے۔
 آپ کا بارہویں جماعت کا نتیجہ اور جے ای ای مینس اور ایڈوانس کا رینک کیا تھا؟
ناصرسید:بارہویں کی خوب تیاری ہوئی تھی جس کی بنیاد پر میرا بارہویں کا نتیجہ الحمدللہ۸۷ء۶۶؍ فی صد تھا۔ ساتھ ہی جے ای ای  مینس کا رینک۹۲۴۵؍ اور ایڈوانس کا رینک۷۴۲۲؍ تھا جس کی بنیاد پر پہلی ہی کوشش میں میرا داخلہ آئی آئی ٹی دھنباد میں مائننگ مشینری برانچ میں ۲۰۱۶ء میں ہوگیا۔ اگرچہ اس برانچ میں میری دلچسپی کم تھی اسلئے میں نے خوب محنت کی کیونکہ آئی آئی ٹی  اپنے طلبہ کو سال اول کے امتحان کے بعد سیکنڈ ائیر میں دیگر کوئی پسندیدہ برانچ تبدیل کرنے کا ایک اور موقع فراہم کرتی ہے۔ میں نے اسی کے تحت خوب محنت کی الحمدللہ سال اول میں۹ء۴؍ ایس جی پی اے  سے کامیابی ملنے کے بعد میرا داخلہ اسی کالج میں کمپیوٹر سائنس کی برانچ میں ہو گیا۔آئی آئی ٹی کے فرسٹ ایئر میں تمام مضامین کامن ہوتے ہیں۔ کیونکہ میری پسندیدہ برانچ میں میرا داخلہ ہو چکا تھا اسلئے مجھے پڑھائی کرنے میں بہت مزہ آ رہا تھا اور میں بہت خوش تھا۔ رفتہ رفتہ یہاں کے سینئرز سے  اچھی جان پہچان ہو گئی ۔ ان کی رہنمائی میں میری بہت اچھی تربیت ہوئی تھرڈ ائیر میں  مجھے سیمسنگ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ انجینئر کے طور پر دو ماہ بنگلور جاکر سمر انٹرن شپ  کرنے کا موقع ملا۔
آئی آئی ٹی دھنباد سے کمپیوٹر سائنس میں بی ٹیک کے بعد آپ کو کہاں ملازمت کا موقع ملا؟
ناصرسید:  بی ٹیک کی ڈگری لینے کے بعد میرا کیمپس سلیکشن امیزون کمپنی میں بطورِ سافٹ وئیر ڈیولپمنٹ انجینئر  -1 کے جون۲۰۲۰ء میں ہوا۔ لاک ڈاؤن پیریڈ میں جہاں لوگوں کو اپنی نوکری بچانا مشکل تھی مجھے نوکری ملی فی الوقت میں گھر سے ہی کام کررہا ہوں۔  میں ابھی اپنی جاب سے مطمئن ہوں اور خوش بھی۔ مجھے ابھی مزید تجربہ حاصل کرنا ہے تاکہ نت نئی ٹیکنالوجی سے واقفیت حاصل ہو، مجھے اور اسے سیکھنے کا موقع ملے۔
 آپ نے اپنے تعلیمی سفر کو کامیاب بنانے کیلئے کس طرح کی محنت کی؟ ہارڈ ورک یا اسمارٹ ورک؟
ناصرسید:میں  ہارڈ ورک اور اسمارٹ ورک میں فرق نہیں کرتا، میرا ماننا ہے کہ  آپ اپنی جانب سے جتنی طاقت ،قوت جھونک سکتے ہیں جھونک دیجئے۔ یہاں تک کہ آپ کو خود اطمینان ہو جائے اگر آپ مطمئن ہیں تو آپ کو ایک قسم کا حوصلہ پیدا  ہوگا جو آپ کے اندر آگے بڑھنے کی امنگ تیز ہوگی، نئے جوش اور لگن سے پڑھنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے جو آپ کو اپنے ہدف کے قریب لے جاتا ہے۔ جب تک آپ مطمئن نہیں پڑھتے جائیے، کوشش کرتے رہیئے۔ شارٹ کٹ سے کبھی کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی۔
اپنی کامیابی  اور موجودہ ملازمت کو آپ کس سے منسوب کرنا چاہیں گے؟
میری کامیابی میں میرے والدین اور رحمانی ۳۰؍ کا بڑا اہم رول ہے۔ میرے والدین نے مجھے ہر قسم کی تعلیمی سہولیات مہیا کیں ساتھ ہی رحمانی ۳۰؍ کا میں ہمیشہ ممنون رہوں گا اگر ان کی جانب سے مجھے مفت کو چنگ کی معیاری سہولت دستیاب نہ ہوتی تو میرا آج اس مقام پر پہنچنا مشکل تھا۔ کمیونیٹی کی جانب سے ایسے مزید اداروں کی ضرورت ہے ساتھ ہی جو ادارے فی الوقت یہ خدمت انجام دے رہے ہیں انہیں ملت کی جانب سے مزید تقویت پہنچانے کی ضرورت ہے جس سے مزید بچوں کا معیاری تعلیم حاصل کرنے کا خواب پورا ہوگا۔
سوال: اپنی فیملی کے بارے میں بتائیے؟
ناصر سید: میرے والد سید یوسف  فوج میں کلرک ہیں۔ میری والدہ خاتون خانہ ہیں۔ بڑی بہن نے انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہیں ان کی شادی ہو چکی ہے۔ایک چھوٹا بھائی ہے اس کا بھی رحمانی۳۰؍ کی کوچنگ میں انتخاب ہوا تھا مگر اس کا آئی آئی ٹی میں داخلہ نہیں ہو سکا۔  وہ شہر پونے کے کالج آف انجینئرنگ میں کمپیوٹر سائنس برانچ میں سیکنڈ ایئر کا طالب علم ہے۔ میرے والدین نے ہم سب بھائی بہنوں کی تعلیم پر کافی توجہ دی ہے۔ انہوں نے ہمیں تعلیمی معاملات میں کبھی کسی چیز کی کمی ہونے نہیں دی۔ مجھے کبھی یہ احساس نہیں ہوا کہ اگر میرے پاس یہ چیز ہوتی تو میں اور اچھا پرفارمنس دے سکتا تھا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK