نئے تعلیمی سال میں طلبہ کوتعلیمی سلسلہ سے جوڑنے کیلئے کیا کرنا ہوگا؟

Updated: May 27, 2021, 4:18 PM IST | Aamir Ansari | Mumbai

اگرحالات بہتر رہے تو آئندہ ماہ سے ابتدائی چند ماہ تعلیم آن لائن طریقے سے ہی شروع کی جائے گی، ایسے میں اسکول، والدین اور تعلیمی اداروں کو اپنی اپنی سطح پر سرگرم ہونا ہوگا

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

گزشتہ سال کے تجربات  ہمارے سامنے ہیں ، کورونا وباء کے سبب  گزشتہ سال اسکول کی تعلیم بُری طرح سے متاثر رہی ، ہر اسکول نے اپنے طور پر ہر ممکن کوشش کی کہ اُس وقت کے حالات کے مطابق بچوں کو آن لائن طریقہ تعلیم سے جوڑیں ، ہم سب کیلئے  بالکل بھی نئی بات تھی ، شروعات میں نصاب کو کم کیا گیا ، آن لائن طریقہ کار کیلئے  صرف ’اکیڈمک مضامین‘ کو شامل کیا گیا تھا ،پرائمری جماعتوں کیلئے  دن میں ۲؍گھنٹے جبکہ بڑی کلاسیز کیلئے  دن میں ۳؍ گھنٹے طئے کئے گئےتھے ۔ آن لائن طریقے سے پڑھائے جانے والے تمام ریکارڈز بھی مانگے گئے ، دکشا ایپ ، سوادھیہ ، کہانی کا سنیچر ، ورک شیٹ کا نظام، مڈڈے میل   اور دیگر کئی طریقے اپنائے گئے لیکن پھر نتائج خاطر خواہ نہیں مل سکے۔
  اب انہی حالات میں ایک بار پھر اگلے تعلیمی سال کا آغاز ہونے جارہا ہے ، حکومت ، تعلیمی محکمہ ، اسکول کے منتظمین ، اساتذہ و پرنسپل ،والدین سب کیلئے  دوبارہ ایک بڑا چیلنج سامنے ہے۔ گزشتہ سال تعلیمی محاذپر تن ، من دھن سے کام کرنے والے کئی متوالوں نے اپنی تعلیمی سرگرمی کو تیز سے تیز تر کرنے نیز اپنی اختراعی صلاحیتوں کے ساتھ طلبہ کی ایک بڑی جماعت کیلئے  بہت ہی خاموشی سے کام کیا۔ لیکن اب ضرورت اس بات کی ہے ہر اسکول ہر فرد ، چاہے اساتذہ ہو ں یا  نان ٹیچنگ ، انتظامیہ ہو یا والدین ، حکومت ہو یا محکمہ تعلیم و غیر سرکاری ادارے سب کو مل کر اپنا رول اداکر نا ہوگا۔
 اردو اداروں کے لئے گزشتہ سال دو بڑے اہم مسائل تھے پہلا بچوں کا اُن کے اسکول و ٹیچرس سے جوڑنا ۔ دوسرا آن لائن طریقہ تدریس کوصحیح طریقے سے اپنانا تاکہ اکتسابی عمل کو بہتر بنا یا جا سکے ساتھ ہی جانچ کے عمل کو بھی موثر کیا جاسکے۔سب سے پہلے ضروری ہے حکومت کے محکمہ تعلیم کی جانب سے اس متعلق وقت سے پہلے یعنی کم سے کم ۷ ؍یا ۸؍ جون تک پوری ریاست کیلئے  باقاعدہ ۴؍ سے ۵؍ پر مشتمل ایک مکمل منصوبہ بلیو پرنٹ کی شکل میں سامنے آجائے ۔ جماعت پہلی تا بارہویں آئندہ اکتوبر تک ہر کلاس کا مکمل نصاب ، اکتسابی عمل ، جانچ کا عمل ، وقت کی منصوبہ بندی  اور اساتذہ و اسکول سے محکمہ تعلیم کو دی جانے والی رپورٹ کا سسٹم کا مکمل خاکہ سامنے رکھ دیا جائے۔ حالات نارمل ہوں جائیں اس میں تبدیلی کی جاسکتی ہے لیکن حالات بگڑنے کے بعد نیا تجربات کرنا اب صحیح نہیں ، ہمیں بگڑے ہوئے حالات میں کیسے ،کب اور کتنا کام کرنا ہے اس کی وضاحت ریاستی سطح پر ایس سی آر ٹی کے ذریعے ظاہر ہوجانا چاہیے ، اگر ایسا نہیں ہوتا تب بھی اسکول و اساتذہ کو پریشان ہونے کی بجائے  مقامی سطح سے اس کی منصوبہ بندی کرنا ضروری ہے۔ 
طلبہ کو اسکول سے جوڑنے کیلئے کئے جانے والے کام 
 اس کے لئے دو طرح سے کام کرنا ضروری ہے پہلا اسکول سطح پر اپنائے جانے والے پروگرام دوسرا محلے یا علاقائی سطح پر کیے جانے والے کام 
  اسکولی سطح پر اپنائے جانے والی تدابیر:
nاساتذہ کی ذہن سازی : سب سے پہلے اساتذہ کو آن لائن طریقے کار کو مکمل طور پر اختیار کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیئےبھلے اس عمل میں کچھ خامیاں ہوں لیکن فی الوقت اسی سسٹم کو اپنا کر بہتر کام کیسے کیا جاسکتے ہیں اس پر غور و فکر اور تربیت کی ضرورت ہے۔ چاہے کتنے ہی بچے آن لائن طریقے سے جُڑیں ،اس پلیٹ فارم کا بہتر استعمال سیکھنا اساتذہ کے لئے  نہایت ضروری ہے۔
nجو بچے آن لائن پڑھائی کے عمل سے نہیں جُڑ رہے ہیں ان کی علاحدہ فہرست بنے، بچوں سے فون پر رابطہ کرنا یا ہوم وزٹ کرنا یا کوئی اور طریقہ اپنایا جانا چاہئے اس پر غور و فکر ہو۔
گزشتہ سال کے تجربات کی روشنی میں کچھ ترکیب اور لائحہ عمل طئے ہو لیکن ہر طالب علم کے متعلق ریگولر حاضری کا صحیح اور پختہ نظام ہونا چاہیئے۔اس کام میں اساتذہ کو تھوڑا کلریکل کام بھی کرنا ہوگا۔بدلتے حالات میں اپنا رول بھی تھوڑا بدلنا ضروری ہے حالاں کہ اساتذہ ایک بڑے گروپ نے گزشتہ سال کافی تگ ودو اوردوڑبھاگ کی ہے۔ 
 والدین کی ذہن سازی : تمام بچوں اور والدین کے واٹس آپ گروپ یا ٹیلیگرام گروپ سے جوڑنے کی ہر ممکن کوشش ہو۔  آن لائن میٹنگ ایپس کے ذریعے چاہے زوم ہو یا گوگل میٹ یا پھر ٹیم ۔ آن لائن میٹنگ کے ذریعےاس تحریک کو شروع کیا جائے ۔ ایک ترغیبی میٹنگ لی جاسکتی ہے۔ جس میں کسی مہمان مقرر کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔ترغیب اور تحریک کیلئے  ۔اسکول و تعلیم سے دوری کے نقصانات پر آگاہی ہو۔ہر کلاس کے بچوں سے والدین سے پرنسپل یا انتظامیہ کے لوگ بات کریں۔ اگر ممکن ہو تو انتظامیہ کے ذمہ داران اور پرنسپل کا ایک اچھا پیغام ویڈیو کے ذریعے بھیجا جاسکتا ہے۔
  اسکول اپنا مکمل۔ٹائم ٹیبل تیار رکھے۔کم سےکم چار ماہ کی مضبوط پلاننگ ہو جس میں پڑھائی، مختلف سرگرمیاں اور داخلی جانچ ہر طرح کی بات شامل ہو۔ گزشتہ سال پہلی تا پانچویں جماعت کیلئے  ۲؍ گھنٹے اور بقیہ کلاس کیلئے روزانہ ۳؍ گھنٹوں کا وقت طے گیا تھا، ممکن ہے ایسا ہی کچھ نظام اپنا یا جائے ۔ اس لحاظ سے منصوبہ بندی ہو۔
 اساتذہ کا ورک لوڈ ، مضمون کے لحاظ سے کلاس کے لحاظ سے پہلے ہی طئے کردیا جائے ۔ تاکہ اساتذہ اپنی بہتر انفرادی منصوبہ بندی کر سکیں ۔ہر استاد اپنے ذمہ آنے والے مضمون اور کلاس کے لیے آن لائن مٹیریل کا بندوبست کرے ، ایسا نہ ہو کہ صرف زوم میٹنگ میں آپ یک طرفہ بولیں اور بچوں کو بونے کا موقع نہ مل سکے ، آن لائن طریقہ تدریس میں یہ سب سے بڑا مسئلہ ہے، اس لیے طلبا درس و تدریس کے عمل میں خود سے کیسے شامل ہو اس پر بہت زیادہ کام کرناہے۔ہر کلاس کی شروعات میں کی جانے والی کچھ سرگرمیاں سوچنا ضرور ی ہے۔اس کےلیے کچھ خاص اور نہایت آسان توجہ حاصل کرنے والے طریقوںکے متعلق سیکھنا اور سمجھنا ہوگا۔ 
  بچوں اور والدین کو ۱۴؍جون سے قبل ہی مکمل ٹائم ٹیبل دے دیا جائے۔ اسکول کی شروعات کچھ الگ انداز میں ہو۔انعامی مقابلے یا کس خاص سرگرمی کو سامنے رکھ کر شروعات ہو۔ شروعاتی ہفتہ جتنا موثر اور اچھا ہوگا آگے کے معاملات اتنے آسان اور بہتر۔ 
ہر اسکول کا اصل ریسورس اس کااپنا اسٹاف ہے۔ پرنسپل کواپنے اس ہیومن ریسورس کو کیسے بہتر کام کے لیے آمادہ کیا جائے اس پر کام کرنا ہوگا۔
آن لائن پڑھائی سے  بہت سے اساتذہ بھی کچھ حد تک ناخوش اور بے زاربھی ہیں۔ ان کی یہ بیزاری کیسے دور ہو اس پر سوچنا ضروری ہے اور ذہنی طور پر اس کام کو کرنے کے لیے وہ آمادہ ہوجائیں اس کے لیے اسکول لیول پر کام کرنا ہوگا ،  اسٹاف کی پلاننگ میٹنگ ہو۔ ان کی دل جوئی اور ہمت افزائی کرنا ان کے نئے طریقے اپنانے کے لیے تحریک دینا ضروری ہے۔جن اساتذہ کے خود کے یوٹیوب چینل ہوں ان کی ہمت افزائی ہو ، ان کے تعلیمی ویڈیوز کو سب کے سامنے بتایا جائے ، بلکہ کوشش ہو کہ ہر ٹیچر کا اپنا تعلیمی یو ٹیوب چینل ہو۔
n اسکول لیول پر شروعات میں کچھ دنوں تک پچھلی جماعت  کا اعادہ کیا جائے جس کیلئے  شاید محکمہ تعلیم کی جانب سے بھی کچھ کوشش جاری ہے۔ آن لائن لیکچر کس طرح موثر ہوں اس پر اساتذہ کیلئے تربیت کرنا ضروری ہے۔ اردو اسکول ہر اسٹاف اپنے لیے یہ ہدف بنائے کہ وہ آئندہ سال خود اپنا رتعلیمی ویڈیو ضرور بنائے گا ، جب کلاس کے بچے آن لائن کلاس کے دوران اپنے خود کے ٹیچر کے بنائے ہوئے تعلیمی ویڈیوز کو دیکھتے ہیں وہ بھی اورزیادہ دلچسپی لیتے ہیں اور اپنے استاد کے ویڈیوز کو دوسرے طلبہ تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسلئے  اس عمل کو موثر بنانا اواردو ادارے کے  ہر استاد کو اس کام کیلئے کچھ اقدامات انفرادی سطح پر اور اسکول کو اجتماعی سطح پر کرنا ضروی ہے۔ 
پڑھائی کے ساتھ ساتھ آن لائن کوئز ، جیسے ویب سائٹ کا استعمال کرنا ضروری ہے تاکہ پڑھائی کومزید دلچسپ بنایا جا سکے۔ تمام اساتذۃ اس ویب سائٹ پر ضرور وزٹ کریں اور کوئز کونٹیسٹ کے عمل کو سیکھیں /kahoot.com ، یو ٹیوب پر بھی اس کے استعمال کے ویڈیوز موجود ہے اس کا مشاہدہ کریں، ساتھ آن لائن کوئز کے بعد آٹو کریئیٹ  کے ساتھ کس طرح آن لائن سرٹیفکیٹ دئیے جاسکتے ہیں اس عمل کو سیکھیں جو نہایت آسان عمل ، ان سارے عمل کے ویڈیو ز موجود ہیں ، جسے دیکھ کر اپنے تعلیمی و اکتسابی عمل کو بہتر و موثر بنایا جا سکتا ہے۔ ہر ہفتے اسٹاف کی آن لائن میٹنگ ہو جس میں ہر ہفتے کی کارکردگی پر رپورٹ طلب کی جائے ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK