Inquilab Logo

اک دل کا ہے سکون جسے ڈھونڈتے رہے!

Updated: July 10, 2024, 1:41 PM IST | Khaleda Fodkar | Mumbai

معاشرہ میں بے سکونی، ڈپریشن اور مسائل کا انبار اسی لئے ہے کہ ہماری خواہشات لامحدود ہیں۔ ہم صبر و قناعت کا دامن چھوڑ کر آسائشوں کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ اگر تھوڑی سی ہمت اور کوشش کرتے ہوئے ہم اپنی غیر واجبی توقعات کو کچھ کم کریں تو یقیناً اپنے قلب کو سکون فراہم کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

In a life of simplicity and contentment, peace of mind is necessary whether or not there are luxuries. Photo: INN
سادگی اور قناعت والی زندگی میں آسائشیں ہوں نہ ہوں دل کا سکون لازم ہے۔ تصویر : آئی این این

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ دولت کی ریل پیل ہو تو زندگی پرسکون ہو جائے گی یا کوئی عہدہ منصب، زمین جائیداد وغیرہ سکون کیلئے کافی ہیں مگر اکثر اوقات حقیقت اس کے برعکس بھی ہوتی ہے۔ ساری دنیاوی آسائشوں اور آسانیوں سے نوازے گئے افراد بھی اکثر بے سکون پائے جاتے ہیں کیونکہ دنیا کی آسائشوں میں بس وقتی راحت ہے، ابدی سکون صرف اللہ تعالیٰ کی یاد اور ذکر میں ہے، نیکیوں اور صبر و قناعت میں ہے، شکر گزاری اور اعتدال میں ہے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ خواتین اکثر دوسروں کی فکر میں اپنی زندگی کا سکون غارت کردیتی ہیں۔ ان کے زبان سے اکثر اس قسم کے جملے سننے کو ملتے ہیں کہ فلاں خاتون کے پاس خوب دولت ہے، اس لئے وہ خوش ہے۔ انہیں ہمیشہ اپنی زندگی سے شکایت ہوتی ہیں اور دوسروں کی زندگی پُرسکون نظر آتی ہے۔ جبکہ یہ ان کی غلط فہمی ہے۔
 معاشرہ میں بے سکونی، ڈپریشن اور مسائل کا انبار اسی لئے ہے کہ ہماری خواہشات لامحدود ہیں۔ ہم صبر و قناعت کا دامن چھوڑ کر آسائشوں کے غلام بنتے جا رہے ہیں۔ پوری ہو جانے والی خواہشات بھی کبھی آخری نہیں ہوتیں بلکہ نا آسودہ آرزوؤں کا ایک سلسلہ ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔ اپنے پاس موجود چیزیں ہمیں مطمئن کرنے میں اس لئے ناکام ہیں کہ حاصل ہو جانے والی شے سے بہت جلد ہم اوب جاتے ہیں اور پھر کوئی نئی اور خوب سے خوب تر کی تلاش ہمیں لالچ کے ان نئے نئے سفروں پر روانہ کر دیتی ہے جن کی منزل کبھی آتی ہی نہیں۔ عہدہ، منصب مال و زر کی اسی لا متناہی حرص و طلب نے ہمیں ذہنی و دلی سکون سے محروم کر دیا ہے۔ ہماری نگاہیں ہمیشہ اپنے سے اوپر والوں پر ٹکی ہوتی ہیں ہم اپنے حسد میں اس طرح گرفتار ہوتے ہیں کہ دوسروں کو میسر نعمتیں ہماری بے سکونی میں اضافہ کرتی رہتی ہیں، اپنے سے اونچے معیار کے لوگوں پر نظر رکھنے کا واضح نقصان یہ ہے کہ یہ طرز عمل ہمیں نہ صرف شدید احساس کمتری میں مبتلاکرتا ہے بلکہ اپنے پاس موجود وسائل سے لطف اندوز ہونے کے بجائے میسر شدہ نعمتوں کی نا قدری و ناشکری جیسے گناہ میں بھی مبتلا کر دیتا ہے۔ معاشرے میں ایک دوسرے سے حریفانہ مقابلہ آرائی، زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول اور بےجا خواہشوں کی تکمیل کا یہی قابل مذمت عمل ہے جو معاشرے میں اعلی اقدار اور انسانی خوبیوں کے زوال کا باعث بنتا ہے، نفرت عداوت اور نا انصافی کو پروان چڑھاتا ہے۔
 دل کا حقیقی سکون نہ دنیا کی سیر وتفریح میں مل سکتا ہے اور نہ ہی موسیقی فلموں اور دیگر خرافات میں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ بے جن چیزوں میں سکون رکھا ہی نہیں وہاں سے کیسے حاصل ہوسکتا ہے؟ اطمینان و سکون کی دولت نیکیوں میں، خیر خواہی میں فلاح اور بندگی میں چھپی ہے لہٰذا خواہشوں کے پیچھے بھاگتے ہوئے اپنے آپ کو ہر دم غیر ضروری مشقت اور اذیت میں مبتلا رکھنا کوئی دانشمندی نہیں کیونکہ حرص و طمع اور بےجا طریقوں سے اپنی خواہشات کی پیروی دراصل شیطان کے راستے ہیں جن سےوہ انسان کو گمراہی اور گناہ کی دلدل تک لے جاتا ہے۔ اگر تھوڑی سی ہمت اور کوشش کرتے ہوئے ہم اپنی غیر واجبی توقعات کو کچھ کم کریں تو نمود و نمائش اور برتری کے احساس پر قابو پانا کچھ مشکل نہیں، قناعت اور صبر و شکر کے ساتھ زندگی کے ہر مرحلے میں سادگی اختیار کر یں تو زندگی آسان ہوسکتی ہے، دل کا سکون بھی پایا جاسکتا ہے اور اپنے ازلی دشمن شیطان کو شکست بھی دی جاسکتی ہے۔ 
 تصنعات سے پاک سادہ طرز زندگی اسلام کا وہ واضح پیغام ہے جوانسان کی فلاح اور کامیابی کا ضامن ہے۔ ہماری کم فہمی ہےکہ ہم سادگی کو عیب اور نمائش و بناوٹ کو شرف سمجھ لیتے ہیں۔ ناسمجھ انسان صرف مال و دولت کو رب کا انعام سمجھتا ہےجبکہ عزت و شرف، صحت و تندرستی، نیک اولاد، ایمان و ہدایت اللہ تعالیٰ کی وہ اشرف ترین نعمتیں ہیں جن کا دنیاوی دولت سے کوئی موازنہ ہی نہیں۔ خواتین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھیں، دلوں کی آسودگی اور سکون کیلئے اللہ کی رضا سے زیادہ اکسیر کچھ بھی نہیں، اپنے مقدر اور رب العالمین کی عطا و تقسیم پر راضی رہنا بلاشبہ ہمارے پژمردہ دلوں کو اطمینان اور سکون سے بھر دے گا۔ اپنے آس پاس کے معاملات کا ایمانداری سے تجزیہ کریں تو ایک بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ سادگی اور قناعت والی زندگی میں آسائشیں ہوں نہ ہوں دل کا سکون لازم ہے۔ خالق سے اچھا تعلق اور مخلوق سے اچھا برتاؤ ہمارا شیوہ ہونا چاہئے۔ دوسروں سے امیدیں باندھنے کے بجائے سب کی امیدوں پر پورا اترنے کی کوشش کرنا مقصد حیات ہونا چاہئے۔ ایک بار ملی ہوئی زندگی کو بے کار اور لغو کاموں میں گزار کر ہم اپنے ذہن و دل کو بیمار اور بے سکون بنا لیتے ہیں۔ لہٰذا ہمیشہ اچھا اور نیک کام دل اور جذبے کی خوبصورتی کے ساتھ اللہ کی رضا کے لئے کیا جائے تو دل فتح ہوتے ہیں اور یہی ہے ابدی سکون کا راز۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK