• Thu, 10 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

خلوص اور محبّت سے گھر کو خوشیوں کا گہوارہ بنا یا جاسکتا ہے

Updated: September 10, 2026, 3:47 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

بہو پر تنقید برائے تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے اس کے ماں باپ، بہن بھائی، سہیلیاں سب اس سے دور ہیں، لہٰذا اسے یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ سب اس کے اپنے ہیں، یہ گھر اس کا ہے۔ دوسری طرف بہو کو بھی کھلے دل سے سسرالی رشتے کو اپنانا چاہئے۔

A mother-in-law and daughter-in-law can both make the home environment pleasant through mutual understanding. Photo: INN
ساس بہو، دونوں آپسی سمجھ بوجھ سے گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا سکتی ہیں۔ تصویر: آئی این این

انسان کی زندگی میں سب سے قیمتی رشتے ہوتے ہیں کیونکہ رشتے انسان کی زندگی کو مکمل، پُرسکون اور خوبصورت بناتے ہیں۔ بلاشبہ باہمی رشتوں اور تعلقات کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، ان کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ رشتے کئی قسم کے ہوتے ہیں ایک وہ جو قدرت کی طرف سے پیدائشی طور پر بنتے ہیں، اور دوسرے وہ جو انسان اپنی زندگی میں خود بناتا ہے۔ لیکن سب سے پہلے بنی نوع انسان کا انسانیت کے رشتے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعلق قائم ہے جس کے باعث ایک انسان دوسرے انسان کے لئے خود میں کشش محسوس کرتا ہے اور یہی کشش ایک انسان کے دوسرے انسان سے تعلقات استوار کرنے کا باعث بنتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نئی نسل محبّت، اعتماد، رہنمائی اور اُمید کی منتظر ہے

زمانہ تیزی سے تبدیلی کی جانب رواں دواں ہے۔ آج کے دور کی نسبت ماضی میں وسائل محدود لیکن زندگی پر سکون تھی۔ رشتوں میں محبتیں کوٹ کوٹ کر بھری تھیں۔ دلوں میں قربتیں تھیں۔ چنانچہ سب مل جل کر رہتے تھے۔ جبکہ آج کے دور میں محبت ناپید ہوگئی ہے۔ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ آج کل کے بچے زیادہ باشعور ہیں۔ پھر بھی محبت جو ہماری پہچان تھی اس سے ہم محروم ہوتے جارہے ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اب دلوں میں گنجائش اور تحمل کا مادہ نہیں رہا۔ آپس میں نااتفاقیاں، رنجشیں، ناراضگیاں بڑھتی چلی جارہی ہیں۔ کہیں بھائی بہن میں لڑئی جھگڑے ہیں تو کہیں ساس بہو میں جنگ جاری ہے۔ نندیں، بھابیوں سے نالاں ہیں اور بھابیاں، نندوں سے۔ مشترکہ خاندانی نظام کا تصور تقریباً ختم ہو چکا ہے۔ ہر شخص اپنی الگ چار دیواری بنانا چاہتا ہے۔ آج صورتحال یہ ہوگئی ہے کہ بہو گھر میں آتے ہی علاحدہ گھر کے بارے میں سوچنا شروع کردیتی ہے۔ حالانکہ اسے یہ ضرور سوچنا چاہئے کہ اتنا عرصہ وہ ماں کے باپ کے گھر میں رہ کر آئی ہے اب نئے گھر میں قدم رکھا ہے، جہاں ہر قدم پر ایک نیا امتحان اس کا منتظر ہے، ہر لمحہ اسے یہ ثابت کرنا ہے کہ اس کے والدین نے اس کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ ایک اچھی بیوی، اچھی بھابھی اور اچھی بہو بن کر دکھائے، نہ کہ الگ گھر کا سوچے۔ ذمہ داریوں سے فرار آسان ہے لیکن مزہ تو تب ہے جب پوری خوشدلی سے انہیں نبھائیں۔

سسرال ہر لڑکی کیلئے انجان ہوتا ہے لیکن ان انجانے رشتوں کو اپنا بنا کر دکھائیں۔ کیونکہ یہی لڑکی کا حقیقی گھر ہوتا ہے، جسے چاہے تو وہ اپنے خلوص سے خوشیوں کا گہوارہ بنا سکتی ہے اور چاہے تو اس کا شیرازہ بکھیر سکتی ہے۔ برائیوں کو اپنے عمل سے اچھائیوں میں بدلنا ہی فن ہے۔ مناسب وقت پر الگ ہونے میں کوئی برائی نہیں لیکن جب تک سب کے ساتھ رہیں، مل جل کر رہیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں۔ یہ کام کوئی مشکل نہیں، صرف دل میں گنجائش پیدا کرنی ہوگی۔ پھر دیکھیں فاصلے قربتوں میں خود بخود تبدیل ہوجائیں گے اور یہ انجانے رشتے اپنوں سے بڑھ کر لگنے لگیں گے۔

یہ بھی پڑھئے: ہائیڈرا فیشیل: چند باتیں جاننا ضروری

ساس نندیں بہت چاہ کے ساتھ سیکڑوں میں سے ایک چاند سا مکھڑا اپنے لاڈلے کے لئے پسند کرتی ہیں مگر جیسے ہی یہ چاند ان کے آنگن میں اترتا ہے اس میں گہن لگ جاتا ہے۔ بہو یا بھابھی پر تنقید برائے تنقید کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچیں کہ ایک لڑکی اپنا سب کچھ چھوڑ کر آپ کے گھر آئی ہے اس کے ماں باپ، بہن بھائی، سہیلیاں سب اس سے دور ہیں، لہٰذا اسے یہ احساس دلانا ضروری ہے کہ سب اس کے اپنے ہیں، یہ گھر اس کا ہے۔ اس کا بگاڑنا یا بنانا اس کے ہاتھ میں ہے۔ اسے کھلے دل سے اپنائیں، اپنی بہو یا بھابھی کی چھوٹی چھوٹی کاوشوں کو سراہیں۔ بات بے بات طعنہ دینے سے گریز کریں بلکہ اس کی گھر میں ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کی حوصلہ افزائی کریں۔ بہو کو بیاہ کرکے لانے کے فوراً بعد ہی اس پر ذمہ داریوں کا پہاڑ نہ لاد دیں بلکہ مل بانٹ کر گھر کے کام انجام دیں اور بہو کو ذمہ داریوں کو سمجھنے اور سنبھالنے کا بھرپور موقع دیں۔ میکے اور سسرال، دونوں جگہ کے ماحول میں فرق ہوتا ہے اس لئے سسرال میں آتے ہی وہاں کے ماحول میں فوراً ڈھل جانے کی امید کرنا ناسمجھی ہوگی۔ بہتر ہوگا کہ درمیانی راہ نکالی جائے۔

اگر بہو کی کسی بات سے تکلیف پہنچے تو چار لوگوں کے درمیان اس کی برائی کرنے سے بہتر ہے کہ خود اس سے وہ بات کہہ دیں تاکہ گلے شکوے طول نہ پکڑیں۔ بہو گھر کی عزت ہوتی ہے۔ کوشش کریں گھر کی بات گھر ہی میں رہے اور گھر کی عزت پر حرف نہ آئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو اپنا کر بہو کو بھی بیٹی بنایا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر گھر کے بڑے بچوں کی نادانیوں کو اپنی فہم و فراست اور پیار و محبت سے سدھاریں گے تو گھر کا شیرازہ بکھرنے نہ پائے گا۔ مختصر یہ کہ رشتے بڑے ہوتے انمول ہیں۔ ان کی قدر کرنا ہر ایک پر لازم ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK