Inquilab Logo Happiest Places to Work

نئی نسل محبّت، اعتماد، رہنمائی اور اُمید کی منتظر ہے

Updated: August 06, 2026, 4:43 PM IST | Juweriya Qazi | Mumbai

آج کا نوجوان بظاہر پہلے سے زیادہ باخبر، ٹیکنالوجی اور جدید آلات سے آراستہ ہے، لیکن اندر سے وہ اضطراب، بے یقینی، احساسِ تنہائی، خوف، احساسِ کمتری اور مقصدیت کے فقدان کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ اس صورت میں والدین اور اساتذہ، دونوں کو مل کر کوشش کرنی ہوگی تاکہ انہیں زیادہ محفوظ، پُراعتماد اور متوازن شخصیت کا مالک بنایا جائے

The new generation is facing a strange dilemma regarding mental and emotional health. It is in dire need of love and support. Photo: INN
نئی نسل ذہنی و جذباتی صحت کے حوالے سے عجیب کشمش میں مبتلا ہے۔ اسے محبت اور تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ تصویر: آئی این این

انسانی تاریخ کے ہر دور کو کسی نہ کسی انقلاب نے پہچان بخشی ہے، مگر اکیسویں صدی کو علم، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے انقلاب کی صدی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ دنیا ایک عالمی گاؤں میں تبدیل ہوچکی ہے، معلومات تک رسائی چند لمحوں کا کام رہ گئی ہے اور مصنوعی ذہانت انسانی زندگی کے ہر شعبے میں اپنی جگہ بنا رہی ہے۔ لیکن اس حیرت انگیز ترقی کے پس منظر میں ایک ایسا بحران بھی خاموشی سے پروان چڑھ رہا ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا، مگر اس کے اثرات پوری نسل کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ یہ بحران نوجوانوں اور طلبہ کی ذہنی و جذباتی صحت کا بحران ہے۔

آج کا نوجوان بظاہر پہلے سے زیادہ باخبر، ٹیکنالوجی اور جدید آلات سے آراستہ ہے لیکن اندر سے وہ اضطراب، بے یقینی، احساسِ تنہائی، خوف، احساسِ کمتری اور مقصدیت کے فقدان کا شکار ہوتا جارہا ہے۔ امتحانات کی دوڑ، نمبروں کی سیاست، والدین اور معاشرے کی بلند توقعات، مستقبل کی غیر یقینی صورتحال، بے روزگاری کا خدشہ، سوشل میڈیا پر مسلسل موازنہ، مصنوعی زندگی کی نمائش اور حقیقی انسانی تعلقات کی کمزوری نے نوجوان ذہن کو ایک ایسے دباؤ میں مبتلا کردیا ہے جس کا اظہار اکثر خاموشی، چڑچڑے پن، بے دلی، افسردگی یا خود اعتمادی میں کمی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایک ماں کی پکار.....

یہ حقیقت اب عالمی سطح پر تسلیم کی جا چکی ہے کہ ذہنی صحت صرف بیماری سے محفوظ رہنے کا نام نہیں بلکہ ایسی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی صلاحیتوں کو پہچان سکے، دباؤ کا مثبت انداز میں مقابلہ کرسکے، دوسروں کے ساتھ صحتمند تعلقات قائم رکھ سکے اور معاشرہ میں مؤثر کردار ادا کرسکے۔ اگر ایک طالب علم ذہنی طور پر منتشر ہو تو بہترین نصاب، جدید ٹیکنالوجی اور اعلیٰ تعلیمی سہولیات بھی اس کی حقیقی نشوونما کو یقینی نہیں بنا سکتیں۔ ہمارا تعلیمی نظام اب بھی بڑی حد تک امتحان، نمبرات اور نصاب کی تکمیل تک محدود دکھائی دیتا ہے۔ ہم بچوں کو معلومات تو دے رہے ہیں مگر زندگی جینے کا ہنر، جذبات کو سمجھنے کی صلاحیت، ناکامی کو قبول کرنے کا حوصلہ، اختلاف کے باوجود احترام کا سلیقہ اور مشکلات کا سامنا کرنے کی ذہنی قوت کم ہی سکھا پاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیمی کامیابی کے باوجود بے شمار نوجوان اندر سے شکستہ محسوس کرتے ہیں۔ اس سسٹم میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

اکیسویں صدی کا استاد صرف علم منتقل کرنے والا فرد نہیں بلکہ ایک رہنما، مشیر اور حساس انسان بھی ہے۔ ایک طالبعلم کی خاموشی، مسلسل غیر حاضری، اچانک کارکردگی میں کمی یا رویے میں تبدیلی اس کے اندرونی اضطراب کی علامت ہوسکتی ہے۔ ایسے میں ایک استاد کی توجہ، حوصلہ افزائی اور اعتماد بھرے چند الفاظ کسی طالب علم کی پوری زندگی کا رخ بدل سکتے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کے سربراہان، والدین اور پالیسی ساز اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ اسکول کی انتظامیہ کو ایسا تعلیمی ماحول فراہم کرنا چاہئے جہاں مقابلے کے ساتھ تعاون، کامیابی کے ساتھ کردار اور نصاب کے ساتھ انسانیت کو بھی اہمیت دی جائے۔ والدین بچوں سے صرف اعلیٰ نمبروں کی توقع نہ رکھیں بلکہ ان کے جذبات، خوف، خواب اور ذہنی کیفیت کو بھی سمجھنے کی کوشش کریں۔ گھر اور اسکول جب ایک دوسرے کے شریک ِ سفر بنتے ہیں تو بچے زیادہ محفوظ، پُراعتماد اور متوازن شخصیت کے مالک بنتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: زندگی کی بھاگ دوڑ میں اپنے والدین کو نہ بھول جائیں

بطورِ معلم، جب میں اپنے طلبہ کے چہروں کو دیکھتی ہوں تو مجھے صرف مستقبل کے ڈاکٹر، انجینئر، سائنسدان یا افسر نظر نہیں آتے بلکہ ایسے حساس دل دکھائی دیتے ہیں جو محبت، اعتماد، رہنمائی اور امید کے منتظر ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں معلومات کا نعم البدل موجود ہوسکتا ہے، لیکن ایک شفیق استاد، ایک حوصلہ افزا جملہ، ایک توجہ بھری نگاہ اور ایک محفوظ تعلیمی ماحول کا کوئی متبادل نہیں۔ میری نظر میں کامیاب اسکول وہ نہیں جہاں صرف سو فیصد نتائج حاصل ہوں بلکہ وہ ہے جہاں اچھا انسان بننے کی تربیت ملے۔ آج اگر ہم اپنے نوجوانوں کے ذہنوں کے ساتھ ان کے دلوں کی بھی حفاظت کرلیں تو کل ہمیں صرف اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد نہیں بلکہ باکردار، متوازن، باشعور اور انسان دوست شہری ملیں گے۔ یہی وہ سرمایہ ہے جس پر کسی بھی قوم کا مستقبل استوار ہوتا ہے۔ نوجوان نسل کا یہ خاموش بحران محض ماہرین ِ نفسیات کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر استاد، ہر والدین، ہر تعلیمی ادارہ اور پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہے کیونکہ قومیں صرف مضبوط معیشت سے نہیں بلکہ مضبوط ذہنوں، مطمئن دلوں اور بیدار ضمیروں سے تعمیر ہوتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK