• Thu, 15 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اپنی ذات کو مسلسل نظرانداز کرنا قربانی نہیں

Updated: October 14, 2026, 9:46 PM IST | Dr. Qamar Suroor | Mumbai

زندگی کا ایک خوبصورت اصول یہ ہے کہ جو چیز ہمارے اختیار میں ہے، اس کے لئے کوشش کریں اور جو ہمارے اختیار سے باہر ہے، اسے اللہ کے حوالے کر دیں۔ انسان اپنی نیت درست رکھ سکتا ہے، اپنی کوشش پوری کرسکتا ہے، اپنا رویہ بہتر بنا سکتا ہے، لیکن ہر شخص کے دل اور سوچ کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدل سکتا۔

Matters over which we have no control should be left to Allah. Photo: INN
جن معاملات میں ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا انہیں اللہ کے حوالے کر دینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

زندگی صرف خوشیوں اور آسانیوں کا نام نہیں۔ کبھی راستے ہموار ہوتے ہیں تو کبھی قدم قدم پر آزمائش سامنے آتی ہے۔ کبھی اپنے ہی لوگوں کی بات دل کو دکھا دیتی ہے، کبھی حالات ہماری خواہش کے مطابق نہیں ہوتے اور کبھی ہم اپنی پوری کوشش کے باوجود کسی معاملے کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال پاتے۔ ایسے میں انسان سب سے زیادہ جس چیز کا محتاج ہوتا ہے، وہ ہے دل کا سکون۔

ہم میں سے بہت سے لوگ اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسی چیزوں کے بارے میں سوچتے ہوئے گزار دیتے ہیں جن پر ہمارا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ کون ہمارے بارے میں کیا سوچتا ہے، کس نے ہمارے بارے میں کیا کہا، کس نے ہمیں کیوں نظرانداز کیا، کس نے ہماری نیت کو غلط سمجھا، کون ہم سے خوش ہے اور کون ناراض، یہ سب سوال دل کو مسلسل الجھائے رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہر سوال کا جواب تلاش کرنا اور ہر بات کی وضاحت دینا ضروری نہیں۔

زندگی کا ایک خوبصورت اصول یہ ہے کہ جو چیز ہمارے اختیار میں ہے، اس کے لئے کوشش کریں اور جو ہمارے اختیار سے باہر ہے، اسے اللہ کے حوالے کر دیں۔ انسان اپنی نیت درست رکھ سکتا ہے، اپنی کوشش پوری کرسکتا ہے، اپنا رویہ بہتر بنا سکتا ہے، لیکن ہر شخص کے دل اور سوچ کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں بدل سکتا۔

یہ بھی پڑھئے: ناشتے میں اِن غذاؤں کا استعمال نقصاندہ ثابت ہوسکتا ہے

ہمیں یہ بھی سیکھنا ہوگا کہ ہر اعتراض کا جواب الفاظ سے دینا ضروری نہیں۔ بعض اوقات خاموشی سب سے باوقار جواب ہوتی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ بہت سی غلط فہمیاں خود دور ہوجاتی ہیں اور بہت سے چہرے خود اپنی حقیقت دکھا دیتے ہیں۔ ہر جگہ خود کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش انسان کی اپنی توانائی اور ذہنی سکون چھین لیتی ہے۔

خاص طور پر عورت اپنی زندگی میں کئی کردار نبھاتے ہوئے اکثر اپنی ذات کو نظرانداز کر دیتی ہے۔ گھر کی ذمہ داریاں، رشتوں کی نزاکت، بچوں کی فکر، معاشرے کی توقعات اور دوسروں کی خوشی کا خیال، ان سب کے درمیان وہ کبھی کبھی یہ بھول جاتی ہے کہ اس کے اپنے دل کو بھی آرام کی ضرورت ہے۔ دوسروں کا خیال رکھنا خوبصورت صفت ہے، لیکن اپنی ذات کو مسلسل نظرانداز کرنا قربانی نہیں، اپنے ساتھ ناانصافی ہے۔

ہر شخص کو خوش رکھنا بھی ممکن نہیں۔ آپ اپنی نیت کتنی ہی اچھی رکھیں، پھر بھی کوئی نہ کوئی آپ سے شاکی ہوسکتا ہے۔ اس لئے لوگوں کی پسند اور ناپسند کو اپنی زندگی کا پیمانہ بنانے کے بجائے اپنے کردار اور ضمیر کو اپنا معیار بنائیے۔ اگر آپ نے کسی کا حق نہیں مارا، جان بوجھ کر کسی کا دل نہیں دکھایا اور اپنی استطاعت کے مطابق اپنا فرض ادا کیا ہے تو پھر ہر زبان کو مطمئن کرنا آپ کی ذمہ داری نہیں۔

یہ بھی پڑھئے: موازنہ کی عادت زندگی کا سکون چھین لیتی ہے

ماضی کی تلخ یادیں بھی انسان کو اندر سے تھکا دیتی ہیں۔ جو ہوچکا، اسے بدلا نہیں جاسکتا۔ البتہ اس سے سبق ضرور لیا جاسکتا ہے۔ بعض لوگ ہماری زندگی میں خوشی بن کر آتے ہیں اور بعض ہمیں کوئی ضروری سبق دے کر چلے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں زندگی ہمیں کچھ نہ کچھ سکھا رہی ہوتی ہے۔

اپنی پریشانی ہر شخص کے سامنے بیان کرنا بھی دانشمندی نہیں۔ ہر سننے والا دل رکھنے والا نہیں ہوتا۔ کچھ دکھ ایسے ہوتے ہیں جنہیں لوگوں کے سامنے بیان کرنے کے بجائے سجدے میں رکھ دینا زیادہ بہتر ہے۔ اللہ کے سامنے بہائے گئے آنسو انسان کو کمزور نہیں کرتے، بلکہ دل کو مضبوط بناتے ہیں۔

یاد رکھئے، ہر بند دروازہ ہمیشہ کے لئے بند نہیں ہوتا اور ہر مشکل ہمیشہ نہیں رہتی۔ حالات بدلتے ہیں، وقت کروٹ لیتا ہے اور زندگی نئے امکانات پیدا کرتی ہے۔ آج جو بات بہت بڑی پریشانی محسوس ہورہی ہے، ممکن ہے کچھ عرصے بعد وہی ہمیں زندگی کا ایک اہم سبق معلوم ہو۔ اس لئے اپنے دل پر غیرضروری بوجھ نہ رکھئے۔ ہر بات کا جواب، ہر شخص کی وضاحت، ہر رشتے کی ضمانت اور ہر مسئلے کا فوری حل اپنے ذمے نہ لیجئے۔ اپنی نیت اللہ کے حوالے کیجئے، اپنی کوشش جاری رکھئے اور نتیجہ اس ذات پر چھوڑ دیجئے جو ہمارے ظاہر اور ہمارے باطن کو جانتی ہے۔ بعض دفعہ مسئلہ پر بار بار سوچنے سےذہن کو اذیت پہنچتی ہے۔ دوسروں کو خوش رکھنے کے چکر میں اپنا سکون کھو دیتے ہیں۔ دوسروں کو اپنی وضاحت پیش کرتے کرتے ہم عاجز آجاتے ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ سب کو اپنے حال پر چھوڑ دیں۔ جان لیں کہ دل کو سکون تب ملتا ہے جب انسان یہ سمجھ لیتا ہے کہ اسے ہر چیز سنبھالنے کیلئے نہیں بھیجا گیا۔ کچھ معاملات کوشش مانگتے ہیں، کچھ صبر، کچھ خاموشی اور کچھ صرف دعا۔

یہ بھی پڑھئے: پیسٹل پلیٹڈ انارکلی سیٹ: ٹی پارٹی کیلئے عمدہ

بس اپنی طرف سے نیکی کرتے رہئے، دل صاف رکھئے، امید زندہ رکھئے اور جہاں انسان کی طاقت ختم ہو، وہاں اللہ پر یقین شروع کر دیجئے۔ کیونکہ کبھی کبھی سکون مسئلہ ختم ہونے سے نہیں، بلکہ مسئلہ اللہ کے سپرد کر دینے سے ملتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK