آج کی مصروف زندگی میں رشتوں کا خیال رکھنا ہر خاص و عام پر لازم ہے جبکہ چاہے شہری زندگی ہو یا دیہی، ہر طرف بھاگ دوڑ، مصروفیات اور وقت کی قلت نے انسان کو اس قدر الجھا دیا ہے کہ وہ اپنے ہی عزیزوں سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنے والدین کیلئے بھی وقت نہیں نکال پاتے، جو ہماری توجہ کے زیادہ حقدار ہوتے ہیں۔
والدین کے ساتھ وقت گزارئیے، ان کے ساتھ کھانا کھایئے اور پُرلطف باتوں سے انہیں اچھا محسوس کروائیے۔ تصویر: آئی این این
ایک وقت تھا جب لوگوں کے پاس نہ آج جیسی سہولتیں تھیں، نہ تیز رفتار ذرائع آمدورفت اور نہ جدید مواصلاتی وسائل، مگر اسکے باوجود رشتوں میں محبت، خلوص، اپنائیت اور ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہونے کا جذبہ کہیں زیادہ مضبوط تھا۔ لوگ میلوں کا سفر طے کرکے عزیزوں کی خیریت دریافت کرتے، خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے اور رشتوں کو اپنی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھتے تھے۔ آج صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ہمارے پاس ہر سہولت موجود ہے، چند لمحوں میں دنیا کے کسی بھی کونے میں رابطہ ممکن ہے، مگر دلوں کے فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔ ہم اپنی مصروفیات میں اس قدر گم ہو چکے ہیں کہ نہ حقیقی رشتوں کیلئے وقت نکال پاتے ہیں اور نہ ہی دور کے عزیزوں سے تعلقات نبھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حالانکہ رشتے صرف خون کے تعلق کا نام نہیں بلکہ محبت، احترام، توجہ اور احساس کا تقاضا بھی کرتے ہیں۔ اگر ہم نے آج اپنے رشتوں کی حفاظت نہ کی تو وہ وقت دور نہیں جب ہمارے پاس ہر آسائش تو ہوگی، مگر اپنا کہنے والا کوئی نہ ہوگا۔ ایسے میں سب سے پہلے ہمیں اپنے والدین کے حق کو پہچاننا ہوگا، کیونکہ وہی ہماری زندگی کے سب سے قیمتی اور بے لوث رشتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اپنے لئے وقت نکالئے ورنہ اس کا کام گزرنا ہے، بے فیض گزر جائیگا!
والدین اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمت ہیں جن کی محبت، قربانی اور شفقت کا کوئی نعم البدل نہیں۔ دنیا میں اگر کوئی رشتہ بے غرض محبت، ایثار اور خلوص کی حقیقی مثال ہے تو وہ والدین کا رشتہ ہے۔ اسی لئے اسلام نے والدین کی خدمت کو عبادت قرار دیا ہے اور ان کیساتھ حسنِ سلوک کی بار بار تاکید فرمائی ہے۔ والدین کا خیال رکھنا صرف ان کی ضروریات پوری کرنے کا نام نہیں بلکہ ان کے جذبات، احساسات، عزتِ نفس اور وقار کا خیال رکھنا بھی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان سے ہمیشہ نرم لہجے میں گفتگو کریں، ان کی بات پوری توجہ سے سنیں، ان کی رائے کا احترام کریں اور کبھی ایسا رویہ اختیار نہ کریں جس سے ان کے دل کو ٹھیس پہنچے۔ عمر کے اس مرحلے میں جب وہ جسمانی طور پر کمزور اور جذباتی طور پر زیادہ حساس ہو جاتے ہیں، انہیں ہماری محبت، صبر، شفقت اور توجہ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
والدین کو وقت دینا بھی ان کی خدمت ہے:
والدین کی خدمت کا سب سے خوبصورت طریقہ یہ ہے کہ ہم انہیں اپنا قیمتی وقت دیں۔ آج بہت سے لوگ اپنے والدین کی مالی ضروریات تو پوری کر دیتے ہیں، مگر ان کے ساتھ چند لمحے بیٹھنے، ان کی خیریت دریافت کرنے، ان کے تجربات سننے اور ان کے دل کی بات سمجھنے کے لئے وقت نہیں نکالتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکثر والدین کو دولت سے زیادہ اپنی اولاد کی محبت، توجہ اور قربت درکار ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرنا، ایک وقت کا کھانا ساتھ کھانا، ان کی پسند و ناپسند کا خیال رکھنا اور انہیں یہ احساس دلانا کہ وہ ہمارے لئے اہم ہیں، ان کے دل کو بے حد سکون اور خوشی عطا کرتا ہے۔
بیماری میں خدمت، محبت کا عملی اظہار:
اگر والدین بیمار ہوں تو ان کی خدمت کو اپنی اولین ترجیح بنانا چاہئے۔ ان کی دواؤں، علاج، آرام، خوراک اور صحت کا بھرپور خیال رکھنا ہماری دینی، اخلاقی اور انسانی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح ان کی مالی ضروریات پوری کرنا، انہیں تنہائی، پریشانی یا احساسِ محرومی میں مبتلا نہ ہونے دینا بھی ایک نیک اور سعادت مند اولاد کی پہچان ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایک صحت بخش ٹفن باکس کیوں ضروری ہے؟
والدین کی دعائیں زندگی کا سرمایہ ہیں:
والدین کی دعائیں انسان کی زندگی کا سب سے قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں۔ جو اولاد اپنے والدین کو خوش رکھتی ہے، اللہ اس کی زندگی میں برکت، سکون اور کامیابی عطا فرماتا ہے۔ اسکے برعکس جو لوگ اپنے والدین کی نافرمانی کرتے ہیں یا انہیں دکھ پہنچاتے ہیں، وہ دنیا و آخرت دونوں میں خسارے کا سامنا کرتے ہیں۔ اسلئے اپنے الفاظ، رویے اور اعمال سے ہمیشہ ان کے دل کو خوش رکھنے کی کوشش کریں۔ اگر ہمارے والدین اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہوں تب بھی ان کے حقوق ختم نہیں ہوتے۔ ان کیلئے دعا کرنا، ان کی مغفرت کی التجا کرنا، ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کرنا، ان کے دوستوں اور عزیزوں سے حسنِ سلوک کرنا اور ان کے نیک مشن کو آگے بڑھانا بھی والدین کی خدمت ہی کی ایک صورت ہے۔
والدین کا خیال رکھنا عبادت بھی ہے:
مختصراً یہ کہ والدین کا خیال رکھنا صرف ایک اخلاقی فریضہ نہیں بلکہ ایک عظیم عبادت، سعادت اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ جب تک وہ ہمارے درمیان موجود ہیں، ان کی قدر کریں، ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ وہ ہماری زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہیں۔ کیونکہ جب والدین دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں تو انسان کے پاس صرف ان کی یادیں، ان کی دعائیں اور ان کی محبت کے نقوش باقی رہ جاتے ہیں۔ آئیے عہد کریں کہ ہم اپنے والدین کی خدمت، عزت، محبت اور اطاعت کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں گے، تاکہ ان کی دعائیں ہمارے لئے دنیا و آخرت میں کامیابی، سکون اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بن جائیں۔