Inquilab Logo

اوڑھنی اسپیشل: میری زندگی کے پانچ اصول

Updated: July 11, 2024, 6:01 PM IST | Saaima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

Photo: INN
اصول پسند افراد اکثر زندگی میں زیادہ کامیاب ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

اپنے آپ سے محبّت کرنا


پُرسکون زندگی جینے کیلئے مَیں نے اپنے لئے کچھ اصول بنائے ہیں:
(۱)اپنے آپ سے محبّت کرنا کیونکہ ہم اللہ کی تخلیق ہے۔ (۲) زندگی میں کبھی بھی ہمت نہ ہارنا۔ (۳) لوگوں کو معاف کرنا کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والے کو پسند کرتا ہے۔ (۴) صبر کرنا۔ اس سے پریشانی آسانی میں بدل جاتی ہے۔ (۵) شکر ادا کرنا۔
سیّد شمشاد بی احمد علی (کرلا، ممبئی)
گھر کے ہر کام کو ترتیب دینا


(۱) دینی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی نہیں برتتی ہوں۔ (۲) اپنے شوہر کو ہر کام میں آگے رکھنا اور خود پیچھے رہنا۔ (۳) اپنے بڑوں کی عزت کرنا اور چھوٹوں کو پیار کرنا شفقت کا ہاتھ پھیرنا۔ (۴)گھر کے ہر کام کو ترتیب دینا۔ ہر لمحہ کو خوشگوار بنانا۔ (۵) اپنے بچوں کی فکر کرنا۔ نصیحت کرنا۔ اچھے کھانے بنا کر انہیں کھلانا اور پڑوسیوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا۔
شمع پروین فرید (دہلی)
دوسروں سے دل کی بات نہ کہنا

مَیں نے اپنی زندگی کے کچھ اصول بنائے ہیں جو مندرجہ ذیل ہے: (۱) بلامقصد گفتگو سے پرہیز کرنا اور بغیر مانگے کسی کو مشورہ نہ دینا۔ (۲)دوسروں سے دل کی بات نہ کہنا۔ (۳) کسی بھی قسم کی ذہنی یا جسمانی تکلیف پر خود کو پُرسکون رکھنا۔ (۴) ہر چیز کو ترتیب سے اس کی جگہ پر رکھنا۔ (۵) جھوٹ نہ بولنا اور موبائل فون کا استعمال زیادہ نہ کرنا۔
تسنیم کوثر نوید (ارریہ، بہار)

مَیں ہمیشہ نعمتوں پر شکر ادا کرتی ہوں


پُرسکون اور کامیاب زندگی کے میرے کچھ اصول ہیں:
(۱) ہر حال میں خوش رہنا: میرا ماننا ہے کہ لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے اس لئے مَیں غم اور پریشانی چہرے پہ ظاہر نہیں ہونے دیتی۔
(۲) دوسروں کے ساتھ اپنا موازنہ نہ کرنا: جو مقدر سے ملا ہے اس پر توکل اور شکر ادا کرتی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ رب کے فیصلے میں خوش رہنے میں عافیت ہے اس کی دین حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ (۳) شکران نعمت اور تقدیر پر راضی رہنا: میں ہمیشہ نعمتوں پر شکر ادا کرتی ہوں اور تقدیر پہ راضی رہتی ہوں کیونکہ قدرت کسی کو محروم نہیں کرتی۔ (۴) مثبت سوچ رکھنا: مَیں ہمیشہ منفی بات سے بھی مثبت پہلو نکالنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اپنی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی کو اہمیت دیتی ہوں۔ خوشی مناتی ہوں گویا مَیں نے دنیا فتح کر لی۔ مَیں معاشرے کی روایتی فکر سے ہٹ کر تعمیری اور تخلیقی سوچ رکھتی ہوں۔ تخلیقی سرگرمیاں مثلاً لکھنا، رنگ آمیزی کرنا، پروجیکٹ بنانا میری طبیعت کو شاد کرتی ہے۔ اپنے کام سے لطف اٹھاتی ہوں۔ (۵) حال میں زندگی گزارنا: جن چیزوں کو بدلنا میرے بس میں نہیں ہے انہیں فراموش کر دیتی ہوں۔ میرا ماننا ہے کہ آج میرے ہاتھ میں ہے اس لئے مَیں آج میں رہنے کی عادت اپناتی ہوں۔ اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر اس پر خوش اور پُراعتماد رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ دوسروں کیلئے اچھا کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔
انصاری عائشہ آبشار احمد (گرانٹ روڈ، ممبئی)
گھر کے بنے کھانے کو ترجیح دینا
(۱) صبح سویرے جاگنا۔ افراد خانہ کو جگانا۔ صوم و صلوٰۃ کی پابندی کرنا۔
(۲) گھر میں گندے کپڑے جمع کرکے نہ رکھنا، روز کے روز دھو لینا، اور بچوں کو بھی اس کی ترغیب دینا۔ (۳) گھر کے بنے کھانے کو ترجیح دینا اور گھر کے افراد کو بھی اس کی رغبت دلانا۔ (۴) ذہنی و جسمانی صحت کیلئے کوئی نفع بخش کام کرنا، جیسے سلائی کرنا، اچار بنانا، گھر اور گھر کے اطراف کو صاف رکھنا۔ (۵) روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعہ کرنا، اس کے بغیر تو زندگی جیسے بے روح ہے، جس دن مطالعہ چھوٹ جائے وہ دن جیسے بیکار گزر جاتا ہے، کچھ کھو جانے کی کیفیت طاری رہتی ہے۔
بنت شبیر احمد (ارریہ، بہار)
ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر انجام دینا


میرے اصولوں میں سب سے اول مقام ہے اللہ رب العزت اور اس کے رسولؐ کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا۔ کیونکہ اس اصول پر عمل کرنے سے ہی دنیا و آخرت میں کامیابی حاصل ہونے والی ہے۔ دوم، وقت کی پابندی۔ مجھے ہر کام کو اس کے مقررہ وقت پر انجام دینا پسند ہے اور مَیں اس اصول کی پیروی میں کسی حد تک شدت پسند ہوں۔ تیسرے، وعدے کی پاسداری۔ میرا یہ ماننا ہے کہ اگر آپ کسی سے وعدہ کریں تو اسے ضرور مکمل کریں اور آپ کو خدشہ ہے کہ آپ وہ وعدہ پورا نہیں کرسکیں گے تو میرا مخلصانہ مشورہ ہے کہ ایسی صورت میں وعدہ نہ ہی کریں تو بہتر ہے۔
 چوتھا، اپنے کام سے کام رکھنا اور دوسروں کے معاملات میں مداخلت نہ کرنا۔ زندگی سکون و اطمینان سے گزارنے کا یہ بہترین فارمولہ ہے۔ پانچواں، عزت نفس کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہ کرنا۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جو انسان خود کی عزت نہ کرسکے تو دنیا بھی اس کی عزت نہیں کرتی۔
رضوی نگار اشفاق (اندھیری، ممبئی)
راز کسی کو نہ بتانا
میری زندگی کے ۵؍ اصول ہیں:
(۱) ہمیشہ سچ بولنا چاہے زندگی میں کچھ بھی ہوجائے۔ (۲) ہمیشہ کسی سے بھی دوستی اور دشمنی محدود رکھنا۔ (۳) کبھی بھی کسی کو دھوکا نہ دینا۔ (۴) راز کسی کو نہ بتانا۔ (۵) کسی سے اُمید وابستہ نہ کرنا۔ دراصل جب اُمید ٹوٹتی ہے تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔
سمیہ معتضد (اعظم گڑھ، یوپی)
ہر کام وقت پر انجام دیتی ہوں


(۱) اپنی زندگی کو اپنے ڈھنگ سے جیتی ہوں۔ دین کی راہ پر گامزن ہوں۔ میں نے دینی تعلیم حاصل کی ہے۔ اسی کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتی ہوں جس سے مجھے سکون حاصل ہوتا ہے۔ (۲) نیک راہ پر چلتی ہوں کیونکہ اس راہ پہ کوئی خطرہ نہیں، ڈر نہیں نڈر رہ سکتی ہوں۔ خدا کی راہ میں کچھ لٹا دینا بھی اصول کا پکا بنا دیتا ہے۔ (۳) ہر کام وقت پر انجام دیتی ہوں جس سے راحت ملتی ہے۔ قلبی سکون کے لئے ارادے کا پکا ہونا، وعدے کرنا اور نبھانا بخوبی آنا چاہئے۔ (۴) سماج کی خدمت کرنا، جھوٹ سے بچنا اور سیدھی راہ پر چلنا، میرے اصولوں میں شامل ہیں۔ (۵) بڑوں کے ساتھ ادب اور چھوٹوں کے ساتھ شفقت سے پیش آنا۔ زندگی کے ہر کام کو اصول کے مطابق کرنا بہت ضروری ہے۔ 
نشاط پروین (شاہ کالونی، مونگیر، بہار)

جھوٹ بولنے سے بچنا میری فطرت ہے
بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے اسلامی اصول اور آپؐ کی سنتیں میری زندگی کی اساس ہیں جن پر عمل کرنے کی حتی الامکان کوشش کرتی ہوں لیکن اگر تجزیہ کیا جائے تو زندگی میں کچھ اصول بہت نمایاں نظر آتے ہیں: صاف گوئی، اور جھوٹ بولنے سے بچنا میری فطرت ہے۔ جب کسی سے کوئی وعدہ کرتی ہوں تو بہت سوچ کر اور پھر اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں۔ نماز، روزوں کی پابندی، تلاوت تفہیم قرآن میرا معمول ہے۔ مہمانوں کی آمد پر خوشی کا اظہار کرتی ہوں اور ان کی عزت و تکریم کرتی ہوں۔ بیماروں کی اہتمام سے عیادت کرتی ہوں۔ لوگوں کی خوشیوں میں شریک ہو کر چھوٹے موٹے تحائف دیتی ہوں۔ خاص طور پر بچوں کو علم حاصل کرنے کی اور صلاحیتوں کا استعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہوں۔ نیک کاموں میں حصہ لیتی ہوں۔ اس بات کو ہمیشہ یاد رکھتی ہوں کہ ’دنیا ایک امتحان گاہ ہے‘ جس کا ہمیں مرنے کے بعد حساب دینا ہے۔ اپنی ذات کو تصنع، ریاکاری اور خوشامد سے بچاتی ہوں۔
شیخ رابعہ عبدالغفور (ممبئی)
مستقل مزاجی سے کام کرنا پسند کرتی ہوں


میری زندگی کے پانچ اصول یہ ہیں: ٭دیانتداری: میری زندگی کا اصول ہے کہ میں اپنے رشتوں اور اپنے پیشے کو ایمانداری اور دیانت سے نبھانے کو ترجیح دیتی ہوں۔ ٭محنت اور مستقل مزاجی: میں نے اپنی زندگی کیلئے کچھ اہداف طے کئے ہیں۔ اپنی منزل کے حصول کے لئے میں بنا شارٹ کٹ لئے، صرف اللہ کی مدد کے ساتھ اپنی محنت اور مستقل مزاجی سے کام کرنا پسند کرتی ہوں۔ الحمدللہ میں نے اپنے بیشتر اہداف تک رسائی حاصل کی ہے۔ ٭احترام: مَیں ہر کسی کا احترام کرتی ہوں۔ ٭غیر ضروری اور غیر متعلقہ معاملات سے دوری: میں غیر ضروری اور غیر متعلقہ معاملات سے بہت دور رہنا پسند کرتی ہوں۔ ٭وقت کا منظم نظم: وقت کا زیاں مجھے بالکل پسند نہیں ہے۔ میں اپنا وقت تعمیری اور تخلیقی سرگرمیوں میں صرف کرنا پسند کرتی ہوں۔
نکہت انجم ناظم الدین (مانا، مہاراشٹر)
کس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے؟ جاننا نہیں چاہتی
میری زندگی کے پانچ اصول: (۱) میں بچوں کو کبھی ڈانٹتی مارتی نہیں ہوں۔ کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ بچے ڈانٹ مار سے کبھی نہیں سدھرتے بلکہ اور ضدی بن جاتے ہیں۔ (۲) میں ضعیفوں کی خدمت سے کبھی اکتاہٹ محسوس نہیں کرتی کیونکہ میرے نزدیک ضعیفی بھی ایک قسم کا بچپنا ہے۔ اس لئے مجھے ضعیفوں کی خدمت کرنے میں خوش محسوس ہوتی ہے۔ (۳) میں کبھی کسی سے نفرت نہیں کرتی کیونکہ نفرت کرنے سے رشتے ختم ہو جاتے ہیں، اس لئے شدید اختلاف کے باوجود میں خود کو محفوظ کرتی ہوں کسی سے نفرت کرنے سے۔ (۴) میں دنیاداری سے بہت دور رہتی ہوں۔ کیونکہ دنیاداری بہت بڑا فتنہ ہے۔ کون کیا کر رہا ہے، کس کی زندگی میں کیا چل رہا ہے، مجھے ان ساری چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ (۵) روزانہ کتابوں کا مطالعہ کرنا یہ میرا اصول نہیں ہے مگر میں اس کو اپنی زندگی کا سب سے اہم اصول بنانے کی بھر پور کوشش کر رہی ہوں، مجھے امید ہے کہ میں ان شاءاللہ اس میں بہت جلد کامیابی حاصل کرلوں گی۔
فائقہ حماد خان (ممبرا، تھانے)
میں راضی اور مطمئن رہتی ہوں
(۱) جو چیزیں اللہ نے حرام قرار دی ہیں ان سے بچتی ہوں کیونکہ میں اللہ سے ڈرتی ہوں اگر میں یہ سب کروں گی تو قیامت کے دن میری پکڑ ہوگی۔ (۲) میں راضی اور مطمئن رہتی ہوں اپنی قسمت پر کہ اللہ نے جو میری قسمت میں لکھا ہوگا وہ بہتر سے بہترین ہوگا۔ (۳) اپنے پڑوسیوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا کیونکہ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا کامل مومن کی پہچان ہے۔ (۴) جو مَیں اپنی لئے چاہتی ہوں وہی دوسروں کیلئے بھی چاہتی ہوں۔ خود کیلئے جو پسند کرتی ہوں وہی دوسروں کیلئے بھی۔ (۵) زندگی میں اعتدال کا ہونا بہت لازمی ہے۔ ایک غلط یا جذباتی قدم آپ کی محنت پر پانی پھیر سکتا ہے اسلئے میں ہر کام سوچ سمجھ کر کرتی ہوں۔ اور میرا سب سے اہم اصول، اپنے والدین کا خاص خیال رکھنا۔
ہاجرہ نورمحمد (چکیا، حسین آباد، اعظم گڑھ)
نیت کا صاف ہونا
میری زندگی کے پانچ اصول اس طرح ہیں:
(۱) مثبت سوچ رکھتی ہوں۔ کیونکہ مَیں اس بات کو بخوبی جانتی ہوں کہ زندگی میں ہم جو کچھ حاصل کرتے ہیں وہ ہماری سوچ پر منحصر ہوتا ہے۔ (۲) اپنے آپ سے محبّت کرنے اور ہر لمحہ کو بھرپور جینے میں یقین رکھتی ہوں۔ (۳) نیت کا صاف ہونا۔ اگر نیت نیک ہوگی تو عمل خود بخود ٹھیک ہوتے جائیں گے۔ (۴) خود پر یقین رکھتی ہوں۔ دراصل خود پر یقین ہی ہمیں کامیاب بناتا ہے۔ (۵) ہر وقت سیکھتے رہنے اور آگے بڑھنے کیلئے ہمیشہ کوشاں رہتی ہوں۔ نئے نئے تجربے کرتی رہتی ہوں۔ خطرہ مول لینا مجھے بے حد پسند ہے۔ زندگی میں آگے بڑھنے کیلئے انسان کو ہمیشہ کچھ نہ کچھ سیکھنے کی بھرپور کوشش کرتے رہنا چاہئے۔
فردوس انجم (بلڈانہ مہاراشٹر)
اعتدال کے ساتھ چلنا


(۱) سچائی، ایمانداری اور وفاداری پر قائم رہنا۔ (۲) مثبت اور اعلیٰ سوچ رکھنا۔ (۳) اعتدال کے ساتھ چلنا۔ (۴) خیالات کو انفرادیت بخشنے کی کوشش۔ (۵) خود پر یقین رکھتی ہوں۔
ناز یاسمین سمن (پٹنہ، بہار)

نیا سیکھنے کی جستجو


میری زندگی کے پانچ اصول: (۱) ماضی کی تلخیوں کے بارے میں سوچنے کے بجائے آج اور مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش کرنا۔
(۲) طالب علم بن کر زندگی گزارنا جو کچھ بھی نیا سیکھنے کا موقع ملے، میں ضرور سیکھتی ہوں۔
(۳) اپنے آپ کو اچھے کاموں میں مصروف رکھنا۔
(۴) دوسروں کی زندگی کے تجربہ سے سبق حاصل کرنا۔ جو غلطی ایک بار ہوچکی ہے وہ آئندہ نہ ہو اس کا خیال رکھنا۔
(۵) توقع صرف مالک حقیقی سے کرنا۔
سیمیں صدف میر نوید علی (جلگاؤں، مہاراشٹر)
خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہنا
میری زندگی کے پانچ اصول: ٭تعلیم: میرا مقصد یہ ہے کہ میں خوب پڑھوں اور خوب ترقی کروں۔ اپنے علم کے ذریعے دوسروں کو فائدہ پہنچاؤں۔ علم کی روشنی سے معاشرہ کو منور کروں اور علم کے ذریعے اپنی قوم کی خدمت کروں۔ ٭ایمانداری: ہمیشہ سچ بولنا سچ کا ساتھ دینا۔ اپنے وعد ے پورے کرنا۔ اور دوسروں کے اعتماد کو بحال رکھنا۔ اور تمام کاموں کو ایمانداری اور دیانتداری سے انجام دینا۔ ٭محنت اور لگن: محنت اور لگن سے کام کو انجام دینا۔ اور اللہ پر یقین رکھ کر اس کام میں لگے رہنا۔ اور کبھی ہار نہ مارنا، اور خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہنا۔ ٭احترام: اپنے والدین اور بڑوں کا احترام کرنا اور اپنے چھوٹوں پر شفقت کرنا۔ اور ہر کسی کی عزت کرنا۔ ٭شکر گزاری: زندگی کے ان تمام نعمتوں کا شکر ادا کرنا جو اللہ نے مجھے نوازا ہے۔ اور ہمیشہ مثبت رہنا۔ یہ تمام چیزیں میری زندگی کے اصول ہیں۔
گلناز مطیع الرحمٰن قاسمی (مدھوبنی، بہار)
ہر کام طے شدہ وقت پر ہو
ہم اصول پسند ہیں، بدنظمی پسند نہیں: ٭پہلا اصول ہمارا یہی ہے کہ صبح کی شروعات نماز اور تلاوت سے کریں جس سے اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے نوازے۔ ٭دوسرا اصول یہ ہے کہ ہر کام طے شدہ وقت پر ہو، کیونکہ ٹال مٹول سے ہم سست روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ پھر کام کرنے کا جی نہیں چاہتا۔ وقت پر کام انجام دینے سے ہم وقت کی کمی کا شکار نہیں ہوتے اور آرام کیلئے بھی وقت نکال لیتے ہیں۔ ٭تیسرا اصول یہ ہے ہمیشہ گھر کے اخراجات میں درمیانی راستہ اختیار کرتی ہوں۔ فضول خرچی اور کنجوسی، دونوں سے بچتی ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ کو دونوں ناپسند ہیں۔ کفایت شعاری سے ہم کسی کے سامنے شرمندہ نہیں ہوتے۔ ٭چوتھا اصول، زندگی میں کسی کا برا نہیں چاہتی۔ شکوہ شکایت بغض و حسد سے پناہ مانگتی ہوں۔ کسی کی زندگی میں دخل اندازی نہیں کرتی اور ہر ایک سے ہمدردی اور مروت بھی میرے اصول میں شامل ہیں۔ اپنی نرم فطرت سے مجھے بڑے نقصان اٹھانے پڑتے ہیں۔ ٭پانچواں اصول یہ ہے کہ جھوٹ نہیں بولتی اور نہ ہی ایسے لوگوں کو پسند کرتی ہوں۔ نہ ہی کسی میں خامیاں تلاش کرتی ہوں۔ کوئی غلط بات کرے یا غلط گمان کرے میں ایسے لوگوں کے دلائل نہیں مانتی نہ ہی میں کسی سے قائل ہوتی ہوں۔ میں اپنے اصولوں کو احادیث کا پابند کرنا چاہتی ہوں۔ ہماری زندگی کے اصول اللہ تعالیٰ کو پسند آئے یہی کافی ہے۔
ایمن سمیر (اعظم گڑھ، یوپی)
اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانا
 کامیاب اور خوشگوار زندگی کے رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ انسان اپنی ذات کے لئے چند اصول بنائے، اصولوں سے ہماری زندگی میں آنے والی بہت سی مشکلات آسانی سے حل ہوسکتی ہیں، اپنے نفس کے لئے اصولوں کا بنانا بہت ضروری ہے، ورنہ ہم ہمیشہ بےراہ روی کا شکار رہیں گے، ان سب باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے بھی اپنی زندگی کے چند اصول بنائے ہیں:
(۱) اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے اُمید نہ رکھنا، میرے ساتھ کچھ بھی ہو جائے لیکن ہم کبھی اللہ رب العزت کے سوا کسی سے اُمید نہیں رکھتے کہ فلاں شخص میرا کام یوں کر دے گا، بلکہ اگر کوئی شخص میرے لئے کچھ کرتا ہے تو ہم صرف اور صرف اس کو ایک ذریعہ سمجھتے ہیں، کیونکہ اُمیدوں کے ٹوٹنے سے بہت تکلیف ہوتی ہے۔
 (۲) ہمیشہ حق بات کہنا چاہے وہ میرے حق میں ہو یا پھرخلاف ہو، اور اپنی ناکامی اور کامیابی کو بھی قبول کرنا۔ (۳) ایک حد تک کسی کے قریب ہونا۔ مطلب اپنی ذات کو کسی چیز کا عادی نہ ہونے دینا کہ اس کے نہ ہونے سے ہمیں تکلیف ہو۔ (۴) اپنی ذات سے کسی کو تکلیف نہ پہنچانا، ہمیشہ میری کوشش یہی رہتی ہے کہ ہم کوئی بھی ایسا کام یا پھر ایسی حرکت نہ کریں جس سے کسی کو تکلیف پہنچے۔
 (۵) ہمیشہ محاسبہ نفس کرتے رہنا۔ اکثر و بیشتر اپنی ذات کا محاسبہ کرتے رہنا، کہ ہم نے خدا کی کتنی نافرمانی کی کتنے لوگوں کو تکلیف پہنچائی وغیرہ وغیرہ پھر ہم اس گناہ کے ازالے کے کی کوشش کرتے ہیں۔
 یہ چند عام سی باتیں ہیں جنہیں ہمیں نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں ہماری کامیابی میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
خولہ ایجاب محمدی (لکھیم پور کھیری، یوپی)
مہمانوں کے آنے پر ان کی تکریم کرنا
ہمارا روزانہ گھر اور باہر بہت سے لوگوں سے سابقہ پڑتا ہے۔ گھر میں ماں باپ بھائی بہن وغیرہ اور باہر اساتذہ سے دوستوں سے ملازمین وغیرہ سے سابقہ پڑتا ہے اس لئے انسان کو ہر ایک سے ایسا برتاؤ کرنا چاہئے جس سے دوسرا شخص متاثر ہو، خوش ہو جائے۔ اس لئے زندگی کو اصولوں پر گزارنا چاہئے۔ میری بھی زندگی کے چند اصول ہیں، جن میں پانچ کا یہاں ذکر کر رہی ہوں:
(۱) کسی کے آنے پر یا کسی کے گھر جانے پر مناسب الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے سلام کرنا۔
(۲) چھوٹے ہو یا بڑے سب سے محبت، شفقت اور نرمی سے پیش آنا۔ (۳) مہمانوں کے آنے پر ان کی تکریم کرنا۔
(۴) دو افراد کی بات چیت کے دوران نہ بولتی ہوں اور نہ ٹوکتی ہوں۔ کیونکہ ایسا کرنا بدتمیزی ہوگی۔
(۵) غلطی ہوجانے پر معافی مانگنا۔
 بس یہی اصول ہے میری زندگی کے اور میں انہی اصولوں پر اپنی زندگی گزارتی ہوں۔
صبیحہ سلفی محمد شاکر اسلامی (مدھوبنی، بہار)
ہمیشہ سچ بولنا اور گھر والوں سے کچھ نہ چھپانا

ہمارے جینے کا انداز ہماری پرورش کی کافی حد تک عکاسی کرتا ہے۔ میری زندگی کے اصول بھی میرے والد سے ملے اثاثے ہیں۔ باتوں باتوں میں ہنسی مذاق میں یوں تو انہوں نے بہت سی باتیں سکھا دیں البتہ اب دھیرے دھیرے احساس ہونے لگا ہے کہ یہ تو وہی قیمتی اصول ہیں جن سے زندگی بامعنی بنتی ہے۔ ان کی انہی باتوں میں سے مَیں نے اپنی زندگی کیلئے پانچ اصول چن لئے:
(۱) شائستگی اور کم گوئی: شائستہ اور مدبر انسان کی باتیں دوسروں پر بہت گہرا اثر کرتی ہے۔ انسان کی عزت کی محافظ اس کی زبان ہوتی ہے اس لئے مَیں نرم انداز میں اپنی بات کرتی ہوں اور جتنی ضرورت ہو اتنا ہی بولتی ہوں۔
(۲) ہمیشہ سچ بولنا: میرے ابّو نے ہمیشہ ہمیں حوصلہ دیا ہے کہ اگر کوئی غلطی ہوجائے یا سنگین حالات پیدا ہوجائیں تب بھی سچ بولیں اور اپنے گھر والوں سے کبھی کچھ بھی نہ چھپائیں کیونکہ کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کیلئے وہ آپ کی مدد کیلئے سب سے پہلے آئیں گے۔
(۳) اللہ پر پختہ یقین: سارے معاملات اللہ پر چھوڑ دیں تو زندگی آسان ہوجاتی ہے۔
(۴) حالات سے گھبرانا نہیں: مَیں نے صبر کے ساتھ حالات کا سامنا کرنا سیکھا ہے۔
(۵) حقیقت منوائی نہیں جاتی: مَیں کوئی بھی کام دکھاوے کیلئے نہیں کرتی۔
رضویہ جہاں زیب خان (بھیونڈی، تھانے)

خوش مزاج رہنا


میری زندگی کے پانچ اصول:
(۱) اس بات پر راضی رہنا کہ ہر كام میں اللہ کی حکمت ہے۔ (۲) وقت کی پابندی کرنا۔ (۳) لوگوں کے بارے میں اچھا گمان رکھنا۔ (۴) صلہ رحمی کا معاملہ رکھنا اور خوش مزاج رہنا۔ (۵) دنیا فانی ہے یہ یاد رکھنا۔
ارجینا روش دھورو اشر ف علی انصاری (بھیونڈی، تھانے)

خود کو ہمیشہ سیکھتے رہنے کے مراحل میں رکھنا


اللہ کی بے شمار نعمتوں میں زندگی، ایمان و ہدایت، صحت، رزق اور عزت سر فہرست ہیں۔ میری زندگی کے پانچ اصول بھی ان ہی نعمتوں کی قدر دانی اور شکر گزاری کی چھوٹی سی کوشش ہے۔ (۱) وقفۂ حیات اور زندگی کی قدر کرتے ہوئے مثبت سوچ کے ساتھ اپنی ذات اور اپنی قابلیت پر بھروسہ رکھنا کہ یہ کامیاب زندگی کا گُر ہے۔ خود کو ہمیشہ سیکھتے رہنے کے مراحل میں رکھنا اور اپنا کام ہمیشہ مکمل رکھنا بھی کامیابی کے لئے اہم ہے۔ (۲) وقت اور وسائل بہت قیمتی نعمتیں ہیں ان کو کبھی ضائع نہ کرنا، بغیر جواز مقابلہ آرائی کا حصہ کبھی نہ بننا، اعتدال کے ساتھ چلنا کہ اس میں ناکامی اور نقصان کے خطرات کم ہوتے ہیں۔ (۳) اپنا گھر، اہل خانہ، رشتہ دار، پڑوسی، مسافر، سائل ہر ایک کا ہم پر کچھ نہ کچھ حق ہوتا ہے، فرائض و حقوق میں توازن قائم رکھتے ہوئے اپنے گھریلو اور سماجی فرائض کی ادائیگی کی بہترین کوشش کرتے رہنا۔ (۴) دوسروں کی شخصیت اور فعل و عمل کی نقالی کرنے کے بجائے اپنے کردار اور شخصیت کو منفرد رکھنا، کوشش کرنا کہ لوگ ہماری اچھائیوں اور خوبیوں کی تقلید کریں۔ خود کو آزمانا اور نئی تبدیلیوں کے لئے ہمیشہ آمادہ رکھنا اپنے آپ کو متحرک رکھنے کا اچھا طریقہ ہے۔ (۵) تندرستی ہزار نعمت کا مقولہ زندگی کا قیمتی سبق ہے اس لئے اپنے اور اپنے متعلقین کی صحت، تندرستی اور بہتری سے کبھی غافل نہ ہونا کہ زندگی کی گاڑی کو بہتر طریقے سے چلانے کے لئے درکار ایندھن اور عمل کی قوت تندرست جسم اور تندرست دل و دماغ سے ہی فراہم ہوتی ہے۔
خالدہ فوڈکر (ممبئی)
اپنی غلطیوں کو درست کرنا


زندگی کا سفر ہر کسی کا ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے لیکن فطری طور پر ہر کسی کے اپنے اپنے ذاتی اُصول ہوتے ہیں۔ میری زندگی کے پانچ اصول یہ ہیں: (۱) ہر کسی کو وضاحت نہ دینا اور نظر انداز کرتے رہنا۔ (۲) اپنی مرضی کے مطابق اپنے ہم خیال افراد ہی سے گفتگو کرنا۔ (۳) حسب ضرورت گفتگو کرنا اور لوگوں سے کم ملنا جلنا۔ (۴) کسی دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے یا دوسرے کیا کر رہے ہیں اس پر کبھی دھیان نہ دینا۔ (۵) سچ کہنا، اپنی غلطیوں کو درست کرنا اور کچھ نیا سیکھنے کی کوشش کرنا۔
آفرین عبدالمنان شیخ (شولاپور، مہاراشٹر)
کسی بھی قیمت پر جھوٹ نہ بولنا


زندگی کو مستحکم طریقے سے چلانے اور نظم و ضبط کی پابندی کیلئے اصولوں کو لائحہ عمل میں لانا بے حد ضروری ہے۔ اصولوں پر مبنی گزاری جانےوالی زندگی میں ٹھہراؤ ہوتا ہے۔ میری زندگی میں، مَیں نے کئی اصولوں کی پابندی کی ہے جس میں سے پانچ اہم اصول گوش گزار کر رہی ہوں: (۱) اپنی ذات سے یا زبان سے کسی کی دل آزاری نہ کرنا۔ (۲) اگر غلطی ہوجائے وقت رہتے معذرت کر لینا۔ (۳) کسی بھی قیمت پر جھوٹ نہ بولنا۔ (۴) کسی نے بے حد دل دکھایا۔ اور معذرت کر لے تو درگزر کر دینا۔ (۵) دوسروں کی رائے کو بھی اہمیت دینا۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
بہت سے کام اللہ کی خوشنودی کیلئے


(۱) اللہ کی ذات پر مستحکم یقین اور یہ کہ میری زندگی میں اس کا ہر فیصلہ میری بھلائی کے لئے ہے۔ (۲) اپنی ذمےدار یوں کو خود نبھانا اور اپنے اہم فیصلے خود لینا۔ (۳) دوسروں سے اپنا موازنہ نہ کیا جائے اور جہاں تک ممکن ہو دوسروں کی غلطیوں کو معاف کر دیا جائے، دوسرے افراد کی زندگی میں بے جا دخل اندازی غلط فعل ہے۔ (۴) ہر کام پیسہ کمانے کے لئے نہیں ہوتا، بہت سے کام اللہ کی خوشنودی اور اپنی اخلاقی ذمے داری نبھانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ (۵) نیک سیرت اور کامیاب افراد سے اہم معاملات میں مشورے لینا۔ اور بہت سے اصول ہیں جن پر مَیں عمل پیرا رہنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہوں لیکن یہ پانچ اصول بے حد اہم ہیں۔
سلطانہ صدیقی (جامعہ نگر، نئی دہلی)
اپنے اور بچوں کیلئے وقت نکالنا


میری زندگی کے پانچ اصول یوں ہیں: (۱) قرآن شریف کی با معنی تلاوت۔ (۲) خود پر اور اپنے بچوں پر دھیان دینا۔ چونکہ آج کل کی بھاگ دوڑ بھری زندگی میں اپنے لئے وقت نکالنا ضروری ہوگیا اور اپنے بچوں کی بہتری کیلئے بھی ضروری ہے، اس لئے اپنے اور بچوں کیلئے بچوں ضرور نکالتی ہوں۔ (۳) اپنے کاموں کو بہتر طریقے سے انجام دینا۔ (۴) ہر وقت کچھ نہ کچھ نیا سیکھنے کی چاہ۔ (۵) ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرنا، اس سے قلبی سکون ملتا ہے۔
گل افشاں شیخ (عثمان آباد، مہاراشٹر)
اپنے خوابوں کیلئے خود ہی محنت کریں
(۱) اپنے جذبات کا احترام کرنا۔ مجھے لگتا ہے کہ انسان کو اپنے جذبات و احساسات کا پہلے خود احترام کرنا چاہئے۔ (۲) اپنی خوشی دوسروں میں نہ تلاش کریں۔ ہر انسان کے اپنے اور اپنے فیملی کیلئے کچھ خواب ہوتے ہیں، کچھ منصوبے ہوتے ہیں۔ جس سے دوسرا انسان واقف نہیں ہوتا، پھر کیسے وہ آپ کو اس طرح خوش رکھ سکتا ہے۔ اس لئے بہتر ہے کہ اپنی خوشی اور اپنے خوابوں کیلئے خود ہی محنت کریں۔ اپنی خوشی اپنے اندر سے ہی آتی ہے۔ (۳) ذمہ دار بنیں۔ (۴) مثبت سوچ کی اہمیت۔ مثبت سوچ ہی انسان کو صحیح راستہ دکھا سکتی ہے۔ منفی سوچ کو خود پر حاوی نہ ہونے دیں۔ (۵) کبھی خود کا موازنہ دوسروں سے نہ کریں۔
ریشمہ انجم عبدالخالق (مورشی، امراوتی)
قناعت پسند ہوں


میری زندگی کے پانچ اصول یوں ہیں: (۱) دینی فرائض کی ادائیگی۔ (۲) قناعت پسند کو ترجیح دیتی ہوں۔ (۳) شوہر کی اطاعت کرنا۔ (۴) چھوٹی سے چھوٹی چیزوں میں خوشی تلاش کرتی ہوں۔ (۵) مستقل مزاج کے ساتھ اپنے کاموں کو انجام دیتی ہوں۔
فرحین انجم ( امراوتی، مہاراشٹر)
سونے سے قبل اچھی کتابوں کا مطالعہ


میرے پانچ اصول: (۱) دوست، احباب اور رشتے داروں سے شفقت سے پیش آنا۔ اُن کے دکھ سکھ میں اُن کا ساتھ دینا۔ (۲) گھر میں آئے مہمان ک ساتھ احترام سے پیش آنا۔ حتی الامکان ان کی خاطر مدارت کرنا۔ مہمان سے حسن سلوک کی اسلام میں بڑی فضیلت ہے۔ (۳) روزانہ سونے سے قبل کسی اچھی اور معلوماتی کتاب کے ۵؍ صفحات کا مطالعہ کرنا۔ یہ میرا معمول ہے۔ خصوصاً عظیم انسانوں کی سوانح حیات پڑھنا مجھے بے حد پسند ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مفلسی میں بھی انسان بہت کچھ اپنے حوصلے کی بنا پر کارکردگی انجام دے سکتا ہے۔ (۴) روزمرہ کی ڈائری ایک روز قبل ہی لکھ لیتی ہوں اور کام کا تقسیم اوقات مقرر کر لیتی ہوں تاکہ اہم کام پہلے انجام دے سکوں۔ (۵) شخصیت سازی پر چند اچھے جملے نوٹ کرنا اور کسی رسالے کیلئے مضامین لکھتے وقت انہیں استعمال کرنا بھی میرے معمول کا حصہ ہے۔
سیدہ نوشاد بیگم (کلوا، تھانے)
جو ٹھان لیا اسے کرکے دکھانا
میری زندگی کے بہترین اصول: صبح جلدی اٹھنا، اللہ کی عبادت کرنا۔ لوگوں کو معاف کر دینا یہ جانتے ہوئے کہ اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے، معاف کر دیتی ہوں۔ جو ٹھان لیا اسے کرکے دکھانا۔ مجھے کتنا بھی مشکل اور پریشانی کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے، مَیں جانتی ہوں یہ میرے لئے مشکل ہے پھر بھی میں کوشش کرتی ہوں اور الحمدللہ کامیاب بھی ہوتی ہوں۔ میں وہ کام کرتی ہوں جس کام سے میرے ماں باپ کو خوشی ملے، جو ان کے چہرے پر مسکراہٹ لے آئے اور اس کام میں میرے ماں باپ میرا ساتھ اور دعا دیتے ہیں۔
کلثوم سراج اشرف (یوپی)
 ہمیشہ سچ بولیں


میری زندگی کے پانچ اصول: (۱) معاشرے میں فساد نہ پھیلائیں۔ (۲) دوسروں کو عزت دیں اور احترام کریں۔ (۳) آپ کے ذمہ جو کام ہے اسے پورا کریں۔ (۴) ایمانداری سے اپنا کام کریں، ہمیشہ سچ بولیں۔ (۵) معاف کرنے والے شکر گزار بنیں۔
اسماء عادل انصاری (گولیبار، سانتا کروز، ممبئی)
برے حالات پر صبر کرنا
(۱) ہر روز نئی نئی چیزیں سیکھنا۔ (۲) رات کو سوتے وقت اور صبح کو اٹھنے کے بعد دعا پڑھنا۔ (۳) مشکلات اور برے حالات پر صبر کرنا۔ (۴) کسی سے جھگڑا لڑائی نہ کرنا۔ (۵) مجھے کوئی کتنا بھی برا بھلا کہے یا مجھ پر چیخے چلائے اسے سن کر چپ رہ جانا۔
سعیدہ اختری سیف الاسلام (مئو، یوپی)
مثبت سوچ


زندگی کو کس طرح گزارنا ہے یہ اپنے اختیار میں ہے۔ اصولوں کے ذریعے ہی ہم اپنی زندگی کامیاب اور بہترین طریقے سے گزار سکتے ہیں۔ (۱) اپنی زندگی میں نظم و ضبط قائم رکھیں۔ (۲) ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں۔ (۳) غلطی تسلیم کریں۔ (۴) کم بولیں مگر سچ بولیں۔ (۵) مطلبی لوگوں سے دوری اختیار کریں۔
تسنیم کوثر انصار پٹھان (کلیان، تھانے)
منفی باتوں کو نظرانداز کرنا
میری زندگی کے پانچ اصول جن پر میں عمل کرتی ہوں: (۱) جس کام سے مجھے خوشی ملتی ہے وہ کام کرتی ہوں۔ (۲) غلطی قبول کرتی ہوں اور معذرت بھی کرتی ہوں۔ (۳) ایک مرتبہ جو غلطی ہو جائے اسے دہراتی نہیں ہوں بلکہ اس سے سبق حاصل کرتی ہوں۔ (۴) میں منفی باتوں کو نظر انداز کر دیتی ہوں۔ (۵) میں ہمیشہ سچ بات کہتی ہوں چاہے جو ہو جائے۔ اور حق کا ساتھ دیتی ہوں۔
خان نرگس سجاد (جلگاؤں، مہاراشٹر)
بچوں کی بےجا طرفداری نہیں کی


ہر شخص اپنی زندگی میں کوئی نہ کوئی اصول ضرور اپناتا ہے۔ میرے بھی چند اصول ہیں اور میری کوشش ہوتی ہے کہ اس پر ضرور عمل کروں۔ (۱) نماز کبھی نہ چھوڑنا، یہ میری زندگی کا اصول اہم ہے۔ (۲) ہر کام وقت پر کرنا، کہیں پہنچنا ہو تو وقت پر پہنچنا کہ کسی کو انتظار کی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ (۳) اپنی روزی حلال کرنا، بطور معلمہ میں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ اپنے فرائض میں کوتاہی نہ برتوں۔ (۴) میں نے اپنے بچوں کی کبھی بےجا طرفداری نہیں کی، میری بچیاں اس کی شکایت بھی کرتی ہیں کہ ممی ہم کو ہی ڈانٹتی ہیں۔ بعض دفعہ بچوں کی طرفداری کرکے ہم مائیں انہیں بگاڑ دیتی ہیں۔ (۵) اپنے شوہر کی خوشنودی کا پورا خیال رکھنا۔ جنت پانے کی خواہش تو اس کے حصول کی کوشش بھی تو ضروری ہے۔
رضوانہ رشید انصاری (بلجیم)
طے شدہ وقت پر کام کرنا


میری زندگی کے پانچ اصول: (۱) صبح فجر میں اٹھتی ہوں۔ (۲) ناشتے سے پہلے ۲۰؍ منٹ یوگا کرتی ہوں تاکہ میری صحت اچھی رہے۔ (۳) طے شدہ وقت پر دن بھر کے کام انجام دینا پسند ہے۔ (۴) میں يوٹیوبر ہوں، اسکول میں ٹیچنگ بھی کرتی ہوں، اس کے باوجود گھر کی صاف صفائی کے لئے کوئی کام والی نہیں رکھتی، خود ہی کرنا پسند کرتی ہوں۔ (۵) رات کو سونے سے پہلے ۱۰۱؍ مرتبہ درود شریف پڑھنا، میرے اصول میں شامل ہے۔ سارے اصول ہم طے کر تو لیتے ہیں مگر یہ پورے صرف اور صرف اللہ کے کرم سے ہوپاتے ہیں کہ وہ مجھے صبح صحیح سلامت جگاتے ہیں۔
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
گھر کی صاف صفائی کا خیال رکھنا


انسان کو اپنی زندگی کے کچھ اصول بنانے چاہئے اور اپنی زندگی ان بنائے ہوئے اصول کے مطابق گزارنی چاہئے۔ مَیں نے بھی اپنی زندگی کے کچھ اصول مرتب کئے ہیں جن کو مَیں اپنانے کی پوری کوشش کرتی ہوں۔ (۱) میں اپنے دن کی شروعات اپنی اور اپنے گھر کی صاف صفائی سے کرتی ہوں۔ (۲) عبادت اور قرآن کی تلاوت کا اہتمام کرتی ہوں۔ (۳) بچوں کو ان کی پڑھائی اور صفائی کی روزانہ تاکید کرنا۔ (۴) شوہر کی اس پر تاکید کرنا کہ نیک اور جائز کمائی ہی گھر میں آئے۔ (۵) اس بات کی کوشش کرنا کہ گھر سے کوئی ضرورت مند مایوس اور محروم ہوکر نہ جائے۔
ترنم صابری (سنبھل، یوپی)
میرا گھر صاف ستھرا خوشحال ہو


مَیں زندگی کے ہر کام اصول کے بنیاد پر کرتی ہوں۔ جس میں پانچ اُصول یہ ہیں: پہلا اصول میرا گھر صاف ستھرا خوشحال ہو۔ میرے گھر میں کبھی کوئی لڑائی جھگڑا نا ہو۔ دوسرا میں اپنے شوہر کی خدمت دل و جان سے کروں۔ ان کو کبھی شکایت کا موقع نہ دوں، ہمیشہ اُن کی چہیتی بنی رہوں۔ تیسرا، میرے بچے تعلیم کے ساتھ ساتھ اچھی تربیت اور سلیقہ مند ہوں۔ چوتھا یہ کہ میں اپنے بڑے بزرگوں کی خدمت عزت دل سے کروں۔ اور اُن کی دعائیں لوں۔ اور پانچواں اُصول میری زندگی کا اہم اُصول جو یہ ہے کہ میں ہر گھر ہر گلی کے بچے کو تعلیم فروغ کرنا چاہتی ہوں اور میں نے یہ کوشش کی اور یہ جاری ہے، ماشاء اللہ!
بی بشریٰ خاتون (جامعہ نگر، نئی دہلی)
جو ہے اس میں گزر بسر کرنا


(۱) ہر کام کو وقت پر انجام دینا میری زندگی کا سب سے پہلا اصول ہے۔ (۲) مجھے کسی کے نقش قدم پر چلنا ذرا بھی پسند نہیں۔ (۳) میری نظر میں کسی سے ادھار مانگ کر اپنے شوق پورے کرنے سے کہیں بہتر ہے جو ہے اس میں گزر بسر کرنا۔ اللہ کے سوا کسی سے مانگنا پسند نہیں کرتی ہوں۔ (۴) ہمیشہ کوشش یہی رہتی ہے کہ میری وجہ سے کسی کا دل نہ دکھے۔ امیر ہو یا غریب، چھوٹا یا بڑا میں سب کو ایک نظر سے دیکھتی ہوں۔ (۵) عزت سے بڑھ کر میرے لئے کچھ بھی نہیں، جو عزت کرنا نہیں جانتے میں ان سے دوری اختیار کر لیتی ہوں۔
ہما انصاری (مولوی گنج، لکھنو )
کسی سے حسد نہیں کرتی
مَیں بنت حوا، میری نسبت گرچہ طبقہ اناث یا بالفاظ دیگر صنف نازک سے ہے، استقامت اور صبر میں بسا اوقات مردوں سے کہیں آگے نکل جانے والی ہوں۔ میری اپنی زیست کے بھی کچھ اصول ہیں جن پر پوری طرح عمل پیرا ہونے کی کوشش رہتی ہے۔ میری زندگی کے پانچ اصول ذیل میں درج کئے جاتے ہیں: (۱) مجھے دم فجر بیدار ہونا اچھا لگتا ہے اور جس دن یہ نہ کرسکوں وہ میرے لئے بہت پر سکون دن نہیں ہوتا۔ (۲) صلاۃ فجر کی ادائیگی کے بعد تلاوت کرنا میرا اصول ہے۔ (۳) اللہ کا فضل ہے میں کسی سے حسد نہیں کرتی۔ (۴) لڑائی مجھے پسند نہیں۔ بسااوقات ایسے موقع پر میری خاموشی نے مجھے سرخرو کیا ہے۔ (۵) تواضع اور خاکساری میرا ایمان ہے، تکبر اور ریاکاری سے وحشت ہوتی ہے۔
بنت رفیق (جوکھن پور، بریلی)
جھوٹ بولنا مجھے سخت ناپسند ہے


(۱) کبھی بھی کسی سے کوئی امید نہ لگائیں سوائے اللہ کے۔ اپنی دعاؤں پر اور اللہ پر ہمیشہ یقین رکھیں۔ (۲) کبھی بھی کسی کی تکلیف کی وجہ نہ بنیں، مَیں کوشش کرتی ہوں کہ میری کسی بات سے کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ (۳) جھوٹ بولنا مجھے سخت ناپسند ہے، اپنے بچوں سے بھی یہی کہا کہ سچ بولنے پر سزا نہیں ملے گی اور میں نے ہمیشہ سچ بولنے پر معافی دی سزا نہیں۔ (۴) اپنی بات سامنے والے کے سامنے ضرور رکھیں مگر اس کے نہ ماننے پر بحث ختم کر دیں بہ نسبت طویل کرنے کے۔ (۵) جب بھی کوئی بڑا ڈانٹے بھلے ہی وہ غلط ہو، تو اُس وقت بجائے ان کو ٹوکنے کے خاموشی اختیار کریں، اور بعد میں کسی کے سامنے نہیں تنہائی میں (جس سے ان کو کسی کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے) ان کو صحیح بات سے آگاہ کریں۔
فرح حیدر (اندرا نگر، لکھنؤ)
جھوٹ سے پرہیز