ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں نسلوں کے درمیان فاصلہ صرف عمر کا نہیں رہا، تجربات، ٹیکنالوجی، ترجیحات، زبان، سوچ اور طرزِ زندگی کا بھی ہے۔ اس لئے نئی اور مختلف نسل کو پرانی ترازو سے تولنے کے بجائے نئے پیمانے سے سمجھنے اور اُن کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔
آنے والے کل کے لئے آج کی ماؤں کو اپنے بچوں کی تربیت کا زاویہ بدلنا ہوگا۔ تصویر: آئی این این
ہمارے بچپن میں تفریح کیلئے گلی، میدان، کتاب اور دوست تھے۔ آج بچے کی دنیا میں موبائل، اسٹریمنگ، گیمنگ، سوشل میڈیا، آن لائن کلاس، مصنوعی ذہانت اور ورچوئل دوستی بھی شامل ہیں۔ اسی لئے جین زی یا اس کے بعد آنے والی نسل کی ماں ہونا محض ایک گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ ایک مسلسل تربیتی، فکری اور جذباتی سفر ہے۔ یہ نسل بری نہیں، مختلف ہے اور مختلف نسل کو پرانی ترازو سے تولنے کے بجائے نئے پیمانے سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
ماں کیلئے سب سے پہلا سوال: کیا ہم اپنے بچوں کو سمجھ رہے ہیں؟ اکثر والدین بچوں کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کی دنیا سمجھنے کی کوشش کم کرتے ہیں۔ تربیت کا پہلا اصول شاید یہی ہے کہ فیصلہ کرنے سے پہلے سمجھا جائے۔
موبائل کا مسئلہ نہیں، موبائل کے ساتھ تعلق کا مسئلہ
آج موبائل بچے کی زندگی کا حصہ ہے۔ پڑھائی بھی اسی پر، معلومات بھی اسی پر، تفریح بھی اسی پر اور دوستوں سے رابطہ بھی اسی پر۔ اس لئے ’موبائل بالکل بند‘ کرنا ہر گھر میں قابلِ عمل حل نہیں۔ ماں اور بچہ مل کر گھر کیلئے چند اصول طے کریں: ٭کھانے کے وقت موبائل نہیں۔ ٭سونے سے پہلے ایک مقررہ وقت کے بعد اسکرین بند۔ ٭پڑھائی کے دوران غیر ضروری نوٹیفکیشن بند۔ ٭والدین بھی بچوں کے سامنے غیر ضروری موبائل استعمال نہ کریں۔ ٭ہفتے میں ایک دن یا چند گھنٹے ڈجیٹل ڈیٹاکس۔
یہ بھی پڑھئے: اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینا کیوں ضروری؟
موبائل کو صرف تفریح نہیں بلکہ تعلیم، تحقیق، تخلیق اور مثبت رابطے کیلئے بھی استعمال کیا جائے۔ جب اصول یکطرفہ حکم کے بجائے باہمی اتفاق سے بنیں گے تو بچے کی ذمہ داری بھی بڑھے گی۔
سوشل میڈیا اور ’’دوسروں جیسی زندگی‘‘ کا فریب
آج ایک بچہ اپنے کمرے میں بیٹھا دنیا بھر کے لوگوں کو دیکھ سکتا ہے۔ کسی کے مہنگے کپڑے، کسی کا خوبصورت گھر، کسی کے نمبر، کسی کی کامیابی اور کسی کی خوشگوار زندگی۔ وہ اپنی عام زندگی کا موازنہ دوسروں کی منتخب اور ایڈیٹ شدہ زندگی سے کرنے لگتا ہے۔ یہاں ماں کا کردار نہایت اہم ہے۔ بچے کے ساتھ سوشل میڈیا کی پوسٹس دیکھ کر بات کریں: ’’کیا ہمیں معلوم ہے کہ تصویر کے پیچھے حقیقت کیا ہے؟‘‘ ’’کیا ہر خوش نظر آنے والا انسان واقعی ہر وقت خوش ہوتا ہے؟‘‘ ’’کیا کامیابی صرف مہنگی چیزوں کا نام ہے؟‘‘ بچے کو ڈجیٹل لیٹریسی دیجئے، صرف ڈجیٹل ایکسس نہیں۔
نمبر کم ہوں تو بچے کی قدر کم نہیں ہوتی
تعلیمی مقابلہ آج بہت شدید ہے۔ بچے کو کبھی اسکول، کبھی ٹیوشن، کبھی مقابلے اور کبھی دوسرے بچوں کے نتائج کا سامنا رہتا ہے۔ ہمیں یہ فرق سمجھنا ہوگا کہ بچے کا نتیجہ کم ہوسکتا ہے، بچے کی قدر نہیں۔ اگر ۹۰؍ فیصد حاصل کرنے والے بچے کو محبت اور ۷۰؍ فیصد والے کو مایوسی ملے گی تو بچہ یہ سیکھے گا کہ ’’میری قیمت میرے نمبروں سے ہے۔‘‘ نتیجہ پوچھنے سے پہلے پوچھیں ’’تم نے کیا سیکھا؟‘‘ اور امتحان کے بعد ’’اگلی بار کیا بہتر کیا جا سکتا ہے؟‘‘ ’’میں تمہاری کس طرح مدد کرسکتی ہوں؟‘‘ اس سے بچے میں ترقی پسندانہ سوچ پیدا ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: یہ تدابیر بچوں کو صحت بخش کھانوں سے رغبت دلا سکتی ہیں
مصنوعی ذہانت: خوف نہیں، ذمہ دار استعمال
یہ ہماری نسل کا ایک نیا امتحان ہے۔ آج بچہ سوال کا جواب، مضمون، تصویر، ترجمہ، پریزنٹیشن اور حتیٰ کہ ہوم ورک بھی مصنوعی ذہانت سے حاصل کرسکتا ہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ ’’بچہ اے آئی استعمال کرے یا نہ کرے؟‘‘ اصل سوال یہ ہے ’’وہ اے آئی کو کس مقصد اور کس اخلاق کے ساتھ استعمال کرے؟‘‘ ماں کیا کرے؟ بچے کو سمجھائیں اے آئی مددگار ہے، دماغ کا متبادل نہیں۔ اسے اے آئی سے جواب لینے کے بعد معلومات کی تصدیق کرنا، اپنی زبان میں سمجھانا، غلطی تلاش کرنا، مختلف ذرائع سے موازنہ کرنا سکھایا جائے۔ یوں اے آئی بچے کا شارٹ کٹ نہیں بلکہ لرننگ اسسٹنٹ بن سکتا ہے۔
پرائیویسی اور آن لائن حفاظت
بچوں کو یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ انٹرنیٹ پر ہر شخص دوست نہیں ہوتا۔ انہیں سکھائیں اپنا او ٹی پی کسی کو نہ دیں۔ پاس ورڈ شیئر نہ کریں۔ گھر کا پتہ، اسکول کی تفصیل یا ذاتی معلومات غیر ضروری طور پر شیئر نہ کریں۔ انجان لنکس نہ کھولیں۔ آن لائن کسی سے ملنے کا فیصلہ والدین کی معلومات کے بغیر نہ کریں۔ کسی نامناسب پیغام یا تصویر سے خوفزدہ ہونے کے بجائے فوراً قابلِ اعتماد بڑے کو بتائیں۔ خوف پیدا نہ کریں، شعور پیدا کریں۔
جین زی کی ماں ہونا بلاشبہ ایک چیلنج ہے، لیکن یہی چیلنج ایک غیر معمولی موقع بھی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں سے یہ نہیں کہنا کہ ہماری طرح بنو بلکہ کہنا ہے کہ ’’ہم سے بہتر بنو، مگر اپنی بنیاد، اپنی تہذیب، اپنے اخلاق اور اپنی انسانیت کو ساتھ لے کر۔‘‘ کیونکہ نسلیں صرف وقت کے ساتھ نہیں بدلتیں، نسلیں گھر کی تربیت سے سمت پاتی ہیں۔ اور اس سمت کا پہلا چراغ اکثر ماں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔