Inquilab Logo

اوڑھنی اسپیشل: کچھ لوگ بڑی مایوسی کا شکار رہتے ہیں، انہیں کیسے سمجھائیں؟

Updated: February 22, 2024, 2:50 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے اِس موضوع پر اظہارِ خیال کی گزار ش کی تھی۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

 قرآنی آیات اور احادیث سنائیں 


’’( میری جانب سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے، تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالیٰ سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے واقعی وہ بڑی بخشش اوربڑی رحمت والا ہے۔‘‘ ( زمر:۵۳) اس آیت کریمہ میں نہ صرف اہل ایمان کو مخاطب کیاگیا ہے بلکہ اللہ عزوجل نے اپنے ان بندوں کو بھی مخاطب کیا ہے جو کافر ہیں، کیونکہ اللہ نے فرمایا کہ اے میرے بندو! لہٰذا اس میں سب سے خطاب ہے، بہر حال ایسے مایوس اور ناامید افراد کو وقتاً فوقتاً سمجھایا جائے، انہیں اللہ پر بھروسہ اور توکل سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث سنائیں۔ ترجمہ اور معانی کے ساتھ نصیحت کی جائے، تو ان شاء اللہ ضرور فائدہ ہوگا کیونکہ جب مایوس شخص اپنے رب تعالیٰ بھروسہ کرے گاتو وہ ہر طرح کی فکر اور مایوسی سے نکلے۔ ‘‘
سعدیہ وحید الزماں (مولانا آزاد پرائمری اسکول مومن پورہ بائیکلہ)
حوصلہ کم نہ ہونے دیں  
بیشترا فراد تھوڑی سی ناکامی سے پریشان ہوجاتےہیں۔ میں  ایسے افراد کو سمجھاؤں گی کہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے۔ ہمیشہ ایک جیسا دور نہیں رہتا  ہے۔ برے وقت کے بعد اچھا وقت بھی آتا ہے۔ سب سےپہلے میں  یہ کہوں  گی کہ اللہ کی ذات سے امید رکھیں، قرآن پاک میں  ڈرنے، غم کرنے اور مایوس ہونے سے منع کیا گیا ہے لہٰذا اپنے اندر کی ہمت اور حوصلہ کو کم نہ ہونے دیں۔ 
 نزہت جہاں (گورا، نان پور سیتا مڑھی )
 مثبت سمت میں جدوجہد


نا امیدی کفر ہے۔ انسان کبھی کبھی ایسے حالات کا سامنا کرتا ہے جو اسے مایوسی کے اندھیرے کی طرف لے جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ نا امیدی کفر ہے۔ ہمارے خالق اور مالک نے فرمایا ہے کہ بندےاس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں۔ یہ زندگی آسائشوں اور تکلیفوں کا مرکب ہے۔ ہر ایک کو وقت مقررہ پر اللہ نوازتا ہے۔ یہ مسائل آج ہیں تو کل نہیں ہوں گے۔ ہمارے سامنے ہمارے پیغمبر حضرت محمدؐ حیاتِ مبارکہ اسوہ کے طور پر موجود ہے کہ ان سے زیادہ مسائل کا سامنا کسی نے نہیں کیا۔ اللہ پر توکل رکھیں اور مثبت سمت میں جدوجہد جاری رکھیں۔ 
 انصاری آصفہ بدرالزماں ( بھیونڈی)
ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں 


نا ممکن کی خواہش کرنا انسان کی فطرت میں ہے۔ مایوسی کے شکار افراد کو سمجھا نا چاہئے کہ ایسی خواہشات کو ترک کریں اور اللہ سے لو لگائیں۔ اگرذاتی مکان میں رہ رہے ہیں تو ان پر نظر ڈالئے جو کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں، اس طرح آپ احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہوں گے اورمایوسی کے شکار بھی نہیں ہوں گے۔ ہمیشہ مثبت سوچ رکھیں۔ منفی سوچ رکھنے والے لوگ ہی مایوسی کا شکار ہوتے ہیں۔ 
زائرہ بانو (نواب گنج، دہلی)

مایوسی دروازے پردستک ہی نہ دے


کبھی مایوس ہو جاؤ تو اپنے رب سے گفتگو کرو، کبھی سجدے کرو، کبھی قرآن پڑھو، مایوسی دیمک کی طرح ہوتی ہے جو انسان کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے۔ زندگی میں جب کبھی مایوسی محسوس ہو تو دو منٹ کیلئے آنکھیں بند کر کے گہری سانس لیں اور سوچیں کہ وقت تو گزر جانا ہے تو کیوں نہ ہنس کے گزارا جائے؟اپنے آپ کو اتنا مصروف رکھو کہ مایوسی کو موقع ہی نہ ملے کہ وہ آپ کے دروازے پر دستک دے۔ قرآن ایمان والوں کو بار بار پکارتا ہے:’’ نا امید ی سے بچو۔ ‘‘، ’’حوصلہ نہ ہارو۔ ‘‘، ’’غم نہ کرو۔ ‘‘ اور’’ مایوسی سے بچوں۔ ‘‘
تسنیم کوثر انصار پٹھان (کلیان، تھانے)
’’ایسے سمجھائیں تو شاید وہ مایوسی چھوڑ دیں‘‘


 محرومی ہی سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ یہ لوگ کس چیز سے محروم ہیں ؟ کوشش کریں کہ ان کے مسئلے کو سمجھیں اور ان کو بھی سمجھانے کی کوشش کریں۔ انہیں حوصلہ دیں انہیں بتائیں کہ ہمارے سماج میں آپ سے بھی زیادہ محرومی کی زندگی گزارنےوالےلوگ بھی موجود ہیں اور وہ خوشی خوشی زندگی گزار رہے ہیں اور وہ مطمئن بھی ہیں۔ ایسے سمجھائیں تو شاید وہ بھی مایوسی چھوڑ دیں۔ 
ترنم صابری (سنبھل)
نیک کام کرنے کی کوشش کیجئے
مایوسی کبھی کبھار ہر کسی کو گھیر لیتی ہے۔ اس کا حل مثبت سوچ اور استقامت میں چھپا۔ خود پر اعتماد کیجئے، مشکلات کا سامنا کیجئے اور اپنی صلاحیت پر بھروسہ کیجئے۔ مایوس ہو نے پر دوست یا کسی ماہر سے بات چیت کیجئے، اور ایسے نیک کام کرنے کی کوشش کیجئے جو آپ کو خوشی دیتا ہو۔ 
نسیم بانو شاہ پورے (شولاپور)
قرآن اور حدیث سے رہنمائی


 حدیث اور قرآن کی روشنی میں  مایوسی دور کروں  گی، یہی بہترین طریقہ ہے جو مایو س ہوگا، اسے یقین دلاؤں گی کہ اللہ کسی بھی بندے کو مایوس نہیں کرتا بلکہ اللہ ہمیں وہی دیتا ہے اور آگے بھی وہی چیزیں عطا کرے گا جو ہمارے حق میں بہتر ہو کیونکہ اللہ ہمیشہ بہتر لے کر بہترین عطا کرنے والی ذات ہے۔ قرآن اور حدیث میں اس کی بہت سی مثالیں  ہیں۔ (الزمر: ۵۳) میں  یہی پیغام ہے۔ (سورہ الحجر :۵۶) میں ہے: ’’اپنے رب کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے۔ ‘‘( ﴾ ترجمہ :کنز الایمان )حدیثِ پاک میں اللہ کی رحمت سے ناامید ہونے کو گناہِ کبیرہ قرار دیا گیا ہے۔ 
آفرین عبدالمنان شیخ (شولاپور، مہاراشٹر)
 صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے


پہلے تو مایوسی کی وجہ معلوم کی جائے۔ جب ہمیں اصل وجہ معلوم ہو جاتی ہے تو سمجھاناآسان ہو جاتا ہے۔ کبھی دین کی باتیں بتائیں اور کبھی دنیاداری کا سہارا بھی لے سکتے ہیں۔ ان سمجھائیں  کہ دنیا کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ ان سے کہیں  کہ صبر و تحمل سے کام لینا چاہئے۔ ہمارے صحابہ کرامؓ کو بھی آزمائش سے گزرنا پڑا لیکن انہوں نے کبھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ دوسری جانب ہم مایوس انسان کا ذہن کسی اور جانب بھی موڑ سکتے ہیں۔ وہ خود کو کسی ایسی سرگرمی میں اس طرح مشغول رکھیں کہ اپنی فکر اور پریشانی کو بھول جائیں  ۔ اس طرح دھیان بھٹکتا نہیں اور مایوس انسان پہلے کی طرح ایک کامیا ب زندگی جینے لگتا ہے وہ اپنا غم بھولنے لگتا ہے۔ کبھی کبھی احتیاطی تدابیر کے باوجود انسان خود کو نہیں سنبھال سکتا۔ ایسے میں اس انسان کو نفسیاتی معالج کے ہاں لے جانا ضروری ہوتا ہے۔ چنددنوں بعد پھر اس کے ذہن کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں اور مثبت باتوں کی مدد سے وہ اپنی ذہنی صحت کو بہتر کر سکتا ہے۔ کبھی کبھار دورہ پڑتا ہے لیکن وہ عارضی ہوتا ہے۔ 
سیدہ نوشاد بیگم( کلوا)
 منفی سوچ کےقید خانے سے آزاد کرنا ہوگا


 سب سے پہلے منفی سوچ کے قید خانے سے آزاد کرنا ہوگا۔ منفی خیال اور منفی جذبے کی زنجیروں کو توڑنا ہوگا۔ انہیں یہ احساس دلانا ہو گا کہ وہ آج تک جس مایوسی سے گھرے ہوئے تھے اُس سے صرف نقصان ہوا۔ یہ با ت ان کے ذہن و دماغ میں بٹھانی ہوگی۔ اس طرح زندگی کانٹوں کا سیج نہ لگتے ہوئے پھولوں کی سیج لگے گی۔ اچھی سوچ اچھے خیالات اور اچھے جذبے میں رہ کر زندگی جینا چاہئے۔ جب ہم ایسا کریں گے تو ہمیں کوئی ملال ہوگا اور نہ کوئی دکھ ہو گا۔ 
جبیرہ عمران پیر زادے(پونے)
’’زندگی بہت قیمتی اور خوبصورت ہے ‘‘


نا امیدلوگ ہمیشہ اداسی کا شکار رہتے ہیں۔ یہ لوگ ہمیشہ ناشکری میں مبتلا رہتے ہیں۔ انہیں کسی بھی بات اور کامیابی پر خوشی نہیں محسوس ہوتی۔ دراصل لوگ دین کی کمی اور غفلت میں خدا کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرپاتے۔ ایسے افراد کی دلجوئی کریں اورانہیں بتائیں کہ زندگی بہت قیمتی اور خوبصورت ہے۔ اداس رہ کر اس کی مسرتوں کو ضائع نہ کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ مایوسی کو اللہ پسند نہیں کرتا ہے۔ ساتھ ہی ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ ان کو ان کے پسند کے کام کرنے اور ان کے پسند کے کھیل میں دلچسپی لینے کیلئے حوصلہ افزائی کریں۔ اس طرح انکو مصروف رکھ کر اور انکی پسند کو ترجیح دے کر اور نرم رویہ اپناکر ہم ان کو مایوسی سے باہر نکال سکتے ہیں۔ 
جویریہ طارق(سنبھل)
 امید کا چراغ جلائیں 


حالات چاہے کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں ؟ ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہئےاور نہ ہی کوئی ایسا انتہائی قدم اٹھائیں جس سےدنیا اورآخرت دونوں ہی تباہ وبرباد ہو جائیں۔ مایوسی وہ احساس ہے جو ایک شخص اپنی کسی خواہش کی تسکین نہ ہونے پر محسوس کرتا ہے۔ کچھ لوگ زندگی میں سب کچھ اپنی مرضی اور منشا کے مطابق حاصل چاہتے ہیں جسے نہ پا کر وہ مایوس اورنا امید ہو جاتے ہیں۔ ہم انہیں یہ سمجھائیں کہ مایوسی کفر ہے، ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ ہر مشکل وقت اور برے حالات عارضی ہیں۔ کچھ وقت کےبعد یہ حالات بدل جائیں گے۔ اپنے آپ کو مصروف رکھیں۔ اپنی صلاحیتوں کا ادراک کریں اور اسےنکھارنےکی کوشش کریں۔ اپناکوئی ہدف طے کر لیں اوراسے پانےکی جستجومیں کوشاں رہیں تاکہ آپ مایوسی کا شکار نہ ہوسکیں۔ اپنا محاسبہ کریں۔ اپنےآپ سے بات کریں اور اپنے مسائل کوخود سے سمجھنے کی کوشش کریں۔ مثبت سوچ اور مثبت طرزِ عمل اپنائیں۔ منفی خیالات صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیتے ہیں اورسوچ کو مزید الجھا دیتے ہیں۔ اپنے خیالات کو مثبت رکھیں۔ مثبت سوچ سے امید پیدا ہوگی۔ مایوسی کے اندھیرے میں امید کا چراغ جلائیں جس کی روشنی آپ کے وجود کو منور کردے گی۔ 
 خان نرگس سجاد (جلگاؤں )
 ’’میں  صبر کی تلقین کروں گی‘‘


 قرآن مجید میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ مایوسی کفر ہے۔ جو بھی مصیبت آئے، مایوس نہیں ہونا چاہئے کیونکہ رنج و الم اور مصیبت میں مایوس ہونا ایمان کی کمزوری ہے۔ ہر مسلمان کو بس اللہ کی ذات پہ توکل کرنا چاہئے۔ پھر تو اللہ سمندر سےبھی راستے نکالنے پر قادر ہے۔ قرآن مجید میں ہے:’’ تم صبر سے کام کرو گے اور تقویٰ کی زندگی گزاروں گے تو کسی کی کوئی بھی پلاننگ تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ ‘‘ اگر اللہ کی رحمتوں اور طاقتوں پر یقین نہ ہو تو انسان مایوسی کا شکار ہوتا ہے۔ میں صبر کی تلقین کروگی۔ 
سمیں صدف میر نوید علی (جلگاؤں )
مناسب کاؤنسلنگ ہی مایوسی کا علاج ہے


سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ کوئی شخص مایوسی کا شکار کیوں کر ہو گیا ہے۔ اس کی روشنی میں مناسب کاؤنسلنگ ضروری ہے۔ اس کی دین کی روشنی میں مناسب طریقے سے اصلاح کرنا ضروری ہے۔ اس جیسے اور بھی انسانوں کی مثال دے کر اس کو سمجھانا ہوگا کہ آپ بھی اسی طرح مایوسی سے باہر آ سکتے ہیں۔ اللہ کی ذات سے کبھی بھی نا امید نہیں ہونا چاہئے۔ مایوسی کے شکار ا فرادکو سمجھاناچاہئے کہ مایوسی کفر ہے، مایوسی گناہ ہے، مایوسی انسان کے حوصلے پست کر دیتی ہے، انسان کو برباد کر دیتی ہے۔ ہمت اور حوصلے توڑ دیتی ہے، مایوس افراد چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ خود کیلئے اور دوسروں کیلئےبوجھ بن جاتے ہیں۔ وہ ہر وقت تناؤ میں رہتے ہیں جس سے ان کی زندگی بے مزہ ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کی مناسب انداز سے کونسلنگ کرتے رہنا چاہئے اور ان کی ہمت افزائی کرتے رہنا چاہئے کہ اگر آپ مایوسی سے باہر نہیں نکلیں گے تو سمجھ لیجئے کہ زندگی میں خوشی کا کوئی احساس باقی نہیں رہے گا اور ہر وقت ناکام ہی رہیں گے۔ مناسب کونسلنگ ہی علاج ہے۔ 
 نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ )
مایوسی خوشیوں کو جلا کر راکھ کردیتی ہے 


مایوسی کفر ہے، خاموش قاتل ہے، کچھ لوگ جلد ہی گھبرا جاتے ہیں، کمزور ہو جاتے ہیں۔ حالات کے مطابق زندگی میں اتنی پریشانی آتی ہے کہ مایوسی کو مقدر مان لیتے ہیں جبکہ ہمت سے کام لینا چاہئے۔ جتنا بھی مصیبتوں کا پہاڑ ٹوٹ پڑے، اپنے فیصلے اوراپنے ارادے پر قائم رہنا چاہئے۔ اپنی منزل مقصود پر نظر رکھنی چاہئے۔ کسی حال میں گھبرانا نہیں چاہئے اور مایوس تو کبھی نہیں ہونا چاہئے۔ زندگی کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اسی منزل میں راہیں ہموار ہوں گی۔ بس وقت کا انتظار کرنا چاہئے اور صبر سے کام لینا چاہئے۔ اگر ایسا کیا جائے تو کوئی بھی انسان مایوسی کا شکار نہ ہوگا، ہمیں مایوسی سے بچنا چاہئے۔ مایوس ہونا تو ہمیں زیب ہی نہیں دیتا۔ انسان کی زندگی میں ہر قسم کا وقت اور طرح طرح کے موڑ آتے ہیں جب کبھی خوشیاں اور آسائشیں ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے غافل کرتی ہیں توہم راستہ بھٹک کر مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مایوسی ایک ایسی دھوپ ہے جو خوشیوں کو جلا راکھ کر دیتی ہے۔ 
نشاط پروین (شاہ کالونی، شاہ زبیر، مونگیر، بہار)
سکھ اور دکھ زندگی کا لازمی حصہ 
 مایوس انسان کو بتائیں  کہ زندگی میں سکھ اور دکھ آتے جاتے رہتےہیں۔ یہ وقت بھی گزار جائے گا، برے وقت کا سامنا کرنے کی طاقت رکھئے تواس کی مجال نہیں  ہے کہ آپ سامنے زیادہ دیر تک ٹک سکے۔ 
یاسمین شاہ رخ خان ( جمہور نگر، مالیگاؤں )
 ’’کچھ سال قبل میں بھی مایوسی کا شکار تھی‘‘


 کچھ سال قبل میں بھی بڑی مایوسی کا شکار تھی جب میری ساس اور میری امی اورمیری ساس اپنے مالک حقیقی سے جاملی تھیں۔ اس وقت مجھے یہ احساس ہوا کہ میرے بچے کے سر سے بھی ان کی دادی اور نانی کا سایہ چھن گیا ہے۔ میں  بہت ادا س رہتی تھی۔ تب مجھے میری چھوٹی بہن نے سمجھایا کہ اللہ کی اس میں رضا مندی تھی۔ تم کویہ سوچ کر مایوس ہونے کی بجائے یہ سوچ کر خوش رہنا چاہئے کہ تمہارے بچے، تمہارا شوہر اور تمہارے ابا اور بھائی بہن تمہارے پاس موجود ہیں۔ ان کے ساتھ ہنسی خوشی اپنی زندگی گزارو۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ مایوسی انسان کو اُس دلدل میں لے جاتی ہے جہاں سے باہر نکلنا ناممکن ہو جاتا ہے اور پھر انسان چھوٹی چھوٹی خوشیوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ 
سمیرہ اظہر سرگروہ (نوی ممبئی)
اپنے لئے خوشی تلاش کیجئے 
 کسی بھی قسم کی پریشانی سے مایوس ہو کر ہمیں اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے بلکہ وقت کا صحیح استعمال کرتے ہوئے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اپنے لئے خوشی تلاش کرنا چاہئے۔ ذکراذکار کرنا چاہئے اور تنہائی سے گریز کرنا چاہئے، کیونکہ مایوسی انسان کو کفر تک پہنچا دیتی ہے۔ 
ساریہ ڈاکٹر انصاری شفیق احمد ( مالیگاؤں، ناسک)
’’ان کی مدد بھی کرنے کی کوشش کرتی ہوں ‘‘


 میرے بہت ہی قریبی افراد میں بعض ایسے افراد موجود ہیں جو ہر وقت مایوسی کی باتیں کرتے ہیں۔ دوران گفتگو ان کی تائید کرتی ہوں جس سے انہیں حوصلہ ملتا ہے۔ ان کی گفتگو ختم ہو جاتی ہے تب میں ان مثبت پہلوؤں کی نشاندہی کرتی ہوں جو منفی خیالات کے سبب ان سے مخفی رہ جاتے ہیں۔ میں قرآن اور حدیث کی روشنی میں ان کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ وقتا فو قتاًانہیں ان نعمتوں کے بار ے میں  بتاتی ہوں جو الله نے ہمیں عطا فر مائی ہیں۔ ان کی مدد بھی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ n
رضوی نگار اشفاق (اندھیری) 
 ’’خوش رہنا سکھانا چاہئے‘‘


چھو ٹی چھوٹی باتوں اور کاموں سے خوش رہنا سکھانا چاہئے۔ کس قسم کے جذباتی، جسمانی، ذہنی یا گھریلو مسائل ہیں؟ یہ معلوم کر کے انہیں  حل کرنا چاہئے۔ کونسلنگ کرنی چاہئے۔ خود پر توجہ دینی چاہئے ہمت سے کام لینا چاہئے۔ ہر مسئلے کا حل نماز ہے اوردلوں کا سکون قرآن کی تلاوت میں ہے۔ 
نسیم رضوان شیخ ( کرلا)
اللہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا


 مایوس کن حالات اللہ ہی نکال سکتا ہے، لہٰذا اس کی بارگاہ میں حاضری دیتے رہیں۔ کیونکہ وہ اپنے بندوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتا۔ ایسے لوگ جو مایوسی کا شکار ہوتے ہیں، انہیں مثبت پہلو سے روشناس کرائیں اور انہیں ان کی زندگی کے خوشگوار لمحے یاد دلائیں۔ یقین دلائیں کہ یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مایوس ہونے سے انسان مزید ڈپریشن اور ا سٹریس کا شکار ہوتا ہے، اس لئے چاہئے کہ ہر مشکل کا ڈٹ کر سامنا کریں، تاکہ مایوسی خود شرمندہ ہو کر ہم سے دور ہو جائے۔ 
 مومن رضوانہ محمد شاہد ( ممبرا ` تھانہ)
اللّه پر توکل کریں 
جب ہمیں کوئی کام انجام دینا ہو تو اسے پورا کرنے کی کوشش کریں اور اللّه پر توکل کریں۔ سب سے اہم بات ہے اللّه پر یقین ہونا بہت ضروری ہے اور اگر کام نہیں ہو سکا تو مایوس ہونے کے بجائے نیز محنت اورلگن سے کوشش کریں اور اللّه سے بہتر کی اُمید رکھیں۔ جلد مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنی ان صلاحیتوں کو نکھارنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے جو خدا نے ہمیں دی ہیں۔ 
شازیہ رحمٰن( غازی آباد)
مایوسی خوشی کو کم کر دیتی ہے


آج کے دور میں کئی لوگ مایوسی کا شکار ہوتے نظر آتے ہیں۔ مایوسی خوشی کو کم کر دیتی ہے۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے۔ مثبت سوچ، مقابلہ کرنے کی صلاحیت اور نیک کاموں میں مصروفیت انسان کو مایوسی سے بچاتی ہے۔ ۳؍طریقے سے اپنی خوشیاں تلاش کرنے والے مایوس ہوتے ہیں (۱) لوگ انسانوں میں خو شی تلاش کرتے ہیں (۲) لوگ چیزوں میں خوشی تلاش کرتے ہیں۔ (۳) لوگ حالا ت کے ممکن ہونے میں خوشی تلاش کرتے ہیں۔ 
زینب پٹیل( جلگاؤں )
’’ اچھا سوچیں اور اچھا بولیں‘‘


 توکل وہ راستہ ہے جس کے ذریعہ آگ ٹھنڈی کر دی جاتی ہے۔ جو دریا میں راستہ بنوا دیتا ہے جو ایڑیوں سےزمزم نکلوا دیتا ہےجو یوسفؑ کو یعقوبؑ سے ملوا دیتا ہے جو شدید طوفان میں کشتی نوح کو پار لگا دیتا ہے تو پھر اس رب ذو الجلال و الکرام پر توکل کیوں نہیں کروگے۔ وہ رب دے کر بھی آزماتا ہے اور لے کر بھی آزماتا ہے کہ میرے بندے کا یقین مجھ پر ہے یا اسباب پر۔ آزمائش انسان کو پرکھ کر اس کا درجہ بلند کرنے کیلئے آتی ہے۔، لہٰذا ہر حال میں اچھا سوچیں اور اچھا بولیں۔ آپکے دو میٹھے بول کسی کو نئی زندگی دے سکتے ہیں۔  
ڈاکٹر حنا کلیم خان ( ناسک)

ان کےجذبات کو ٹھیس نہ پہنچے


جو لوگ مایوسی کا شکار رہتے ہیں، ان کی مایوسی کی وجہ جاننے کی کوششیں کریں ۔ یہ معلوم کریں   کہ آخر وہ کیوں مایوس ہیں ؟ ان سے بات چیت کریں تو ان کے جذبات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ وہ جو بھی بولنا چاہیں، انہیں بولنے دیں ، ٹوکیں نہیں، انہیں کوئی صلاح دیں اور نہ ہی خوش کرنے کی کوشش کریں۔ ان کی بات توجہ سے سنتے رہیں۔ مایوس انسان کو غصہ زیادہ آتا ہے وہ بات بات پر ناراض ہو جاتے ہیں ۔ جب وہ غصہ یا ناراض ہوں، اس وقت آپ جھنجھلائیں نہیں بلکہ خود پر قابو رکھیں۔ ان سے ہر صورت پیا رسے پیش آئیں۔ انہیں لوگوں کے بیچ لے جائیں ، ان کے درمیان بیٹھیں۔ اس طرح وقت گزارنے سے انہیں اچھا محسوس ہوگا۔ انہیں بھرپور نیند اوراچھی غذا کامشورہ دیں۔ انہیں سمجھاتے وقت ان سے پیار سے پیش آئیں۔ ان کےجذبات کو ٹھیس نہ پہنچے، اس کا خیال رکھیں۔ 
ثمینہ علی رضاخان (کو سہ ممبرا)
اس طرح مایوسی حاوی نہیں ہوگی


 ہم سب جانتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے ، پھر بھی تمام لوگ اس کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو میں جو مشورہ دینا چاہوں گی وہ یہ ہے کہ مایوس ہونے سے بہتر ہے کہ تھوڑا صبر کر لیں۔ ضروری نہیں کہ زندگی میں سب کچھ مل جائے، کچھ نہ کچھ تو چھوٹ ہی جاتا ہے، بہت کچھ ادھورا ہی رہ جاتا ہے۔ یادرکھئے کہ سب کچھ اپنے وقت‌ پر ہوتا ہے، اس لئے تھوڑا صبر کریں۔ اللہ سے دعا کریں۔ مایوسی ہمیں کمزور کرتی ہے اور ہماری خود اعتمادی میں بھی کمی آ جاتی ہے۔ اپنی کمیوں پر غور کریں اور اس میں سدھار لانے کی کوشش کریں، مایوسی آپ پر حاوی نہیں ہوگی۔ 
ہما انصاری(مولوی گنج، لکھنؤ)
زندگی مایوسی سے لڑنے کا نام ہے


مایوسی زندگی میں ایک منفی قدر کے طور پر دیکھی جاتی ہے لیکن زندگی کی سفاکیاں مایوسی کے احساس سے نکلنے ہی نہیں دیتیں ۔ زندگی کا سفر کبھی کبھی بہت مشکل ہوجاتا ہے اور کچھ لوگ اس سے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس راستے میں بڑی مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس سب کے باوجود زندگی مسلسل مایوسی سے لڑنے کا نام ہی ہے۔ جو شخص مایوس ہے، اس کے دل کی گہرائیوں کو سمجھنے اور اس کے جذبات کو محسوس کرنے کے لئے آپ کو اس سے ایک دوست کی طرح بات چیت کرنی چاہئے۔ انکی تکلیفوں کو اہمیت دینا، انہیں سننا اور ان سے اپنائیت کا اظہار کرنا ان کی زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ ان کی حالت بہت سنگین ہے تو انہیں پروفیشنل مدد حاصل کرنے کی راہیں بھی سجھانی چاہئیں۔ ہم مایوس ہوتے ہیں لیکن پھر ایک نئے حوصلے کے ساتھ ایک نئے سفر پر گامزن ہوجاتے ہیں ۔ مایوسی کی مختلف صورتوں اور جہتوں کو موضوع بنانے کا روزنامہ ’انقلاب ‘کایہ اقدام زندگی کو خوشگوار بنانے کی ایک صورت ہے۔ امید ہے کہ یہ کوشش کامیاب ہوگی۔ 
ایڈوکیٹ طیبہ یعقوب خانچے(ممبرا تھانے)
’’دھیان کہیں اور بھٹکاتی ہوں‘‘


آج کل زندگی میں اتنی پریشانیاں بڑھ گئی ہیں کہ ہر وقت مایوسی چھائی رہتی ہے۔ میں ہمیشہ اس سے دور رہنے کی کوشش کرتی ہوں۔ اور سبھی کو اس کا مشورہ یہ دیتی ہوں کہ مایوسی سے تکلیف اور بڑھتی ہے، اُسکا دھیان کہیں اور بھٹکاتی ہوں۔ اکثر اوقات قرآن شریف کی تلاوت اور نئی احادیث سنائیں ۔ اُسے باہر لے جائیں یا گھر پر نئے قسم کے پکوان بنائیں۔ بچپن کی کچھ یادوں کو دہرائیں، ان سب نئی سرگرمیوں سے ان شاء اللہ مایوسی دور ہو گی۔ 
بی بشریٰ خاتون (جامعہ نگر، نئی دہلی)
مایوسی دور کرنے کے طریقے
عالمی ادارہ برائے صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں ہر تین میں سے ایک شخص ڈپریشن کا شکار ہے۔ مایوسی ڈپریشن کی ایک شکل ہے جو صرف ایک انسان کو ذہنی مریض ہی نہیں بناتی بلکہ اس سے جُڑے جتنے لوگ ہیں سب پر اس کے اثرات ہوتے ہیں، اسلئے ہمیں جلد ازجلد مایوسی سے نکلنے کا راستہ ڈھونڈھنا چاہئے۔ مایوسی سے نکلنے کے کچھ راستے یوں ہیں : (۱) سب سے پہلے مایوسی کی وجہ تلاش کریں۔ (۲) جو بھی خیالات ذہن میں آتے ہیں اسے سكون اور دیانت داری کے ساتھ لکھیں (۳) لکھے ہوئے کو بعد میں پڑھیں۔ پڑھنے اور لکھنے سے دو فائدے ہوں گے۔ اول تو یہ کہ مایوسی کی وجہ مل جائےگی۔ دوسرے ذہن کو بار بار سوچنے کی عادت سے نجات مل جائےگی۔ (۴)اگر مایوسی کی کوئی وجہ ایسی ہو جسے دور کرنا آپ کے بس میں نہیں ہے تو اسے اللہ اور وقت پر چھوڑ دیجئے۔ (۵) خود کو کسی بہتر اور تعمیری کام میں لگائیں جس سے آپ کی ذہنی اور جسمانی قوت کا صحیح استعمال ہوگا۔ اگر آپ ان طریقوں کو اپناتی ہیں اور اسے اپنا معمول بناتی ہیں تو ان شاء اللہ کچھ ہی دنوں میں خود کو مایوسی کی جال سے آزاد پائیں گی اور بہتر محسوس کریں گی۔
تجلی فاطمہ(کشن گنج، بہار)
مایوسی کفر ہے


زندگی میں سکھ کم اور دکھ زیادہ ہوتے ہیں۔ پیغمبروں، صحابہ کرام ؓ اور ازواج مطہرات کی زندگیوں کا مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ زندگی کیا ہوتی ہے اور کیسے گزارنی چاہئے؟ ان کی زندگیاں ہمارے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ اللہ کے نبیوں ؑکو بھی سخت مشکلات اور آزمائشوں سے گزرنا پڑا مگر وہ استقامت سے اپنے مشن پر قائم رہے لہٰذا اگر ہم اسلامی تعلیمات نیز معاشرت کو مد نظر رکھیں تو ہمیں ہر حال میں جینے کا انداز ملے گا اور ہم اپنے مسائل آسانی کے ساتھ حل کرسکیں گے لہٰذا زندگی کے مسائل اور مصائب سے گھبرانا نہیں چاہئے۔ ایسے حالات میں اللہ تعالیٰ سے رجوع ہوجائیں کہ درکریم سے بندے کو کیا نہیں ملتا؎ مشکلیں نیست کہ آساں نہ شود= مرد باید کہ ہراساں نہ شود 
خان نشاط پروین (فیض پور جلگاؤں)
خدا سے رابطہ اور مضبوط کرلیں 
خواہشات اور امیدیں انسان کو مایوسی میں مبتلا کر دیتی ہیں ۔ ان سے نکل پانا کبھی کبھی انسان کیلئے مشکل یا یوں کہہ لیں کہ نا ممکن ہو جاتا ہے۔ انسان کے لئے ضروری ہے کہ وہ مشکل حالات میں خدا سے رابطہ اور مضبوط کر لے تاکہ اسے قلبی اور ذہنی سکون مل سکے۔ اس کے ساتھ ہی مندر جہ ذیل طریقوں سے ہم اس انسان کو مایوسی سے باہر نکال سکتے ہیں :(۱)محبّت اور ہمدردی سے بھر پور رویہ(۲) بھر پور نیند (۳) پسندیدہ کھانے (۴) تفریحی مقامات کی سیر(۵) مثبت خیالات کے ساتھ کی جانے والی گفتگو(۶) خوش اخلاقی کے ساتھ مایوسی کے شکار انسان کی گفتگو سننا اور انکے مسائل کا حل ڈھونڈنا (۷) ڈارک چا کلیٹ یا اس سے بنی اشیاء کا استعمال ذہنی حالت کو بہتر بنانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ 
ڈاکٹر ایس ایس خان (ممبئی)
’’جو ہو گیا سو ہو گیا‘‘ 
جو لوگ مایوسی کا شکار رہتے ہیں، انہیں سمجھائیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی عبادت کریں ، اس لئے کہ اللہ کو یاد کرنے سے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ ماضی گزر چکا ہے یہ دوبارہ نہیں آسکتا جو ہو گیا سو ہو گیا، اس پر  خاک ڈالئے اور آگے بڑھئے۔ کچھ لوگوں کی مایوسی کا سبب مستقبل کے خدشات بھی ہیں، یہ لوگ سوچتے ہیں کہ کہیں میرے بچے نہ بگڑ جائیں ۔ کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے وغیرہ وغیرہ۔ وہ اسی طرح اندیشوں میں  گھرے رہتےہیں ۔ ان خدشات اور مایوسی سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ حال میں رہا جائے اور اللہ پر توکل اور ایمان رکھا جائے۔ معاشرے میں منافقت بہت بڑھ گئی ہے، دین اللہ کی رضا کے بجائے دکھاوا بن گیا ہے اسلئے مایوسی بھی بہت عام ہو گئی ہے لہٰذا اپنی حیثیت کے مطابق کوئی ایک کام ایسا ضرور کریں جو صرف اللہ کی رضا کے لئے ہو۔ جب زندگی میں آپ کوئی ایسا کام کریں گی جو صرف اللہ کے لئے ہے تو اللہ آپ کو ضرور نوازے گا اور آپ کافی حد تک مایوسی سے بچی رہیں گی۔ 
فریحہ امیر فیصل (مئو، یوپی)
’’نئی صبح ضرور طلوع ہوگی‘‘


ہمیں اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہ ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھر بھی اکثر اوقات زندگی میں کبھی ایسا موقع آجاتا ہے جب کوئی نہ کوئی چھوٹی سی بھی وجہ انتہائی گہری اداسی اور مایوسی کا سبب بن جاتی ہے جو انسانی زندگی کی تمام خوشیوں اور مسرتوں کو ختم کر دیتی ہے۔ ہم اپنے آس پاس کئی ایسے افراد کو دیکھتے ہیں جو اپنے حالات کی وجہ سے مایوسی کی دلدل میں چلے گئے ہیں اور اذیت میں مبتلا ہیں ۔ ضروری ہےکہ ان مایوس لمحوں میں انہیں مضبوط سہارا دیا جائے۔ ناکامیوں سے نمٹنے میں ان کی مدد کی جائے۔ انہیں مزید مایوسیوں سے بچایا جائے، انہیں زندگی کے حسن سے روشناس کرایا جائے۔ ان کے متزلزل اعتماد کو بحال کیا جائے۔ یقیناً ہر ذی فہم انسان مایوس افراد سے متعلق یہی رویہ اپنائے گا۔ انہیں یہ سمجھانے کی کوشش کرے گا کہ مایوسی ہار کے مترادف ہے۔ مایوسی کفر ہے لہٰذا وہ ابتر حالات میں بھی ہمت نہ ہارے۔ اللہ کی ذات پر کامل یقین رکھے۔ یقیناً مایوسیوں کے بادل ایک نہ ایک دن ضرور چھٹ جائیں گےاور نئی صبح ضرور طلوع ہوگی۔ 
 فوڈکرساجدہ(جوگیشوری)
اللہ سے لو لگائیں 
انسان مایوس تب ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ سے متعلق اس کا یقین کمزور ہو جاتا ہے، اس لئے کہتے ہیں کہ مایوسی کفر ہے، مایوسی تو ایک دلدل کی مانند ہے جس میں آپ ایک قدم رکھیں گے تو دوسرا قدم آپ کو نہیں رکھنا پڑے گا بلکہ خود ہی کھینچ لے گا۔ اگر چند باتوں پر عمل کریں گی تو ان شاء اللہ مایوسی کا شکار نہیں  ہوں گی: (۱)بہت ز یادہ سو چنے سے گریز کریں۔ اپنی سوچوں پر قابو رکھیں۔ اگر منفی خیال آئے تو فوراً اس کے سامنے ایک مثبت سوچ کو لاکھڑا کریں۔ اگر آپ کے ارد گرد منفی سوچنےاور بولنے والے لوگ ہیں تو ان سے دور رہیں۔ (۲) اللہ تعالی سے کبھی بھی بد گمان نہ ہوں۔ اللہ کے ساتھ اپنےتعلق کو مضبوط کریں، اللہ سے لو لگائیں ۔ کثرت سے ذکر کریں ، قرآن کی تلاوت کریں ، ترجمے پر غور کریں اس سے دل کو سکون ملے گا۔ نمازیں وقت پر ادا کریں ۔ (۳) تھوڑا وقت فطری ماحول میں گزاریں۔ فجر کی نماز کےبعد چہل قدمی کریں ۔ پرندوں کی چہچہاہٹ کو غور سے سنیں ۔ کھلی فضا میں سانس لیں۔ سورج کا نکلنا اور ڈھلنا و غیرہ غور سے دیکھیں جس سے آپ کافی اچھا محسوس کریں گے۔ (۴)ہر حال میں الله کا شکر ادا کریں۔ جو بندہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اللہ اسے کبھی مایوس نہیں ہونے دیتا۔ 
انصاری کے انیس (بھیونڈی)
کامیابیاں  یاد دلائیں  


ایک پروفیشنل کاؤنسلر کی طرح مکمل اعتماد سے کام لینا ہوگا۔ مایوسی کے شکار شخص میں کچھ خوبیاں ضرور ہوں گی، کیونکہ اللہ نے ہر انسان میں کچھ نہ کچھ صلاحیتیں ضرور رکھی ہیں اور مایوس شخص اپنی اُن خوبیوں کو نظر انداز کر رہا ہوتا ہے، بس ہمیں اُسکی ان صلاحیتوں اور قابلیت کی جانب توجہ دلا کر اُسکی خود اعتمادی کو واپس لانا ہے۔ اس کو یاد دلانا ہوگا کہ اس نے اپنی زندگی میں بہت سے معرکے سرکئے ہیں۔ اس نے مختلف محاذوں پرغیر معمولی کامیابی حاصل کی ہے اور اگر اس وقت کسی کام میں رکاوٹ آ رہی ہے تویقیناً اللہ کی کوئی مصلحت ہے۔ مایوس شخص کے ارد گرد منفی احساسات کو بڑھانے والی کوئی بات، کوئی شے اور کوئی منفی سوچ رکھنے والا فرد نہ رہے تو بہتر ہے۔ اچھا ماحول انسان کو پر اُمید بناتا ہے۔ مایوس شخص سے بے رخی اور غصّے کا رویہ ٹھیک نہیں ہوتا۔ اگر اُسکی صحیح طرح سے ہمت افزائی کی جائے اور دوستانہ ماحول میں کاؤنسلنگ کی جائے تو یقیناً مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ 
سلطانہ صدیقی (جامعہ نگر، نئی دہلی)
مثبت پہلو پرغور کریں