جب ماضی کا موازنہ آج سے کیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے اپنے آپ کو صرف اپنی ذات تک محدود کر دیا ہے۔ اب اس کے پاس رشتہ داروں سے ملنے کا وقت بھی نہیں ہے۔ حتیٰ کہ وہ اپنے پڑوسیوں سے بھی لاعلم ہے۔ ہر شخص خود تک محدود ہوکر تنہا ہوگیا ہے۔ کیا ہم، اگلی نسل کو بھی ’تنہائی‘ کی اذیت دینا چاہتے ہیں؟
بچوں کو محبت و اخوت کا نصاب پڑھانا اچھا ہے مگر اس سے پہلےخود جیتی جاگتی مثال بنیں۔ تصویر: آئی این این
اللہ رب العالمین کی بے انتہا خوبصورت کائنات کے ہم بہت ہی حسین مخلوق ہیں۔ اس کا حسن اس کی خوبصورتی ہر جگہ نظر آتی ہے۔ اس خوبصورت کائنات میں انسان کو ایک سماجی جانور کہا گیا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا ہم نے کبھی یہ جاننے اور سمجھنے کی کوشش کی ہے؟ نہیں۔ کیونکہ ہم سب اپنی اپنی ترجیحات کے دائرے میں قید ہیں اور اس سے باہر نکلنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ ہم نے اپنے اطراف میں انا، تکبر اور گھمنڈ کا ایک ایسا حصار کھینچ رکھا ہے کہ اس کے پار ہونا، لکشمن ریکھا پار کرنے کے مترادف ہے۔ یہ زندگی کا ایک بہت ہی اہم سچ ہے۔ اگر ہم اپنے اطراف کا مشاہدہ کریں تو ہمیں ہر دوسرے بندے میں یہ صفات نظر آئیں گی لیکن اگر ہم نے اپنے گریبان میں جھانک لیا تو سوائے شرمندگی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا کیونکہ ہم خود بھی اسی حصار میں قید ہیں۔
کیوں ہم سب ایک ایسی ہی زندگی گزار رہے ہیں۔ کہاں گئے وہ دن؟ جس میں سادگی، سچائی، ایمانداری، محبت اور خلوص تھا۔ صرف رشتہ دار ہی نہیں بلکہ پڑوس بھی رشتے داروں سے بڑھ کر ہوتے تھے۔ یہ سب کہاں کھو گئے؟ پہلے جب کسی گھر میں شادی ہوتی تھی تو صرف شادی کا گھر نہیں بلکہ آس پاس کے لوگ ایک ہوجاتے تھے اور یہ اندازہ لگانا مشکل ہوجاتا تھا کہ کس گھر میں شادی ہے۔ سب مل کر کھانا بناتے تھے۔ کوئی بازار کے چکر لگا رہا ہوتا تو کوئی چوڑی والے کو گھیر کر بیٹھا ہوتا، کوئی مہندی لگا رہا ہوتا تو کوئی ڈھول پر اپنی بے سُری آواز میں گانے گا رہا ہوتا.... غرض ہر جگہ خوشی و شادمانی نظر آتی تھی۔ دلہن یا دلہا کو جب مایوں بٹھا دیا جاتا وہ ہفتے بھر گھر سے باہر نہیں نکل سکتے تھے۔اس ماحول میں محبت، اخوت اور بھائی چارے کی مثال ہوتی تھی۔ پڑوسی آپ کے مذہب کا ہو یا کسی اور مذہب کا، وہ آپ کی ہر رسم میں آپ کے شانہ بہ شانہ کھڑا رہتا.... آپس میں کوئی بھید بھاؤ نہیں تھا۔ ایک دوسرے پر جان لٹا دینا یہی زندگی کا مقصد ہوتا تھا.... یہ محبت یہ پیار یہ دوستی کہاں کھوگئی؟ ابھی کیوں سب بدل گیا؟
انسان نے ترقی کرلی.... ایسی ترقی کہ سب سے پہلے اس نے اپنے ارد گرد ’مَیں‘ کا دائرہ کھینچ دیا اور اس میں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔ ’مَیں‘ ہی سب کچھ.... باقی کچھ بھی نہیں۔ وہ کہتے ہیں نا ’’ہم ہی ہم ہیں باقی سب پانی کم ہے....‘‘ بالکل اسی انداز میں سب کو اپنے سے حقیر سمجھنا، دوسروں کے سامنے اپنی جھوٹی شان دکھانے کے لئے بے دریغ خرچ کرنا اور اپنی انا کی تسکین کے لئے رتبے والے لوگوں کو مدعو کرنا اور غریب رشتے داروں کو دور رکھنا.... یہ آج کے دور کا فیشن بن گیا ہے۔ پڑوسی کو اپنا سمجھنا تو دور پڑوس میں کون رہتا ہے؟ اس بات کا بھی لوگوں کو علم نہیں رہتا ہے۔ تھوڑی بہت انسانیت یا محبت کہہ لیجئے یہ نچلے طبقے میں ابھی بھی ملنے کے امکانات ہیں لیکن درمیانی طبقہ تو اعلیٰ طبقے میں شمار ہونے کی ہوڑ میں ایسا منہمک ہوگیا ہے کہ اسے اپنے آس پاس کا بھی علم نہیں ہے۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ ثابت کرنے کے چکر میں اپنے آپ کو ہی بھول گیا ہے، نتیجتاً نہ وہ یہاں کا رہا نہ وہاں کا۔ ’نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم!‘ صرف یہ ہی نہیں بلکہ یہاں طبقہ سماج سے کئی ایسی صفات کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا مرتکب ہوا کہ مستقبل کی نسلوں کے لئے یہ تمام باتیں صرف ایک کہانی بن کر رہ جائیں گی۔
ہم نے اس ’مَیں‘ کے چکر میں اپنی آل اولاد کو ’’اپنائیت اور اپنے لوگوں‘‘ کو اس صفت سے محروم کر دیا ہے۔ آپ اپنے اطراف کا مشاہدہ کریں تو آپ کو اس بات کی تصدیق کرنے میں ایک پل بھی نہیں لگے گا۔ ان تمام باتوں سے آپ سبھی سو فیصد متفق ہوں گے۔ لیکن صرف اتفاق کرنے سے بات نہیں بنے گی۔ اس کا حل ہم سب کو مل کر نکالنا ہوگا۔ یہ شادی بیاہ تو صرف ایک مثال ہے جس میں آج کل صرف نام و نمود اور نمائش کی خاطر لوگ ہزاروں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے برباد کر رہے ہیں۔ جس میں صرف چند لمحوں کا مزہ اور زندگی بھر کی سزا پوشیدہ ہے۔ ہمیں اس سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ اپنے بچوں کی تربیت کے لئے ہمیں اسکولوں میں نصاب میں محبت و اخوت کے سبق ڈالنے کے بجائے اسے اپنی جیتی جاگتی مثال سے سکھانا چاہئے۔ ہم اپنی نئی نسل کو کتابوں میں اقدار، اخلاق، تمیز تہذیب سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن عمل کے نام پر ہم سب تہی دامن ہیں۔ ہمارے پاس کچھ نہیں ہیں۔ لیکن اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ جب جاگو تب سویرا.... کیوں نہ ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ ہم کچھ اچھی مثالیں کچھ اچھے نمونے ہماری نئی نسل کو سونپیں گے تاکہ ہماری تہذیب کے نشان باقی رہیں۔ اس کے لئے آج ہی سے کوشش کیجئے۔ اپنوں سے ملئے۔ رشتے داروں کو اپنے گھر بلائیے۔ ان کی خاطر مدارت کیجئے۔ خلوصِ دل سے مہمان کا استقبال کیجئے اور بچوں کو بھی اُن کا احترام کرنے کی تلقین کیجئے۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں نئی نسل میں اخلاقی اقدار پیدا کرسکتی ہیں۔