• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عورت کے اندر ایک پوری دُنیا، پوری کائنات ہوتی ہے

Updated: October 28, 2026, 3:23 PM IST | Jasmine Shaukat | Mumbai

’’لفظ‘‘ صرف کہے نہیں جاتے، وہ نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔ گھر میں بچی کو ’پرایا دھن‘ کہہ کر اسے پرایا نہ کریں۔ ایک لفظ کسی بچی کے اندر اعتماد پیدا کرسکتا ہے اور ایک دوسرا لفظ اسے برسوں یہ سوچنے پر مجبور کرسکتا ہے کہ آخر اس کے وجود کی قدر و قیمت کیا ہے۔ گھر کی بچیوں کو اچھے الفاظ سے پکاریں۔ ان میں اعتماد پیدا ہوگا۔

A woman is not merely an embodiment of beauty; her capabilities, hard work, intellect, courage, and determination are also prominent traits of her personality. Image: INN
عورت صرف حسن کا پیکر ہی نہیں ہوتی، اس کی صلاحیت، محنت، شعور، حوصلہ و عزم بھی اس کی شخصیت کے نمایاں وصف ہوتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

الفاظ محض آوازیں نہیں ہوتے۔ وہ سوچ بناتے ہیں، احساس جگاتے ہیں اور کبھی کبھی انسان کے ذہن میں اپنے وجود کی ایک خاص تصویر بھی قائم کر دیتے ہیں۔ خاص طور پر بچپن میں سنے گئے الفاظ انسان کے اندر بہت دور تک سفر کرتے ہیں۔ آج بھی ہمارے معاشرہ میں، حتیٰ کہ پڑھے لکھے گھرانوں میں بھی، بیٹی کو ’پرایا دھن‘ کہا جاتا ہے۔ کہنے والے کیلئے شاید یہ ایک پرانا محاورہ ہو، مگر ایک بچی کیلئے اس کا مفہوم بہت گہرا ہے۔ وہ بچپن ہی سے سنتی ہے کہ یہ گھر تمہارا نہیں، ایک دن تمہیں دوسرے گھر چلے جانا ہے۔

جس گھر میں اس نے آنکھ کھولی، جہاں اس کی پہلی ہنسی گونجی، جہاں اس نے اپنے خواب دیکھے، وہاں اسے ’’پرائی‘‘ ہونے کا احساس کیوں دیا جائے؟ شادی کے بعد بیٹی کا دوسرے گھر جانا ایک معاشرتی حقیقت ہوسکتا ہے، مگر اس حقیقت کو اس کے حق ِ اپنائیت پر غالب نہیں آنا چاہئے۔ بیٹی کسی گھر کی عارضی مہمان نہیں؛ وہ اس گھر کی تاریخ، محبت اور یادوں کا حصہ ہوتی ہے۔ یہی بات ہماری روزمرہ گفتگو میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ اگر کوئی لڑکا رو پڑے تو فوراً کہا جاتا ہے: ’’کیا لڑکیوں کی طرح روتے ہو؟‘‘ اس ایک جملے میں ہم انجانے میں لڑکی کے رونے کو کمزوری بنا دیتے ہیں۔ آخر لڑکی کی طرح رونا کمزوری کیوں ہے؟ کیا آنسو کسی ایک جنس کی میراث ہیں؟ رونا انسانی جذبہ ہے، عورت کی کمزوری نہیں۔ ہمیں بچوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ احساسات کو سمجھنا اور ان کا اظہار کرنا انسان ہونے کا حصہ ہے۔ لڑکے کو رونے سے روک کر اور لڑکی کے آنسوؤں کو اس کی فطرت قرار دے کر ہم دونوں کے ساتھ انصاف نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھئے: خواتین کے تحفظ کی شروعات گھر سے ہونی چاہئے

یہی معاملہ ادب اور شاعری کی زبان کا بھی ہے۔ ہماری شاعری میں عورت کے حسن کو بیان کرنے کے لئے صدیوں سے خوبصورت تشبیہات استعمال ہوتی رہی ہیں۔ نرگسی آنکھیں، ہرنی جیسی آنکھیں، غزالی نگاہیں، چاند سا چہرہ، گلاب جیسے ہونٹ، ریشم جیسے بال.... یہ سب حسنِ بیان کے دلکش پیکر ہیں۔ ان میں سے بہت سی تشبیہیں اپنی جگہ نہایت خوبصورت اور دل آویز ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا عورت کی تصویر صرف حسن کے پیکروں سے مکمل ہوجاتی ہے؟ نرگسی آنکھیں خوبصورت سہی، مگر عورت کی آنکھوں میں صرف حسن کیوں دیکھا جائے؟ ان میں شعور بھی تو ہے، سوال بھی، خواب بھی اور زندگی کے تجربات بھی۔ اسی طرح ہرنی کی آنکھیں حسن کی علامت ضرور ہیں، مگر ہرنی کے پیکر کے ساتھ سہمے پن اور خوف کا تصور بھی وابستہ ہے۔ اگر عورت کو بار بار ایک سہمی ہوئی ہرنی کے استعارے میں پیش کیا جائے تو کیا غیر محسوس طور پر اس کے ساتھ کمزوری کا تصور نہیں جڑتا؟ سوال یہ نہیں کہ شاعر نے یہ لفظ کیوں استعمال کیا؛ سوال یہ ہے کہ ہم عورت کے حسن کو بیان کرنے کیلئے بار بار کن علامتوں کا انتخاب کرتے ہیں اور ان علامتوں سے عورت کی کون سی تصویر تشکیل پاتی ہے؟

شاعری میں پیکر تراشی اور تشبیہات زبان کو جمال عطا کرتی ہیں۔ لیکن عورت کے حسن کی تعریف میں اس کے ذہن، صلاحیت، محنت، شعور اور خواب پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ عورت کی آنکھیں ’’نرگسی‘‘ کہنے سے پہلے یہ بھی تو دیکھا جائے کہ ان آنکھوں نے زندگی میں کیا کچھ دیکھا ہے۔ اس کے چہرے کو ’’چاند‘‘ کہنے کے ساتھ اس کے اندر روشن ہونے والے خوابوں کا ذکر بھی ہو۔ اس کے جسم کو کسی پھول یا پودے سے تشبیہ دینے کے بجائے کبھی اس کے حوصلے کو پہاڑ، عزم کو چراغ اور جدوجہد کو روشنی سے بھی تشبیہ دی جائے۔ کیونکہ عورت صرف حسن نہیں، حسنِ احساس بھی ہے۔ صرف نزاکت نہیں، قوت بھی ہے۔ صرف آنسو نہیں، حوصلہ بھی ہے۔ صرف خواب دیکھنے والی نہیں، خوابوں کو حقیقت بنانے والی بھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ای کامرس: خواتین کیلئے روزگار کا سنہرا موقع

معاشرہ صرف قوانین سے نہیں بنتا؛ وہ روزمرہ کے جملوں، محاوروں، تشبیہوں اور لفظوں سے بھی تشکیل پاتا ہے۔ ہم جو کچھ بچوں کے سامنے بولتے ہیں، وہ ان کی سوچ کا حصہ بنتا ہے۔ اگر ہم بیٹی کو ’’پرایا دھن‘‘ کہیں گے تو وہ اپنے پن کے بجائے جدائی کا تصور سیکھے گی۔ اگر لڑکے کے رونے کو ’’لڑکیوں جیسا‘‘ کہیں گے تو ہم اس کے ذہن میں یہ تصور بٹھائیں گے کہ عورت ہونا کمزوری ہے۔ اور اگر عورت کو مسلسل صرف حسن اور نزاکت کے استعاروں میں بیان کریں گے تو اس کی مکمل شخصیت کہاں دکھائی دے گی؟ ضرورت ادب کو پابند کرنے کی نہیں، اپنے احساس کو وسیع کرنے کی ہے۔

وہ نرگسی آنکھوں سے کہیں بڑھ کر ہے،

وہ ہرنی کی معصومیت سے کہیں آگے ہے،

وہ کسی ’’گرم دوپہری‘‘ کا استعارہ نہیں،

وہ اپنے اندر ایک پوری دنیا رکھتی ہے۔

الفاظ بدلیں گے تو سوچ بدلے گی، اور سوچ بدلے گی تو رویے بھی بدلنے لگیں گے۔ اور تب شاید کسی بیٹی کو یہ احساس لے کر بڑا نہ ہونا پڑے کہ وہ اپنے ہی گھر میں ’’پرائی‘‘ ہے، بلکہ وہ پورے اعتماد سے کہہ سکے: ’’یہ گھر بھی میرا ہے، میرے خواب بھی میرے ہیں، اور میری آواز بھی اہم ہے۔‘‘

(مضمون نگار رابعہ گرلز ہائی اسکول اینڈ جونیئر کالج بھیونڈی، کی سپروائزر ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK