• Wed, 28 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیتن یاہو کی انتخاب کے بعد کی تقریر: فتح کا دعویٰ، ایران کو کمزور ترین قرار دیا

Updated: October 28, 2026, 4:08 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے انتخابات کے بعد کی تقریر میں اپنی پارٹی کی فتح کا دعویٰ کیا، ساتھ ہی کہا کہ ایران کمزور ترین سطح پرقرار دیا۔

Israeli Prime Minister Netanyahu. Photo: X
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو۔ تصویر: ایکس

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے لیکوڈ حامیوں سے کہا کہ ان کی پارٹی سب سے بڑی ہے اور دائیں بازو کے بلاک کو فیصلہ کن اکثریت حاصل ہے، حالانکہ ایگزٹ پول میں کوئی واضح فاتح نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کے پاس ایران کو شکست دینے کا آخری موقع ہے۔انہوں  نے بدھ،۲۸؍ اکتوبر کی صبح یروشلم میں خوشی مناتے حامیوں سے کہا کہ ان کی لیکوڈ پارٹی اسرائیل میں سب سے بڑی ہے اور دائیں بازو کے بلاک نے فیصلہ کن اکثریت حاصل کی ہے۔اسرائیلی لیڈرگنتی شروع ہونے کے بعد اپنی پہلی عوامی پیشی میں مقامی وقت کے مطابق صبح۳؍ بجے کے فوراً بعد لیکوڈ کی انتخابی رات کی تقریب میں خطاب کر رہے تھے۔ نیتن یاہو نے قومی دائیں بازو کی حکومت کا مطالبہ کیا، کہا کہ اسرائیل کو عرب جماعتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، اور ٹی وی چینلز اور اپوزیشن پر حملہ کیا۔ جبکہ انہوں نے اپنی تقریر کا زیادہ تر حصہ ایران پر بھی صرف کیا، یہ کہتے ہوئے کہ اسرائیل اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پاس خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا آخری موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی نتائج ایک یا دو دن میں آنے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: ٹرمپ کی حمایت کے باوجود سٹہ بازار میں نیتن یاہو کی شکست کی پیش گوئی

واضح رہے کہ نیتن یاہو یروشلم میں لیکوڈ ہیڈکوارٹر میں صبح ۳؍ بجے کے فوراً بعد اسٹیج پر آئے۔ پارٹی کارکنوں اور اراکین پارلیمنٹ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی آواز بیٹھی ہوئی تھی۔ انہوں نے۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء کے حماس کے حملے کے بعد سے اسرائیل نے جنگوں میں کیا کیا ہے، اس کا جائزہ لے کر شروعات کی۔ انہوں نے ہجوم سے کہا، ہم اب بھی حقیقی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔انہوں نے حامیوں سے کہا کہ سرکاری نتائج سے پتہ چلے گا کہ لیکوڈ سب سے بڑی پارٹی ہے، اور کوئی بھی ہمارا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ لیکوڈ نے کسی بھی دوسری واحد پارٹی سے زیادہ ووٹ حاصل کیے، لیکن یہ فیصلہ نہیں کرتا کہ حکومت کون بناتا ہے۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اب تک کی ووٹوں کی گنتی صرف تعارف تھی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو ایک مضبوط، دائیں بازو کی قومی حکومت قائم کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حکومت نہیں بننی چاہیے جو فلسطینی جماعتوں کی حمایت پر انحصار کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کو متحدہ صہیونی اکثریت کی ضرورت ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ اسرائیل کو عرب جماعتوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے، جنہیں انہوں نے ہمارے وجود کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ شرم کی بات ہے کہ دیگر جماعتیں ان کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ جماعتیں خدمت کرنے والوں کے عہد کے بارے میں کیسے بات کر سکتی ہیں جبکہ ایسی جماعتوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں جو ان کے الفاظ میں فوجیوں پر حملہ کرتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی سینیٹر نے ۹؍امریکی مسلمانوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کیا

بعد ازاں نیتن یاہو نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں فلسطینی-اسرائیلی جماعتوں کی مدد سے حکومت بنانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنے مخالفین پر اسرائیلی فوجیوں کو کمزور کرنے اور اسرائیل کے دشمنوں کے مفادات کی خدمت کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے پوچھا، آپ ان کے ساتھ کوئی اتحاد کیسے بنا سکتے ہیں؟ اور مزید کہا کہ یہ شرمناک ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہیے۔‘‘تاہم ایران تقریر کا ایک اہم موضوع تھا۔ نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کو ایران سے وجودی خطرے کو دور کرنے کا غیر معمولی اور منفرد موقع درپیش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہ کام ہمارے دوست صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر کرے گا۔ تقریر میں بعد میں انہوں نے اسے تاریخی، ایک بار کا موقع قرار دیا۔
مزید برآں نیتن یاہو نے یہ کہتے ہوئے اختتام کیا کہ اسرائیل نے اپنے دشمنوں کو شکست دی ہے اور دوبارہ ایسا کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ہم شیر ہیں۔ دھاڑتے ہوئے شیر، مزید کہا کہ جنہوں نے ماضی میں اسرائیل کی آواز نہیں سنی وہ اسے سنیں گے۔ انہوں نے اسرائیل زندہ باد نعرے کے ساتھ اختتام کیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK