اوم مہاجن کا اگلا ہدف دنیا کا مشکل ترین مقابلہ’ریس اکراس امریکہ‘ ہے

Updated: November 24, 2020, 5:29 PM IST | Azhar Mirza

اوم مہاجن کا اگلا ہدف دنیا کا مشکل ترین مقابلہ’ریس اکراس امریکہ‘ ہے، اس نوجوان نے اسپورٹس مینجمنٹ کی تعلیم کیلئے امریکی یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے

Om Mahajan
اوم مہاجن

  ناسک کے۱۷؍سالہ نوجوان سائیکلسٹ اوم مہاجن نےکشمیر سے کنیاکماری کا فاصلہ سائیکل کے ذریعہ ۸؍دن میںمکمل کرکےنیا ریکارڈ قائم کردیا ہے۔اوم نے ۳۶۰۰؍ کلومیٹر کا یہ طویل فاصلہ ۸؍دن ۷؍گھنٹے اور ۳۸؍ منٹ میں مکمل کیا ہے۔ قبل ازیں یہ ریکارڈ اوم مہاجن کے  چچا مہندر مہاجن(۱۰؍دن۹؍گھنٹے۴۸؍منٹ)کے نام تھا جسے  لیفٹیننٹ کرنل بھارت پنّو(۸؍دن۹؍گھنٹے۴۸؍منٹ) نے توڑا تھا لیکن اب اسے اوم نے اپنے نام کرلیا ہے۔ اوم کھیل کے ساتھ ساتھ پڑھائی میں بھی آگے ہیں۔ انہوں نے  امسال بارہویں  بورڈ  امتحان میں ۹۰؍فیصد سے زائد نمبرات حاصل کئے ہیں۔ وہ سائیکلنگ کے ساتھ ساتھ کھیل کے شعبہ میں پروفیشنل تعلیم حاصل کرنے کیلئے امسال امریکہ جانے والے ہیں۔ جس وقت  انقلاب نے اوم مہاجن سے رابطہ کیا اس وقت وہ کنیاکماری سے نکل کر بنگلورآچکے تھے اور یہاں سےاپنے گھر ناسک کے سفر پر تھے۔ بات چیت کے اہم   اقتباسات درج ذیل ہیں
یہ ریکارڈ  قائم کرنے کے بعد آپ کے تاثر ات کیا ہیں؟
اوم مہاجن: جی بہت اچھا لگ رہا ہے ۔ یہ میرا خواب تھا کہ جو ریکارڈ میرے گھر والوں (چچامہندر مہاجن)نے بنایا تھا اسے میں دوبارہ بناؤں۔ 
آپ کو  سائیکلنگ اور ریسنگ سے دلچسپی کیسے ہوئی؟
اوم : میرے پتاجی(والد)ہتیندر مہاجن(مہم جو اور سائیکلسٹ) اورچاچا (مہندر مہاجن) سے مجھے ترغیب ملی۔مجھے بچپن سے ہی اسپرنٹ سائیکلنگ کا شوق رہا ۔میں قومی سطح پر مہاراشٹر کی طرف سے دوبار نمائندگی کرچکا ہوں۔  اسکے علاوہ کئی مقابلوں  میں شریک ہوچکا ہوں۔ 
لاک ڈاؤن کے دوران آپ کی سائیکلنگ کی مشق اور ٹریننگ پر کیا فرق پڑا؟
اوم :  میری ٹریننگ متاثر رہی۔  پھرمیں نے  اینڈیورنس سائیکلنگ کی ٹریننگ پر غور کیا اور اس کی مشق شروع کی۔ میں نے ہدف بنایا کہ لاننگ ڈسٹنس میں کوئی کارنامہ انجام دوں۔ چونکہ  میرے چاچا(مہندرمہاجن) ایسا کرچکے تھے اور انہوں نے ہی پہلے یہ ریکارڈ بنایا تھا۔ وہ مجھے ہمیشہ حوصلہ دیتے رہے ہیں۔ جب ان کا ریکارڈ ٹوٹا تو میں نے سوچا کہ ابھی یہ ریکارڈ واپس سے اپنے ہی گھر میں آنا چاہئے۔ 
کشمیر سے کنیا کماری تک سائیکلنگ کیلئے تیاری کیسی تھی؟
اوم :میں  اس کی کئی مہینے سے تیاریاں کررہا تھا۔ ایک ہفتے میں کم ازکم ۲۸؍ سے ۳۰؍ گھنٹے ٹریننگ کرتا تھا۔  خیر،کشمیر سے کنیا کماری تک کی میری اس سائیکلنگ مہم کیلئے میرا منصوبہ ایسا تھا کہ مجھے روزانہ بیس گھنٹے سائیکلنگ کرنی ہے۔  راستے میں صرف دوگھنٹے کا بریک لینا ہے۔ جس میں سونا یا ضروریات سے فارغ ہوناشامل رہا۔  اسی حساب سے میں نے اپنا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کرتے ہوئے یہ فاصلہ طے کیا۔ یہ مہم میرے لئے چیلنجز سے بھرپور تھی۔ کنیاکماری کے آخر ی پڑاؤ  میں تو باڈی ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ اس وقت دماغ تو راضی تھا لیکن میں طویل فاصلہ طے کرنے سے تھکن سے نڈھال ہوچکا تھا، پیڈل گھمانا بھی مشکل تھا۔
اس دوران آپ کوکن چیلنجز اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا؟
اوم : یہ بہت ہی چیلنجنگ رہاہے۔  اتنے لمبے وقت تک کیلئے سائیکلنگ کرنے کیلئے فٹنیس لیول حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے۔ جب آپ راستے میں چلتے ہوں تو موسم بدلتا ہے ۔ میں یہ بھی بتادوں کہ جب میں نے اس مہم کی شروعات کی تو کشمیر سے کی تو اس وقت وہاں  درجہ حرارت صفر سے۳؍ڈگری تھا۔ میں نے ۱۳؍نومبر کی صبح ۵؍بجے سرینگر سے اس سفر کا آغاز کیا۔ جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے تو موسم بھی بدلتا گیا۔ مثلاً دہلی میں کہرا تھا، اسکے بعد ناگپور میں بہت زیادہ گرم ہوا، گوالیار میں کافی بارش ہوئی۔   لہٰذا ایسے حالات اور موسم کیلئے  ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنا ہوتا ہے۔ میری مہم ۲۱؍نومبر کو کنیاکماری میں ختم ہوئی۔
سائیکلنگ کی دنیا میں آپ کا اگلاہدف کیا ہے؟ 
اوم : جی میرا دیرینہ ہدف ہے کہ ریس اکراس امریکہ جو دنیا کا سب سے کٹھن اور آزمائشوں بھرا مقابلہ سمجھا جاتا ہے اس  میں شرکت کرنا اور اسے پورا کرنا میرا ہدف ہے ۔یہ میرے والد (ہتیندرمہاجن) اور چاچا (مہندر مہاجن) بطور ٹیم کے ریلے فارمیٹ میں کرچکے ہیں لیکن میں اسے  سولو(انفرادی طور پر) مکمل کرنا چاہتا ہوں۔ یہ میرا آئندہ سال کا ٹارگیٹ ہے  اور اس کے لئے میں ابھی سے محنت شروع کرچکا ہوں۔ ایسے طویل مقابلوں کیلئے ٹریننگ بھی سخت کرنی ہوتی ہے۔ ویسے یہ منصوبہ بندی اور کوچنگ حکمت عمل پر منحصر ہے۔ یہ ٹریننگ ایک ہفتے میں ۳۰؍ سے ۳۵؍ گھنٹے بھی ہوسکتی ہے اورکبھی کبھی تو مسلسل  ۴۸؍ گھنٹے کی بھی رائیڈ ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہفتہ بھر میں ٹریننگ کا مجموعی وقت  ۴۸؍ گھنٹے ہوتا ہے ۔ میں سائیکلنگ کی تربیت و رہنمائی  متیندر ٹھکر سائیکلوزیل اکیڈمی سے حاصل کررہا ہوں۔ 
آپ کے مستقبل کے عزائم کیا ہیں؟ 
اوم مہاجن:   میں انڈین اسپورٹس کے شعبہ میں بطور کھلاڑی اور ایڈمنسٹریٹر اپنا تعاون پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ اسی لئے میںاس شعبہ میں پروفیشنل پڑھائی کرنے امریکہ جارہا ہوں۔ میں  بیچلر ان اسپورٹس مینجمنٹ وچیٹا اسٹیٹ  یونیورسٹی ،  کنساس سے کروں گا۔ یہ  چار سالہ بیچلر کورس ہے اور آئندہ ماہ امریکہ روانہ ہوجاؤں گا۔
سائیکل ریسر بننے کے متمنی نوجوانوں کو آپ کا کوئی مشورہ؟
اوم:ـ میں نے سائیکلسٹ بننے کا سفر اسکول سے شروع کیا۔ میںسائیکل سے ہی اسکول اور پھر بعد میں کالج گیا۔ میں تو یہی کہتا ہوں کہ ہر بچہ اپنے اسکول اور کالج سائیکل سے ہی جائے۔اگر سائیکل سے جائیں گے تو صحت بھی اچھی رہے گی اور ماحول بھی اچھا رہے گا۔  اس لئے میں نے اپنی موجودہ مہم کا نعرہ  رکھا  کہ ’’بی کول پیڈل ٹو اسکول‘‘ اس کے ذریعے میں بچوں کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ وہ  اسکول سے سائیکل جائیں۔ جو بچے اورنوجوان اس شعبے میں کریئر بنا نا چاہتے ہیں میں ان سے کہوں گا کہ آپ سائیکلنگ کی مشق کریں۔  جیسے جیسے آپ مشق کرتے ہیں تو آپ کو حوصلہ ملتا ہے ۔ اگر آپ سائیکلنگ مقابلوں میں حصہ لینا چاہتے ہیں تو ہر ضلع میں سائیکل فیڈریشن آف انڈیا کی  اپنی اپنی باڈی اور اسو سی ایشن ہوتی ہے۔ آپ ان سے رابطے میں رہیں۔  اگر آپ اینڈریونس کے لئے جانا چاہتے ہیں تو پھر کئی نجی فرمز ہیں، جیسے اِنسپائر انڈیاوغیرہ جو اینڈورنس ایونٹ منعقد کرسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں کئی اسٹیبلشڈ کورسیز ہیں جو سائیکلوزیل اکیڈمی، میکسویل ٹریور اکیڈمی  جیسے نجی اداروں کے ذریعہ منعقد کئے جاتے ہیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK