اُف.... یہ بچوں کے جھگڑے، آخر کیا کریں؟

Updated: October 06, 2020, 11:18 AM IST | Usha Gupta

بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کہتا ہے کہ بچوں کے لڑائی جھگڑی فطری ہیں۔ ہاں! انہیں صحیح وقت پر اور صحیح سمت میں موڑنا ہم بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کا جھگڑنا ذہنی نشوونما کا فطری عمل ہے، بناوٹی نہیں ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ بڑے ان سے اچھا رویہ اختیار کریں

Family - Pic : INN
فیملی ۔ تصویر : آئی این این

آج کے زمانے میں تو دو بچے ہی پورا گھر سر پر اٹھا لینے کے لئے ہی کافی ہیں۔ کھلونے ہو تو اس کے لئے جھگڑیں گے، نہ ہو تو اس کے لئے۔ کبھی کبھی جی چاہتا ہے اس صورتحال سے دور بھاگ جائیں۔ ہمیشہ نہیں تو کبھی کبھی من میں ایسے جذبات آجاتے ہیں۔ بچوں کا نفسیاتی تجزیہ کہتا ہے کہ بچے کی یہ سبھی حرکتیں فطری ہیں۔ ہاں! انہیں صحیح وقت پر اور صحیح سمت میں موڑنا ہم بڑوں کی ذمہ داری ہے۔ بچوں کو جھگڑنا ذہنی نشوونما کا فطری عمل ہے، بناوٹی نہیں ہے۔ لیکن یہ ضروری ہے کہ بڑے ان سے اچھا رویہ اختیار کریں:
ز سب سے پہلی بات بچوں کے جھگڑوں کے درمیان بڑے نہ ہی بولیں تو بہتر ہے۔
ز اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جھگڑنے کے کچھ دیر بعد بچے پھر ساتھ کھیلنے لگتے ہیں اور بڑوں میں اس بات کو لے کر اختلاف ہوجاتا ہے۔
ز یاد رہے کوئی بھی بچہ اکیلا نہیں رہنا چاہتا، اسے اپنے ساتھی عزیز ہیں۔ وہ صلاح کا کوئی نہ کوئی راستہ تلاش کر لے گا۔
ز بس آپ کو اتنا دھیان ضرور رکھنا ہے کہ اس کی سوچ غلط سمت میں نہ جانے پائے۔
ز کبھی کبھی بچہ ماں باپ کے نظم و ضبط کے تئیں ناراضگی ظاہر کرنے کے لئے کچھ ایسا کرتے ہیں کہ آپ کو ان پر غصہ آ ہی جاتا ہے۔
ز آپ کی بے چینی سے انہیں سکون ملتا ہے۔ ایسے میں آپ پُرسکون رہیں۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد اس مسئلے پر بات چیت کریں۔
ز اگر کسی ایک کھلونے کو لے کر بچوں میں جھگڑا ہو جائے تو سب سے پہلا حل ہوگا کہ کھلونے کو ہٹا دیں۔ ممکن ہے کہ تھوڑی دیر بعد بچے خود ہی آپ کے پاس مل کر کھیلنے کا سجھاؤ دیں گے۔
ز اگر بچے ہاتھا پائی پر اتر آئیں تو مضبوطی سے ایک ہاتھ پکڑ لیجئے اور تب تک نہ چھوڑیں جب تک وہ خاموش نہ ہو جائے ورنہ وہ چیزوں کو اٹھا کر پھینک سکتا ہے، جس سے دوسرے بچے کو چوٹ لگ سکتی ہے۔
ز آپ اس سختی سے دوسرے بچے کو بھی اس بات کا احساس ہو جائے گا کہ گھر میں مار پیٹ ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
ز لیکن یاد رکھیں کہ یہ سختی آپ انہیں بہتر سمجھانے کے لئے برت رہی ہیں نہ کہ اپنا غصہ نکالنے کے لئے۔
ز آپ کو پُرسکون رہنا ہے۔ غصے میں دو چار تھپڑ لگا دیئے تو نظم و ضبط کا کوئی مطلب ہی نہیں رہ جائیگا۔
ز بچے اگر نظم و ضبط توڑتے ہیں تو انہیں ایسے ہی نہ چھوڑیں۔
ز نظم و ضبط سکھانے کے لئے ایسی سزا دیں کہ انہیں اپنی غلطی کا احساس ہو۔
ز انہیں ٹی وی پر اپنا پسندیدہ پروگرام دیکھنے بالکل نہ دیں۔
ز  کھیل کے وقت اس طرح کے کام کرنے کو کہیں جس میں وہ دلچسپی ہی نہیں رکھتا۔
ز آپ سخت رہیں مگر غصیل نہ ہوں۔
ز کبھی کبھی کھیل کھیل میں آپسی بحث جھگڑے میں بدل جاتی ہے۔ ایسا محسوس ہوتے ہی موضوع بدل دیں۔ بات وہیں ختم ہو جائے گی۔
ز اگر جھگڑے کے دوران چوٹ یا کھروچ لگ جائے تو جس کی وجہ سے ہوا ہے اس سے ہی نرمی سے کہیں ’’بیٹا! دوڑ کر دوا لے آؤ، دیکھو کتنی زور سے لگا ہے۔‘‘
ز بچے کو اپنی غلطی کا احساس ہوگا۔ بعد میں اسے نرمی سے سمجھائیں۔
ز اگر بڑا بچہ چھوٹے کو تنگ کرے یا رلائے تو چپ کرانے کی بھی ذمہ داری اسی کو سونپیں۔
ز اگلی بار تنگ کرنے یا رلانے سے پہلے وہ ضرور سوچے گا۔
ز بچوں کے نفسیات سمجھنے کی کوشش کریں۔
ز بچہ آخر  ایسا کیوں کر رہا ہے؟ جاننے کی کوشش ضرور کریں۔
ز بچے سے کھل کر بات کریں۔
ز  ان کے تئیں حفاظتی اقدامات اپنائیں۔
ز انہیں یقین دلائیں کہ ان کی ہر چھوٹی بڑی بات آپ کیلئے خاص ہے۔ آپ ان کی اور سامنے والے کی پوری بات سننے کے بعد ہی فیصلہ کریں۔
ز آپ ان کے دوست ہیں، استاد ہیں، سرپرست ہیں۔
ز ہر لمحہ انہیں محسوس کروائیں کہ آپ انہیں محبت کرتے ہیں۔ اس وقت بھی جب آپ سختی کر رہے ہوتے ہیں۔
ز والد کا ڈر پیدا کرنے یا ان کے آنے کا حوالہ دے کر دن بھر من مانی کرنے نہ دیں۔
ز انہیں بتا دیں کہ ان کے لئے آپ ہی کافی ہیں اور والد بھی آپ کے فیصلے کو غلط نہیں کہیں گے۔ اسے قبول کریں گے۔
ز جب بچے اچھے سے کھیل  رہے ہوں تو شاباشی دینا بھی نہ بھولیں۔
ز کچھ تخلیقی کام بھی کرنے کو کہیں تاکہ جھگڑے کا دائرہ کم ہوجائے۔
 بچے تو بچے ہوتے ہیں، وہ جھگڑیں گے بھی مگر سمجھداری آپ کو دکھانی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK