• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

صبر مشکل وقت میں سنبھلنا جبکہ استقامت مشکل کےدوران اپنا سفر جاری رکھنا سکھاتی ہے

Updated: September 28, 2026, 3:07 PM IST | Mehnaz Abuzar Ansari | Bhiwandi

زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی راستے بہت آسان لگتے ہیں اور کبھی اچانک ایسے موڑ آ جاتے ہیں جہاں سمجھ نہیں آتا کہ اب کیا کیا جائے۔

Sometimes, difficult times do not merely test us but actually make us better; in such situations, one should exercise patience. Photo: INN
بعض دفعہ مشکل وقت ہمارا امتحان نہیں لیتا بلکہ ہمیں بہتر بناتا ہے جس میں صبر سے کام لینا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

زندگی ہمیشہ ہماری مرضی کے مطابق نہیں چلتی۔ کبھی راستے بہت آسان لگتے ہیں اور کبھی اچانک ایسے موڑ آ جاتے ہیں جہاں سمجھ نہیں آتا کہ اب کیا کیا جائے۔ کبھی دعاؤں کے جواب میں دیر ہوتی ہے، کبھی انتظار بہت طویل ہو جاتا ہے، اور کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہماری تمام کوششیں بے نتیجہ جا رہی ہیں۔ ایسے ہی وقت میں دو چیزیں انسان کو سنبھالتی ہیں.... صبر اور استقامت۔

صبر خاموشی سے برداشت کرنے کا نام نہیں

ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ صبر کا مطلب ہر تکلیف کو خاموشی سے برداشت کرتے رہنا ہے۔ لیکن صبر اس سے کہیں زیادہ گہری کیفیت ہے۔ صبر یہ ہے کہ دل ٹوٹ جائے، مگر اللہ سے تعلق نہ ٹوٹے۔ صبر یہ ہے کہ آنکھوں میں آنسو ہوں، دل میں درد ہو، لیکن اپنی شکایت لوگوں کے سامنے لے جانے کے بجائے اللہ کے سامنے رکھیں۔ صبر یہ ہے کہ جواب ملنے میں دیر ہو، پھر بھی دعا کا دامن نہ چھوڑیں۔ اور سب سے بڑھ کر، صبر یہ یقین رکھنے کا نام ہے کہ اللہ جو کرتا ہے، ہماری سمجھ سے کہیں بڑھ کر حکمت کے ساتھ کرتا ہے۔ کبھی کبھی اللہ ہمیں وہ نہیں دیتا جو ہم مانگ رہے ہوتے ہیں، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ہمارے لئے کیا بہتر ہے۔

یہ بھی پڑھئے: بچہ ایک سال کا ہوگیا... مگر ماں کا اصل امتحان اب شروع

استقامت.... مشکل وقت میں بھی ڈٹے رہنا

صبر ہمیں مشکل وقت برداشت کرنا سکھاتا ہے، جبکہ استقامت ہمیں اسی مشکل کے دوران اپنے راستے پر قائم رہنا سکھاتی ہے۔ جب دنیا کہے، ’’اب چھوڑ دو، بہت ہوگیا!‘‘ تو دل سے آواز آئے: ’’نہیں، مَیں اللہ پر بھروسہ کرکے ایک قدم اور چلوں گی۔‘‘ زندگی میں ہر انسان پر ایسا وقت ضرور آتا ہے جب وہ خود کو بہت کمزور محسوس کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھئے، کمزور محسوس کرنا اور بات ہے اور حقیقت میں کمزور ہونا ایک بات۔ کبھی کبھی ہم ٹوٹتے نہیں، بس تھک جاتے ہیں۔ اور تھک جانا بھی انسان ہونے کا ثبوت ہے۔

صبر انسان کو اندر سے مضبوط بناتا ہے

مشکل وقت ہمیں وہ سبق سکھا دیتا ہے جو آسان دن کبھی نہیں سکھا سکتے۔ مشکل وقت ہمیں لوگوں کی حقیقت دکھاتا ہے۔ تنہائی ہمیں اللہ کے قریب لے آتی ہے۔ آنسو ہمیں دعا کی اصل قدر سمجھاتے ہیں۔ اور انتظار ہمیں توکل سکھاتا ہے۔ جب دنیا کے سہارے کم پڑ جاتے ہیں، تب انسان سیکھتا ہے کہ اصل سہارا صرف اللہ ہے۔ شاید اسی لئے ہماری زندگی میں کچھ آزمائشیں ہمیں توڑنے کے لئے نہیں آتیں، بلکہ ہمیں اللہ کے اور قریب کرنے کے لئے آتی ہیں۔ کچھ درد ہماری اصلاح بن جاتے ہیں۔ کچھ انتظار ہماری تربیت۔ اور کچھ آزمائشیں ہمیں وہ انسان بنا دیتی ہیں جو ہم آسان زندگی میں کبھی نہیں بن پاتے۔

یہ بھی پڑھئے:صاف اور نکھری جلد کیلئے یہ عادتیں اپنا لیں

اپنے آپ سے نرمی بھی ضروری ہے

صبر کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کبھی روئے نہ۔ رونا کمزوری نہیں ہے۔ اپنا درد محسوس کرنا بھی کمزوری نہیں ہے۔ کبھی کبھی اللہ کے سامنے صرف اتنا کہہ دینا ’’یا اللہ! میں بہت تھک گئی ہوں۔ اب مجھ سے نہیں ہو رہا، تو مجھے سنبھال لے۔‘‘ بھی ایک مکمل دعا ہوتی ہے۔ اللہ سے اپنا حال بیان کرنے کیلئے خوبصورت الفاظ ضروری نہیں ہوتے۔ اس دل کا سچا ہونا کافی ہے۔ کبھی اللہ کے سامنے اپنے آنسو بہا دیجئے۔ کبھی خاموش ہو جائیے۔ کیونکہ ہر جنگ روز لڑنا ضروری نہیں ہوتا۔ کبھی رک کر سانس لینا بھی استقامت کا حصہ ہوتا ہے۔

آخر میں، زندگی میں کچھ آزمائشیں ایسی ہوتی ہیں جن کی ہمیں اُس وقت سمجھ نہیں آتی۔ ہم سوچتے ہیں کہ آخر ہمارے ساتھ ہی ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ لیکن کئی سال بعد جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ جس چیز کو ہم اپنی سب سے بڑی مشکل سمجھ رہے تھے، شاید وہی ہماری زندگی کا سب سے بڑا سبق تھی۔ شاید وہی مشکل ہمیں اللہ کے قریب لے آئی۔ شاید وہی انتظار ہمیں صبر سکھا گیا۔ شاید وہی تنہائی ہمیں اپنے رب سے بات کرنا سکھا گئی۔ اور شاید وہی ٹوٹنا ہمیں پہلے سے زیادہ مضبوط بنا گیا۔

اس لئے اگر آج آپ کسی مشکل وقت سے گزر رہے ہیں تو خود کو یاد دلائیے، یہ وقت بھی گزر جائے گا۔ آپ کو ہر سوال کا جواب آج ہی نہیں چاہئے۔ بس آج کا دن اللہ کے بھروسے گزار لیجئے۔ پھر کل کا دن بھی۔ ایک ایک قدم۔ ایک ایک دعا۔ ایک ایک امید۔ صبر رکھئے۔ استقامت رکھئے۔ اور اللہ پر یقین رکھئے۔ کیونکہ جب انسان کے پاس کوئی سہارا نہیں رہتا، تب بھی اللہ کافی ہوتا ہے۔ اس لئے بس چلتے رہئے.... دعا کرتے رہئے.... اور اللہ پر یقین قائم رکھئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK