• Mon, 28 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچہ ایک سال کا ہوگیا... مگر ماں کا اصل امتحان اب شروع

Updated: September 28, 2026, 3:03 PM IST | Faiqa Hammad Khan | Mumbai

بچے کی پہلی سالگرہ صرف جشن کے لحاظ سے نہیں بلکہ اس کی جسمانی و ذہنی صحت کے اعتبار سے بھی اہم ہوتی ہے۔ اس عمر میں بچے کی خوراک اور دلچسپی میں تبدیلیاں آتی ہیں۔ ساتھ ہی بچے ماں کی توجہ زیادہ چاہتے ہیں۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے کہ جب ماں بچوں کی تربیت کو درست سمت دینے کی کوشش کرتی ہے۔

A child`s first birthday celebration should not merely mark the completion of a year; it should also honor a mother`s year of love, patience, sacrifice, and countless prayers. Photo: INN
بچے کی پہلی سالگرہ پر جشن صرف ایک سال مکمل ہونے کا نہیں، بلکہ ماں کے ایک سال کی محبت، صبر، قربانی اور بے شمار دعاؤں کا بھی ہونا چاہئے۔ تصویر: آئی این این

بچے کی پیدائش سے لے کر اس کی پہلی سالگرہ تک کا سفر ہر ماں کے لئے جذبات، محبت، تھکن، دعاؤں اور بے شمار یادوں سے بھرا ہوتا ہے۔ اس کا پہلا مسکرانا، پہلی آواز، پہلا دانت، پہلی بار بیٹھنا، رینگنا اور پھر اپنے ننھے ننھے قدموں سے چلنے کی کوشش کرنا یہ سب لمحات ماں کے دل میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوجاتے ہیں۔ لیکن کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ بچہ کا ایک سال کا ہونے کے بعد ماں کی ذمہ داریاں ختم نہیں ہوتیں، بلکہ ایک نئے اور اہم مرحلے میں داخل ہوجاتی ہیں؟ درحقیقت، بہت سی ماؤں کے لئے بچے کے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ہی اصل امتحان شروع ہوتا ہے۔

اب صرف پیٹ بھرنا نہیں، صحت بنانا ہے

پہلے سال میں بچے کی غذا کا بڑا حصہ دودھ اور نرم غذا پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن ایک سال کے بعد بچے کی غذائی عادات تیزی سے تشکیل پاتی ہیں۔ یہی وہ عمر ہے جب ماں کو یہ سوچنا ہوتا ہے کہ بچے کو صرف کیا کھلانا ہے نہیں، بلکہ کھانے کی کون سی عادت ڈالنی ہے۔ بچے کی غذا میں دالیں، سبزیاں، پھل، انڈا، گوشت، مچھلی، دہی، دودھ اور اناج جیسی مختلف غذائیں مناسب مقدار میں شامل ہونی چاہئیں۔ کھانا جتنا ممکن ہو گھر کا، تازہ اور متوازن ہو۔ بچے کو ہر وقت بسکٹ، چپس، ٹافی، چاکلیٹ یا میٹھی چیزیں دے کر خوش کرنا آسان ہے، مگر ماں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آج کی چھوٹی سی عادت کل کی پوری زندگی کی عادت بن سکتی ہے۔ بچے کو پانی پینے کی عادت ڈالنا بھی ضروری ہے۔ میٹھے مشروبات اور غیر ضروری جوس کے بجائے سادہ پانی اور قدرتی غذاؤں کو ترجیح دینی چاہئے۔

یہ بھی پڑھئے:بچوں کو نظم و ضبط کا پابند بنانے کیلئے سختی نہ کریں

بچے کی بھوک کا احترام بھی ماں کی ذمہ داری ہے

ایک سال کے بچے کبھی بہت زیادہ کھاتے ہیں اور کبھی چند نوالوں کے بعد کھانا چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر مرتبہ بچے کو زبردستی کھلانا ضروری نہیں۔ ماں کو چاہئے کہ صحتمند کھانا بچے کے سامنے رکھے، اسے سکون سے کھانے کا موقع دے اور اس کی بھوک اور پیٹ بھرنے کے اشاروں کو سمجھے۔ اچھی ماں وہ نہیں جو بچے کو ہر حال میں زیادہ کھلا دے بلکہ وہ ہے جو اسے صحیح وقت پر صحیح غذا اور صحتمند کھانے کی عادت دے۔

اسی عمر سے بچے کی اصل طبیعت بھی سامنے آتی ہے

ایک سال کے بعد بچہ اپنے اردگرد کی دُنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ سمجھنے لگتا ہے۔ اب وہ صرف ماں کا دودھ یا کھانا نہیں مانگتا، بلکہ اپنی پسند اور ناپسند کا اظہار بھی کرتا ہے۔ کبھی غصہ کرے گا، کبھی ضد کرے گا، کبھی چیزیں پھینکے گا، کبھی کسی چیز کے لئے روئے گا۔ یہی وہ وقت ہے جب ماں کو صبر کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کی ہر ضد پوری کرنا محبت نہیں، اور ہر بات پر ڈانٹ دینا تربیت نہیں۔ محبت اور حدود دونوں ساتھ ساتھ چلیں تو تربیت خوبصورت بنتی ہے۔

بچے کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں، ماں کے عمل سے ہوتی ہے

بچہ جو سنتا ہے، اس سے زیادہ وہ دیکھ کر سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں نرمی سے بات ہوگی تو بچہ بھی نرمی سیکھے گا۔ اگر ماں ہر وقت غصے میں رہے گی تو بچہ بھی غصے کا اظہار سیکھے گا۔ اگر گھر میں سلام، دعا، شکر اور اللہ کا ذکر ہوگا تو یہ الفاظ آہستہ آہستہ بچے کی شخصیت کا حصہ بننے لگیں گے۔ اس لئے ماں کو یہ نہیں سوچنا چاہئے کہ ’’ابھی تو بچہ چھوٹا ہے، بڑا ہوکر سیکھ جائیگا۔‘‘ بچے کی شخصیت کی بنیاد تو بہت پہلے رکھ دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: نیوٹریشنل سپلیمنٹس: کیا ہمیں واقعی ان کی ضرورت ہے؟

موبائل سے زیادہ ماں کی گود ضروری ہے

آج کل بچوں کو بہلانے کیلئے موبائل فون دینا بہت آسان ہوگیا ہے۔ کھانا کھلانے کیلئے موبائل، رونے پر موبائل، ضد پر موبائل اور خاموش رکھنے کیلئے موبائل۔ لیکن بچے کو موبائل سے زیادہ ماں کی آواز، اس کی آنکھوں کا پیار، اس کے ساتھ کھیلنا، بات کرنا اور وقت گزارنا چاہئے۔ ایک سال کے بعد بچے کے ساتھ باتیں کریں، اسے تصویری کتابیں دکھائیں، گانے یا اچھی نظمیں سنائیں، تالیاں بجائیں، کھیلیں اور اسے اپنے اردگرد کی چیزوں کے نام بتائیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی سرگرمیاں اس کی زبان، سمجھ اور اعتماد کی نشوونما میں مدد دیتی ہیں۔

ہر بات سے روکنا نہیں، صحیح سمت دکھانا ہے

ایک سال کے بعد بچے کے اندر تجسس اور چیزوں کو خود دریافت کرنے کی خواہش بہت بڑھنے لگتی ہے۔ اس عمر میں اسے ہر بات پر روکنے یا ڈانٹنے کے بجائے اس کی دلچسپی کو صحیح سمت دینا چاہئے۔ اگر بچہ دیوار پر پینسل سے لکیریں کھینچ رہا ہے تو فوراً ڈانٹنے کے بجائے اسے رنگ بھرنے والی کتاب، وہائٹ بورڈ یا کاغذ اور رنگین پینسلیں دے دیں اور کہیں کہ ’’آؤ، یہاں بناتے ہیں۔‘‘

بچے کی پہلی سالگرہ پر صرف یہ نہیں دیکھنا چاہئے کہ ’’میری بیٹی یا میرا بیٹا ایک سال کا ہوگیا‘‘ بلکہ یہ بھی سوچنا چاہئے کہ اس ایک سال میں ایک ماں نے کتنی راتیں جاگ کر، کتنی فکریں اپنے دل میں چھپا کر اور کتنی دعائیں مانگ کر یہ سفر مکمل کیا ہے۔ بچے کا ایک سال مکمل ہونا دراصل ماں کیلئے بھی ایک نئے سفر کا آغاز ہے ایسا سفر جس میں اب بچے کے جسم کے ساتھ اس کی عادتیں، مزاج، سوچ، زبان، اخلاق اور شخصیت بھی پروان چڑھنی ہے۔ کیونکہ بچے کو جنم دینا ماں بننے کا آغاز ہے، لیکن ایک اچھا انسان بنانا ماں کی سب سے خوبصورت ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK