بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کریں

Updated: February 11, 2020, 5:12 PM IST | Shaikh Saeeda Unsuri

صنف ِ نازک کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ اُسے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکے۔ اگر وہ خود کسی قابل نہ ہو تو اس گود میں نئی نسل کیا کرے گی اور کیسے ترقی کرے گی؟

بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کریں
بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کریں ۔ تصویر : آئی این این

بیٹی کے تئیں جو سوچ تھی کہ بیٹی کی شادی ہو جائے تو ہماری ذمہ داری ختم، کی جڑیں ہمارے معاشرے میں گہرائی سے پیوست تھیں جس کے تحت بیٹی کی تعلیم اور اس کی صلاحیتوں کے فروغ پر کم ہی توجہ دی جاتی تھی۔ اس سوچ میں جکڑا ہوا معاشرہ بیٹی کی تعلیم کے تئیں زیادہ متحرک نہیں تھا۔ وقت نے کروٹ لی تو اس سوچ کی جڑیں کمزور تو ہوئیں لیکن پوری طرح سے اکھڑ نہیں پائیں۔ وقت کی اس کروٹ میں تعلیم کے نام پر خانہ پری ضرور ہونے لگی جس کی کوئی سمت یا منزل نہیں تھی ’’جب تک شادی نہیں تب تک تعلیم کی سوچ فروغ پائی‘‘ والدین کا اپنی بیٹی کی اعلیٰ تعلیم کے تئیں نیک نیتی اور خلوص کا فقدان رہا۔
 اعلیٰ تعلیم کے تئیں خلوص کے فقدان کی ایک وجہ یہ تھی کے بیٹی کی اعلیٰ تعلیم پر زیادہ خرچ کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔ وہ بھی وقت کے ہاتھوں کمزور پڑنے لگی اسی لئے تو بیٹیاں کم ہی سہی مگر مختلف شعبوں میں اعلیٰ فرائض انجام دے رہی ہیں۔ کوئی ڈاکٹر ہے، کوئی پروفیسر ہے تو کوئی پائلٹ ہے اور کوئی کھیل کے میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑ رہی ہے، یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سوچ واقعی بدل رہی ہے۔ اس بدلتے ہوئے منظرنامہ میں بہت کچھ تبدیل ہونا اب بھی باقی ہے۔ ایک سروے میں والدین سے کہا گیا ہے کہ:
 بیٹیوں کے لئے اعلیٰ تعلیم کی راہ ہموار کریں۔
 بیٹیوں کو غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی ترغیب دیں۔
فنون لطیفہ اور کھیلوں میں کریئر بنانے کے لئے حوصلہ دیں۔
 بیٹی کو اپنے فیصلے خود کرنے کی ترغیب دیں تاکہ وہ خوداعتماد بنے۔
 بیٹی کے فیصلوں کو پسند کی نگاہ سے دیکھیں۔
بیٹی کو اُمور خانہ داری کی جانب بھی راغب کریں تاکہ ایک مکمل شخصیت کا فروغ ہو۔
 اگر یہ سوال کیا جائے کہ بیٹی کی پرورش ان نکات کی روشنی میں ہو رہی ہے تو جواب ہوگا معاشرہ اس انقلابی سوچ کی شروعات ہوچکی ہے لیکن ابھی بھی بہت تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اس سوچ کا خاتمہ وقت کی ایک اہم ضرورت ہے تب ہی ایک نئے باب کا آغاز ہوگا۔
 شادی کے بعد آپ کی ذمہ داری ختم ہو تو آپ کی سوچ یقیناً بدلنی ہوگی۔ عہد طفولیت ہی سے بیٹی کے صاف اور شفاف من پر ڈر کے بجائے ہمت کو فروغ دیں۔ کسی بھی معاملہ میں ’’تم لڑکی ہو، تم یہ نہیں کرسکتی ہو، وہ نہیں کرسکتی ہو!‘‘ حوصلہ شکنی کے بجائے حوصلہ افزائی کریں۔
 بیٹیوں کے معاملے میں بیٹوں کو فوقیت ہرگز نہ دیں، اس کے بجائے مساوات کا درس دیں۔ بیٹی کی بہترین تربیت وہی ہے جو اس میں ’سیلف رسپیکٹ‘ کا فروغ ہو۔ ماہر نفسیات کے مطابق لڑکیاں بہت حساس ہوتی ہیں زیادہ نکتہ چینی ان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے اس لئے زیادہ نکتہ چینی کرنے سے پرہیز کریں۔ بیٹی کی صلاحیت کو فروغ دیں تاکہ وہ زندگی کے نشیب و فراز میں ہمت و حوصلہ، خوداعتمادی، صبر و تحمل، ہر ماحول میں ڈھل جانے کے ساتھ ساتھ خود کفیل بھی بنیں۔
 لوگ اکثر کہتے ہیں لڑکیوں کو تعلیم کیوں دلوائیں اور اس پر اتنا خرچ کیوں کریں جب اسے  آگے جا کر گھر سنبھالنا ہے۔ یہ نہیں کہا جا رہا کہ خاتون گھر نہ سنبھالے بلکہ اسے تعلیم ملے تاکہ وہ گھر کے ساتھ ساتھ نسلوں کو بھی اچھے سے سنبھال سکے۔ صنف ِ نازک کے دم سے یہ معاشرہ قائم ہے جو اپنی گود میں نسلوں کو پروان چڑھاتی ہے۔ اُسے نئی نسل کو اس قابل بنانا ہے کہ وہ آگے چل کر اس معاشرے کو سنبھال سکے۔ اگر وہ خود کسی قابل نہ ہو تو اس گود میں نئی نسل کیا کرے گی اور کیسے ترقی کرے گی؟ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی اولاد کی بہترین تربیت کر سکتی ہے اور معاشرے کو امن کا گہوارہ بنا سکتی، اپنے لئے ذریعہ معاش پیدا کرسکتی ہے، اپنی اور اپنے بچوں کی کفالت کر سکتی ہے، غربت کا ڈٹ کر مقابلہ کر پاتی ہے کسی بھی قسم کے حالات کو چیلنج کرسکتی ہے اس کے برعکس اگر وہ تعلیم یافتہ نہ ہو تو بےبسی اسے دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کر سکتی ہے۔ تعلیم لڑکیوں کو خوداعتمادی عطا کرتی ہے انہیں خود پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے۔ اس میں خود شناسی کی لہر پیدا کرتی ہے جس سے وہ معاشرے میں اپنی بقاء کی جنگ لڑتی ہے اور اپنے وجود کو برقرار رکھتی ہے۔ تعلیم لڑکیوں کو حقوق و فرائض کی پہچان سکھاتی ہے اور انہیں احسن طریقے سے پورا کرنا کا ہنر عطا کرتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK