پروفیسرمحمد رفیق جوکبھی چائےفروش تھے

Updated: November 18, 2021, 1:09 PM IST | New Indian Express | Wayanad

یہاں کے پانامرم گاؤں کے رہنے والے ۳۴؍سالہ نوجوان  محمد رفیق ابراہیم جو کبھی چائے فروش ہوا کرتے تھے اب کنّور یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کی  یہ کہانی جدوجہد  سے بھرپور ہے ۔

Prof. Muhammad Rafiq.Picture:INN
پروفیسر محمد رفیق۔ تصویر: آئی این این

یہاں کے پانامرم گاؤں کے رہنے والے ۳۴؍سالہ نوجوان  محمد رفیق ابراہیم جو کبھی چائے فروش ہوا کرتے تھے اب کنّور یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے ہیں۔ ان کی کامیابی کی  یہ کہانی جدوجہد  سے بھرپور ہے ۔ رفیق کے والد چائے کی دکان چلاتے تھے ، غربت کے سبب رفیق کا بچپن مشکل حالات میں گزرا۔  انہوں نے کم عمری سے ہی کام کرنا شروع کردیا۔ کبھی چائے بیچی تو کبھی گاڑیوںکی صفائی کاکام کیا ۔  ان سب کے باوجود رفیق نے پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ۔ کتابوں سے عشق اور پڑھائی کے شوق میں رفیق نے گریجویشن اور پوسٹ گریجویشن  اور اس کے بعد ڈاکٹریٹ مکمل کیا ۔قابل ذکر ہے کہ اسی ماہ کے پہلے ہفتے میں محمد رفیق کو کنور یونیورسٹی کے  نلیشور کیمپس  میں ملازمت مل گئی ہے۔ وہ  یونیورسٹی کے ملیالم شعبہ میں سے وابستہ ہوگئے ہیں اور تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔محمد رفیق کہتے ہیں کہ ’’میں کوئی ہیرو نہیں ہوں، یہ بھی حقیقت ہے کہ میرے جیسے ہزاروں نوجوان ہیں جو مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔ ‘‘غربت اور وسائل کی کمی کے سبب محمد رفیق کے والد ابراہیم اور ان کی والدہ نفیسہ اسکول کا منہ نہیں دیکھ پائے۔ تعلیم کی اس محرومی کو اس جوڑے نے اس طرح سے پورا کیا کہ اپنے بچوںکو زیورتعلیم سے آراستہ کرنے میں انہوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔  اپنے تعلیمی سفر کے متعلق محمد رفیق نے بتایا کہ وہ  اور ان کی بڑی بہن بشریٰ نے ایس ایس ایل سی امتحان کامیاب کیا۔  وہ کہتے ہیں کہ ’’اس امتحان میں میرا فرسٹ کلاس آیا تھا ، تب میں چھوٹے موٹے کام بھی کررہا تھا، کبھی کلینر بنا، تو کبھی ڈرائیور ۔‘‘ اسی دوران محمد رفیق کے والد پر قرض کا بوجھ اتنا پڑا کہ انہیں اپنی چائے کی دکان فروخت کرنی پڑی۔ مجبوراً محمد رفیق کو کام کی تلاش میں اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا۔ وہ میسور اپنے دوست کے پاس گئے۔ تب رفیق کی عمر محض ۱۹؍ سال تھی۔ میسور میں رفیق نے چائے بیچنے کا کام شروع کیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بی ایس سی میں داخلہ بھی لے لیا۔ گریجویشن کا پہلا سال مکمل ہی ہوا تھا کہ محمد رفیق ٹائیفائیڈ کا شکار ہوئے اور انہیں گاؤں لوٹنا پڑا۔ انہوںنے بتایا کہ ’’جب میں گاؤں لوٹا تو تب بھی گھر کے حالات جیسے کے ویسے ہی تھے۔ پھر میں نے ملاپورم  کے وانڈور میں بس اسٹیشن کے پاس ایک ہوٹل میں ملازمت کرلی ۔ ‘‘ ملازمت کرتے ہوئے جب انہیں فرصت ہوتی تو وہ ایک کتاب کی دکان پر پہنچ جاتے اور یہاں پڑھتے۔ وہ کہتے ہیں کہ’’ مجھے احساس ہوا کہ مطالعہ کی عادت سے میں خوش رہنے لگا ہوں۔ ان کتابوں سے مجھے حوصلہ اور تحریک ملی۔‘‘ محمد رفیق کی قسمت میں کچھ اور ہی لکھا تھا۔ ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ وہ ہوٹل بند ہوگئی۔ انہیں واپس اپنے گاؤں آنا پڑا۔ وہ بتاتے ہیں کہ واپسی کے سفر کے دوران انہوں نے سنیل پی الیاڈوم کا ایک مضمون پڑھا جس کا عنوان ’’پالیٹکس آف آئیڈنٹی اینڈ کلاس‘ تھا، اس مضمون نے ان میں جوش بھردیا۔
 رفیق نے بعد ازیں کالپیٹا میں ایک جوتے چپل کی دکان پر بطور سیلزمین دو سال تک کام کیا۔  اسی دوران ان کی بہن ٹیچر بن گئیں اور انہیں ملازمت گئی۔ اس طرح گھر کے معاشی حالات تھوڑے بہتر ہوگئے۔  دوستوں کی جانب سے حوصلہ ملنے پر رفیق نے کالی کٹ یونیورسٹی کے بی اے اکنامکس کورس میں داخلہ لیا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’گریجویشن کرتے ہوئے  میں خالی اوقات میں زیادہ تر وقت کالپیٹا کی ڈسٹرکٹ  لائبریری میں گزارتا۔ یہاں میں نے خوب مطالعہ کیا۔ ‘‘اس کے بعد محمد رفیق نے سری شنکرا سنکسرت یونیورسٹی ، کالاڈی  کے ایم اے ملیالم کورس کے لئے داخلہ امتحان دیا۔یہاں داخلہ کی اہم وجہ یہ تھی کہ ان کے پسندیدہ قلمکار سنیل الیاڈوم یہاں کے ملیالم شعبہ کے سربراہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ’’مجھے یہاں کا ماحول کافی پسند آیا، مجھ میں کافی خوشگوار تبدیلیاں آئیں۔ ‘‘اس کے بعد رفیق کے لئے حالات سازگار ہوتے گئے اور انہوں نے ایم فل کے بعد سنیل الیاڈوم کی نگرانی میں ’لٹرری فارم اینڈ کلچرل ہسٹری‘کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK