امباجوگائی کے امام صاحب کی ہونہار بیٹیوں کی جدوجہد

Updated: November 25, 2020, 8:57 AM IST | Shaikh Akhlaque Ahmed

مولانا محسن امیر حمزہ کی بیٹی عرشیہ نے آٹھویں جماعت سے ایک عارضہ سے نبردآزماہوکر بھی ہار نہیںمانی، پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھا ،آن لائن پڑھائی کیلئے ایک ہی اینڈرائیڈ فون کا انتظام ہوا تو ان دونوں نے مل کر اسی فون کی مدد سے پڑھائی کی

Bilqis and Arshia with Father
تصوہر میں مولانا محسن امیر حمزہ ، اپنی ہونہار بیٹیوں بلقیس اور عرشیہ کے ساتھ

 امبا جوگائی کے مولانا محسن امیر حمزہ کی بیٹیاں   بلقیس اور عرشیہ نے نیٖٹ  میں کامیابی کیساتھ اب بالترتیب ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں داخلہ کی حقدار بن گئی ہیں۔ مولانا محسن امیر حمزہ  شہر کی فیضان مدینہ مسجد میں امامت کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ قلیل تنخواہ میںگزربسر کرتے ہوئے انہوں نے اپنے بچوں کی تعلیم میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ بچیوں نے کسمپرسی کے حالات میں اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے اور اہل خیرصاحبان کے دست تعاون کی بدولت ڈاکٹری کےخواب کو حقیقت میں بدلنے کیلئے پہلا بڑا قدم بڑھادیا ہے۔ شیخ بلقیس اور شیخ عرشیہ سے  خصوصی بات چیت کے اہم اقتباسات ذیل میں پیش ہیں:
آپ دونوں ابتدائی تعلیم سے متعلق  عرض کریں؟ 
بلقیس :  میں نے پہلی سے چوتھی جماعت تک کی تعلیم پپلہ دھائےگُڑا نامی دیہات کے ضلع پریشد اردو میڈیم اسکول سے حاصل کی ۔ بعد ازیں ملیہ کالج امبا جوگائی سے پانچویں تا دسویں کی تعلیم حاصل کی۔ دسویں کا امتحان۹۱؍ فیصد سے کامیاب کیا۔ ہماری تعلیم کی  خاطر والدنے  اپنے آبائی دیہات کو خیر آباد کہا اور امبا جوگائی منتقل ہوئے۔
عرشیہ :  میری بھی جماعت اول تا چہارم تک کی تعلیم پپلہ دھائےگُڑا کے اردو میڈیم ضلع پریشد اسکول سے ہوئی اور پھر  ملیہ کالج امبا جوگائی سے پانچویں سے  دسویں  تک کی تعلیم حاصل کی۔ لیکن آٹھویں  کے بعد تعلیمی سلسلے میں کئی نشیب و فراز درپیش آئے۔  اچانک میری طبیعت خراب رہنے لگی۔ ہمیشہ بخار رہتا۔ نویں اور دسویں کا سال تو اسکول میں حاضری اور غیر حاضری کے درمیان گزرا۔ بارہا دواخانوں کے چکر کاٹنے پڑے۔ مجھے ڈاکٹروں نے osteoproisis اور scleroderma نامی مرض لاحق ہونے کااندیشہ ظاہر کیا ۔ سردیوں میںمیرے ہاتھ اور پیر نیلے پڑ جاتے تھے، جوڑوں میں سخت درد ہوتا تھا۔ انگلیاں مڑتی نہیں تھیں، اکڑن کی وجہ سے کسی چیزکو پکڑنا میرے لئے مشکل تھا۔  چلنا پھرنا بھی دشوار تھا۔ میں بستر پر ہی پڑی رہتی تھی۔  بعد ازیں ممبئی کے جے جے اور کےای ایم اسپتال سے علاج  ہوا۔نویں میں تھی تو یہاں ڈیڑھ ماہ ایڈمٹ رہی۔  دسویں کے سیکنڈ سیمسٹر سے میں اسکول جانے کے قابل ہوپائی۔   میرے اساتذہ نے مجھے حوصلہ دیا  اور رہنمائی بھی کی۔ خاص طور پر میری والدہ نے میرا سہارا بنیں اور انہوں نے میرا بہت خیال رکھا۔  پھر بورڈ امتحان آگئے،  میں اب بھی قلم ٹھیک سے پکڑ نہیں پارہی تھی۔ مجھے ایس ایس سی بورڈ کی جانب سے معذوری کے زمرہ میں آدھا گھنٹہ رعایت اور رائٹر کی خدمات کے ساتھ امتحان دینے کی اجازت بھی ملی۔ لیکن میں نہیں چاہتی تھی کی میری بقیہ زندگی سہارے سے گزرے۔ اسلئے میں نے رائٹر کی خدمات حاصل کرنے سے صاف انکار کردیا اور کسی طرح سبھی پرچے لکھے ۔میں نے دسویں کا امتحان ۸۲؍ فی صد مارکس سے کامیاب کیا۔
 بعدازیں آپ دونوں نے کہاں داخلہ لیا؟
بلقیس :  ڈاکٹر عبداللطیف صاحب کے توسط سے مائناریٹی اسکیم کے تحت مفت جونیئر کالج کی پڑھائی اور نیٖٹ کی تیاری کوچنگ اسکیم کے تحت ریلائنس کالج لاتور میں ہوا۔ لیکن کوچنگ کے علاوہ وہاں طعام اور ہاسٹل کا خرچ سالانہ ۴۰؍ ہزار روپے تھا ڈاکٹر  صاحب کے ذریعے فیس کا انتظام بھی ہوگیا ایک سال میں نے وہاں خوب محنت کی مگر آئندہ سال کے لئے ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار روپے فیس کا مطالبہ کیا گیا کیونکہ کالج کی جانب سے اطلاع آئی کہ مائناریٹی کوچنگ الائیڈ اسکیم بندکردی گئی ہے۔خستہ معاشی حالات  کے سبب  والد صاحب نے فوراً مجھے واپس بلا لیا   اور بارہویں جماعت کے لئے میرا داخلہ یوگیشوری مہاودیالیہ امبا جوگائی میں کروا دیا۔ میں نے سال بھر خوب محنت کی اور ۲۰۱۹ء میں بارہویں سائنس کا امتحان ۸۰؍فیصد مارکس سے کامیاب کیا ساتھ ہی بغیر کوچنگ کے نیٖٹ  میں۳۲۷؍  مارکس حاصل کئے۔ میں نے سی ای ٹی   بھی دیا جس میں میرا پرسنٹائل۹۷؍ تھا مگر میں ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اسلئے ادھر کا رخ نہ کیا۔ ۳۲۷؍مارکس میں ایم بی بی ایس  میں داخلہ ممکن نہیں تھا۔ اسلئے مشورہ کرکے لاتور جانے کا فیصلہ کیا۔ لیکن معاشی حالات پھر پیروں کی زنجیر بنے۔ نانا جان، ڈاکٹرعبدا لطیف  نے مالی اعانت کی اور ابو نے کہیں سے قرض بھی لیا اور یوں میں نے لاتور میں پرائیوٹ کوچنگ کلاس اور  ہاسٹل جوائن کیا۔   الحمدللہ مجھے نیٖٹ میں۴۵۸؍ مارکس ملے لیکن اب بھی میرا داخلہ ایم بی بی ایس میں نہیں ہوا بلکہ مجھے بی ڈی ایس کی سیٹ ملی ہے۔
عرشیہ:  گیارہویں سائنس میں میرا داخلہ یشونت راؤ چوہان ودیالیہ امبا جو گائی میں ہوا۔ میں نے طبیعت کی خرابی کے باوجود خوب محنت کی اور ۲۰۱۹ء میں بارہویں  کا امتحان۷۰؍ فی صد مارکس سے کامیاب کیا۔ والد صاحب نے ایک شناسا کی مدد سے نیٖٹ کی تیاری کی لئے پرائیوٹ کوچنگ کا نظم کیا اور مجھے۲۷۲؍ نمبرات ملے ۔ خیر سے ہینڈی کیپ زمرہ  سے امبا جوگائی  میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس کی سیٹ ملی ہے۔
 لاک ڈاؤن میں کالجز اور تعلیمی ادارے بند  تھے پھرآپ دونوں کی  نیٖٹ کی تیاری کیسے ہوئی؟
بلقیس-عرشیہ: لاک ڈاؤن کے سبب میں گھر آ گئی۔ یہیں ہم  دونوں نے  پڑھائی کی۔ میری آن لائن کلاسیز جاری تھی۔ لیکن ہمارے پاس اینڈرائیڈ موبائل نہیں تھا۔ ابو کے پاس ایک سادہ فون  تھا جس میں انٹرنیٹ کی سہولت دستیاب نہیں تھی۔ ماموں جان کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے ایک سیکنڈ ہینڈ موبائل ہمیں بھجوایا ابو نے اسے ریپئر کروا کر استعمال کے قابل بنوایا۔ یوں ہماری باقاعدہ آن لائن پڑھائی شروع ہوئی۔ جب تک کافی نقصان ہوا لیکن اس پر افسوس کرنے کی بجائے ہم نے پڑھائی کی رفتار تیز کر دی۔ عرشیہ کی ٹیوشن بند ہو چکی تھی میری آن لائن کلاس جب شروع ہوتی تو ہم دونوں بہنیں ایک ساتھ پڑھائی کیلئے بیٹھ جاتیں۔ موبائیل تو ایک ہی تھا کبھی کبھی دونوں میں نوک جھونک بھی ہوتی چونکہ میں نیٹ ریپیٹ کر رہی تھی اسلئے ہفتہ واری آن لائن ٹیسٹ میں عرشیہ کو میں موقع دیتی کہ وہ امتحان دے تاکہ اس کی  زیادہ مشق ہوسکے۔ والدین  ہماری یہ کیفیت دیکھ کر پریشان ہو جاتے تھے۔  حالات ایسے نہیں تھے کہ والد صاحب سے دوسرے موبائل کا مطالبہ کیا جاتا۔ ہمارے تعلیمی اخراجات کے لئے لاک ڈاؤن سے پانچ ماہ قبل ہی انہوں  نے ایک مدرسہ میں پڑھانا شروع کیا تاکہ  مزید آمدنی کی گنجائش نکلے اور ہماری ٹیوشن فیس ادا کی جا سکے لیکن لاک ڈاؤن کے دورانیہ میں مساجد مدارس سب بند تھے۔ ایسے حالات میںوالد کیلئے گھر کا خرچ چلانا مشکل تھا۔ ہم دونوں نے جتنی ممکن ہو سکتی تھی ساتھ مل کر محنت کی۔ الحمدللہ نتائج بھی ٹھیک رہے۔ میراایس آر ٹی گورنمنٹ کالج میں ایم بی بی ایس میں فری سیٹ پر داخلہ ہوگیا ۔ بہن کو اعظم کیمپس پونے میں بی ڈی ایس کی سیٹ ملی ہے، حالانکہ وہ ایم بی بی ایس میں داخلے کی متمنی ہے۔ اگر پرائیویٹ کالج میں  اس کا داخلہ ہو تو  فیس سب سے بڑا مسئلہ ہے لیکن مجھے یقین ہے کہ ان شاءاللہ کوئی نہ کوئی صورت نکل آئے گی اور اس کا بھی ایڈمیشن ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK