رمضان المبارک اور وقت کی پابندی

Updated: April 21, 2021, 1:56 PM IST | Agency | Shaikh Saeedha Ansari

خواتین ہمیشہ وقت کی کمی کی شکایت کرتی ہیں جو رمضان المبارک میں شدت اختیار کر لیتی ہے۔ عام دن ہو یا رمضان کا مہینے، وقت کی صحیح منصوبہ بندی ضروری ہے۔ اگر بنائے ہوئے شیڈول پر عمل کیا جائے تو کام یقیناً وقت سے پہلے انجام دیئے جاسکتے ہیں

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔تصویر :آئی این این

رمضان المبارک کا ہر پل ہر لمحہ وقت کی پابندی کا درس دیتا ہے۔ یہ ماہ مبارک اپنے ساتھ بے شمار نعمتیں لاتا ہے اُن میں سے ایک اہم نعمت ہے ’’وقت کی پابندی‘‘ تاکہ یہ ہماری زندگی کا شعار بن جائے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا ہے۔ اس کے باوجود بے ترتیبی آج کے معمولات کا ایک حصہ بن گئی اور آج کل کا رونا ہے کہ ’’وقت میں برکت نہیں ہے‘‘ یہ رونے کی گونج رمضان المبارک میں شدت اختیار کر لیتی ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ لاک ڈاؤن جس کی بدولت شوہر اور گھر کے دیگر افراد اور بچوں کی موجودگی سے گھر کے ماحول میں ایک ہلچل پیدا ہوگئی ہے۔ اس ماہ مبارک میں کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت اور عبادت کے ساتھ ساتھ سحری اور افطار کی تیاریاں بھی اپنے عروج پر ہوتے ہیں۔ کریں تو کیا کریں؟ جب سب کام ایک ساتھ جڑ جاتے ہیں تو اعصاب پر بوجھ سا رہتا ہے کون سا کام پہلے کرنا ہے کون سا بعد میں؟ زندگی کشمش کا شکار ہوجاتی ہے۔
 اس مسئلہ کا واحد حل ہے وقت کا شیڈول بنانا جو ہمارے اُمور کو وقت کی لڑی میں باندھ دے تاکہ وقت اور کام کا تال میل بنا رہے ترتیب ملے۔ طے شدہ اوقات میں اُن اُمور کی تکمیل ذہنی سکون کے ساتھ ساتھ خود اعتمادی فروغ پائے اور وقت کی پابندی نہ صرف رمضان میں بلکہ دیگر دنوں میں بھی آپ میں سرایت کر جائے۔
 خاتون خانہ گھر کے نظام کا مرکز ہوتی ہے۔ اگر مرکز وقت کے مرکز پر گھومتا ہے تو گھر کا سارا نظام وقت کے تابع ہوجاتا ہے۔ آپ کی کارکردگی اور مستعدی پر گھر منحصر ہوتا ہے۔ رمضان المبارک میں تین شیڈول بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں؛ (۱) وقت کا شیڈول (۲) اخراجات کا شیڈول اور سب سے اہم (۳) کچن کا شیڈول۔
وقت کا شیڈول
 یہ شیڈول تو رمضان المبارک کی جان ہے۔ دن بھر کے کاموں کو ترتیب دینا کے کون سا کام کتنے وقت میں انجام پانا ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جو رائیگاں نہیں جائے گی اور یہ کوشش کی جائے طے شدہ وقت میں ہی وہ کام انجام پائے۔ ماہ مبارک میں کثرت سے تلاوت اور عبادت کی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ میں مختلف انواع قسم کے پکوان بھی پکائے جاتے ہیں۔ ان دو دعوامل کو مدنظر رکھ کر شیڈول ترتیب دیں۔ ہماری نگاہ شیڈول پر پڑے نہ پڑے یہ ہم پر نگاہ رکھتا ہے اور ہمیں یہ احساس دلاتا ہے کہ ہم نے کہاں تک کامیابی حاصل کی اور کہاں تک کرنی ہے۔ یہ ہماری کارکردگی کی اصلاح کرتا ہے۔
کچن کا شیڈول
 آج کیا پکانا ہے یہ خواتین کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ رمضان المبارک میں یہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اپنے پکوانوں کا چارٹ بنائیں جو کم وقت میں تیار ہوجاتے ہیں۔ کسی دن زیادہ وقت میں تیار ہونے والی ڈش بنائیں تو تھوڑی بہت گڑبڑ ہوجائے گی۔ کبھی کبھی یہ گڑبڑ اچھی بھی لگتی ہے۔ کچن کی صاف صفائی کے لئے بھی وقت متعین کریں اور کوشش کی جائے مقررہ اوقات میں ہی کام انجام پائے۔ آپ کی یہ کوشش آپ کو وقت کے ڈور سے باندھ دے گی اور غیر ضروری کاموں میں بھٹکنے نہیں دے گی۔
کام بانٹیں
 شوہر کو اور بچوں کو کچن کے کاموں میں شامل کریں۔ پھل کانٹا، سبزی کاٹنا، دسترخوان لگانا یا پلیٹیں سجانا، شربت بنوانا.... کام کی تقسیم سے آپس میں اتحاد و اتفاق بڑھتا ہے۔
اخراجات کا شیڈول
 رمضان المبارک میں اخراجات کچھ زیادہ ہی ہوجاتے ہیں لیکن اس لاک ڈاؤن کی وجہ سے اس کی توقع کم ہے۔ ہر حال میں ہر صورت میں ایڈجسٹ کرنا اس لاک ڈاؤن کا روشن پہلو ہے۔ اس کے مدنظر ہفتہ واری شیڈول بنائیں اس ہفتے میں اتنا روپیہ خرچ کرنا ہے اگر کسی دن زیادہ خرچ بھی ہوگیا تو دوسرے دن ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے اور ایک اہم بات غیر توقع اخراجات کے لئے کچھ رقم متعین کریں کیونکہ نہ جانے کب کیا ہوجائے؟ یہ ایک بہترین فائدہ مند طرز عمل ہے جو ذہنی تناؤ کم کرتا ہے۔ اپنے اخراجات پر قابو پانا نظم و نسق کا مظاہرہ ایک اچھی عادت ہے۔
گھر والوں کے لئے بھی وقت نکالیں
 اپنے بہت اہمیت رکھتے ہیں اس لئے ان کے لئے وقت نکالئے۔ افطار کے بعد چائے پیتے وقت سب سے تھوڑی بہت بات چیت کیجئے۔ اس سے سبھی کو اچھا محسوس ہوگا اور آپ بھی پُرسکون محسوس کریں گی۔ اپنوں سے کی گئی باتیں سکون کا باعث ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK