صدیاں یاد کریں گی کہ ایک عید ایسی بھی گزری

Updated: May 18, 2020, 12:00 PM IST | Pro Sara Nawaz Momin

اس مرتبہ بھی عید کی خوشیاں منائیں نئے کپڑے نئے جوتے خریدیں اور بڑوں سے عیدی بھی لیں اور چھوٹوں کو عیدی بھی دیں، لیکن اس کے ساتھ ہی ہماری ذمہ داری یہ بھی ہے کہ اس خوشی کے موقع پر اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو نہ بھولیں اور حسب ِ توفیق انہیں بھی اپنی عید کی خوشیوں میں ضرور شریک کریں

Eid - Pic : INN
عید ۔ تصویر : آئی این این

کورونا وائرس کا قہر بڑھتا ہی جا رہاہے۔ ہر کوئی پریشان حال ہے۔ ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے۔ مزدور طبقے کی حالت تو رلا دینے والی ہے۔ ان کی حالت دیکھو تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ مسجدیں بند، تراویح سے محرومی، لوگوں کے اترے ہوئے چہرے، دکانوں اور ہوٹلوں پر تالے منہ چڑھا رہے ہیں۔ ملازمت پیشہ میں سے اکثریت کو آدھی تنخواہ مل رہی ہے، کئی لوگ مہینوں سے بے روزگار ہیں۔ کیا تاجر، کیا ملازمت پیشہ، کیا صنعتکار ہر کسی کے چہرے پر دکھ نظر آ رہا ہے۔ کب مالی حالات پھر سے بہتر ہوں گے اور کب زندگی کی گاڑی پھر سے اپنی رفتار پر تیزی سے بھاگے گی؟کوئی نہیں جانتا۔ ہر کسی کو لاک ڈاؤن ختم ہونے کا انتظار ہے۔ 
 ہر سال عید کے موقع پر ہرامیر وغریب کی کوشش رہتی ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق کم سے کم اِس دن تو بچوں سے لے کر بزرگوں تک نئے ملبوسات خریدے جائیں، چونکہ عید کے پیش نظر ہرقسم کے سازوسامان پر خصوصی رعایت بھی دی جاتی ہے، تو اِس لئے گھریلو ضرورت کی چیزیں بھی خریدی جاتی ہیں، خاص سجاوٹ ہوتی ہے۔ سفیدی کی جاتی ہے۔ رشتہ داروں، عزیز واقارب کے لئے تحفے خریدے جاتے ہیں، مٹھائیوں کے کئی کئی ڈبے آتے ہیں لیکن اِس مرتبہ عید کافی مختلف ہونے والی ہے۔ رمضان کا تیسرا عشرہ شروع ہوچکا ہے۔ ہر کسی کو عید کی فکر ہے کہ اس مرتبہ عید کیسی ہوگی۔ 
 ائمہ و علماء نے درخواست کی ہے کہ اس مرتبہ عید سادگی سے گزاری جائے۔ اسی بات پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ لہٰذا اس بار عید ’سادگی سے منائیں‘۔ میرے جملے پر غور فرمائیں میں یہ ہیں کہہ رہی کہ عید نہ منائیں بلکہ امسال ’عید سادگی سے منائیں‘۔ اگر آپ عید پر عزیز واقارب کی دعوتوں پر پر تکلف انتظام کر تے تھے تو اس بار نہ کریں اور وہ رقم کسی بچے کی فیس ادا کرنے میں صرف کریں یا کسی کو دوبارہ کاروبار شروع کرنے میں مدد کردیں۔ 
 اگر ۲۰۱۹ء تک ۳؍ یا ۴؍ قسم کی مٹھائیاں منگواتے تھے تو اس بار شیر خرمہ پر اکتفا کر لیں اور اس مٹھائی کے پیسے کسی ضرورت مند کو پہنچا دیں تا کہ اس کے گھر کم ازکم سالن روٹی ہی بن جائے۔ 
 عید الفطر کے پیش نظر محنت کش ، مزدور جہاں کہیں بھی تلاشِ معاش میں گئے ہوتے تھے، اپنے گھر لوٹتے ہیں تاکہ خوشی کے اِس خاص موقع کو اپنے اہل خانہ کے ساتھ انجوائے کیا جائے۔ وہ ساتھ ہی بچوں کے لئے کپڑے و کھلونے بھی لے آتے کیونکہ اِس دن پر سب سے زیادہ خوشی بچوں کو ہی ہوتی ہے اور اُنہیں عیدی کا بڑی بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔ لاک ڈاؤن نے صورتحال یکسر مسترد کر دی ہے، ملک میں اکثریتی آبادی کی عید کی خوشیاں اِس مرتبہ پھیکی پڑنے والی ہیں۔ وہ مزدور اور محنت کش طبقہ جو عید کے موقع پر ہزاروں روپوں کے علاوہ اچھے خاصے سازوسان سے بھرے تھیلوں سے گھر پہنچتے تھے، وہ خود دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان ہوچکے ہیں۔ اب انہیں بخیر و عافیت خود ہی گھر پہنچ جانے کی فکر ستا رہی ہے۔ 
 ہر سال عید کے موقع پر مرد و عورت، بچے بوڑھے سبھی ڈھیروں نئے کپڑے سلواتے تھے۔ اس مرتبہ بھی سلوائیں مگر کم۔ ہوسکتا ہے کہ اللہ نے آپ کو بے شمار دولت دی ہوگی اس کے باوجود لباس سادہ سلوائیں۔ اپنے سے کمتر لوگوں کا بھی خیال رکھیں، کہیں آپ کے مہنگے اور بھاری بھرکم کپڑے دیکھ کر اس کے دلوں کو ٹھیس نہ پہنچ جائے۔ اس لئے ہلکے رنگوں والے سادہ لباس سلایا جائے۔ اس مرتبہ ٹیلر بند ہے مگر ’گھریلو ٹیلرنگ‘ پھر سے رواج پا رہا ہے۔ چند غریب خواتین اپنا گھر چلانے کے لئے کپڑے سل رہی ہے۔ آپ ان سے اپنے کپڑا سلوا کر ایک طرح سے ان کی مدد کرسکتی ہے۔ 
 عید سے قبل آپ بڑے اور بچوں کے کپڑوں کے پیکٹس تیار کرلیں اور انہیں غریبوں تک پہنچا دیں۔ کوشش کریں کہ اپنے گھر کے قریب بھیڑ اکٹھا نہ کریں، فی الحال سوشل ڈیسٹینسگ کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔ اس لئے کوشش کیجئے کہ غریبوں کے گھر تک پہنچایا جائے۔ اس وقت جو صاحب ِ حیثیت تھے ان کے حالات بھی خراب ہیں۔ اس لئے بند مٹھی مدد کیجئے۔ سامنے والی کو شرمندگی کا احساس نہ ہونے دیں۔ لوگوں کے سامنے نمائش نہ کریں بلکہ خاموشی سے مدد کیجئے۔ 
 زندگی رہی تو ان شاء اللہ ۲۰۲۱ میں دیکھیں گے۔ اور یہ سب تو ہمارے پیارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ۱۴۰۰؍ سال پہلے ہی بتا دیا تھا کہ عید کیسے منائیں اور خدمت خلق کی اہمیت اور فضیلت۔ آپ کی جتنی زکوٰۃ نکلتی ہے اور جتنا فطرہ آپ دینے والے ہیں اگر آپ صاحب استطاعت ہیں تو اس سے زیادہ مال خرچ کریں۔ آپ غریبوں اور مسکینوں پر خرچ کریں اور بدلہ اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیں یقین جانیں کہ دنیا میں اس سے بہترین تجارت ہو ہی نہیں سکتی۔ اس بار ایسی عید منائیں کہ ہمارے جانے کے بعد بھی صدیاں یاد کریں کہ ایک عید ایسی بھی تھی

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK