والدین اکثر بچوں کی غلطیوں پر انہیں جسمانی سزا دیتے ہیں یعنی مارتے ہیں ، یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ بچے مار سے سدھرنے کے بجائے ضدی ہوجاتے ہیں ۔ بچوں کی تربیت کے دوران والدین کو صبر سے کام لینا چاہئے۔ نرمی سے سمجھائیں اور سزا دینا ضروری ہو تو ہلکی سزا دیں
EPAPER
Updated: August 15, 2023, 11:12 AM IST | Rizwana Rashid Ansari | Ambernath/Thane
والدین اکثر بچوں کی غلطیوں پر انہیں جسمانی سزا دیتے ہیں یعنی مارتے ہیں ، یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ بچے مار سے سدھرنے کے بجائے ضدی ہوجاتے ہیں ۔ بچوں کی تربیت کے دوران والدین کو صبر سے کام لینا چاہئے۔ نرمی سے سمجھائیں اور سزا دینا ضروری ہو تو ہلکی سزا دیں
بچوں کی درست نہج پر تربیت کرنا والدین کے لئے سب سے بڑا چیلنج ہے۔ والدین اکثر بچوں کی غلطیوں پر انہیں جسمانی سزا دیتے ہیں یعنی مارتے ہیں ، یہ ایک غلط طریقہ ہے۔ بچے مار سے سدھرنے کے بجائے ضدی ہوجاتے ہیں ۔ بچوں کی تربیت کے دوران والدین کو صبر سے کام لینا چاہئے۔
جسمانی سزا کیا ہے؟
اقوام متحدہ برائے اطفال کے حقوق کے پیش نظر ایسی کوئی سزا جس میں جسمانی طاقت کا استعمال کیا جاتا ہو جس کا مقصد درد یا تکلیف دینا ہو۔ مثلاً:
٭ ہاتھ سے مارنا
٭ لاٹھی، لکڑی، جھاڑو، جوتا، چمچہ یا اس سے ملتی جلتی اشیاء سے مارنا
٭ لات مارنا، جھنجھوڑنا یا اٹھا کر پھینکنا، چٹکا دینا
٭ بچے کو غیر آرام دہ حالت میں رہنے پر مجبور کرنا
بچوں پر اس قسم کی سزا کے اثرات
ز بار بار سزا ملنے پر بچہ ذہنی و جسمانی طور پر متاثر ہوتا ہے۔
ز سزا برداشت کرنے سے بچے کا رویہ باغیانہ ہو جاتا ہے۔
ز نظام ہضم میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور قوتِ برداشت کمزور پڑ جاتی ہے۔
ز بچہ پڑھائی لکھائی سے بیزار اور اچھے کاموں سے متنفر ہوجاتا ہے۔
ز سزا ملنے سے بڑی عمر کے بچے منشیات کے عادی ہو جاتے ہیں ۔
ز مسلسل سزا ملنے سے بچوں میں دوسروں کو اذیت دینے کے ارادے کو تقویت ملتی ہے۔
ز بار بار مار برداشت کرنے سے بچوں کے اندر بڑوں کا احترام ختم ہو جاتا ہے۔
ز مسلسل مار پڑنے سے وہ اس کے عادی ہو جاتے ہیں اور ان پر کوئی نصیحت اثر نہیں کرتی۔
ز بچے کا اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔ وہ احساسِ کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
ز سزا کا اثر بچے پر تاعمر رہتا ہے۔
سزا دینا درست طریقہ
نہیں ہے
حدیث ِ پاک کا مفہوم ہے کہ اللہ کے رسولؐ اللہ کبھی کسی بچے کو نہ مارتے نہ خادم کو اور نہ عورت کو البتہ جہاد کا حکم الگ ہے۔ نماز کے لئے بھی ۷؍ سال میں تلقین کرنا ہے اور ۱۰؍ سال میں سزا کا حکم یعنی ۷؍ سے ۱۰؍ سال کے وقت میں نماز کی نصیحت و تلقین کرنا ہے اور اس کی اہمیت بتانا ہے تاکہ سزا کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
ابن خلدون فرمایا کرتے تھے جب طلبہ اور نوکروں پر سختی کی جائے تو ان پر مغلوبیت اور گھٹن چھائی رہتی ہے، چستی اورپھرتی کم ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر ہائم گینوٹ نے اپنی مشہور کتاب ’’بیٹوین پیرنٹس اینڈ چائلڈ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’بدتمیزی اور سزا متضاد نہیں کہ ایک دوسرے کا خاتمہ کریں ۔ سزا، بدتمیزی کو نہیں روک سکتی بلکہ یہ راہ فرار تلاش کرنے میں ہنرمند ثابت ہوتی ہے۔ جب بچوں کو سزا دی جائے تو وہ فرمانبردار بننے کے بجائے محتاط ہو جاتے ہیں ۔‘‘
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر سزا نہیں دی جائے تو پھر کیا کرنا چاہئے؟ کس طرح سے بچوں کو سمجھایا جائے؟ اس بات کا خیال رکھنا ہوگا کہ جسمانی سزا بچوں کیلئے مضر اور بڑوں کے لئے تذلیل کا باعث بنتی ہے۔ بچوں کو انوکھی سزا دیں جس سے انہیں چوٹ بھی نہ آئے اور بری عادت بھی چھوٹ جائے۔ چند طریقے یہاں جانئے:
ز گھر میں ایک گلک رکھیں ۔ بچوں سے غلطی ہونے پر ان کی پاکٹ منی کے مطابق اس میں جرمانہ کے طور پر پیسے ڈلوائیں ۔ بعد میں بچوں کے ذریعے ہی وہ پیسے کسی ضرورتمند کو دیئے جائیں ۔
ز غلطیاں کرنے پر انوکھی سزا دیں ، انہیں گھر یا باہر کے کام کروائیں ، جیسے کہ صفائی کرنا، اشیاء کو ترتیب سے رکھنا، کپڑوں کو تہہ کرنا، سودا سلف لانا وغیرہ۔ ان کی عمر کی مناسبت سے کام کروائیں اور کام ہونے کے بعد انہیں شاباشی دیں ۔
ز غلطی ہونے پر سزا نہ دے کر کھیل کا دورانیہ کم کر دیں ۔ اس کے علاوہ سیر و تفریح کے لئے نہیں لے جائیں ۔ ان کا پسندیدہ کھلونا کچھ دیر کے لئے اپنے پاس رکھ لیں ۔ اس طرح وہ آپ کی بات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔
ز ناراضگی کا اظہار کریں ۔ تھوڑی دیر کے لئے ان سے بات نہ کریں ۔ چونکہ بچے کو ماں باپ سے ہر بات کہنے کی عادت ہوتی ہے تو اس طریقے سے وہ اپنی غلطی دہرانے سے باز رہیں گے۔
ز بچوں کے اچھے کاموں کی تعریف کریں ۔ انعام دیں اور حوصلہ افزاء باتیں کریں ۔ والدین کی حوصلہ افزائی پا کر بچے مزید بہتر کام انجام دینے کی کوشش کریں گے۔
ز بچوں کو بار بار روکنا ٹوکنا ٹھیک نہیں ہے۔ کبھی کبھی انہیں اپنی غلطی سے بھی سیکھنے کا موقع دیں ۔
ان طریقوں سے بچے میں مثبت اور خوشگوار تبدیلی رونما ہوگی۔ والدین بچوں کو کوئی بھی بات نرمی سے سمجھائیں کہ آپ انہیں بار بار اس لئے روکتے ہیں کہ آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچیں ۔ خیال رہے کہ نرمی سے کی گئی بات بچے جلد سمجھتے ہیں ۔