بڑھتی عمر کے بچے اور ماؤں کی ذمہ داریاں

Updated: September 19, 2022, 1:00 PM IST | Odhani Desk | Mumbai

جواں عمری میں اکثر بچے اپنے مسائل والدین سے شیئر نہیں کرتے، اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں یا تو ان کا مزاج ہی اس قسم کو ہوتا ہے یا پھر والدین اور خاص طور پر ماں کی توجہ کی کمی ہوتی ہے۔ ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اسی عمر میں بچے میں سب سے زیادہ جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں، لہٰذا ان پر خصوصی توجہ دیں

Understand the child like a friend and try to find a solution.Picture:INN
ایک دوست کی طرح بچے کی بات کو سمجھیں اور حل تلاش کرنے کی کوشش کریں ۔ تصویر:آئی این این

کسی بھی ماں کا سب سے بڑا امتحان بچوں کو سنبھالنا ہے، کیونکہ ہوتا کچھ یوں ہے کہ جواں عمری میں اکثر بچے اپنے مسائل والدین سے شیئر نہیں کرتے، اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں یا تو ان کا مزاج ہی اس قسم کو ہوتا ہے یا پھر والدین اور خاص طور پر ماں کی توجہ کی کمی ہوتی ہے۔ کیا مائیں اپنے جوان بچوں کی ٹھیک طور پر دیکھ بھال کررہی ہیں؟ لیکن بچوں کو اور خاص طور پر ٹین ایجرز کو ماؤں کی خصوصی توجہ کی ضرورت ہوتی ہے، ریسرچ سے یہ بات ثابت ہوئی کہ اسی عمر میں بچے میں سب سے زیادہ جسمانی، نفسیاتی اور ذہنی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں، بچے کی تمام باقی عمر پر بھی ان ۷؍ سے ۸؍ سالوں کا بے حد گہرا اثر پڑتا ہے۔ لہٰذا ماؤں کی ذمہ داری ہیں کہ وہ اپنے بڑھتی عمر پر خاص توجہ دیں۔
ماں کا کردار
 اس سلسلہ میں آپ اپنا کردار صرف اور صرف اسی صورت میں بہتر طور پر ادا کرسکتی ہیں جب آپ اپنے بچوں کو زیادہ وقت دیں، بے شک آپ ایک ہاؤس وائف ہیں جنہیں گھر کے دیگر کام بھی انجام دینے ہوتے ہیں یا اگر آپ ورکنگ وومن بھی ہیں تو بھی آپ کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ آپ کے بچوں کے بہتر مستقبل سے بڑھ کر آپ کے لئے کوئی دوسری چیز نہیں ہوسکتی۔ مختلف بچے مختلف موڈ کے ہوتے ہیں، اپنے بچوں پر ابتدا ہی سے خاص نظر رکھیں، انہیں زیادہ سے زیادہ سمجھنے کی کوشش کریں، ان کے بے حد قریب ہونے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنے بچوں سے پکی دوستی کرلیں ان سے ان کی پسند کے ہر موضوع پر بات کریں تاکہ آپ زیادہ سے زیادہ ان کے خیالات جان سکیں۔ کیا آپ کے بچے اچھے دوستوں سے محروم ہیں؟ ایسی صورتحال میں بھی یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ انہیں بہترین دوست مہیا کریں۔ اگر آپ کے بچے لاپروا ہیں تو انہیں ایسے بچوں کا ساتھ فراہم کریں جو ذمہ دار ہوں اور انہیں ذمہ داری کا احساس دلاسکیں لیکن اگر آپ کے بچے کھیل کود سے دور رہتے ہیں اور ہر وقت اسکول کے کام کی فکر میں مگن رہتے ہیں تو یہ بھی ان کے لئے، ان کی صحت کے لئے مضر ثابت ہوسکتا ہے۔ ایسے میں کوشش کریں کہ انہیں اپنی نگرانی میں باہر کسی پارک میں تفریح کے لئے لے جائیں یا پھر انہیں جسمانی اور نفسیاتی ورزش کے لئے مختلف آؤٹ ڈور اور ان ڈور گیمز سکھائیں۔
دوست بنیں
 بڑھتی عمر میں بچوں کو کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس عمر میں آپ ان سے دوستانہ رشتے استوار کیجئے تاکہ وہ اپنے سارے مسائل آپ کو بآسانی کہہ سکیں۔ بچے کے مسائل سن کر فوری ناراضگی ظاہر نہ کریں بلکہ ایک دوست کی طرح اس کی بات کو سمجھیں اور حل تلاش کرنے میں مدد کریں۔
زیادہ سختی ہرگز نہ کریں
 جیسا کہ ہم نے پہلے کہا کہ صرف ان پر نظر رکھیں اور اس بات کا اندازہ لگائیں کہ وہ کس حد تک ذمہ دار ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی عمر کے لحاظ سے ذمہ داری کا مظاہرہ خود سے ہی کریں۔ بے جا روک ٹوک اور سختی کرنا ان کے لئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ براہِ راست حکم نہ چلائیں۔ آپ کے بچے بھی عام بچوں کی طرح حساس ہیں، وہ اس بات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے والدین ان سے کیا چاہتے ہیں اور انہیں کسی کام کے لئے سختی سے کیوں حکم دے رہے ہیں جبکہ آپ ذرا سی ہوشیاری سے کام لے کر انہیں بغیر حکم دیئے اپنا مطلب پورا کرسکتی ہیں لیکن اس کے لئے آپ کا اپنے بچوں کا اچھا دوست ہونا بھی لازمی ہے تاکہ کھیل کے دوران ان کا ہوم ورک بھی یاد دلائیں، انہیں پڑھائی کی اہمیت کا اندازہ بھی کرواسکیں اس کے علاوہ اور بھی بہت سی کام کی باتیں بتا سکیں جو یقیناً اگر آپ براہِ راست حکم دے کو منوانا چاہیں گی تو آپ کو اس کے صد فیصد نتائج نہ مل سکیں گے۔
بچوں سے پیار کریں
 بے شک ہر ماں کی طرح آپ بھی اپنے بچوں سے بے حد پیار کرتی ہیں لیکن یاد رکھیں کہ پیار کرنا اور سر پر چڑھانا دو الگ معنی اور الگ نتائج رکھتا ہے۔ بچوں سے صحیح معنوں میں پیار وہی مائیں کرتی ہیں جو موقع محل دیکھ کر پیار کرتی ہیں اور اسی طرح ضرورت پڑنے پر انہیں ہلکی پھلکی ڈانٹ بھی پلاتی ہیں۔ مثلاً اگر بچے کے والد نے اسے کسی غلطی پر ڈانٹا ہے تو آپ کا فرض ہے کہ اسے اس کی غلطی کے بارے میں سمجھائیں نہ کہ اسے فوراً گلے لگا کر پیار کریں ایسا کرنے سے وہ یہ سمجھتا ہے کہ شاید ابو نے مجھے غلط ڈانٹا ہے کیونکہ امی تو مجھے پیار کررہی ہیں۔ کوشش کریں کہ بچوں کو اس خاص عمر میں شرمندہ ہونے کا موقع کم سے کم ملے کیونکہ اس طرح بچوں میں خود اعتمادی نہیں آسکتی، کسی بھی اچھے کام پر اس کا نتیجہ دیکھے بغیر فوراً اسے بیشتر اپنے بچے کو شاباشی دیں، اسے اس قسم کے اچھے کاموں پر انعام دیں تاکہ اسے اندازہ ہوکہ اس نے واقعی اچھا کام کیا ہے۔ البتہ غلطی ہونے پر سب کے سامنے ہرگز نہ ڈانٹیں بلکہ تنہائی میں اس کی اصلاح کیجئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK