بچوں کی اخلاقی تربیت میں والدین کا کِردار نہایت اہم

Updated: September 17, 2020, 8:07 AM IST | Dr Sharmeen Ansari

آج والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچّوں کے کردار کے سب سے پہلے معمار وہ ہیں ،جس طرح چاہیں بچّوں کا کردار بناسکتے ہیں

Parents
والدین اچھی عادات پر عمل پیرا ہوںتو بہت حد تک بچّوں کے کردار سنوارے جاسکتے ہیں۔

آج ہر والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچّہ بہت با اِخلاق  ،  باشعور  ، سمجھدار  ، محنتی  ،  پڑھائی میں ہوشیار اور مہذب ہو۔لیکن آج اگرہم معاشرے پر نظرثانی کریں تو ہمیں زیادہ تر بچّے اس صفت کے مخالف نظر آتے ہیں اور اگر ہم اس پر گہرائی سے غور کریں تو اس کی وجہ سوشل میڈیا اور ماحول تو ہے ہی لیکن اس کی ایک اہم وجہ والدین بذاتِ خود ہیں۔ بچّوں کی اخلاقی گراوٹ کی ایک بڑی وجہ والدین کی بچّوں سے بے توجّہی ہے ۔آج اگر والدین سے بچّوں کی بے راہ روی سے متعلق پوچھا جائے تو زیادہ تر والدین کا جواز ہوتا ہے کیا کریں ہمارا بچّہ ہماری با ت نہیں سنتا ۔آج والدین کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بچّوں کے کردار کے سب سے پہلے معمار والدین ہیں ،وہ جس طرح چاہیں بچّوں کا کردار بناسکتے ہیں کیونکہ آج تک جتنی بھی اہم شخصیات ہوگزری ہیں ان کے کردار بنانے میں سب سے زیادہ ان کے ماں باپ کا حصّہ تھا ۔اس آرٹیکل کے ذریعے کچھ ایسے گُر بتائے جائیں گے جس پر اگر والدین عمل پیرا ہوںتو بہت حد تک بچّوں کے کردار سنوارے جاسکتے ہیں۔ 
رول ماڈل بنیں  :اکثردیکھا گیا ہے کہ مہذّب والدین کے بچّے بااخلاق ہوتے ہیںکیونکہ بچّے وہ نہیں کرتے جو والدین کہتے ہیں بلکہ وہ کرتے ہیں جو والدین کرتے ہیں۔اگر والدین ایماندار  ،  مہذّب  ،   بااخلاق  اور  اپنے رشتے داروں کے ساتھ مخلص ہیں تو ان کے بچّے بھی اپنے والدین کی دیکھا دیکھی ایسی ہی صلاحیت اپناتے ہیں ۔اس لئے والدین کو چاہئے کہ جو صلاحیتیں وہ اپنے بچّوں میں چاہتے ہیں وہ خود اس طرح بن جائیں تاکہ بچّے اپنے والدین کی دیکھادیکھی ان کی بہترین عادتوں کو اپنی زندگی کا خاصہ بنالیں۔ 
فیصلہ لینے دیں  :بچّوں کو ہر بات پر روکنے ٹوکنے کے بجائے ان کے چھوٹے چھوٹے فیصلے انھیں خود لینے دیں اور اگر وہ کوئی غلط فیصلہ کرتے ہیں تو اس کے اثرات سے انھیں باخبر کریئے ۔انھیں اپنے فیصلے کی ذمّہ دای خود لینا سکھائیں تاکہ وہ اپنی کوتاہیوں کا کسی اور کو ذمّہ دار نہ ٹھہرائیں ۔انھیں ہمیشہ ان کی غلطیوں سے ہار نہ مانتے ہوئے آگے بڑھنا سکھائیں ۔انھیں بتائیں کہ ’’  ہر ناکامی کامیابی کا زینہ ہوتی ہے۔‘‘  
  مثبت سوچنا سکھائیں  :مثبت سوچ بذاتِ خود بہت سارے مسائل کا حل ہوتی ہے ۔اگر آج ہم اپنے بچّوں میں مثبت سوچ کی عادت ڈال دیتے ہیں تو سمجھئے زندگی جینے کا ہم نے انھیں ہُنر سکھایا۔بچّوں کو ہر معاملے میں مثبت سوچنا سکھائیں ،اس کے لئے انھیں مثبت کہانیاں سنائیں ،ان سے مثبت باتیں شیئر کریں اور انھیں بتائیں کہ اگر ان کی سوچ مثبت رہے گی تو وہ زندگی کے ہر مسائل کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکتے ہیں ۔ 
تہذیب سکھایئے  :اگر والدین واقعی چاہتے ہیں کہ ان کے بچّے بااخلاق اور مہذّب بنیں تو والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچّوں کو تہذیب وتمیز سکھائیں ۔اس کے لئے ضروری ہے کہ والدین خود بچّوں کے ساتھ مہذّب طریقے سے پیش آئیں ۔ان سے بہتر انداز میں بات چیت کریں ۔بچّوں کی زبان پر خاص طور سے دھیان دیں کہ وہ لوگوں سے ،  اپنے دوستوں سے کس طرح کی زبان استعمال کرتا ہے۔اگر بچّہ غلط زبان استعمال کرتا ہے تو اسے پیار سے قصّے کہانیوں کے ذریعے بہتر زبان بولنے کی طرف راغب کریں اور اس کی زبان میں سُدھار آتا ہے تو اسے سراہیں  اور انعام سے نوازیں ۔اس سے بچّوں کو بہت حد تک مہذّب بنایا جاسکتا ہے۔
محنت و مشقّت کرنا سِکھائیں  :آج اگر ہم معاشرے پر نظرثانی کریں تو ہمارے زیادہ تر نوجوان بچّے بِنا محنت ومشقّت کے جلد ازجلد دولت کمانے کے خواہاں نظرآتے ہیں اوراس طرح وہ بڑی بڑی مصیبتوں میں گرفتار نظر آتے ہیں ۔آج ضرورت ہے کہ ہم اپنے بچّوں کو شروع سے ہی محنت ومشقّت کا عادی بنائیں ۔ان کی تمام ضد فوراً پوری کرنے کے بجائے کوشش کریں کہ وہ اس کی قیمت چکائیں ،بھلے پیسے سے نہیں کسی اور طریقے سے ،  مثلاً اگرتم میرا یہ کام کردوگے تو میں تمہیں کھلونا دلادوں گی ۔اس طرح نہ صرف بچّوں کو چیزوں کی قدر ہوگی بلکہ وہ محنت ومشقّت کے عادی بھی بنیں گے اور سمجھیں گے کہ بِنا محنت ومشقّت کوئی چیز حاصل نہیں ہوتی۔
  ایمانداری سِکھائیں  :بچّوں میں شروع سے ہی ایمانداری کا جذبہ پروان چڑھائیے اور انھیں بتایئے کہ وہ اﷲ پر بھروسہ رکھیں ۔ان کی قسمت میں جتنا لکھا ہے انھیں اتنا ہی ملنے والا ہے۔ انھیں اپنی قسمت کا لکھا حاصل کرنے کیلئے ایمانداری کا جذبہ ہی اپنانا چاہئے ۔ 
 ذمّہ دار بنائیں  :والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچّوں میں ذمّہ داری کا احساس جگائیں ۔ان کے چھوٹے چھوٹے کام انھیں خود کرنے دیں ،  مثلاً  اپنے کھلونے اٹھانا  ،  اپنی پلیٹ خود اٹھانا  ،  اپنے ہاتھ سے کھانا کھانا  ،  اپنا روم صاف کرنا  ،  اپنے کپڑے تہہ کرنا  ،  اپنے بھائی بہنوں کو سنبھالنا  وغیرہ ۔اس طرح کرنے سے بچّوں میں زندگی بھر اپنی ذمّہ داریوں کو اٹھانے کا احساس رہتا ہے۔
مددکا جذبہ پروان چڑھایئے  :والدین کو چاہئے کہ وہ اپنے بچّوں میں رحم اور مددکرنے کے جذبے کو پروان چڑھائیں اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے صدقات  ،  خیرات  اور دوسروں کی مدد اپنے بچّوں کے ہاتھوں سے کروائیں ۔انھیں دوسروں کے درد کو محسوس کرنا سکھائیں اور دوسروں کی مدد کے بعد جو ذہنی تسکین اور سکون ملتا ہے اس خوشی کو محسوس کرنا بتائیں ۔ 
   اصولوں کاپابند بنائیں  : والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچّوں کی زندگی کا اصول بنائیں بلکہ اپنی زندگی بھی اصولوں کے مطابق گزاریں اور انھیں چاہئے کہ وہ ان اصولوں پر نہ صرف خود سختی سے عمل کریں بلکہ اپنے بچّوں کو بھی ان اصولوں پر سختی سے عمل پیرا ہونے کی تاکید کریں ۔  مثلاً  صبح سویرے اٹھنا  ،  نماز کی پابندی  ،  جسمانی ورزش  ،  وقت پر پڑھائی  ،  اسکرین ٹائم کے اوقات وغیرہ۔ کیونکہ زندگی میں کامیابی کے لئے اصول وضوابط کی پابندی بہت ضروری ہوتی ہے۔
 خوداعتمادی سکھایئے  :اپنے بچّوں میں خود اعتمادی کا جذبہ پروان چڑھانے کیلئے انھیں کردارساز کہانیاں سنایئے  ،  انھیں زندگی کے چھوٹے چھوٹے چیلنج لینے دیں۔ان کا ہر قدم پر حوصلہ بڑھائیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK