یہ حقیقی کہانی ہے انکت کاتکر کی جس نے ڈیجیٹل کریئٹر کشل لوڈھا سےبات چیت کی اورمطلوبہ معلومات پاکر اپنے شوق کوہنر ومہارت میں بدل کر انہیں کی ٹیم کا حصہ بن گیا۔
EPAPER
Updated: January 21, 2026, 5:52 PM IST | Mumbai
یہ حقیقی کہانی ہے انکت کاتکر کی جس نے ڈیجیٹل کریئٹر کشل لوڈھا سےبات چیت کی اورمطلوبہ معلومات پاکر اپنے شوق کوہنر ومہارت میں بدل کر انہیں کی ٹیم کا حصہ بن گیا۔
کئی بار زندگی میں بڑا موڑ کسی منصوبے سے نہیں بلکہ صحیح وقت پر پوچھے گئے ایک سوال سے بھی آتا ہے۔ ممبئی میں ایسے ہی ایک لمحے نے انکیت کاتکر نامی ایک سیکوریٹی گارڈ کی زندگی بدل دی۔ ہوا یوں کہ سیکوریٹی گارڈ انکت نے اپنے اندر کچھ نیا جاننے کے تجسس کو دبانے کے بجائے اسے ظاہر کیا۔ اس نے سوال پوچھا ، جس نے اس کی زندگی کی سمت بدل دی۔ رپورٹ کے مطابق یہ تب کی بات ہے جب انکت کاتکر ممبئی کے ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں سیکوریٹی گارڈ کی نوکری کر رہا تھا۔ ایک دن پارکنگ میں اس کی ملاقات ڈیجیٹل کریئیٹر کُشل لوڈھا سے ہوئی۔ انکیت نے بلا جھجھک لوڈھا کو متوجہ کیا اور ان سے کہا کہ’’سر مجھے ویڈیو بنانے کا بہت شوق ہے، کیا میں آپ سے مل سکتا ہوں؟‘‘اس طرح انکت نے کشل لوڈھاسے بات چیت شروع کی ۔ اس نے کشل لوڈھا سے یہ بھی پوچھا کہ ’’کیا آپ کبھی تھوڑا وقت نکال کر اس بارے میںمیری رہنمائی کر سکتے ہیں؟‘‘
یہ بھی پڑھئے: ایکسٹرن شپ بمقابلہ انٹرن شپ :دونوں میں فرق کیا ہے؟
اس گفتگو کے بعد دونوں اگلے اتوار کو ملے۔ کُشل لوڈھا نے بعد میں بتایا کہ انکت کی آنکھوں میں سیکھنے کی بھوک صاف نظر آ رہی تھی۔ اسی لگن کو دیکھ کر لوڈھا نے ایک بڑا فیصلہ لیا اور انکیت کو اپنے تمام پوڈکاسٹ شوٹس کرنے کا موقع دے دیا۔ اس موقع کے بعد انکیت نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انہوں نے خود سے ویڈیو ریکارڈنگ سیکھنی شروع کی۔ مائیکروفون کو آڈیو مکسَر سے کیسے جوڑنا ہے، ساؤنڈ کوالیٹی کیسے برقرار رکھنی ہے اور شوٹ کے دوران کن باتوں کا خیال رکھنا ہے یہ سب انہوں نے محنت اور پریکٹس سے سیکھا۔آج انکیت کاتکر، کُشل لوڑھا کے تمام پوڈکاسٹ شوٹس کی پروڈکشن ٹیم کی قیادت کرتے ہیں۔ ایسا کوئی شوٹ نہیں ہوتا جس میں وہ موجود نہ ہوں۔ وہ نہ صرف تکنیکی کام سنبھالتے ہیں بلکہ مہمانوں سے بھی پورے اعتماد کے ساتھ گفتگو کرتے ہیں۔ ان کی پہچان اب صرف ایک سیکیورٹی گارڈ تک محدود نہیں رہی۔
کُشل لوڈھا نے سوشل میڈیا پر یہ پوری جَرنِی شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ دو سال پہلے جو شخص ان کی بلڈنگ کا سیکوریٹی گارڈ تھا، آج وہی ان کی کونٹینٹ ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ یہ پوسٹ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کے لیے ایک تحریک بن گئی۔ کُشل لوڈھا کا ماننا ہے کہ زندگی میں کامیابی کے لئے صرف مہنگی ڈگری یا خاص سرٹیفکیٹ ہمیشہ ضروری نہیں ہوتے۔ اگر انسان میں سیکھنے کی خواہش اور مثبت سوچ ہو تو راستے خود بنتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے مطابق جس دن سیکھنے کی چاہ ختم ہو جاتی ہے، اسی دن انسان کی ترقی بھی رک جاتی ہے۔