پڑھائی کیلئے ’کوانٹیٹی‘نہیں ’کوالیٹی‘ پر دھیان دینا چاہئے

Updated: September 14, 2022, 11:57 AM IST | Agency | Bengaluru

جے ای ای ایڈوانس میں قومی سطح پر پہلا مقام حاصل کرنے والے طالب علم آرکے ششیر کی کامیابی کا رازیہ ہے

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

کرناٹک کے ششیر آرکے نامی ذہین طالب علم  نے جے ای ای ایڈوانسڈ ۲۰۲۲ء میںقومی سطح پر پہلا مقام حاصل کیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ جب اس ریاست سے کوئی طالب علم اس داخلہ امتحان میں ٹاپر بنا ہے۔ششیر نے ۳۶۰؍ نمبرات میں سے ۳۱۴؍ نمبرات حاصل کئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق بنگلور شہر کے   نارائن ای ٹیکنو اسکول کے طالب علم ششیرآرکے نے اپنی اس حصولیابی سے ایک نئی تاریخ رقم کردی ہے۔ اپنی کامیابی کا راز بتاتے ہوئے اس نے کہا کہ ’’ جیسا کہ آپ سبھی جانتے ہیں کہ کسی بھی امتحان میں  کامیابی  کے لئےپڑھائی  بہت اہم ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ آپ روزانہ ۱۲؍ سے ۱۴؍ گھنٹوں تک بلاتکان بیٹھ کر پڑھتے رہیں۔ میرے خیال میں جے ای ای مین ہو یا ایڈوانسڈ امتحان اس کے لئے آپ کو کوانٹیٹی پر نہیں کوالیٹی پر دھیان دینا چاہئے،  پڑھائی کے گھنٹے نہیں گننے چاہئے بلکہ جتنے بھی گھنٹے بیٹھیں پوری توجہ سے کارآمد مطالعہ پر توجہ دیں۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ اس ہونہار طالب علم نے صرف جے ای ای ایڈوانسڈ میں ہی کامیابی کے جھنڈے نہیں گاڑے بلکہ اس نے کے سی ای ٹی ۲۰۲۲ء کی بھی بھرپور تیاری کی اور اس امتحان میں فارمیسی میں پہلا رینک اور انجینئرنگ امتحان میں چوتھا رینک حاصل کیا ہے۔ ششیر نے کے سی ای ٹی امتحان میں کل ۱۸۰؍  نمبرات میں سے ۱۷۸؍ نمبرات حاصل کئے ہیں۔ جبکہ بارہویں سی بی ایس ای امتحان میں ۹۷ء۹؍ فیصد سے کامیابی حاصل کی تھی۔  اپنی پڑھائی اور جے ای ای ایڈوانسڈ کی تیاری کے متعلق تفصیلی معلومات دیتے ہوئے ششیر نے کہا کہ میری سوچ یہ ہے کہ کسی بھی طالبعلم کو کم ازکم ۸؍گھنٹے نیند لینی چاہئے۔کیونکہ جب آپ تازہ دم اور مطمئن رہیں گے تو توجہ کے ساتھ پڑھائی کرسکیں گے، میں  صبح ۳۰:۶؍ بجے سے شام ۸؍  بجے  تک پڑھائی کرتا تھا۔ پڑھائی کے دوران  بریک بھی لیتا ، اس دوران  بیڈمنٹن کھیلتا اور روبیک کیوب حل کیا کرتا تھا۔ جے ای ای ایڈوانسڈ میں پہلا مقام حاصل کرنے کی حکمت عملی کے متعلق سوال پر اس نے کہا کہ ’’ہر دن پڑھائی کرنا ہی میری کامیابی کا راز ہے۔ میرے والدین نے اس میں میری مدد کی ہے، ان سے مجھے بہت ترغیب و تحریک ملی ہے۔‘‘ ششیر نے یہ بھی کہا کہ داخلہ امتحانات کے لئے مقابلہ آرائی بہت بڑھ گئی ہے، اب محض سیلف اسٹڈی سےآپ ٹاپ اسکورر نہیں بن سکتے،  کوچنگ کلاسیزکا رخ کرنا ہی پڑتا ہے، ایسی سخت مقابلہ آرائی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں کہنا چاہوں گا کہ امیدوار کو ذہنی و نفسیاتی طور پرمضبوط ہونا چاہئے۔ششیر کے والد ایک میڈیا ہاؤس میں ملازمت کرتے ہیں ، اسکی والدہ خاتون خانہ ہیں۔ ششیر آئی آئی ٹی بامبے سے کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کرنا چاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK