Updated: January 07, 2026, 4:36 PM IST
|
Agency
| New Delhi
سنیل چھیتری، گرپریت سنگھ سندھو اور سندیش جھنگن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئےکہا کہ اے آئی ایف ایف اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی پوزیشن میں نہیں ہےاسلئے فیفا کو کوئی اقدام کرنا چاہئے۔
سنیل چھیتری اور دیگر کھلاڑیوں نےہندوستان میںفٹ بال کا مستقبل محفوظ بنانے کی اپیل کی ہے۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی قومی فٹ بال ٹیم کے سینئر کھلاڑیوں نےانڈین سپر لیگ (آئی ایس ایل)کے معاملے پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔سنیل چھیتری سمیت کئی سینئر کھلاڑیوں ، اس کے علاوہ آئی ایس ایل میں کھیلنے والے کئی غیر ملکی کھلاڑیوں نے بھی عالمی گورننگ باڈی فیفا سے اپیل کی ہے کہ وہ تعطل کاشکار ہندوستان کی واحد فٹ بال لیگ کے معاملے میں مداخلت کرے ۔ واضح رہےکہ آئی ایس ایل کا۲۶-۲۰۲۵ء سیزن ابھی شروع ہونا ہے ۔ قومی ٹیم کے سینئر کھلاڑی سنیل چھتری، گرپریت سنگھ سندھو اور سندیش جھنگن نے طویل غیر یقینی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ ہندوستانی فٹ بال مستقل طور پرتعطل کاشکار ہے۔
کھلاڑیوں نے کہا ہے کہ آل انڈیا فٹ بال فیڈریشن (اے آئی ایف ایف) اب اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور فیفا سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان میں فٹ بال کےمستقبل کے تحفظ کیلئے اقدام کرے ۔یہ جنوری ہے اور ہمیں آئی ایس ایل کے میچوں میں آپ کی اسکرینوں پر ہونا چاہیے تھا ۔ گرپریت نے سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے ایک مشترکہ ویڈیو بیان میں یہ بات کہی۔سندیش جھنگن اس بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا ’’ اس کے بجائے، خوف اور بے بسی کی وجہ سے، ہم وہ کہنے پر مجبور ہیں جو ہم سب جانتے ہیں۔‘‘ دیگر کھلاڑیوں نے کہا’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم ایک التجا کرنے آئے ہیں۔ ہندوستانی فٹ بال انتظامیہ اب اپنی ذمہ داریاں نبھانے کے قابل نہیں ہے۔ ہم اب مستقل جمود کے دہانے پر ہیں۔ جو بچایا جا سکتا ہے اسے بچانے کی یہ آخری کوشش ہے۔ اس لیے ہم فیفا سے درخواست کر رہے ہیں کہ وہ قدم اٹھائے اور ہندوستانی فٹ بال کو بچانے کیلئے جو بھی ضروری ہو، وہ کرے۔‘‘ چھیتری نے کہا’’کھلاڑی، عملہ، مالکان اور شائقین سبھی وضاحت، سیکوریٹی اور سب سے بڑھ کر بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔‘‘
آئی ایس ایل کا سیزن ابھی شروع کیوں نہیں ہوا؟
لیگ کے سابق آرگنائزر، فٹ بال اسپورٹس ڈیولپمنٹ لمیٹڈ(ایف ایس ڈی ایل) اوراے آئی ایف ایف کے درمیان ماسٹر رائٹس ایگریمنٹ(ایم آر اے) کی تجدید سے متعلق غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے آئی ایس ایل ۲۶-۲۰۲۵ء سیزن کو جولائی میں روک دیا گیا تھا۔ اس معاہدے کی میعاد۸؍ دسمبر کو ختم ہوگئی جس کے نتیجے میں معاہدہ تعطل کا شکار ہوگیا جس کیلئے سپریم کورٹ کی مداخلت کی ضرورت تھی۔ آئی ایس ایل کے تجارتی حقوق کے لیے ایک ٹینڈر سپریم کورٹ کی مقرر کردہ کمیٹی کی نگرانی میں جاری کیا گیا تھا، لیکن کوئی بولی لگانے والا سامنے نہیں آیا۔ جمعرات کو آئی ایس ایل کے ۱۴؍ کلبوں میں سے۱۳؍ نے اے آئی ایف ایف کو بتایا کہ اگر ان سے شرکت کی کوئی فیس نہیں لی جاتی اور اے آئی ایف ایف ٹورنامنٹ کے انعقاد کی ذمہ داری لے تو وہ تاخیر سے ہونے والے سیزن میں شرکت کیلئے تیار ہیں۔