سوشل میڈیا.... کلک کیجئے مگر دھیان سے

Updated: May 18, 2022, 11:44 AM IST | Odhani Desk

موجودہ دور تکنالوجی کا ہے۔ آج کل ہر کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فعال ہے مگر اس کا استعمال محتاط انداز میں کرنا بہتر ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم میں چند باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ ان سائٹس پر معاشرے کے غیر سماجی عناصر بھی سرگرم رہتے ہیں جو آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں

Social media is not real life. There can be a lot of things that don`t look like that.Picture:INN
سوشل میڈیا حقیقی زندگی نہیں ہے وہاں بہت کچھ ایسا ہو سکتا ہے جو ویسا نہیں ہوتا جیسا نظر آتا ہے۔ تصویر: آئی این این

موجودہ دور میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جن کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہ ہوں، روز ہی لوگ چیٹنگ، پوسٹس، لائیکس، ٹویٹس، شیئر، ری ٹویٹس سمیت کئی مواصلاتی کلک کرتے ہیں جو بہت اہمیت کا حامل ہیں، جس سے قبل کچھ باتیں خاص طور پر خواتین جاننا ضروری ہے:
محتاط رہیں
 سب سے پہلی یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ جس طرح آپ سوشل میڈیا پلیٹ فارم یوز کر رہے ہیں اسی طرح دنیا میں کروڑوں لوگ بھی اسے استعمال کرتے ہیں جن میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو بری نیت کے ساتھ نیٹ کی طرف آتے ہیں، آپ کو ان کا شکار ہرگز نہیں ہونا چاہئے۔ ان کے خاص مقاصد ہو سکتے ہیں جن میں سب سے خطرناک نفرت پھیلانا ہے۔ اس لئے آپ کو خیال رکھنے کی ضرورت ہے کہ جو شخص آپ کی فرینڈ لسٹ میں ہے یا پھر نہیں ہے ضروری نہیں وہ ویسا ہی ہو جو اس کا پروفائل بتا رہا ہے۔ وہ پورا اکاؤنٹ فیک ہو سکتا ہے، اس لئے محتاط رہیں۔
نجی معلومات
 سوشل میڈیا حقیقی زندگی نہیں ہے وہاں بہت کچھ ایسا ہو سکتا ہے جو ویسا نہیں جیسا نظر آ رہا ہے۔ ہر لمحے کی ویڈیو بنانے اور پھر ان کو سوشل میڈیا پر ڈالنے کی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔ سوشل میڈیا پر موجود تمام لوگ آپ کے اپنے نہیں ہیں جن کیساتھ آپ اپنے ذاتی معاملات بھی شیئر کر سکتے ہیں، وہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو آپ کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
جعلی اکاؤنٹ
 سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کی بھرمار ہے، اگر کسی اکاؤنٹ سے نامناسب متن شیئر کیا جا رہا ہے تو اسی پلیٹ فارم پر اسے رپورٹ کرنے کا آپشن بھی ہوتا ہے، اسے رپورٹ کریں، اس پر اس پلیٹ فارم کی انتظامیہ اس اکاؤنٹ کا جائزہ لیتی ہے اور فیک ثابت ہونے پر بند کر دیتی ہے۔
کلک کریں مگر....
 آج کل کسی کو کچھ بتانا ہو تو اس کا پورا لنک کاپی کرکے بھیج دیا جاتا ہے، جس پر کلک کیا جائے تو آپ براہ راست اس ویب سائٹ، پوسٹ وغیرہ پر چلے جاتے ہیں اور چونکہ کچھ سائٹس کوکیز کا ریکارڈ رکھتی ہیں اس لئے آپ کا اکاؤنٹ نیم وہاں چلا جاتا ہے جس کو بعد میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کچھ لنکس میں وائرس ہوتے ہیں، جیسے آپ ان پر کلک کرتے ہیں وہ آپ کے فون، کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ میں گھس جاتے ہیں جو فائلوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ جبکہ ہیکر بھی ایسے کلکس سے آپ کو پریشان کرسکتے ہیں۔
اکاؤنٹ سیٹنگ
 اکثر خواتین سوشل میڈیا پر اکاؤنٹ بنا لیتی ہیں لیکن سیٹنگ کے بارے میں پوری معلوم نہیں رکھتیں حالانکہ ان کو اپنی شخصیت اور کام کے حوالے سے سیٹ کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی میں آپشن ہوتا ہے کہ کون آپ کی پروفائل تک رسائی رکھ سکتا ہے، کون کمنٹ کر سکتا ہے اور پوسٹ کس کے پاس جائے گی؟ اگر آپ نے بھی ایسا نہیں کیا تو آج ہی سیٹنگ میں جائیں۔
مبالغہ آرائی سے پرہیز
 اکثر پوسٹس مبالغے پر مشتمل ہوتی ہیں جس سے لوگوں کے ذہن میں یہ خیال بیٹھ سکتا ہے کہ آپ کسی خاص مقصد کے تحت ایسا کر رہے ہیں، اس سے آپ کے بارے میں ان کی رائے تبدیل ہو سکتی ہے۔ لہٰذا پوسٹ کرتے وقت محتاط رہیں۔
دوسروں کے جذبات کا خیال رکھیں
 اگر کسی کی پوسٹ میں گرامر یا کوئی اور غلطی ہے تو اس کا ذکر عام کمنٹس میں کرکے کم علمی کا احساس دلانے کے بجائے پرائیویٹ میسیج میں جا کے بتائیں تو بہتر ہو گا، تاکہ اسے لگے کہ آپ اس کی کم علمی کا مذاق نہیں اڑا رہی ہیں۔
بہت زیادہ شیئرنگ نہ کریں
 آج کل نو عمر لڑکیاں دن کا بیشتر حصہ موبائل فون پر گزارتی ہیں اور کئی کئی بار تصاویر یا پوسٹ سوشل سائٹس پر اپلوڈ کرتی ہیں انہیں سمجھانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح آپ غیر سماجی عناصر کو اپنے بارے میں آگاہ کرتی ہیں جس سے آپ خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔
مزاح کا پہلو
 کوئی پوسٹ کرنی ہو یا پھر کسی پوسٹ پر کمنٹ کرنا ہو تو، ہلکا پھلکا انداز اپنائیں جس میں مزاح کا پہلو ہو، اس سے لوگ لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تاہم، انتہائی سنجیدہ نوعیت کی پوسٹس جیسے بیماری یا وفات وغیرہ پر سنجیدہ کمنٹس ہی ہونے چاہئیں تاکہ کسی کے جذبات مجروح نہ ہوں۔
دوسروں کی تصویریں
 رشتہ داروں یا دوستوں کی تصویریں ان کی اجازت کے بغیر ہرگز پوسٹ نہ کریں۔ اگر آپ کی سہیلی کی سالگرہ ہے یا آ رہی ہے اور آپ اس کو نیک خواہشات پیش کرنا چاہتی ہیں تو کیک یا کسی اور چیز کی تصویر کر بھیج کر سکتی ہیں، اگر آپ سمجھتی ہیں کہ سہیلی کی تصویر بھی شامل کی جائے تو پھر اس سے قبل ان سے پوچھ لیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK