Inquilab Logo Happiest Places to Work

کم سرمائے میں شروع کئے جانے والے مستحکم و منافع بخش کاروبار

Updated: July 23, 2026, 5:16 PM IST | Domantas Pucias | Mumbai

بہت سے کاروبار ہمارے آس پاس بھی لوگ کررہے ہوتے ہیں، ان کا جائزہ لیںاورسمجھنے کی کوشش کریں کہ انہوں نے یہ کاروبارکیسے شروع کیا اورکیسےاسے ترقی دی۔

There are many online businesses that cost less to start. (File photo)
کئی آن لائن کاروبارہیں جنہیں شروع کرنے میںخرچ کم آتا ہے۔(فائل فوٹو)

گزشتہ ہفتے اس سیریز کی دوسری قسط میں ڈراپ شپنگ بزنس ، پیپر بیگ مینوفیکچرنگ اورپرنٹنگ اور کسٹمائزڈ مرچنڈائز  کی معلوما ت فراہم کی گئی تھی ۔ سیریز کی تیسری اورآخری قسط میںمزید کچھ کاروباروںکی معلومات فراہم کی جارہی ہے جو نوجوانوں کیلئے بہتر متبادل ثابت ہوسکتے ہیں۔

ا سٹیشنری اور دفتری سامان کی دکان

اسٹیشنری اور دفتری سامان کی دکان ہندوستان میںایک چھوٹا اورمستحکم کاروبار سمجھا جاتا ہے ۔ اسکولوں، کالجوں، دفاتر اور مقامی کاروباریوں کو مختلف سامان ولوازمات کی سال بھر ضرورت ہوتی ہے۔اسٹور سائز اور ابتدائی سامان کی فہرست(انوینٹری) کے لحاظ سےیہ کاروبار عام طور پر۵۰؍ ہزار سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں شروع کیا جا سکتا ہے ۔ عام مصنوعات میں نوٹ بک، قلم، پرنٹر کاغذ، فائلیں، آرٹ کےلوازمات کی فراہمی اور بنیادی دفتری استعمال کی اشیاء شامل ہیں ۔ اسکولوں، کوچنگ سینٹرز اور تجارتی علاقوں کے قریب واقع اسٹورز پر، خاص طور پر تعلیمی سال شروع ہونے کے بعد مسلسل رَش رہتا ہے۔ اس کاروبا رمیں ترقی کا انحصار انوینٹری کی منصوبہ بندی اور  گاہکوںکے دوبارہ آنے پر ہے۔اس میں وہ دکاندار جوجلدی فروخت ہونے والی اشیاء کا ذخیرہ رکھتے ہیں اور دفاتر اور اداروں  کوبڑے اسٹاک کی پیشکش کرتے ہیں وہ بہتر ماہانہ آمدنی یقینی بنا سکتے ہیں۔ قریبی ٹیوشن مراکز اور چھوٹے دفاتر میں سپلائی سے زیادہ آرڈرمل سکتے ہیں ۔ ا سٹیشنری اسٹورز میںاگرہر طرح کے ضروری سامان کی دستیابی  ہو اوراسکولوں اور اداروں سے رابطہ ہو،سپلائی  میں سہولت ہوتو یہ کم خرچ میںیہ کافی منافع بخش کاروبار ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: رانچی آئی ٹی آئی کے۱۷؍سالہ طالب علم نے نابینا افرادکیلئے صرف ۷۰۰؍روپے میں اسمارٹ چشمہ بنایا

 آن لائن آرڈرنگ کے ساتھ گروسری اسٹور

آن لائن آرڈرنگ کے ساتھ گروسری(کرانہ) کاکاروبار بھی چھوٹے کا بزنس کا اچھا متبادل ہے کیونکہ روزمرہ کی ضروریات کی چیزوںکی مسلسل مانگ رہتی  ہے ۔ اسٹور کے سائز اور ابتدائی انوینٹری کے لحاظ سے یہ کاروبار عام طور پر ایک سے ۳؍ لاکھ تک سے شروع ہوتا ہے۔ روایتی گروسری اسٹورز پر پہلے سے ہی مضبوط مقامی اعتماد ہوتا ہے اور وہاٹس ایپ یا ایک سادہ ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن آرڈر شامل کرنے سے دکان مالکان ان صارفین کو سروس فراہم کرتے ہیں جو ہوم ڈیلیوری کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ ماڈل خاص طور پر شہری اور نیم شہری علاقوں میں بہتر کام کرتا ہے جہاں گاہکوں کو سہولت دئیے جانے پر ان میںخریداری کا رجحان بڑھتا ہے ۔ وہ اسٹورز جو ایک ہی دن میں ڈیلیوری سروس دیتے ہیں،  قیمتیں مناسب رکھتے ہیں اور جن میں اسٹاک مستقل ہوتا ہے ،ان سے گاہک بندھے رہتے ہیں۔ آن لائن آرڈر سے بلک آرڈرز حاصل کرنے میں مدد ملتی ہے۔جیسے جیسے آرڈر کا حجم بڑھتا ہے، کیٹلاگ اور ڈیلیوری سلاٹس کو ڈیجیٹائز کرنے سے بھی دکان چلانے میں سہولت ہوتی ہے۔ ایسے گروسری اسٹورز تیزی سے ترقی کرتے ہیں جن سے مقامی گاہک بھی جڑے ہوتے ہیںاورجن کی آن لائن بھی باقاعدہ موجودگی ہوتی ہے۔

 اسکولی طلبہ کیلئے ٹیوشن سینٹر

اسکولی طلبہ کیلئے ایک ٹیوشن سینٹرمقبول عام کاروباری آئیڈیا  ہے کیونکہ والدین چاہتے ہیںکہ ان کے بچے اسکو ل کے ساتھ ساتھ دیگر اوقات میں بھی پڑھائی سے جڑے رہیں بلکہ جو  نصاب کا حصہ وہ اسکول میں نہ سمجھ سکیں، وہ حصہ انہیںٹیوشن کلاس میںسمجھ آجائے ۔ یہ کاروبار عام طور پر۴۰؍ ہزار سے ایک لاکھ  روپے میں شروع کیاجاسکتا ہے اور اس بات پر منحصر ہے کہ کلاسیز کا انتظام گھر پر ہی کیاجاتا ہےیا کرائے کی جگہ پر۔ ٹیوشن سینٹرز عام طور پر کلاس چھٹی سے دسویں اور گیارہویں بارہویں کے طلبہ پکو راغب کرتے ہیں ۔ ان میں ریاضی، سائنس اور کامرس جیسے مضامین کی مانگ سب سے زیادہ ہے۔ چھوٹے بیچ سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیںاور ان کے ذریعے ٹیوٹرزایک  مناسب خاصی ماہانہ فیس وصول کرسکتے ہیں ۔ کاروبار کے اس  طریق کار میںترقی کا انحصار تعلیمی نتائج اور والدین کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ وہ مراکز جو طلباء کی کارکردگی باقاعدہ جانچتے ہیں، ٹیسٹ لیتے ہیں اور پیش رفت سے والدین کو مسلسل آگاہ کرتےرہتے ہیں ، وہ طلبہ اور والدین کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کم سرمایہ میں شروع ہونے والے کاروبار آپ کیلئے اچھے متبادل بن سکتے ہیں

 سوشل میڈیا انفلوئنسر مینجمنٹ 

سوشل میڈیا انفلوئنسرمینجمنٹ ملک میں تیزی سے بڑھتا ہوا کارو باری رجحان ہے۔مختلف برانڈز انسٹاگرام، یوٹیوب اور مختصر ویڈیو ایپس جیسے پلیٹ فارمز پر مخصوص صارفین تک پہنچنے کیلئے تخلیق کاروں کے ساتھ تیزی سے تعاون کرتے ہیں۔یہ کاروبار عام طور پر۲۰؍ہزارسے۵۰؍ ہزار سے شروع ہوتا ہے۔ اس میں بنیادی طور پر آؤٹ ریچ ٹولز، بنیادی معاہدوں اور  مشمولات پر بہتر رابطے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ برانڈ زاور تخلیق کاروںکے درمیان چینل کی مسلسل نگرانی کی جاسکے۔ انفلوئنسرمنیجربرانڈ اور تخلیق کاروں کے درمیان ثالثی کا کام کرتے ہیںاورمشمولات سے متعلق ان کی منصوبہ بندی ، قیمتوں کے تعین ، ٹائم لائن اورپیشکش کے پورے پروسیس کو سنبھالتےہیںاور اس کی نگرانی کرتے ہیں۔ ماڈل اس وقت بہترین ہے جب مینیجرز مخصوص شعبوں جیسے خوراک، فیشن، فٹ نس یا علاقائی مشمولات کے حوالے سے مائیکرو انفلوینسرپر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔

 آن لائن ری سیل کا بزنس 

مصنوعات کی آن لائن دوبارہ فروخت (ری سیل) ملک میں ایک لچکدار چھوٹا کاروباری تصور ہے۔یہ کاروبار عام طور پر۱۰؍ہزار سے ۵۰؍ ہزار سے شروع ہوتا ہے اور پروڈکٹ کے زمرے اور سورسنگ کے طریقہ کار پر منحصر ہوتا ہے۔ کاروباری تھوک دکانداروں، مقامی بازاروں، یا مینوفیکچررز سے مصنوعات خریدتے ہیں اور انہیں آن لائن چینلز کے ذریعے مارجن پر فروخت کرتے ہیں۔ مقبول زمروں میں کپڑے، گھریلو لوازمات، بیوٹی پروڈکٹس اوررسوئی اشیاء شامل ہیں۔

youth Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK