ایم پی ایس سی میں کامیابی حاصل کرکے اسسٹنٹ کمشنر آف اسٹیٹ ٹیکس بننے والی ناندیڑکی سیّدہ اسماء

Updated: June 23, 2020, 2:01 PM IST | Z A Khan / Shaikh Akhlaque Ahmed

’’مقابلہ جاتی امتحان کی تیاری کےلئے محنت، مستقل مزاجی اوریکسوئی کے ساتھ مطالعہ ضروری ہے ‘‘

Sayeda Isma - Pic : Inquilab
سیدہ اسماء ۔ تصویر : انقلاب

 جن کے حوصلے بلند ہوتے ہیں منزلیں ان کے قدم چومتی ہیں۔ ناندیڑ کی ہونہار طالبہ سیدہ اسماء ظہیراحمد نے ایم پی ایس سی امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے یہ سچ کردکھایا ہے ۔  سیدہ اسماء اسسٹنٹ کمشنر اسٹیٹ ٹیکس(گروپ اے) کے عہدہ کی حقدار بنی ہیںاوریہ عہدہ پانے والوں میں سیدہ اسما کا دسواں رینک ہے ۔اسماء کی اس شاندار کامیابی پر شہر میں خوشی کاماحول ہے  اور اسماء کے گھرمبارک دینے کی غرض سے سماجی تنظیموں کے نمائندے و نامورافراد کا تانتا لگا ہوا ہے ۔  
 سیدہ اسماء نےابتدائی تعلیم پہلی تا ساتویں  صفاء  مروہ اردو اسکول سے حاصل کی۔ بعد ازیں  خیر العلوم  اردوہائی  اسکول  میں داخلہ لیا، دسویںمیں اسماء کو۱۰۰؍ فیصد مارکس حاصل ہوئے۔ اسکے بعد اسماء نے ناندیڑ کے ہی یشونت راؤ چوان کالج  میں گیارہویں آرٹس میں داخلہ لیا۔ بارہویںبورڈ امتحانات میں۸۵؍ فیصد مارکس حاصل کئے اورپھر ۲۰۱۵ء میں گریجویشن  میں انگریزی، معاشیات اور پولیٹیکل سائنس جیسے مضامین لے کر۸۰؍ فیصد مارکس کے ساتھ کامیابی کی۔
اسماء نے ایم پی ایس سی میںشرکت کیوں کی؟ 
 بقول اسماء’’ جب میں ایس ایس سی کامیاب ہوئی تو اس وقت  ٹاپرز طلبہ کے اعزاز میں تقسیم انعامات کا ایک پروگرام منعقد کیا گیا تھا،  اس وقت کے ضلع کلکٹر  پردیسی سر نے بطورمہمان خصوصی شرکت کی  اور ان ہی کی تقریر سے متاثر ہوکر میں نے مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کا فیصلہ کیا ۔  میں طلبہ سے کہنا چاہوں گی کہ وہ ہائی اسکول کے ابتدائی دنوں میں ہی اپنے مقصد کا تعین کرلیں تاکہ دسویں کے امتحان کے بعد وہ تذبذب کا شکار نہ ہو۔‘‘ اسماء نے مزید بتایا کہ ’’پرائمری اور ہائی اسکول کی تعلیم اردو میڈیم سے ہی رہی ہے ۔مجھے کبھی یہ محسوس نہیں ہوا کہ اردو میڈیم کی طالبہ ہونے کی وجہ سے مجھے آگے بڑھنے میں کوئی مشکل پیش آئی ہو ۔ ‘‘
 ایک سوال کے جواب میں  سیدہ اسماء نے کہا کہ ’’ اللہ تعالی نےمجھے غیر معمولی  کامیابی سے نوازا میں اس کیلئے سب سے پہلے اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں۔اس کامیابی میں میرے والدین کا بہت اہم رول رہاہے۔ انہوں نے میری قدم قدم پرسرپرستی ،رہنمائی کی اور میرا حوصلہ بڑھایا ۔   والد صاحب محکمہ پولیس میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ میری والدہ بھی گریجویٹ ہیں، ان دونوں کے تعلیم یافتہ ہونے اور رہنمائی کی وجہ سے ہی میں نے اس امتحان کو بغیر کسی کوچنگ کے کامیاب کر دکھایا۔ ایم پی ایس سی کی تیاری کیلئے میں نے انٹرنیٹ کی مدد سے آن لائن پڑھائی کی اور اس سے مجھے بہت  مدد ملی ہے۔‘‘   انہوں نے مزید بتایا کہ’’ ہم کل ملاکر چار بہنیں ہیں۔ مجھ سے تین چھوٹی بہنیں ہیں ایک ایم بی بی ایس کے سیکنڈ ایئر میں ہے جبکہ دوسری بارہویں سائنس کی طالبہ ہے اور سب سے چھوٹی ششم جماعت میں زیرِ تعلیم ہے۔ اسماء کہتی ہیں کہ پڑھائی میں میرے والدین نے میری کافی مدد کی اس وجہ سے ہی میں نے  ہر امتحان میں امتیازی نمبرات سے کامیابی پائی۔ والدین خاص طور سے والدہ میری رول ماڈل ہیں جنہوں نے قدم بہ قدم میری رہنمائی کی۔
سول سروسیز میں کریئر بنانے والوں کو اسماء نے یہ پیغام دیا
 بقول اسماء ’’مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت  ایک محنت طلب کام ہے جن طلبہ کے اندر قوم کیلئے کچھ کرنے کا جذبہ ہے وہ اس میں شریک ہوں۔ کامیابی کے بعد اچھی تنخواہ، عزت اور شہرت بھی ہےلیکن تیاری کیلئے مستقل مزاجی اور صبر بھی درکار ہے۔ اس  امتحان کی تیاری میں یکسوئی کیساتھ مطالعہ  ضروری ہے ۔ کامیابی  کےلئے کبھی کبھی وقت لگتا ہے ۔اسلئے ایک مرتبہ ناکام ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھنے کی بجائےمسلسل محنت کرتے رہنا چاہئے ایک نہ ایک دن کامیابی ضرور حاصل ہوتی ہے ۔‘‘
 اسماء کے والد سید ظہیراحمد نے بتایا کہ’’ اسماء نے  ہمیشہ ۹۰؍سے ۱۰۰؍فیصد مارکس حاصل کئے۔ میں نےسے کبھی پڑھائی کیلئے ڈانٹ ڈپٹ کر بیٹھنے کو نہیں کہا بلکہ میری چاروں بچیاں ہمیشہ خود سے دلچسپی لے کر پڑھائی کرتی ہیں۔ ان کا اپنا ٹائم ٹیبل متعین ہے۔ میری تینوں بیٹیوں نے دسویں بورڈ امتحان میں۹۰؍ فیصد سے زیادہ مارکس حاصل کئے ہیں۔  میری بیٹیاں میرے لئے قیمتی ہیرے کی مانند ہیں۔ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے بچیوں جیسی دولت سے مالامال کیا ۔‘‘  ظہیر احمد نے اپنے متعلق بتایا کہ ’’پولیس محکمہ میں میرا  تقرر بطور کانسٹبل ہوا( اب اسسٹنٹ سب انسپکٹر ہوں) میں مسلسل۲۵؍سال سے ایمانداری کیساتھ فرض اداکررہا ہوں۔  ڈپارٹمنٹ سے جڑنے سے پہلے میں نے بھی مقابلہ جاتی امتحانات میں شرکت کی تھی لیکن مناسب رہنمائی، معاشی حالات، گھریلو مسائل اور سماجی مجبوریوں کی وجہ سے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔ اسی لئے میں نے یہ طے کیا کہ میں جن حالات  سے گزرا ہوں بچیاں  ان حالات سے نہ گزریں اور وہ جو حاصل کرنا چاہتی ہیں ان کی مکمل رہنمائی و مدد ہو۔‘‘
 میں والدین کو یہ پیغام دوں گا کہ بچوں کی تعلیم میں والدین کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔ گھر کا ماحول خوشگوار رکھیں۔  والدین کی آپسی تکرار سے بچوں کا ’مورال‘ کم ہوتا ہے اور ان پر نفسیاتی دباؤ پڑتا ہے۔  ابتدائی دنوں میں کام کی زیادتی اور سروس پریشر کی وجہ سے ڈسٹرب رہتا تھا اور اس کا اثر گھر میں دیکھنے کو ملتا تھا جس کا مجھے احسا س ہوا۔اسلئے میری تمام والدین سے گزارش ہے کہ گھر کی فضا کو ہمیشہ خوشگوار رکھیں۔ بچوں کیساتھ دوستانہ ماحول میں وقت گزاریں۔ غلطی پر ڈانٹ ڈپٹ کی بجائے محبت سے ان کی اصلاح و غلطی کی نشاندہی کریں۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ ’’ میری جب شادی ہوئی تھی میری اہلیہ صرف میٹرک پاس تھی،بعد میں انہوں نے گریجویشن کیا، جس کا بچوں کی پڑھائی میں بہت فائدہ ہوا۔ ہم دونوں نے بچوں کی پڑھائی پر توجہ دی اور ضروری کام چھوڑ کر پڑھائی میں رہنمائی کی ۔ میری اہلیہ نے بچوں کا بیسک مضبوط کرنے میں بہت اہم رول انجام دیا۔ مثلاً اسماء جب دسویں میں تھیں،  اگر اسے میتھس کا کوئی سوال نہ سمجھتا تو میری اہلیہ اسے آسان اور سہل انداز میں سوال سمجھنے کیلئے نچلی کلاسوں کا میتھس سمجھاتیں اور پھر سوالات کی مشق کرواتیں

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK