کم بولنا اور زیادہ سننا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے

Updated: May 18, 2021, 2:54 PM IST | Shaikh Saeedah Ansairi | Mumbai

آج کے ماحول میں زیادہ بولنا ہم میں سرایت کر گیا ہے جو مختلف بیماریوں کا باعث ہے اور رشتوں میں دوریوں کا سبب بھی ہے اس پر کنٹرول کرنا ہمارے لئے ایک بڑا ہدف ہے جب بھی کسی بڑے ہدف کو پانا ہو تو چھوٹے چھوٹے ہدف بنا کر عمل کرنے سے کامیابی ملتی ہے

Whenever you want to say something, ask yourself if it is mentioned.Picture:INN
جب بھی آپ کچھ بولنا چاہیں تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کیا اس کا ذکر ضروری ہے۔تصویر :آئی این این

اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک منفرد خاصیت ’’قوت گویائی‘‘ عطا کی ہے جس کی بدولت وہ اپنے جذبات، احساسات، تکلیف، دکھ درد اور خوشی کا اظہار کرے۔ خاموشی جذبوں کو بولنے کی صلاحیت ملی یہی وہ نعمت ہے جو انسان کو دوسری تمام مخلوقات سے نمایاں مقام عطا کرتی ہے۔ یہ عظیم نعمت ’بولنا‘ دوسروں کی بات سننے سے قاصر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ ہر ایک کو بولنا ہے، بولنا ہے اور صرف بولنا ہے۔ یہ بولنے کا جنون سر چڑھ کر بول رہا ہے جو دوسروں کی بات سننے دوسروں کے نقطۂ نظر کو سمجھنے سے محروم ہوتا جا رہا ہے جو ایک المیہ ہے۔ حضور محمدﷺ کا ارشاد گرامی ہے: مومن وہ ہے جو دوسرے مومن کے بولنے کے دوران اپنی آواز بلند نہیں کرتا ہے اور خاموشی سے پوری بات سنتا ہے۔ گویا کہ سننا ایک مومن کی شان اور اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے۔
مفکرین کی رائے میں(۱) دراصل سننے کا عمل بولنے والے کے تئیں مخلص اور پُرخلوص طرزِ عمل ہے۔(۲) بولنے والے کی بات کو توجہ سے سننا اُس کے تئیں احترام کی نشانی ہے۔ اور (۳) زیادہ سننا اور کم بولنا عقلمندی کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔
 ویسٹرن ریسرچ کے مطابق ، زیادہ بولنا بہت سارے گلے کے امراض کا سبب بنتا ہے کیونکہ اس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا اُلٹا ذہنی تناؤ اور بے خوابی کی شکایت ہوجاتی ہے۔ اور مدافعتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ کتنا بھی جان لیوا کیوں نہ ہو یہ ’بولنا‘ ہم میں سرایت کر گیا ہے۔ ہم اس کے غیر ارادی طور پر غلام ہوگئے ہیں۔ دوسروں کی بات کو صبر و تحمل سے سننا اس پر غور و فکر کرنا ایک پرانی بات ہوچکی ہے۔
 سننے کا عمل ایک متحرک اور توجہ طلب سرگرمی ہے۔ ایک بہترین سامع وہ ہوتا ہے جو سننے کے دوران خاموشی اختیار کرتا ہے۔ بولنے والے پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ کسی بات کی تائید کرنی ہو تو مسکراتا ہے یا سر ہلا کر ستائش کرتا ہے۔ خلاف ِ معمول بات ہو تو خاموشی اختیار کرتا ہے اور بولنے والے کی بات ختم ہونے پر اپنی رائے پیش کرتا ہے۔
 اب یہ منظر بالکل اُلٹ گیا ہے اب کا سامع بولنے کے دوران ادھر اُدھر دیکھتا ہے۔ ناگواری کا اظہار کرتا ہے۔ فون چیک کرتا ہے۔ بیچ بیچ میں مداخلت کرتا ہے اور اگر کسی بات سے متفق نہ ہو تو کہرام مچاتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم اب بہتر سامع نہیں رہے دوسروں کی بات کو یا اختلاف رائے کو قوت برداشت سے سننے کا فقدان ہوگیا ہے۔ اختلاف رائے کو صبر و تحمل سے سننا اعلیٰ ظرفی کی نشانی ہے اس کو فروغ دیں تاکہ ایک بہتر شخصیت کی نشوونما ہو۔ کیونکہ Great people are good listener۔ صدیوں پر محیط یہ نظریہ کہ عورتیں مردوں کے مقابلے میں زیادہ باتونی ہوتی ہیں۔ کچھ کے خیال میں تو عورتیں حیاتیاتی طور پر باتونی ہوتی ہیں اس نظریہ کو کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ماہر نفسیات Campbell Leaper نے چیلنج کیا اس ضامن میں تعلق رکھنے والی تمام ریسرچ کا معائنہ کے بعد ایک کتاب شائع کی۔ The study of Leaper Examination، اس کتاب کے مطابق ایک رجحان جو منظر عام پر آیا کہ مرد اور عورت اپنے اپنے مخصوص حالات میں زیادہ بولتے ہیں۔ مثلاً مرد فیصلہ کرنے کی حالت میں زیادہ بات کرتا ہے جبکہ عورت جذباتی ہونے پر زیادہ بولتی ہے۔ بولتے تو دونوں ہی ہیں۔ آج کے ماحول میں زیادہ بولنا ہم میں سرایت کر گیا ہے جو مختلف بیماریوں کا باعث ہے اور رشتوں میں دوریوں کا سبب بھی ہے اس پر کنٹرول کرنا ہمارے لئے ایک بڑا ہدف ہے جب بھی کسی بڑے ہدف کو پانا ہو تو چھوٹے چھوٹے ہدف بنا کر عمل کرنے پر کامیابی ملتی ہے۔
ہدف(۱) ایک حدیث پاک کا مفہوم ہے جو کچھ سنے بغیر تحقیق بیان نہ کریں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اُس کی تحقیق ضروری ہے کہ سچ ہے یا غلط۔ اگر تحقیق نہیں کی گئی تو بولنا بھی نہیں ہے۔(۲) جب بھی آپ کچھ بولنا چاہیں تو اپنے آپ سے یہ سوال کریں کیا اس کا ذکر ضروری ہے۔ جب محسوس ہوگا کہ ذکر ضروری نہیں ہے تو خاموش رہیں اس طرح بہت سے غیر ضروری باتوں کے ذکر سے بچ جائیں گے۔ (۳) اکثر لوگ دوسروں کے فیصلوں پر دوسروں کے معاملات میں بلا ضرورت بولتے ہیں اس پر روک لگائیں تو بہت حد تک کم بولنے پر کامیابی ملے گی۔ (۴) سیاسی معاملات میں بحث و مباحثہ کرنے سے پرہیز کریں۔ یہ وقت کی بربادی کے سوائے کچھ نہیں ہے۔ ان ہداف پر عمل کرنے سے بولنے کی رفتار پر بریک ضرور لگے گا

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK