Inquilab Logo Happiest Places to Work

صالح معاشرے کی تشکیل میں خاندان مرکزی حیثیت

Updated: May 15, 2023, 1:20 PM IST | Khan Shabnam Muhammad Farooq | Mumbai

خاندانی ہم آہنگی کے لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے احساسات و جذبات کو سمجھا جائے، ناکامیوں اور تکلیفوں کو مل بانٹ کر حل کیا جائے خوشیوں میں ایک دوسرے کو شریک کرکے ہی خاندان کو ایک وحدت کی حیثیت مل سکتی ہے جس میں بنیادی کردار ایک عورت کا ہوتا ہے۔

A woman acts as a bridge in the family and keeps all the relationships together
عورت خاندان میں ایک پُل کی حیثیت سے تمام رشتوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے

خاندان معاشرے کا سب سے اہم اور بنیادی عنصر ہےجو مرد اور عورت کے درمیان رشتۂ ازدواج سے وجود میں آتا ہے۔ معاشرے کی ترقی اور نشوونما کا انحصار جہاں خاندان پر ہے، وہاں معاشرے کی تنزلی و انتشار کا انحصار بھی اسی خاندان پر ہے، کیونکہ خاندان ہی معاشرے کی اساسی اکائی کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی سے معاشرے وجود میں آتا ہے۔ جس قدر خاندان کی اکائی مضبوط اورمستحکم ہو گی، اسی قدر معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہوگا۔ خاندان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ خاندان کی بقا اور تحفظ کو شریعت کے بنیادی مقاصد میں شمار کیا گیا ہے۔ اسلامی تعلیمات کا ایک مکمل شعبہ جو مناکحات یا اسلام کے عائلی نظام سے موسوم ہے، اسی مقصد کیلئے وجود میں لایا گیا ہے۔ قرآن مجید میں ایک تہائی سے زائد احکام، عائلی نظام کو منضبط کرنے کیلئے آئے ہیں۔ خاندان سب سے بڑا معاشرتی ادارہ ہےجو بیک وقت اہم وظائف کی ادائیگی کرتا ہے۔ اس کو بنیادی گروہ کی حیثیت حا صل ہےکیونکہ خاندان میں افراد مل جل کر رہتے ہیں اور اپنی تمام تر ضروریات کی تسکین پاتے ہیں اور تحفظ و سکون کی زندگی گزارتے ہیںلہٰذا رب العالمین نے انسان کو رشتے جیسی عظیم نعمت عطا کی۔
 اسلام میں خاندان کو بڑی اہمیت دی گئی ہے اور اس کی مضبوطی کے لئے ٹھوس اور گہری بنیادیں فراہم کی گئی ہیں۔ انسانی سماج کے سب سے زیادہ حسین اور دلکش نظارے خاندان کے دائرے میں نظر آتے ہیں۔ شوہر اور بیوی کی محبت، ماں باپ کی شفقت، چھوٹوں سے پیار، بڑوں کا احترام، بیماروں کی تیمار داری، معذوروں کی مدد، بوڑھوں کو سہارا، ایک دوسرے کے کام آنا، سب کو اپنا سمجھنا، خوشی اور غم کے مواقع پر جمع ہوجانا۔ غرض خاندان ایک چھوٹا سماج ہوتا ہے، اور یہ چھوٹا سماج جتنا زیادہ مضبوط اور خوبصورت ہوتا ہے، بڑے سماج کے لئے اتنا ہی زیادہ مفید اور مددگار ہوتا ہے۔ اور ایک کامیاب سماج کامیاب معاشرہ کی تشکیل کی بنیادیں فراہم کرتا‌ہے۔ لہٰذا معاشرہ کی فلاح و بہبود کا براہ راست تعلق ایک بہترین خاندانی نظام سے ہے۔ 
 فرمان باری تعالیٰ ہے کہ:
 ’’اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ۔‘‘
 چونکہ انسانی گروہ سماج کی تشکیل کرتا ہے اور سماج سے مل کر معاشرہ تعمیر پاتا ہے۔ اگر انسان کی ذات اعلیٰ اخلاق و اقدار کا گہوارہ ہوگی تو سماج اور معاشرے میں بھی اخلاقی اقدار ہی پروان چڑھیں گے۔ لیکن اگر فرد کی ذات ہی مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہوگی، اخلاق و اقدار کا فقدان ہوگا تو پھر کامیاب معاشرے کی تشکیل محض خیالی پلاؤ ثابت ہوگی۔ جس سماج میں اخلاق و اطوار سے معمور افراد پائے جاتے ہیں، وہاں مضبوط اور پائیدار خاندان پائے جاتے ہیں۔ 
 ایک اچھے خاندان کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ اپنے تمام فرائض ادا کرے اور اس کے عناصر ترکیبی مکمل ہوں۔ خاندانی ہم آہنگی کے معنی یہ ہے کہ مرد  و عورت کا تعلق مستحکم ہوں۔ خاندان کا سربراہ ایسا ہوں کہ اس کا ہر فرد، خواہ وہ زرعی معاشرہ کا ہو یا صنعتی کا، اس کے فیصلوں کا پابند ہو۔ معاشرتی استحکام کی بنیاد خاندانی ہم آہنگی ہے۔
 جس معاشرہ کے خاندانی نظام میں بگاڑ پیدا ہو جائے، بچے خاندان کا لازمی جزو نہ ہوں اور بزرگوں کا احترام نہ ہو، وہ معاشرہ جنسی بے راہ روی اور مجرمانہ تغافل کا شکار، شفقت و رحم سے عاری اور انسانی ہمدردی سے خالی ہو جاتا ہے۔ علمائے معاشرہ کے مطابق خاندانی ہم آہنگی فرد کے جذباتی تحفظ کا باعث بنتی ہے۔
 خاندانی ہم آہنگی میں یہ عام طور پریہی سمجھا جاتا ہے کہ اعتماد اور بھروسے کا رشتہ صرف میاں بیوی کے درمیان ہونا چاہئے۔ دراصل اس رشتے کا والدین اور بچوں کے درمیان ہونا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ ایک دوسرے کے احساسات و جذبات سے آگاہی، ناکامیوں اور تکلیفوں کو مل کر بانٹنے اور خوشیوں میں ایک دوسرے کو شریک کرنے ہی سے خاندان کو ایک وحدت کی حیثیت ملتی ہے جس میں بنیادی کردار ایک عورت کا ہوتا ہے۔ عورت ہی خاندان میں ایک پل کی حیثیت سے تمام رشتوں کو آپس میں جوڑے رکھتی ہے۔ 
 سماجی ہم آہنگی کے لئے خاندان ضروری ہے، بچوں کی انفرادیت اور انفرادی خوشحالی کی بنیاد خاندان ہے، جہاں بچوں اور بالغوں کو معاشرے میں اپنے کردار کے بارے میں سیکھنے کے مواقع میسر آتے ہیں۔ خصوصاً معاشرے کے محروم اور ضرورت مند طبقات کی دیکھ بھال کرنا کرنے کا عمل، بزرگوں کا احترام اور بچوں سے شفقت جیسےامور خاندان ہی میں سیکھنے کو ملتے ہیں۔ والدین کے تعلقات کی کیفیت بچوں کے لئے ایک اہم سماجی عنصر ہے۔ سماجی ہم آہنگی معاشرے کی مشترکہ اقدار کی وضاحت کرتی ہے۔
 یاد رکھیں، ایک صحتمند معاشرے کے لئے خاندانی نظام کا مضبوط اور خوشحال ہونا اشد ضروری ہے اور اگر ملک و قوم کی بہتری مقصود ہے، تو خاندان پر بھرپور توجہ دیں ۔ 

women Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK