جو شخص آج کامیاب ہے، ایسا نہیں کہ اس نے جھٹکے نہیں کھائے، وہ ناکام نہیں ہوا

Updated: November 30, 2021, 1:19 PM IST | Mumbai

انٹرویو کے دوسرے حصے میں ’’دیوان خاص‘‘ کے مہمان آئی پی ایس افسر قیصر خالد کے تاثرات کے اہم اقتباسات

Picture.Picture:INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

 آپ نے اس مشکل امتحان کو کیسے پار کیا؟  اس دوران کیا کیفیات تھیں؟ 
 میں نے پی جی میں ایڈمیشن لیا اوردہلی میں ہمدرد اسٹڈی سرکل کا داخلہ امتحان کامیاب کرکے دہلی چلا گیا۔ یہاں  ہمارے ایک بیچ میٹ   جو ابھی فارین سروس میں ہیں، سہیل اعجاز خان  ،نے مجھ سے کہا کہ تمہاری اردو بہت اچھی ہے تم ارد وکو آپشنل کیوں نہیں لے لیتے۔ تب دو آپشنل ہوتے تھے، ایک جغرافیہ میرا آپشنل تھا، پھر کچھ دن میں نے فارسی پڑھی، پھر پبلک ایڈمنسٹریشن لے لیا ۔ اب دیکھئے کہ آدمی حماقت کیسے کرتا ہے۔ میں نے ان کی بات پر اتنی توجہ نہیں دی۔  ہمدرد کا تب  دستور تھا کہ پریلیم کے بعد  ہاسٹل تقریباً دو مہینوں کیلئے بند ہوجاتاتھا۔ اب ہم جیسے آدمیوں کے لئے جس کا دہلی میں کوئی یارو مددگار نہ ہو ، اس کو تو گھر ہی جانا ہوتا ہے۔  اب نہ گاؤں میں کتابیں ہیں، نہ بجلی ہے، نہ پڑھنے کا وہ ماحول۔ دو مہینے بعد  جب میں لوٹ کر آیا تو مجھے اس بات کا احساس ہوگیا کہ لوگ پاؤں پر کلہاڑی مارتے ہیں میں پورا پیر ہی کاٹ کر آیا ہوں۔ پھر میں نے ’پک اینڈ چُوز‘ کرکے دو آپشنل اور ایک جی ایس کا پیپر پڑھا۔ اس وجہ سے وہ امتحان اچھی طرح نہ ہوسکا اور مجھے تحریری امتحان کے بعد انٹرویو کا کال نہیں آیا۔ اب  واپس ہونا تو آپشن ہی نہیں تھا۔تو پھر پڑھائی شرو ع کی، اور  میں نے سہیل کی اس بات کو بہت سنجیدگی سے لیا اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی کتابوں کو خیر باد کہا اورارد وکی کتابیں پڑھنا شروع کیں۔ فطری طور سے ادب کے تئیں میرا رجحان تھا تو پبلک ایڈمنسٹریشن کے مقابلے کم وقت میں میں نے ارد وکے پرچے کی پوری تیاری مکمل کرلی۔   دوسری بار جب میں نے امتحان دیا تو میرے ۱۰۰؍ نمبر کے سوال چھوٹ گئے۔ حتیٰ کہ ایک سوال تو اردومیں پورا چھوٹ گیا۔ بہرحال ، یہ چیزیں اپنی حماقتیں اپنی غلطیاں اسلئے گنارہا ہوں کہ آپ یہ نہ سمجھئے گا کہ قیصر خالد کوئی پرفیکٹ آدمی ہے۔ یہ بے وقوفی اس سے بھی ہوئی ہے اور ہم سب سے بھی ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اس کا آپ کیا کریں۔  بہرحال ایک دن بیٹھا یونہی سوچ رہا تھا کہ برے سے برے حالات میں کتنے مارکس آئیں گے ۔ انداز ہ ہوا کہ ۹۸۵؍نمبر سے کم نمبر نہیں آئیں گے ، اس وقت ۹۴۰؍ کے آس پاس انٹرویو کے لئے کال آتا تھا۔  تو پھر میں اپنے تین چار دوستوں کے ساتھ مل کر انٹرویو کی تیاری کرنے لگا۔اللہ کا شکر کہ مجھے کال آیا اوریوں  سیکنڈ اٹیمپٹ میں ، میں نے  امتحان کلیئر کرلیا۔
 آپ لمبے عرصے سے پولیس سروس میں خدمات انجام دے رہے ہیں، جاب سیٹفیکشن کااحساس کئی بار ہوا ہوگا، یا کوئی ایسا یادگار واقعہ یا معاملہ ؟
  واقعات بہت سارے ہیں۔میری کوشش یہ رہی کہ میں جہاں بھی رہوں،میں لوگوں کے لئے دستیاب رہوں۔  آج بھی میرے پاس آنے کے لئے کسی آدمی کو اپوائنمنٹ نہیں لگتا ہے۔  میں نے نکسل مخالف آپریشن میں کام کیا ہے،میری پوسٹنگ بحیثیت ایڈیشنل ایس پی اینٹی نکسل آپریشن کے گڈچرولی سے ۱۲۰؍ کلومیٹر دور ایک چھوٹے سے قصبہ اہیری میں پوسٹنگ ہوئی تھی۔  اب وہاں پر جب آپ نکلتے ہیں تو بھروسہ نہیں ہوتا ہے کہ کب کون سی چیز آپ کے ساتھ ہوجائے۔ میں نے اس چیز کو سیکھا کہ جب بھی کبھی آپ کو آؤٹ پٹ چاہئے تو وہ ٹیم کی اجتماعی کوششوں سے ہوگا۔وہ ایک سبق ہے جو آج تک میرے ساتھ جاری ہے ۔تقریباً میںنے ڈیڑھ سال وہاں کام کیا۔ کئی کھٹے میٹھے تجربات ہوئے۔ میں ایک چھوٹا واقعہ بتادوں کہ ایک بار ہم پٹرولنگ پر جارہے تھے ۔ ہم نے گاؤںکے ایک آدمی کو دیکھا جو پیڑسے گرے ہوئے جامنوں کواٹھاکر کھارہا تھا۔ ہم میں سے ایک نے پوچھا کہ تم یہ نیچے گرا ہوا جامن کیوں کھارہے ہو ، پیڑ سے جامن توڑ کر کیوں نہیں کھاتے ، اس گرے ہوئے جامن پر تو مٹی لگ گئی ہے۔ تو اس نے کہا کہ جو نیچے گرگیا ہے وہ میر اہے اور جو پیڑ پر ہے وہ ’پکھیڑو (پرندوں)‘ کا ہے۔ اس کی کوئی تعلیم نہیں ہوگی، لیکن  اس کے اندر انصاف کا جذبہ تھا۔ میں یہ دیکھ حیران ہوگیا کہ جنگل میں رہنے والے اس آدمی کے اندر یہ شفافیت ہے ۔ انصاف کا یہ کانسپٹ ہے تو سیکھنے کو چیزیں ملتی ہیں تو ہم نے حملے دیکھے، اپنے لوگوں کو کھویا، بہت سارے تجربات ہوئے۔
ایک بارعب پولیس افسرحساس دل شاعر بھی ہوسکتا ہے، اس کی آپ جیتی جاگتی مثال ہیں۔  یہ ذوق و شوق کیسے پروان چڑھا؟
 یہ اللہ کا احسان ہے، بھئی میں خود کو بارعب تو نہیں سمجھتا۔ خوشدلی سے میں ضرور ملتا ہوں۔  جیسا کہ میں نے آپ کو کہا کہ بچپن سے ہی ایک ہجرت کا سلسلہ رہا۔  آپ چیزوں کو، اقدار کو ، لوگوں کو بدلتے دیکھتے ہیں۔  پھر تھوڑا حساس ہونے سے کیا ہوتا ہے کہ بہت ساری دشواریاں آتی ہیں۔ میں ایک مثال یہاں پیش کررہا ہوں۔ حیدر آباد میں آئی پی ایس ٹریننگ کے دوران ہمیں ایک بار عثمانیہ جنرل اسپتال لے جایا گیاپوسٹ مارٹم دیکھنے کے لئے، پولیس ٹریننگ میں ہمارا ایک مضمون ہوتا ہے فارینسک میڈیسن ،یقین مانئے میں کئی ہفتوں تک ٹھیک ڈھنگ سے کھانا نہیں کھاپایا، کیونکہ آپ انسان کو اس حالت میں دیکھتے نہیں ہیں۔ حساس آدمی کے لئے اس کی حساسیت ہنر بھی ہے اور سزا بھی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ تخلیق کی ابتداءمیں یہ جھٹکا کھانا ضروری ہے۔ جو چیز کو آپ کو سوچنے پر مجبور کردے ، وہ آپ کو تخلیق پر بھی مجبور کرتی ہے۔ نوکری میں آنے کے بعد حالات کے سردو گرم نے اتنی چیزیں دکھادیں۔ اللہ کچھ نہ کچھ ذہن میں خیال ڈال دیتا ہے اور پھر کوشش کیجئے تو کاغذ پر کچھ نہ کچھ آجاتا ہے۔   
ایک آئی پی ایس افسر اچھا اسپیکر بھی ہو تو یہ سونے پہ سہاگہ ہے۔ خطابت کی یہ دولت آپ نے کیسے حاصل کی؟
  مجھے یاد ہے کہ جب میں پہلی بار نویں جماعت میں مباحثہ میں گیا اور موضوع تھا کہ پاپولیشن کنٹرول صحیح ہے یا نہیں۔ اب میں تو رٹّامارکر گیا تھا، اسلئے آنکھ بند کرکے جو کچھ یاد تھاوہ فٹافٹ بول کر واپس آگیا۔ مجھے اس میں پہلا انعام بھی مل گیا۔ لیکن ہمارے استاد نے بعد میں کہا کہ تم راجدھانی ایکسپریس کی طرح آئے اور ایک چھوٹا سفرکیا اور چلے گئے۔ اور یہ بات میرے ذہن میں بیٹھی رہی۔ مجھے سمجھ میں آیا کہ یہ رٹنے سے تو بات نہیں بنے گی۔ آپ کو عبور ہونا چاہئے سبجیکٹ پر ، تو وہ کیسے آئے گا ۔ تو پھر دھیرے دھیرے میں نے کاغذ پر پوائنٹس لکھنے شروع کئے اور پھر اسے دیکھ کر ڈبیٹ اور تقریر کرنے لگا۔ پھر میں نے کالج کے دنوں سے ہی یہ بھی کوشش کی کہ اگر کوئی اچھی گفتگو کررہا ہے تو سیکھنے کی کوشش کی۔ اس میں کئی بار گرنا پڑتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے آپ کے اندر وہ چیز آنی شروع ہوجاتی ہے۔ میں یہاں خاص طور سے اسٹوڈنٹس کو کہنا چاہوں گا کہ  آپ جتنا خود کو امپرو کرنا چاہیں کرسکتے ہیں۔  آپ ایک اچھے مقرر بھی بن سکتے ہیں بشرطیکہ آپ تقریر پر بھی کام کریں۔ یہ ایک سلسلہ ہے، او ر ہر وہ شخص جو کوشش کرے گا حاصل کرلے گا ۔ 
ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد سول سروس کی طرف راغب ہورہی ہے،ایسے یوپی ایس سی کے خواہشمندوں کو آپ کیا مشورہ دینا چاہیںگے؟
 میں سمجھتا ہوں کہ سب سے اہم چیز ہے سپنے دیکھنا، زندگی میں صرف یوپی ایس سی ہی نہیں، چھوٹے خواب آپ کی اڑان کو محدود کردیں گے،تو ہر شخص کو بڑا خواب دیکھنا چاہئے۔ جب آپ بڑا سپنا دیکھیں گے تو آپکو ہاتھ پاؤں بھی مارنا چا ہئے۔ دوسری چیز یہ کہ انسان کو مسلسل بہتری سے ہی کوئی چیز حاصل ہوتی ہے۔ جو شخص آج بہت کامیاب ہے، ایسا نہیں ہے کہ اس نے جھٹکے نہیں کھائے، وہ ناکام نہیں ہوا۔ ہم میں سے ہر شخص ناکام ہوتا ہے۔ یہ اتارچڑھاؤ، نشیب وفراز یہی زندگی کا حسن ہے۔یہی ہمیں سکھاتا ہے۔ تو آپ گریں  گے،  تکلیف پہنچے گی،  ناکام ہوں گے، اٹھئے، کھڑے ہوجائیے، جھاڑئیے بدن کو اور چلئے.... توآپ سفر کرتے رہیں گے تو منزل پر پہنچ جائیں گے۔  یاد رکھئے، جس چیز کی اہمیت جتنی زیادہ ہوگی، اس کیلئے  مقابلہ اتنا سخت ہوگا۔ اس کیلئے  آپ کو اپنی مضبوط بنیاد بنانی پڑے گی، اور بنیاد آپ کی پڑھائی کی صورت میں ہوگی، پھر آپ کے مضمون پر عبور کی صورت میں ہوگا، پھر آپ اس کو جس ڈھنگ سے پیش کریں گے اس کی صورت میں ہوگا۔ میں جب گریجویشن کرچکا تو مجھے آئیڈیا ہوگیا تھا کہ میں سول سروس کے قریب  پہنچ گیا ہوں۔ میں ایک بار ناکام ہوا ہوں، جھٹکا کھایا ہوں ، لیکن مجھے لگ گیا تھا کہ اگلی بار میں ان شاء اللہ اس لسٹ میں ہوگا۔ تو یہ اپنے اوپر بھروسہ اور آپ جس خدا کو مانتے ہیں اس پر بھروسہ ۔اس کے ساتھ ہی  مجھے لگتا ہے مجھے فیمیلی، سینئرز ، کولیگزکا بہت سپورٹ ملا۔ جب بھی کوئی ناخوشگوار واقعہ بھی آجائے تو میں سمجھتاہوں کہ اس سے جاننا چاہئے کہ سیکھنا کیا ہے۔ 
ایسے امیدوارجو تمام کوششوں کے باوجود سول سروس امتحان میں کامیاب نہیں ہوپاتے انہیں  آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
  امتحان آنے سے پہلے اور جانے کے بعد کا وقفہ اہم ہوتا ہے ، اگر امتحان کلیئر نہیں ہورہا ہے توایسے لوگوں کوامتحان کے بعد بیٹھنا چاہئے ان افراد کے ساتھ جو کوالیفائی کئے ہوئے ہیں اور احتساب کرنا چاہیے کہ میں کہاں پرپچھڑرہا ہوں۔ دیکھئے ، قلت علم اور قلت تدبر یہ دو چیزیں ہیں، یا تو آپ کو علم کی کمی ہے یا پھر ریفلیشکن کی،  مطلب آپ جس ڈھنگ سے جواب لکھتے ہیں وہ ، وہ نہیں ہے جو یوپی ایس سی چاہ رہا ہے ۔ آپ یہ دیکھ لیجئے کہ مجھےایک سوال میں۶؍ نکات لکھنے چاہئے او رمیں ۴؍ پرآکر اٹک رہا ہوں ۔  آپ جو  جواب لکھتے ہیں ، اس کو ری ایسیس کرنا چاہئے آزادانہ طور پر یا پھر کسی سے کہ میں کیوں اٹک رہا ہوں۔دوسری یہ کہ آج جو یوپی ایس سی کا ایگزام پیٹرن ہے،اس میں ’انٹر ریلیشن آف تھگنز‘ بہت اہم ہے۔ جیسے سیدھے سیدھے سوال نہیں آتے۔ مثلاً اب سوال یہ آجائے جغرافیہ میںکہ ممبئی کی تاریخ اس کی لوکیشن اس کی نمو وترقی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے،  تجزیہ کیجئے۔ اب آپ کو کسی کتاب میں یہ چیز نہیں ملے گی کہ ممبئی کی تاریخ اوراس کا محل وقوع اس کی نمو  کی وجہ ہے۔ لیکن آپ یہ جانتے ہیں کہ کوئی شہر ترقی کیوں کرتا ہے۔ تو آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر ایک بندرگاہ ہے، ،یہاں پر ٹرین بہت پہلے شروع ہوئی، یہاں ملز آئیں جس  سے شہر بڑھ گیا، یہاں فلم انڈسٹری آگئی،  یہ تجارتی راجدھانی بن گیا اور اس کی وجہ سے یہاں بہت ساری چیزیںآگئیں۔ تو آپ کو یہ دکھانا پڑے گا کہ ممبئی ہے کہاں، اس کی خوبیاں کیا ہیں، اس کے لوکیشن کی وجہ سے اس کا فائدہ کیا ہے، اس کا عالمی سطح پر رابطہ کہاں  ہے، یہاں پر کیسے لوگ ہوتے ہیں،  انٹرپرینیورشپ  کیسا ہےوغیرہ وغیرہ۔ جب آپ کو ایسے سوال درپیش ہوں تو آپ کے  علم کی بنیاد ایسی ہوکہ آپ وہاں بیٹھ کر جواب بناسکیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK