فاروق احمد کی فکر انگیز کتاب مسلمانوںکو بحیثیت ووٹر بیدار کرتی ہے۔کتاب میں کئی اہم سوال کئے گئے ہیں جن کے جواب ڈھونڈنا وقت کی ضرورت ہے ۔
کتاب کے اجراء کے موقع پر مضمون نگار اور کتاب کے مصنف (بائیں) کو دیکھا جاسکتا ہے۔تصویر:آئی این این
ہندوستان کا موجودہ سیاسی منظرنامہ جس تیزی سے جذباتی نعروں، مذہبی پولرائزیشن اور نظریاتی تقسیم کی طرف بڑھ رہا ہے، اس نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت (مسلمانوں) کو ایک سنگین فکری اور سیاسی دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے۔ ایسے پُرآشوب ماحول میں کتاب ’’بھارت میں مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈہ‘‘ ایک ایسی سنجیدہ اور فکر انگیز کوشش ہے، جو مایوسی کے اندھیرے میں سیاسی شعور اور فکری وضاحت کی ایک نئی کرن بن کر سامنے آئی ہے۔ حال ہی میں ممبئی کے تاریخی امبیڈکر بھون میں منعقدہ ایک باوقار تقریب میں، ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کی صدارت اور نامور دانشوروں کی موجودگی میں اس کتاب کا رسمِ اجرا عمل میں آیا جس کے مصنف فاروق احمد ہیں۔
مصنف نے کتاب کے ابتدائی صفحات ہی میں ایک تلخ سوال اٹھا کر پوری بحث کا رخ متعین کر دیا جو ہر ذی شعور ہندوستانی مسلمان کے ذہن میں مچل رہا ہے۔ کون سا تلخ سوال؟ وہ یہ کہ گزشتہ کئی دہائیوں کی مسلسل سیاسی سرگرمی اور سیکولر طاقتوں کی غیر مشروط حمایت کے باوجود، مسلمان سیاسی طور پر اتنا بے وزن، حاشیے پر اور غیر محفوظ کیوں ہے؟ فاروق احمد اس حقیقت کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہیں کہ ہندوستان کا مسلمان ہمیشہ ان تمام قوتوں کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑا رہا جو خود کو’سیکولر‘ کہتی رہیں۔ لیکن اس یکطرفہ وفاداری کے بدلے میں مسلمانوں کو نہ تو متناسب سیاسی نمائندگی ملی اور نہ ہی ان کے تعلیمی و معاشی مسائل پر سنجیدگی دکھائی گئی۔ مصنف نے اس منافقت کو بے نقاب کیا ہے کہ آج کئی سیکولر جماعتیں بھی اکثریت کے ووٹ بینک کے خوف سے یا مصلحت کے تحت ”سافٹ ہندوتوا“ کی سیاست میں الجھ چکی ہیں۔ آسام اور مغربی بنگال کے حالیہ انتخابی نتائج کا حوالہ دے کر مصنف نے اپنے موقف کو بڑی مضبوطی سے پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ آسام میں کانگریس کے منتخب نمائندوں کی اکثریت مسلم چہروں پر مشتمل ہے اور بنگال میں بھی سیکولر حکومت کی کامیابی کی اصل بنیاد مسلم ووٹرز ہیں لیکن المیہ یہ ہے کہ جب اسی مسلم آبادی پر مظالم ہوتے ہیں یا ان کی شہریت پر سوال اٹھتے ہیں، تو یہ ’’ہمدرد‘‘ جماعتیں اپنی مصلحتوں کی وجہ سے کھل کر آواز اٹھانے سے گریز کرتی ہیں۔ مصنف کے مطابق، مسلمان ملک میں ہندوتوا سیاست کے خلاف سب سے بڑی اور مستقل مزاحمت تو بنا ہوا ہے، مگر بدقسمتی سے کوئی بھی بڑی جماعت اسے اپنی سیاست میں برابر کا شریک (Equal Partner) سمجھنے کو تیار نہیں ہے۔
اس کتاب کے مصنف فاروق احمد ہیں جو پیشے سے صحافی اور سیاست سے وابستہ ہونے کے بعد ونچت بہوجن اگھاڑی کے ریاستی نائب صدر ہیں۔ اُن کی تصنیف کا سب سے جاندار پہلو یہ ہے کہ یہ صرف مسائل کا رونا نہیں روتی، بلکہ ایک متبادل لائحہ عمل (Alternative Strategy) بھی پیش کرتی ہے۔ مصنف روایتی ’’خوف پر مبنی ووٹنگ‘‘ اور ’’بلاشرط حمایت‘‘ کے رویے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں کو ”معاہداتی سیاست“ (Contractual Politics) کی طرف بڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اب کسی بھی جماعت کی حمایت صرف اور صرف اصولوں، واضح سیاسی نمائندگی اور انصاف کے تحریری عہد و پیمان کی بنیاد پر ہونی چاہئے۔ اس ضمن میں کتاب ایڈوکیٹ پرکاش امبیڈکر کے اس وژن کی تائید کرتی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی سمت درست کرتے ہوئے صرف ’’مسلم اشرافیہ‘‘ کی روایتی سیاست کے سحر سے نکلنا ہوگا اور ملک کے دیگر مظلوم طبقات مثلاً دلت، پسماندہ (ونچت) اور کمزور طبقات کے ساتھ مل کر ایک مشترکہ سماجی و سیاسی فرنٹ قائم کرنا ہوگا۔ یہی اتحاد ہندوستان کے جمہوری مستقبل کی اصل ضمانت ہوگا۔
اس کتاب کی جو خصوصیت سب سے زیادہ متاثر کرتی ہے، وہ یہ ہے کہ مصنف مسلمانوں کو خالصتاً مذہبی یا جذباتی دائرہ سے نکال کر آئینی اور جمہوری زبان میں سوچنے اور بات کرنے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔ مثال کے طور پر، بابری مسجد کے سانحے پر ان کا نقطہ نظر روایتی رنج و ملال سے ہٹ کر ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ بابری مسجد کا انہدام محض ایک عمارت کا گرایا جانا نہیں تھا، بلکہ وہ ہندوستانی آئین، سیکولرزم، جمہوریت اور عدلیہ کے وقار پر ایک کاری ضرب تھی۔ یہ زاویہ نگاہ مسلمانوں کو `مظلومیت کی نفسیات (Defensive Mindset) سے نکال کر ایک وسیع قومی اور انسانی تناظر فراہم کرتا ہے، جہاں وہ ملک کے آئین کے محافظ بن کر ابھرتے ہیں۔
”بھارت میں مسلمانوں کا سیاسی ایجنڈہ“ صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں اٹھاتی، بلکہ یہ پورے ہندوستان کے جمہوری اور سیکولر ڈھانچے کو بچانے کی ایک فکری پکار ہے۔ مصنف یہ پیغام دینے میں کامیاب رہے ہیں کہ اگر نفرت اور تقسیم کی سیاست اسی طرح مضبوط ہوتی رہی تو اس کا نقصان صرف ایک اقلیت کو نہیں، بلکہ پورے ملک کے آئینی وجود کو ہوگا۔ یہ کتاب ہر اس سیاست داں، دانشور، طالب علم اور عام شہری کیلئے ایک لازمی مطالعہ ہے جو ہندوستان کی موجودہ سیاست کے جمود کو توڑ کر ایک منصفانہ اور مساوی معاشرے کی تشکیل کا خواب دیکھتا ہے۔فی الحال اس کا ہندی ایڈیشن شائع ہوا ہے جبکہ مراٹھی اور اُردو ایڈیشن بھی جلد شائع ہوگا۔
( مضمون نگار معروف سماجی کارکن اور صحافی ہیں