حوصلہ افزائی کی طاقت

Updated: October 31, 2022, 11:57 AM IST | Muhammad Azam Nadvi | Mumbai

  ایک عربی میگزین کے مطالعہ کے دوران میری نظر ایک مضمون پر ٹھہر گئی، مضمون تھا ڈاکٹر ابراہیم نویری (الجزائر) کا، عنوان تھا:’’الاطفال الموهوبون ومدى حاجتهم إلى مربين أكفاء‘‘  (فطری صلاحیتوں سے مالا مال بچوں کو لائق وفائق تربیت کرنے والوں کی کتنی ضرورت ) اس میں ایک معلمہ کا قصہ بیان کیا گیا ، جنہوں نے بظاہر ایک معمولی بچہ کو اپنی حوصلہ افزائی سے بام عروج تک پہنچا دیا۔

Picture .Picture:INN
علامتی تصویر ۔ تصویر:آئی این این

  ایک عربی میگزین کے مطالعہ کے دوران میری نظر ایک مضمون پر ٹھہر گئی، مضمون تھا ڈاکٹر ابراہیم نویری (الجزائر) کا، عنوان تھا:’’الاطفال الموهوبون ومدى حاجتهم إلى مربين أكفاء‘‘  (فطری صلاحیتوں سے مالا مال بچوں کو لائق وفائق تربیت کرنے والوں کی کتنی ضرورت ) اس میں ایک معلمہ کا قصہ بیان کیا گیا ، جنہوں نے بظاہر ایک معمولی بچہ کو اپنی حوصلہ افزائی سے بام عروج تک پہنچا دیا۔مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایک اچھے استاد کی پہچان صرف یہ نہیں کہ وہ اپنے مضمون کا ماہر ہو، بلکہ ایک حقیقی استاد وہ ہے جو طالبعلم کے اندر کچھ کر گزرنے کی امنگ پیدا کردے،اور اس کو اس کی اہمیت کا احسا س دلادے۔ ۱۹۷۴ء میں ایلزبتھ سائلنس بلارڈ نے پہلی بار یہ واقعہ ہوم لائف میگزین کیلئے لکھا ، پھر یہ مشہور ہوا اور حوصلہ افزائی کی طاقت اس کا عنوان بن گیا، قصہ یہ ہے:
 پانچویں جماعت کے طلبہ کے سامنے ایک سینئر ٹیچر مسز تھامسن کھڑی ہوئیں، اسی دن تعلیمی سال کی ابتدا ہورہی تھی۔ انہوں نے طلبہ کے سامنے ایسے محبت بھرے جملے اپنی زبان سے ادا کئے کہ انکے دل جیت لئے، کہا:’’میں آپ سب سے محبت کرتی ہوں، آپ میرے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، آپ کی تعلیم وتربیت اور دیکھ ریکھ کی ذمہ داری میں نے اپنے کاندھوں پر لی ہے‘‘، یہ سب کہتے ہوئے انہوں نے دل ہی دل میں اپنے سامنے تیسری قطار میں بیٹھے   ایک طالب علم کو مستثنیٰ کرلیا ، اور اسکے متعلق  ایک الگ  رائے بنالی تھی جس کا نام تھا ٹیڈی اسٹوڈرڈ۔مسز تھامسن نے پایا کہ یہ دوسرے بچوں کیساتھ کھیلتا نہیں، اس کے کپڑے بھی ہمیشہ میلے  رہتے ہیں، اور اکثر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسے غسل کی ضرورت ہے، خوشی اسے چھو کر نہیں گئی، اسکی  لاپروائی کو دیکھتے ہوئے مسز تھامسن کو تو اسی میں مزا آنے لگا تھا کہ اسکی کاپیوں کی تصحیح کرتے ہوئے لال قلم چلا دیں،  صفحہ کے اوپر لکھ دیں:’ فیل‘۔
 جس اسکول میں تھامسن کام کرتی تھیں وہاں اساتذہ سے طلبہ کے پرانے ریکارڈ چیک کرنے کو بھی کہا جاتا تھا۔ عام طور سے استانی جی اس بچہ کی کاپی سب سے نیچے رکھ دیتی تھیں، اس بار اس کی مکمل فائل دیکھنے کا موقع ملا، ان کو جھٹکا لگا جب اچانک ان کی نگاہ ٹیڈی کے امتحانات کی کاپیوں پر پڑی، یہ ٹیڈی کی پرانی کاپیاں تھیں، پہلی جماعت کے کلاس ٹیچر نے اس کی کاپی پہ لکھا تھا:’’یہ ایک ذہین وفطین بچہ ہے، نیک دل معلوم ہوتا ہے، بڑی توجہ ، انہماک  اور ڈسپلن کے ساتھ اپنا کام انجام دیتا ہے، اسکے ساتھ  وہ ایک خوش اخلاق طالبعلم بھی ہے‘‘،دوسری جماعت کے کلاس ٹیچر نے لکھا تھا:’’یہ ایک شریف طبیعت، اور اپنی جماعت کے ساتھیوں کے نزدیک ایک محبوب طالب علم ہے، لیکن اس کی والدہ چونکہ ایک لا علاج بیماری میں مبتلا ہیں؛ اسلئے  افسردہ خاطر اور اندر ہی اندر پریشان رہتا ہے، گھریلو زندگی میں الجھنوں کا سامنا ہے‘‘،تیسری جماعت کے کلاس ٹیچر نے لکھا تھا: ’’ماں کی موت کا اس بچہ کی نفسیاتی کیفیت پر گہرا اثر پڑا ہے، اس نے بڑی محنت کی، لیکن والد کی بے ترتیب زندگی اور ان کی تعلیم وتربیت سے لاپرواہی نے اس کو پیچھے دھکیل دیا ہے، اگر اس طرف فوری توجہ مبذول نہ کی گئی تو گھر کا ماحول اس بچہ کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب کرسکتا ہے‘‘ ، چوتھی جماعت کے کلاس ٹیچر نے لکھا:’’ یہ ایک لاپروا اور اپنی ذات میں مگن رہنے والا طالبعلم ہے، نہ اس کو پڑھنے سے زیادہ دلچسپی ہے اور نہ اس کے زیادہ دوست ہیں، کبھی کبھی تو دوران درس ہی سو جاتا ہے۔‘‘
 یہ ملاحظات پڑھ کر تھامسن صاحبہ کو اپنی غلطی کا ادراک ہوا، اور یہ معلوم ہوسکا کہ حقیقی مشکل کیا ہے؟ وہ اپنے آپ میں ہی شرمندہ ہوئیں اور اس بچہ کے ساتھ کئے گئے ناروا سلوک پر ان کا ضمیر ان کو ملامت کرنے لگا، اس وقت اور زیادہ عجیب سا لگا جب تھامسن کو ان کی سالگرہ  پر طلبہ تحفے دے رہے تھے، اور ٹیڈی ایک عام سا لفافہ تھامسن کی خدمت میں پیش کرتا ہے، تھامسن کو بڑا گراں گزرتاہے کہ یہ کیا لے کر آگیا! دوسرے بچے اتنے خوبصورت، پرکشش، اور بیش قیمت تحائف لائے ہیں، اور ایک یہ بد ذوق اور اس کا بیکار سا تحفہ کا پیکٹ، جب کھولا تو ایک معمولی سا ہار تھا اور پرفیوم کی آدھی ادھوری مستعمل شیشی، جس میں چند قطرے ہی عطر کے رہ گئے تھے، بچے دیکھ کر ہنس پڑے، لیکن اس وقت اچانک سب پر سکتہ طاری ہوگیا جب تھامسن نے اس ہار کی تعریف کی   اور اسے پہن لیا اور پرفیوم بھی ہتھیلی پر مل لی، آج یہ بچہ تھامسن سے ملاقات کے لئے رکا رہا، اور جب سامنے آیا توبے اختیار بول پڑا:’’ ٹیچر! آج آپ سے مجھے اپنی ماں کی خوشبو آرہی ہے‘‘، تھامسن کو یہ سن کر رونا آگیا، اور وہ دیر تک روتی رہیں؛اسلئے کہ اس بچہ نے وہ شیشی لائی تھی جس سے اس کی ماں پرفیوم لگاتی تھیں، اورٹیڈی کو اپنی استانی سے ماں کی خوشبو ملی تھی، تھامسن نے طے کیا کہ ٹیڈی کی کلاس میں اور بھی کئی مضامین وہ خود پڑھائیں گی، اور اس طالب علم پر خصوصی توجہ دینی شروع کی، ان کو محسوس ہونے لگا کہ اس کی ذہانت واپس آرہی ہے، اور اس کی سرگرمیوں میں مثبت تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔
 ٹیڈی نے ہائی اسکول کیلئے دوسرے اسکول کا رخ کیا،ایک سال کے بعد اس طالب علم کا ایک خط تھامسن کے لیٹر باکس میں پڑا تھا جس میں لکھا تھا:’’ آپ سے بہتر استاد مجھے زندگی میں کوئی نہیں ملا‘‘، لیکن اس کے بعد ۶؍ سال گزر گئے، کوئی رابطہ نہیں رہا، پھر اس کا خط ملا کہ’’ اس نے ہائی اسکول تیسری پوزیشن سے مکمل کر لیا، اور اب تک اس کی زندگی میں تھامسن سے بہتر استاد نہیں آیا‘‘، چار سال کے بعد لکھا:’’ کالج میں ہوں، سخت مشکلات سے گزرکر حصول علم میں مصروف ہوں لیکن  آپ سے بہتر کوئی نہیں ملا‘‘،کئی سالوں کے بعد لکھا:’’ کالج کے بعد یونیورسٹی سے وابستہ ہوگیا تھا، اور سوچا مزید پڑھ لوں، ویسے اب تک آپ سے بہتر کوئی استاد نہیں ملا‘‘، اس بار دستخط میں صرف ٹیڈی نہیں لکھا تھا بلکہ نام میں ڈاکٹر کا سابقہ لگ چکا تھا ،’’ڈاکٹرٹیڈی اسٹوڈرڈ‘‘،کچھ دنوں بعد موسم بہار میں خط آیا کہ شادی کرنے جارہا ہوں، جیسا کہ آپ سے بتایا تھا دو سال قبل والد کا انتقال ہوگیا، آپ کی سرپرستی میں شادی کروں گا، آپ میری والدہ کی جگہ پر تشریف لائیں، تھامسن نے فوراً’بیٹے‘ کی دعوت قبول کرلی اور وہی ہار پہن کر آئیں جو تحفہ میں آج کا یہ نوشہ برسوں قبل ان کو دے گیا تھا،اور اس کرسی پر جلوہ افروز ہوئیں جو دولہے کی ماں کیلئے خاص ہوتی ہے۔ تقریب کے آغاز سے قبل ڈاکٹر ٹیڈی اسٹوڈرڈ نے کہا: ’’استانی جی! آپ کا شکریہ کہ آپ نے  مجھے اہمیت دی،اور مجھے میرے اہم ہونے کا احساس دلایا،اور یہ کہ میں زندگی میں ایک کامیاب انسان بن سکتا ہوں‘‘،مسز تھامسن نے آبدیدہ ہوکر جواب دیا:’’ بیٹے! حق تو یہ ہے کہ تم نے  مجھے یہ سیکھایا کہ میں کیسے ایک کامیاب استاد بن سکتی ہوں! مجھے تم سے مل کر ہی اندازہ ہوا کہ میں اپنے طلبہ وطالبات کو کیسے سمجھوں! اور ان کے ساتھ کیسا رویہ اختیار کروں!‘‘ یہ بچہ جسے مسز تھامسن نے تیار کیا تھا،یہ کوئی اور نہیں مشہور نامور ڈاکٹر ٹیڈی اسٹوڈرڈ تھے ،جو کینسر کے علاج کے لئے امریکہ میں ایک مشہور اور کامیاب نام تھا۔ زندگی ایسے ہزاروں واقعات سے بھری ہوئی ہے جن میں اگر ہم سچائی کےساتھ غور کریں تو وہ ہمیں بہت کچھ سیکھا جاتے ہیں، ایک دانا وفرزانہ انسان چھلکوں پر قناعت نہیں کرتا اس کی نظر میں گودے اہم ہوتے ہیں، صرف ظاہر نہیں، باطن بھی، صرف صورت نہیں، سیرت بھی، ایک کامیاب اور باکمال مربی کا فرض ہے کہ وہ طلبہ کے سلسلہ میں رائے قائم کرنے سے پہلے بچوں کے جذبات واحساسات اور ان کے معیار واطوار کے سلسلہ میں کارفرما عوامل پر غور کرلے، اور یہ کہ کون سی چیزیں ان کی شخصیت پر مثبت اور منفی طور پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، کوئی بچہ پیدائشی طور پر کامیاب یا ناکام یاشریف یا شریر نہیں ہوتا، ایک جینیس استاد وہ ہے جو بچوں کی نفسیات کو سمجھ سکے اور اس کی شخصیت کے تشکیلی عناصر پر نظر کرسکے، استاد کا کام صرف پڑھانا اور فیل یا پاس کرنا نہیں،اس کو ایک باپ اور ایک ماں جیسی محبت دینے کی کوشش کرنااور جوہر قابل کو پہچان کر باکمال بنانا ہے، اور ہر طالب علم کی اس داخلی آوازکو سننا ہے کہ:
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK