Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروفیسر شپ ،پی ایچ ڈی کیلئے اہلیتی امتحان ’ نیٹ‘ کی تیاری ایسے کریں

Updated: June 29, 2022, 11:47 AM IST | Ataur Rahman Noori | Mumbai

یو جی سی نیٹ قومی سطح کا امتحان ہےجو  پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو یونیورسٹی میں ’پروفیسر‘ بننے کا اہل بناتا ہے اور پی ایچ ڈی میں داخلہ فراہم کراتا ہے۔

In the past, net exams were taken on M-Archive, but now it has been made computer-based.Picture:INN
ماضی میں نیٹ امتحان ’او ایم آر ‘شیٹ پر لیا جاتا تھا مگر اب اسے کمپیوٹر بیسڈ بنا دیا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

یو جی سی نیٹ قومی سطح کا امتحان ہےجو  پوسٹ گریجویٹ طلبہ کو یونیورسٹی میں ’پروفیسر‘ بننے کا اہل بناتا ہے اور پی ایچ ڈی میں داخلہ فراہم کراتا ہے۔ اس امتحان کے ذریعہ یہ طے کیا جاتا ہے کہ ایک طالب علم درس و تدریس اور تحقیق کے لئے اہل ہےیا نہیں۔ یہ امتحان پوسٹ گریجویٹ میں شامل ۱۰۱؍مضامین پر لیا جاتا ہے ۔ کووڈ۱۹؍وباء کی وجہ سے دسمبر۲۰۲۱ء اور جون ۲۰۲۲ء کا امتحان مشترک طور پر لیا جا رہا ہے۔ لاک ڈائون کے سبب پوسٹ گریجویشن کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے ،  طلبہ کے مطالعہ اور ذوقِ مطالعہ میں کچھ حد تک کمی واقع ہوئی ہے، اسلئے  ذیل میں ایسے نکات کو قلمبند کیا جا رہا ہے جن پر عمل پیرا ہوکر طلباء و طالبات اس امتحان کی تیاری بہتر انداز میں کر سکتے ہیں۔ 
 نصاب کو سمجھیں:  اس امتحان میں ۲؍ پیپرز ہوتے ہیں۔ پہلا پیپر جنرل ہوتا ہے جس کا نصاب تمام مضامین کیلئے یکساں ہوتا ہےاور دوسرا پیپر طالب علم کے مضمون سے تعلق رکھتا ہے۔ منصوبہ بندی اور امتحان کی مکمل تیاری کیلئے   نصاب کو سمجھیں۔ نصاب سے آگاہی کے بعد اپنے مضمون کے مطابق کتاب کا انتخاب کریں۔اگر آپ اپنے نصاب سے بخوبی واقف ہیں اور  تیاری کےلئے  صحیح کتاب موجودہو تو آپ اپنا منصوبہ بہتر طریقے سے بناسکتے ہیں اور اچھی تیاری کر سکتے ہیں۔ 
تیاری جلد شروع کریں: اکثرطلبہ  امتحان کی تاریخ قریب آنے کے وقت تیاری شروع کرتے ہیں ، اس سے ان کا نصاب مکمل نہیں ہو پاتا ہے۔ اگر کسی طرح وہ مکمل نصاب پڑھ بھی لیں تو انہیں اعادہ کا موقع نہیں ملتا  ۔ ایسے طلبہ بہت عجلت میں نصاب پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں  اور نصاب کی گہرائی و گیرائی اور کانسپٹ کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ کانسپٹ سمجھ میں نہ آنے کی وجہ سے سوالیہ پرچے کے آسان سوالات بھی سمجھ میں نہیں آتے ہیںاور امتحان کے دباؤ کی وجہ سے پڑھا ہوا نصاب بھی ذہن سے اوجھل ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا کم سے کم ایک سال یا ۶؍ ماہ قبل امتحان کی تیاری شروع کردینی چاہئے۔ 
نوٹس بنائیں:راقم کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ زیادہ تر لوگ دوسروں کے نوٹس پڑھتے ہیں۔ دوسروں کے تجربوں سے فائدہ اُٹھانا زندگی کے سفر میں بہتر ہے مگر امتحانی نقطۂ نظر سے اس میں کچھ دشواریاں ہوتی ہیں۔جیسے: جس شخص نے بھی نوٹس بنایا ہے اس نےاُسے اپنی دماغی صلاحیت کے مطابق بنایا ہوگا ،ضروری نہیں کہ اُس نوٹس کو پڑھنے والےطلبہ کا ’آئی کیو لیول‘ بھی یکساں ہو۔ اسلئے   مناسب یہ ہے کہ پہلے براہِ راست نصابی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے اور ان کی مدد سے اپنے   نوٹس بنائے جائیں۔ راقم نے خود اس امتحان کی تیاری کے وقت ذاتی نوٹس بنائے  جسے ’’ معروضی ادب پارے ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع کیا گیا  ۔ اس کتاب کا اینڈرائیڈ ایپ  بھی بنایا گیا ہے جسے پلے اسٹور سے مفت میں ڈائون لوڈ کیا جا سکتا ہے۔
 ترجیحات طے کریں: امتحان ہال میں بیشترطلبہ  تذبذب کا شکار ہوتے ہیں کہ سوالیہ پرچے میں کون سا موضوع پہلے حل کرناچاہیے؟ امتحان گا ہ میں آپ مکمل پیپر کا مطالعہ کریں، اُس کے بعد آپ اُن یونٹس اور عناوین کا انتخاب کریں جو آپ کے پسندیدہ اور آسان ہیں۔اگر آپ نے پہلے مشکل موضوع منتخب کر لیا اور آپ خود کو جواب دینے کا اہل نہ پائیں تو آپ کی ہمت پست ہوگی ، ذہنی تنائو ہوگا جس کی وجہ سے معلوم جوابات بھی ذہن سے اوجھل ہونے لگتے ہیں۔ اس کے برعکس آپ اپنے پسندیدہ موضوعات پر پوچھے گئے سوالات کو حل کرتے ہیں تو آپ کا عزم و حوصلہ مزید بڑھے گا۔ پسندیدہ یونٹس کے سوالات کو آپ کم وقت میں حل کر سکتے ہیں ، یہی بچا ہوا وقت آپ مشکل سوالات کو حل کرنے پر صرف کریں۔ 
وقت کا توازن :۱۸۰؍ منٹ میں آپ کو ۱۵۰؍سوالات حل کرنے ہیں ،اسلئے  آپ کو زیادہ سے زیادہ مشق کرنا ہوگی تاکہ آپ بروقت صحیح رفتار کے ساتھ درست جوابات کی نشاندہی کر سکیں۔ اس امتحان میں کامیابی کے لئے آپ کو صد فیصد نمبرات حاصل کرنا ضروری نہیں ہے بلکہ کٹ آف کی امکانی منزل کو عبور کرنا ہے، اسلئے  متوازن رفتار سے سوالات حل کرنے کی مشق کریں۔
درست جوابات پر توجہ : طلبہ کوچاہیے کہ وہ تمام سوالات حل کرنے کی بجائے ’’ اَکیورسی‘‘ پر توجہ مرکوز کریں۔ بعض طلبہ ’درست جوابات‘ پر توجہ دینے کی بجائے تمام سوالات کو حل کرنے کی فکر کرتے ہیں ، اس سبب سے ان کے وہ جوابات بھی غلط ہو جاتے ہیں جنہیں  تھوڑی توجہ سے حل کیا جا سکتا ہے۔ اسلئے  آپ رفتار کے ساتھ وقت کے توازن اور جوابات کی درستگی پر توجہ دیں۔ کئی بار طلبہ عجلت میں زیادہ سوالات حل کرتے ہیںاور امتحان کے بعد انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے مکمل پرچہ حل کیا ہے ، جبکہ انہوں نے درجنوں جوابات کی غلط نشاندہی کی ہوتی ہیں۔ اسلئے ’ اَکیورسی‘ کا ہونا بہت زیادہ ضروری ہے ۔ 
وقفہ لیں: طلبہ کو چاہیے کہ اس امتحان کی تیاری ایک سال یا چھ ماہ قبل شروع کریں۔امتحان کی تیاری کیلئے آپ کے پاس مکمل خاکہ اور منصوبہ ہونا چاہیے۔ آپ کےاس  منصوبے میں پڑھائی کے درمیان  وقفہ ہونا ضروری ہے ۔ وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے آپ کے ذہن اور صحت پر منفی اثر ہوگا۔ امتحان کی تیاری کے ساتھ  ساتھ نمازکی ادائیگی ، صبح کی سیر ، ورزش ، دوستوں سے بات چیت  وغیرہ بہت ضروری ہے۔اسلئے زندگی میں توازن برقرار رکھیں۔ 
نظرثانی اور اعادہ: لاک ڈائون میں بیشتر اُمیدواروں کی پوسٹ گریجویشن کی پڑھائی متاثر ہوئی ، اسلئے طلبہ کو چاہیے کہ نصاب کا مطالعہ کریں، شامل نصاب کتابوں پر نظر ثانی کریںاور مطالعہ کا اعادہ کریں۔ شروع سے آخر تک ہر باب اور اس میں دئیے  گئے ذیلی عناوین پر نظر ثانی کریں۔ ایک حکمت عملی بنائیں کہ آپ کو ایک دن میںکون سا باب اورکون سے ذیلی عنوانات کا مطالعہ کرنا ہے،یوں مقررہ وقت پر نصاب مکمل کر سکتے ہیں۔ 
کمزور عنوانات پر توجہ : مطالعہ کے بعد بھی اگر آپ کسی موضوع کو بھول رہے ہیں تو اس کمزوری کو دور کرنے کی حتی الامکان کوشش کریں۔ ایسے میں ضروری ہوجاتا ہے کہ آپ اپنی کمزوریوں کو جانیں اور انہیں دور کرنے کے لئے  لائحہ عمل بنائیں۔ بروقت منصوبہ بندی ہی آپ کو امتحان کے لئے لائق اُمیدوار بنا سکتی ہے۔ 
گزشتہ سال کے پرچوں کو حل کریں:  ہر امتحان میں پچھلے برسوں کے سوالیہ پرچے حل کرنا بیحد مفید و کارگر ثابت ہوتا ہے ۔یو جی سی نیٹ کے بہت زیادہ پرانے سوالیہ پرچوں کو حل کرنے سے گریز کریں ، اسلئے کہ جون۲۰۱۹ء میں نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے نئے نصاب کو نافذ کیا ہے۔ طلبہ جون۲۰۱۹ء کے بعد کے پرچوں کو حل کریں تاکہ انہیں سوالات پوچھنے کے طریقے ، اہم یونٹس کی معلومات اور مطالعہ کی گہرائی و گیرائی کا اندازہ ہو سکے۔سوالیہ پرچوں کو’ ٹائمر‘ لگا کر حل کریں تاکہ وقت کے توازن اور رفتار کا علم ہو جائے۔ اس طرح مکمل نصاب پر نظر ثانی اور تمام عنوانات کا احاطہ بھی ہو جائے گا اور اس بات کا بھی علم ہو جائے گا کہ کس باب سے کتنے اور کس طرز کے سوالات پوچھے جاتے ہیں۔ 
ماک ٹیسٹ کی مدد:  ماضی میں یہ امتحان ’او ایم آر ‘شیٹ پر لیا جاتا تھا مگر اب اسے کمپیوٹر بیسڈ بنا دیا گیا ہے۔ اُردو مضمون سے تعلق رکھنے والے اکثر طلبہ ’کمپیوٹر فرینڈلی‘ نہیں ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ایسے اسٹوڈنٹس متعینہ مدت میں مکمل پیپر حل کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔خود کی اہلیت، مطالعہ کی وسعت اور کمپیوٹر کی کمزوری کو دور کرنے کے لئے’ ماک ٹیسٹ‘ بہت ضروری ہوتا ہے۔ امتحان سے پہلے کم از کم ۵؍ سے۱۰؍ ٹیسٹ ضرور دیں۔ ماک ٹیسٹ بالکل امتحان کی طرح ہوتا ہے ، اس کے ذریعے آپ ایگزام ہال کا تجربہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ماک ٹیسٹ کے لئے آپ این ٹی اے کی آفیشیل ویب سائٹ سے مدد حاصل کریں۔ 
دباؤ میں نہ آئیں:   جیسے ہی امتحان کی تاریخ قریب آتی جاتی ہے طلبہ پر دباؤ بڑھنا شروع ہوجاتا ہے، انہیں  اس دباؤ سے بچنے کی ضرورت ہے۔  اگر آپ پر سکون دل و دماغ کے ساتھ امتحان ہال میں جاتے ہیں توآپ میں اور کامیابی کے درمیان فاصلہ تھوڑا سا کم ہوجائے گا۔ اُمید قوی ہے کہ ان نکات کی مدد سے آپ امتحان کی بہتر تیاری کریں گے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK