بچوں کی تربیت مشکل ترین مرحلہ مگر ناممکن نہیں

Updated: October 01, 2020, 12:07 PM IST | Inquilab Desk

بچوں کی بہتر تربیت کا دارومدار ماں پر ہوتا ہے۔ ماں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کس انداز میں بچے کی تربیت کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں بچوں کو لاڈ و پیار کے ساتھ ساتھ توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ماں کو چاہئے کہ وہ بچے کی عمر اور سمجھداری کے مطابق ان کے ساتھ رویہ اختیار کریں

Family - Pic : INN
بچوں کو ماں باپ کا قیمتی وقت چاہئے ہوتا ہے، انہیں ضرور دیں

بچے کی پرورش اور اس کی تعلیم و تربیت، ایک ماں کے لئے انتہائی اہم ذمہ داری ہے کیونکہ اسی تربیت پر بچے کے مستقبل کا دارومدار ہوتا ہے لیکن ماں کے لئے یہ کام اس صورت میں مزید دشوار ہوجاتا ہے کہ جب اس کے پاس سسرال اور میکے والوں کی جانب سے پیش کئے جانے والے مشوروں کا انبار موجود ہو۔ یہی نہیں بلکہ ٹی وی اور مختلف رسائل میں بچوں کی تربیت کے موضوع پر ماہرین کے تجویز کئے ہوئے مشورے بھی اس کے ذہن میں گردش کرتے رہتے ہوں۔ ایسے میں ماں کے لئے یہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت کے لئے اسے کون سا انداز اختیار کرنا چاہئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ فیصلہ صرف ایک ماں ہی کرسکتی ہے کہ اسے اپنے بچے کی تعلیم و تربیت کس انداز سے کرنی ہے کیونکہ بچے کو اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ لہٰذا آپ بھی یہ فیصلہ خود ہی کریں، البتہ اس سلسلے میں درج ذیل باتوں کو مد ِ نظر رکھیں تو یقیناً آپ کو سہولت رہے گی۔
وقت کے ساتھ ساتھ چلنا سیکھیں
 بچوں کی پرورش کے لئے کوئی ایک لگا بندھا اصول مقرر نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ ایسا خوشگوار سفر ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ جاری رہتا ہے لہٰذا والدین، خصوصاً ماں کو اس بات پر غور کرتے رہنا چاہئے کہ موجودہ حالات کے تحت اسے اپنے رویے میں کون سی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہےجو بچوں کے حق میں ساز گار ثابت ہوسکیں۔ بچے عمر کے ساتھ جوں جوں عمر کے مختلف ادوار میں داخل ہوتے ہیں، اس کی ضروریات بدلتی رہتی ہیں۔ اسی لحاظ سے ایک ماں کے فرائض کی نوعیت میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں۔ بچہ شیر خوار ہو، اسکول جانے کی عمر کا ہو جائے یا نوجوانی کی دہلیز پہ قدم رکھ چکا ہو، اسے ہر دور میں ماں کی توجہ درکار ہوتی ہے۔ تاہم اس توجہ کی نوعیت تھوڑی بہت بدل جاتی ہے۔
 مثال کے طور پر ایک سے تین سال کے بچوں کے ساتھ ماں لاڈ اور پیار ہی کرسکتی ہے۔ چار سے آٹھ سال تک کے بچے کو ماں کے لاڈ پیار کے ساتھ کھیل کود میں بھی اس کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسی طرح آٹھ سے بارہ سال کے بچوں کو ماں کے لاڈ پیار اور کھیل کود کے ساتھ توجہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس عمر کے بچوں کے ساتھ ماں کا بیٹھنا اور ان کو دنیا کی اونچ نیچ سمجھانا ضروری ہوجاتا ہے۔ بارہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کو ماں کے روپ میں ایک بااعتماد دوست کی ضرورت ہوتی ہے جس کے ساتھ وہ تمام باتیں اور خیالات شیئر کرسکیں جو ان کو باہر کی دنیا بتا اور دکھا رہی ہے۔
سارے بچے ایک جیسے نہیں ہوتے
 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اگر آپ دو بچوں کی ماں ہیں تو باوجود اس کے کہ وہ دونوں آپ ہی کے جگر گوشے ہیں، ان کا مزاج اور عادات ایک دوسرے سے قدرے الگ ہوں گی۔ لہٰذا اگر ایک بچہ تیز مزاج کا مالک ہے اور جلدی غصے میں آجاتا ہے جبکہ دوسرا دھیمی طبیعت رکھتا ہے تو ظاہر ہے کہ آپ ان دونوں کو ان کے مزاج کے مطابق ہی ڈیل کریں گی اور موقع محل کے لحاظ سے اپنا رویہ کبھی نرم تو کبھی ذرا سخت رکھیں گی، تب ہی بات بن سکے گی۔
 ایک نہایت اہم تربیتی مرحلہ جسے بہت سی مائیں نظر انداز کرتی ہیں وہ اپنے بچوں کی شخصی تربیت ہوتی ہے۔ اگر آپ کا ایک بچہ کمزور اور ایک صحتمند ہوتو صحتمند کے سامنے کمزور کو طعنوں کا نشانہ نہ بنائیں اور نہ ہی مہمانوں کے سامنے ایک غیر مہذب ماں کی طرح ایسی باتیں دہرائیں کہ یہ تو کچھ کھاتا ہی نہیں ہے اور یہ کہیں کہ میں تو اس کو دیکھ دیکھ کر پریشان ہوتی رہتی ہوں اور یہ کتنا کمزور ہوگیا ہے۔
 اس مثال کو اپنے بچوں کی بری عادت، کمزوریوں، شرمیلے پن اور اعتماد کی کمی جیسی چیزوں پر فٹ کرلیں اور ایک ایک کرکے انہیں بہتر کریں دوسروں کے سامنے ہمیشہ اپنے بچوں کی تعریف کریں اور تنہائی میں اس کا حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ اپنی اس کمزوری پر قابو پاسکے۔ اگر ایک بچہ آپ کا زیادہ خیال رکھتا اور زیادہ پیار کرتا ہے اور ہر وقت آپ کی فکر کرتا ہے اور آپ کے دکھ سکھ کا ساتھ ہے اور دوسرا بچہ بدتمیز ہے اور آپ کی بالکل پروا نہیں کرتا تو غور کیجئے… کہیں اس کا سبب آپ خود تو نہیں ہیں؟
مشاہدے سے کام لیں
 یہ درست ہے کہ کچھ بھی سیکھنے کے ضمن میں آپ کا تجربہ بہت اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم جب آپ پہلی بار ماںح بنتی ہیں تو اس مرحلے پر آپ کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہوتا، لہٰذا تب آپ کو اپنے مشاہدے سے کام لینے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اس لئے اپنے قریبی رشتے داروں اور سہیلیوں کے طریقوں پر نظر ڈالیں کہ وہ اپنے بچوں کی پرورش اور تربیت کیسے کرتی ہیں۔ ان کے طور طریقوں سے آپ یقیناً بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں اور اپنی سہولت کے مطابق ان طریقوں میں سے کچھ ترکیبیں اخذ کرکے اپنا مقصد پورا کرسکتی ہیں۔
 ماں اپنے بچوں کے لئے سب سے زیادہ قربانی دیتی ہے اور ان قربانیوں میں سے سب سے بڑی قربانی اس کا اپنا وقت ہوتی ہے جو وہ اپنے بچوں پر نچھاور کردیتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK