بیٹیوں کے ساتھ بیٹوں کی تربیت بھی ضروری

Updated: January 21, 2020, 3:07 PM IST | Dr Sharmeen Ansari

بیٹی ہو یا بیٹا دونوں ہی کیلئے بہتر تربیت ضروری ہے۔ انہی سے قوم کا مستقبل روشن ہے۔ لہٰذا اس تعلق سے غفلت برتنا معاشرے کیلئے نقصاندہ ہے۔ اس مضمون میں چند نکات دیئے جارہے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر لڑکیوں کیساتھ لڑکوں کی تربیت پر بھی خصوصی توجہ دی جاسکتی ہے

بیٹیوں کے ساتھ بیٹوں کی تربیت بھی ضروری
بیٹیوں کے ساتھ بیٹوں کی بھی تربیت ضروری ۔ تصویر : آئی این این

بیٹے اور بیٹیاں دونوں ہمارے گھر اور ہمارے معاشرے کا مستقبل ہیں، یہ دونوں ہماری اقدار اور تہذیب کا ستون ہیں۔ اگر اس میں سے ایک بھی ستون کمزور پڑ گیا تو ہماری تہذیب و تمدن کی عمارت مسمار ہو جائے گی اس لئے ہمیں لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کی جانب بھی بھرپور توجہ دینی ہے۔ ذیل میں چند نکات دیئے جارہے ہیں جن پر عمل پیرا ہوکر لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کی تربیت پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے
موازنہ نہ کریں 
  اکثر والدین یا گھر والے اپنے بچے کا مقابلہ اپنی بچیوں سے کرتے ہیں اور انہیں شرم دلاکر سدھارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ والدین یہ سمجھ لیں کہ اگر آپ اپنے بچے کا موازنہ دوسروں کے ساتھ کریں گے تو بچہ احساس کمتری کا شکار ہوجائے گا اور اس کی رہی سہی خوداعتمادی ختم ہوجائے گی اور وہ تنزلی کی طرف گامزن ہوجائے گا۔
صلاحیتوں کو نکھاریں
 اکثر والدین اپنے بچوں کے ساتھ بہت زیادہ اُمیدیں وابستہ کرلیتے ہیں اور بچوں سے ایسی خواہش کا اظہار کرتے ہیں جو ان کی استطاعت سے باہر ہو جس کے سبب بچے بلا وجہ ذہنی الجھن اور تناؤ کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں والدین کو چاہئے کہ وہ بچے میں موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور اسے پروان چڑھانے کی کوشش کریں۔
خوشگوار ماحول 
 اکثر گھر کے کشیدہ اور پر تشددماحول بھی بچوں کے کردار اور اخلاق پر برا اثر ڈالتے ہیں۔ خاص طور سے لڑکے گھر سے فرار اختیار کرکے اچھے برے دوستوں کی صحبت میں رہ کر خراب ہوجاتے ہیں، اس لئے گھر والوں کو چاہئے کہ گھر کا ماحول اس طرح بنائیں کہ بچے اس ماحول کے علاوہ دوسرے ماحول میں جانا ہی گوارا نہ کریں۔
وقت نکالیں 
 اکثر والدین یہ سمجھتے ہیں کہ بچے کھیل کود رہے ہیں، باہر گھوم رہے ہیں، دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں، وقت پر اسکول آجارہے ہیں، اس کا مطلب ان کی زندگی برابر گزررہی ہے۔ اکثر بچے اپنے والدین کا ساتھ چاہتے ہیں، وہ ان کے ساتھ وقت گزارناچاہتے ہیں تاکہ وہ اپنے مسائل اپنے والدین کے ساتھ شیئر کرسکیں۔ لیکن والدین کی مصروفیت کی وجہ سے وہ دلبرداشتہ ہوجاتے ہیں اور اپنے مسائل اپنے دوستوں کے ساتھ شیئر کرتے ہیں اور ان کے مشوروں پر عمل کرتےکے بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ نہ صرف اپنے بچوں کے لئے وقت نکالیں بلکہ ان کے ساتھ کھل کر بات چیت بھی کرے۔
تعریف کریں 
 بچے ہو یا بڑے ہرکوئی اپنی تعریف سننا پسند کرتا ہے اس لئے والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کی کامیابی اور ترقی کو سراہیں، جس کی وجہ سے ان کی خوداعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ بہتر سے بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ذمہ دار بنائیں
 اکثر بچوں کی بے راہ روی کی ایک بہت بڑی وجہ ان کا ذمہ دار نہ ہونا ہوتا ہے۔ اگر وہ خود اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں گے تو کبھی غلط راہ کا انتخاب نہیں کریں گے۔ اس لئے والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں کو ذمہ دار بنائیں۔ اگر وہ کچھ مشورہ دیں اور قابل قبول ہوتو اسے قبول کریں۔ اس طرح بچوں کا اعتماد بڑھتا ہے اوروہ بہت زیادہ ذمہ دار بنتے ہیں۔
مثبت باتیں کریں 
 اکثر والدین اپنے بچوں اور خاص طور سے اپنے لڑکوں کی بدتمیزیوں سے نالاں ہوکر ان سے کافی منفی انداز میں باتیں کرتے ہیں، مثلاً تو نالائق ہے، تو کچھ نہیں کرسکتا، نکماّ ہے، ہمارا نام خراب کرے گا، وغیرہ وغیرہ۔ اس طرح بچوں کے ذہن پر غلط اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بچے اپنے والدین کے کہے ہوئے کو ثابت کرنے لگ جاتے ہیں، اس لئے والدین کو چاہئے کہ بچوں سے ہمیشہ مثبت انداز میں باتیں کریں، مثلاً تم سب کچھ کرسکتے ہو، تمہارے لئے ہر کام ممکن ہے، تم ہمارا نام روشن کروگے۔
بھروسہ کریں 
 اکثروالدین اپنے بچوں پر بھروسہ نہیں کرتے جس کی وجہ سے بچے کا اعتماد متزلزل ہوجاتا ہے اور وہ بے راہ روی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں پر بھروسہ کریں اور ایسی تربیت دیں کہ وہ آپ کے بھروسے کو پامال نہ کرسکیں۔ 
جذبات کو سمجھیں 
 اکثر والدین اپنے بچوں کے جذبات اور احساسات کو سمجھے بغیر انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا شروع کر دیتے ہیں، جس کی وجہ سے بچے باغی اور خودسر ہوجاتے ہیں۔ والدین کے لئے ضروری ہے کہ وہ بچے کے احساسات کو جانیں، ان کے ساتھ دوستانہ ماحول میں باتیں کریں تاکہ بچہ خود ان کے ساتھ اپنے احساسات کو شیئر کرسکے۔
پُرخلوص محبت کریں 
 والدین کو چاہئے کہ اپنے بچوں سے پُرخلوص محبت کریں اور وقتاً فوقتاً اس محبت کا اظہار بھی کریں۔ بیٹا اور بیٹی دونوں میں کوئی فرق نہ کریں۔
 مندرجہ بالا باتوں پر عمل کرکے نہ صرف بیٹیاں بلکہ بیٹوں کی تربیت بھی بآسانی کی جاسکتی ہے۔

women Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK