• Tue, 20 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیوش گوئل نے سی بَک تھورن کو ’لداخ کا سونا‘ قرار دے دیا

Updated: October 20, 2026, 5:03 PM IST | New Delhi

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے لداخ میں پائے جانے والے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ پھل سی بَک تھورن (Sea Buckthorn) کو قدرت کا قیمتی تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں مقامی لوگوں کی روزی روٹی بہتر بنانے اور عالمی سطح پر صحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

Sea Buckthorn.Photo:INN
سی بَک تھورن۔ تصویر:آئی این این

مرکزی وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل نے لداخ میں پائے جانے والے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ پھل سی بَک تھورن (Sea Buckthorn) کو قدرت کا قیمتی تحفہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں مقامی لوگوں کی روزی روٹی بہتر بنانے اور عالمی سطح پر صحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے اس پھل کو ’لداخ کا سونا‘ قرار دیا، جو اپنی غیر معمولی غذائی خصوصیات اور وٹامنز کی بھرپور مقدار کے لیے جانا جاتا ہے۔پیوش گوئل نے منگل کے روز سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں سی بَک تھورن کو ہندوستان کے قدرتی ورثے کا سنہرا خزانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ لداخ کا جی آئی ٹیگ یافتہ یہ پھل مقامی آبادی کی معاشی حالت بہتر بنانے کے ساتھ صحت سے متعلق مصنوعات کی عالمی منڈی میں بھی نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔ پیوش گوئل نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی، جس میں لداخ کی تقریباً ۱۲؍ ہزار فٹ بلند وادیوں میں سی بَک تھورن کی کاشت اور اس کی قدرتی خصوصیات کو دکھایا گیا ہے۔ اپنے سنہری اور نارنجی رنگ کی وجہ سے یہ پھل ’لداخ گولڈ‘ کے نام سے بھی مشہور ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یوم آئین پر سماجوادی پارٹی کا انتخابی منشور جاری کرنے کا اعلان

ویڈیو میں بتایا گیا ہے کہ سی بَک تھورن انتہائی سرد اور دشوار گزار موسمی حالات میں بھی زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پھل میں موجود قدرتی اجزا اور اینٹی آکسیڈنٹس اسے غذائیت کے اعتبار سے اہم بناتے ہیں۔ویڈیو کے مطابق، سی بَک تھورن میں لیموں کے مقابلے میں تقریباً دس گنا زیادہ وٹامن سی پایا جاسکتا ہے۔ تاہم، وٹامن سی کی اصل مقدار پھل کی قسم، اس کے معیار اور تجزیے کے طریقے کے مطابق مختلف ہوسکتی ہے۔
 سی بَک تھورن لداخ کے مقامی لوگوں کے لیے روزگار اور آمدنی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس پھل کو مختلف غذائی اور صحت سے متعلق مصنوعات کی تیاری میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جن میں رس، مربہ، غذائی سپلیمنٹس اور جلد کی نگہداشت سے متعلق مصنوعات شامل ہیں۔اگر اس کی پیداوار، پروسیسنگ، پیکنگ اور مارکیٹنگ کو منظم انداز میں فروغ دیا جائے تو مقامی کسانوں، چھوٹے کاروباری اداروں اور خواتین کے خود روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اس کے علاوہ، معیاری مصنوعات کی تیاری اور بیرونی منڈیوں تک رسائی سے لداخ کی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔

یہ بھی پڑھئے:ٹائیگر شروف فائرنگ: ہندی فلم انڈسٹری میں قانون و انتظام کی صورتِ حال پر تشویش

سی بَک تھورن کو عالمی سطح پر قدرتی غذائی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی طلب سے فائدہ اٹھانے کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس کی منفرد خصوصیات لداخ کو ایک مخصوص قدرتی پیداوار کے مرکز کے طور پر شناخت دلانے میں مدد دے سکتی ہیں۔ شیئر کی گئی ویڈیو میں لداخ آنے والے سیاحوں کو بھی سی بَک تھورن چکھنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس طرح یہ پھل علاقے کی قدرتی شناخت کے ساتھ سیاحت کے فروغ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ مقامی کھانوں اور قدرتی مصنوعات کو سیاحتی تجربے کا حصہ بنانے سے مقامی کاروبار کو فائدہ پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔پیوش گوئل نے اس سے قبل پیر کے روز پونے میں تیار کی گئی جے سی بی مشینوں کی پہلی کھیپ نیوزی لینڈ روانہ کرنے کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے بھارت کے مینوفیکچرنگ شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK