Inquilab Logo Happiest Places to Work

خاندان کو متحد رکھنے کیلئے کیا تدابیر اختیار کی جائیں؟

Updated: May 11, 2023, 10:29 AM IST | Saima Shaikh | Mumbai

گزشتہ ہفتے مذکورہ بالا عنوان دیتے ہوئے ہم نے ’’اوڑھنی‘‘ کی قارئین سے گزارش کی تھی کہ اِس موضوع پر اظہارِ خیال فرمائیں۔ باعث مسرت ہے کہ ہمیں کئی خواتین کی تحریریں موصول ہوئیں۔ ان میں سے چند حاضر خدمت ہیں۔

A family is united when every member of the household has love and respect for each other.
خاندان تب متحد ہوتا ہے جب گھر کا ہر فرد ایک دوسرے کے لئے محبت و احترام کا جذبہ رکھتا ہے۔

 محبت سے نفرت کو مٹا کر اتحاد قائم ہوسکتا ہے
خاندان سے مراد اس گھرانے سے ہے جو بہت عرصے پہلے دیکھنے میں آتا تھا۔ بڑا سا آنگن ہوتا تھا، بڑے بڑے کمرے ہوتے تھے، سارے لوگ اپنا کام کرتے تھے اور سبھی لوگ متحد رہتے تھے۔ مگر جوں جوں زمانہ ترقی کرتا گیا اور تعلیم، صحت اور معاشی میدان میں لوگ آگے بڑھتے گئے اور معاشی ضرورتوں کی خاطر لوگ اپنے وطن سے دوسری جگہ جاتے رہے اور نوکلیئر فیملی کا رجحان بڑھتا گیا۔ اب صرف رسم و رواج کی وجہ سے رابطہ بنا رہتا ہے۔ ان کے ذریعے ہی ہم فیملی کو جوڑے رہتے ہیں۔ البتہ قوت برداشت ختم ہوتی جا رہی ہے۔ لوگ دل میں خلش بٹھا لیتے ہیں جس کی وجہ سے خاندان کو متحد رکھنا بڑا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہو گیا ہے۔ پھر بھی نفرت کو مٹانے کیلئے محبت ضروری ہے۔ محبت ہی ایک ایسا تریاق ہے جو نفرتوں کے زہر کو مٹا کر اتحاد قائم کر سکتا ہے اور اس کیلئے ایثار اور قربانی کا جذبہ اور معاف کرنے کا جذبہ بہت ضروری ہے۔ معافی اللہ کی ایک صفت ہے۔ اگر ہم سب معاف کرنے کا شعار بنا لیں، ہر کسی کو معاف کرتے جائیں تو خاندان کو جوڑنا ممکن ہوسکتا ہے۔
نجمہ طلعت (جمال پور، علی گڑھ)
رات کا کھانا سب مل کر کھائیں


خاندان کو متحد رکھنا اشد ضروری ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ خاندان کا ہر فرد کوشش کرے۔ خاندان کے لوگوں میں محبت ہو تو خاندان کو متحد رکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ سب سے پہلے تو ہم اپنے گھر کے افراد سے شروع کرسکتے ہیں جس میں سب سے اولین کام یہ ہو کہ روزانہ کچھ وقت ساتھ گزاریں۔ مثال کے طور پر رات کا کھانا سب مل کر کھائیں۔ کھانا کھانے کے بعد دن بھر کی باتیں بتائیں۔ دوسرا طریقہ یہ ہے کہ مہینے دو مہینے میں کہیں گھومنے پھرنے کا پروگرام بنائیں۔ ساتھ مل کر گھومنے پھرنے سے زندگی کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ ایک چھوٹی لیکن اہم بات یہ ہے کہ کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت خاندان کے چھوٹے بڑے افراد سے مشورہ ضرور کریں۔ اس سے آپس میں محبت بڑھنے کے بہت امکان ہیں اور چھوٹے بچوں کے دل میں اپنے بڑوں کی عزت پیدا ہوتی ہے۔
ناہید رضوی (جوگیشوری، ممبئی)
’آن لائن‘ نہیں ’آف لائن‘ ملنے کی کوشش کریں
جس طرح باغ کا مالی اپنے باغیچے کی رکھوالی بڑے پیار سے کرتا ہے اور اس کی دلکشی بڑھاتا ہے با لکل اسی طرح خاندان کے مختلف افراد کو متحد رکھنے کیلئے ہمیں بھی ان کی پرورش بڑے پیار سے کرنی ہوگی۔سب کے مزاج الگ، عادتیں الگ، شکل و صورت الگ، پھر بھی انہیں ایک ساتھ جوڑے رکھنے کیلئے انہیں محبت سے سنبھالنا ہوگا۔ اچھائیوں کے ساتھ ساتھ برائیوں کو بھی گلے لگانا ہوگا۔ اچھے کا مو ں کے لئے حوصله افزائی اور غلطی ہوجانے پر درگزر کرنا ہوگا۔ آج کل برداشت کی قوت ختم ہو تی جا رہی ہےجس کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رشتوں میں مٹھاس برقرار رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کی اچھی بری عادتوں کو برداشت کریں۔ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ دوسروں کی خوشی کو ترجیح دیں۔ اپنے اندر خدمت کا جذبہ پیدا کریں۔ اپنوں کو وقت دیں۔ ’آن لائن‘ نہیں ’آف لائن‘ ملنے کی کوشش کریں، اس سے محبّت برقرار رہتی ہے۔ دین کی رسّی کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ اللہ سے دعا کریں، اللہ رشتوں میں ضرور برکت دے گا (آمین)۔
ساجدہ عبداللہ نائیک (جوگیشو ر ی، ممبئی)

چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کریں


خاندان کو متحد رکھنا بھی ایک ہنر ہے۔ اِس کیلئے صبر کا ہونا بہت ضروری ہے۔ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کو جس رشتے سے محبت ہوتی ہے تو اُس کی ہر بات اچھی لگتی ہے اور جو ناپسند ہوتا ہے اس پر بار بار تنقید کی جاتی ہے۔ اس وجہ سے رشتے کمزور پڑ جاتے ہیں۔ خاندان کو متحد رکھنے میں گھر کے بزرگوں کا بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔ گھر کے بڑوں کو کم بولنا چاہئے اور بار بار روک ٹوک کرنے سے بھی گریز کرنا چاہئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنے سے گھر کا ماحول بگڑتا نہیں ہے۔ ان تدابیر سے ہر رشتہ مضبوط ہوگا۔ کسی سے سنا ہے کہ سر پر برف اور زبان میں شکر رکھیں تو خاندان کا ہر فرد آپ سے جڑنا پسند کرے گا۔
شاہدہ وارثیہ (وسئی، پال گھر)
گھر والوں کی باتیں دل جمعی سے سنیں
کسی خاندان کے استحکام اور خوشگوار ہونے کیلئے ضروری ہے کہ خاندان کے افراد میں صبر و تحمل اور ایثار و قربانی کا جذبہ ہو۔ خاندان کو متحد رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ گھروالوں کو وقت دیں، چاہے ہمارے والدین ہو اولاد یا دیگر افراد۔ ہم ان کی سنیں، خوشی اور غم کی باتیں اور ہم خود کی تکلیف ان کو بتائیں کیونکہ ذہنی طور پر صحتمند رہنے کیلئے ایک خوشحال خاندان کا ہونا بیحد ضروری ہے۔ خاندان کے ساتھ رہنے اور ان سے بات کرنے سے تناؤ دور ہوتا ہے۔ اپنے خاندان کو متحد کرنے کیلئے سب سے ضروری اصول تو ہمارا یہ ہونا چاہئے جب بھی ہم اپنے والدین سے گفتگو کریں یا وہ ہم سے گفتگو کریں تو ہم پوری دل جمعی سے ان کو سنیں اور جب تک ان کے پاس ہیں موبائل فون سے دوری بنا کر رکھیں تاکہ ماں باپ اور ہمارے گھر کے افراد کو یہ احساس ہو کہ و ہ ہمارے لئے بہت ہی اہمیت کے حامل ہیں کیونکہ ہر رشتہ توجہ چاہتا ہے۔
عفت احسان (چکیا، یوپی)
گھر میں موجود بزرگوں کو تنہا نہ کریں


خاندان کو جوڑے رکھنے میں عورتوں کا خاص کردار ہوتا ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو ماں، بہن، بیوی یا بیٹی اُس میں صبر اور برداشت کا مادہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے اور رشتے نبھانے کیلئے یہ دونوں چیزیں بہت ضروری ہیں۔ گھر میں موجود بزرگوں کو تنہا نہ کریں، اُن کی اہمیت کو سمجھیں اور اپنے بچوں کو بھی سمجھائیں۔ بچوں کو اپنے نانا نانی اور دادی دادا کے ساتھ رہنے دیں۔ اُن کے ساتھ وقت گزارنے دیں اور اُن کی خدمت کی تلقین کریں۔ گھر آئے مہمانوں کا خندہ پیشانی سے استقبال کریں۔ چاہے وہ میکے والے ہوں یا سسرالی رشتہ دار ہوں ہر ایک کے ساتھ ہمارا سلوک یکساں ہونا چاہئے، اسے رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔
یاسمین محمد اقبال (میرا روڈ، تھانے)
رشتوں کا احترام کریں 
کسی بھی انسان کیلئے تنہا زندگی گزارنا تقریباً نا ممکن ہے۔ تنہا رہنے والا انسان کسی نہ کسی دن اکتاہٹ ضرور محسوس کرے گا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ نے انسانوں کو خاندانوں اور قبیلوں میں بانٹ دیا تاکہ وہ زندگی کی حقیقی خوشیوں سے لطف اندوز ہو سکیں۔ جہاں دو برتن ہوں آواز کرتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ ہم انسانوں کا ہے۔ خاندان میں یکجا رہتے ہوئے آئے دن ایک دوسرے سے الجھنامعمول ہے۔ ایسے میں متحد رہنے کیلئے ضروری ہے کہ آپسی تعلقات کو مضبوط بنایا جائے، چغلی و غیبت سے پرہیز ناگزیر ہے، رشتوں کو بچانے کی خاطر اگر جھکنا پڑے تو انا کو ٹھیس نہ لگے، ایک دوجے کے دکھ درد میں شریک ہونا لازمی امر ہے۔ یاد رکھیں رشتوں کے تقدس و احترام کو سمجھے بنا متحد رہنا مشکل ہو سکتا ہے، لہٰذا اپنے سے جڑے ہر رشتے کا دل سے احترام ہو تو رشتوں کی مٹھاس قائم رہتی ہے۔
سحر جوکھن پوری (جوکھن پور، بریلی)
ہر ایک سے دل سے ملیں


خاندان کو متحد رکھنے کیلئے جو نقطہ سب سے اہم ہے، وہ ایک دوسرے کو سمجھنا اور ایک دوسرے پر یقین کرنا ہے۔ موجودہ دور میں دوریاں اسی لئے بڑھ رہی ہیں کہ ہم نے ایک دوسرے کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے ایک دوسرے پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے۔ کسی نے کسی کے خلاف کچھ بھی غلط کہا ہم اس پر فوراً یقین کر لیتے ہیں بغیر یہ جانے کہ میرا بھائی یا بہن یا جو بھی ہو ایسی بات نہیں کر سکتا۔ فوراً اس پر اپنی رائے دے دیتے ہیں، یہ غلط ہے۔ اور کسی سے بھی کسی بھی چیز کا موازنہ بالکل نہ کریںبلکہ دوسروں کی خوشیوں میں خوش ہوں اور دل سے شریک ہوں، ہر ایک سے دل سے ملیں، جب ہماری طرف سے اتنی کوشش ہوگی تو سامنے والا بھی اچھا سلوک کریگا۔
فرح حیدر (اندرا نگر، لکھنؤ)
بدگمانیوں سے بچیںیوں تو ہر گھر میں ہی چھوٹی موٹی لڑائیاں اور جھگڑے ہوتے رہتے ہیں، لیکن اگر خاندان کو جوڑ کر رکھنا ہو تو چھوٹی چھوٹی بہت ساری باتوں کو درگزر کرنا چاہئے۔ لوگوں کی سنی سنائی باتوں پر کبھی بھی یقین نہیں کرنا چاہئے۔ بدگمانیوں سے بچنا چاہئے کیونکہ بعض دفعہ یہ بدگمانیاں کافی مہنگی پڑتی ہیں۔ گھر کے بعض معاملات اور چھوٹی موٹی باتیں مردوں کی پہنچ سے دور ہی رکھنا چاہئے کیونکہ جب ان پر اندر اور باہر دونوں جانب سے دباؤ پڑتا ہے تو وہ اپنے غصے پر کنٹرول نہیں کر پاتے اور گھر میں لڑائی جھگڑے کا ماحول بن جاتا ہے۔ مرد کا کام ہوتا ہے کمانا اور عورت کا کام ہے گھر کو چلانا۔ عورت ہی گھر کو سنوار بھی سکتی ہے اور عورت ہی گھر کو بگاڑ بھی سکتی ہے۔ عورتوں کو خود بھی سمجھداری سے کام لینا چاہئے اور آپس میں محبت سے رہنا چاہئے اور ہمارا مذہب بھی تو اسی کا درس دیتا ہے۔ خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں۔ 
سارہ فیصل (مئو، یوپی)

مثبت سوچ کو فروغ دیں
خاندان ایک سایہ دار شجر کی طرح ہوتا ہے جس طرح ایک مسافر سایہ دار درخت کے نیچے آکر اپنی تھکن بھول جاتا ہے اور سکون محسوس کرتا ہے بالکل اسی طرح انسان بھی خاندان میں رہ کر اپنے آپ کو محفوظ تصور کرتا ہے۔ خاندان کو متحد رکھنے کی ذمہ داری بزرگوں پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں چاہئے ہر بچے کو یکساں محبت دیں۔ خاندان کو متحد رکھنے میں مثبت سوچ کافی اہمیت کی حامل ہے۔ اگر ہم اپنے اطراف کے لوگوں کا جائزہ لیں تو یہ بات واضح ہوتی ہے۔ مثبت سوچ کے حامل افراد کی تعداد کم ہے بہ نسبت منفی سوچ کے۔ بہتر ہوگا کہ ہم اپنے اور اپنے بچوں کے اندر مثبت سوچ پیدا کریں۔ حرص، ہوس، لالچ اور نفرت و حسد کو اپنے دل سے ختم کریں۔ خاندان اپنے آپ متحد ہو جائے گا۔
فرزانہ بانو (مالیگاؤں، ناسک)
اچھی باتیں یاد رکھیں


خاندان کو متحد رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم خاندان کے تمام افراد کی عادتوں کو سمجھیں، ان سے ویسے ہی پیش آئیں جیسا کہ انہیں پسند ہے اور ان سے یہ امید نہ رکھیں کہ وہ بھی آپ کے ساتھ ایسا ہی برتاؤ کریں اور ہمیں سب کو ایک دوسرے مل جل کر رہنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ہمیشہ سارے لوگوں کی اچھی باتوں کو یاد رکھیں اور ہو سکے تو ساری بری یادوں کو بھلا دیا جائے تاکہ سبھی لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارنے میں مزہ آئیں اور وہ بے جھجھک ہو کر اپنی باتیں سب سے کہہ پائیں۔
صدف الیاس شیخ (تلوجہ)
ایکدوسرے کیساتھ وقت گزاریں
آج کی نئی نسل اپنے گھر والوں سے دور ہوتی جا رہی ہے اور اس کی ایک اہم وجہ موبائل فون کا بےجا استعمال ہے، موبائل فون کی وجہ سےگھر کے افراد ایک گھر میں رہنے کے باجود ایک دوسرے کے حالات سے بے خبر رہتے ہیں، جوکہ لمحہ فکریہ ہے۔ اس صورتحال میں ایسا طریقہ اپنانا چاہئے جس سے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے قریب آ سکیں جیسے کہ گھر کے سبھی لوگ ایک ساتھ کھانا کھائیں، ناشتہ کریں یا پھر کبھی کبھی چھٹی کے دن گھومنے کا پروگرام بنا لیں یا اگر گھر کا کوئی سامان لینا ہو تو سبھی سے ایک بار مشورہ کر لیں۔ اس سے سب کو اچھا لگے گا اور ہو سکتا ہے کہ ایک دوسرے کے قریب آئیں ۔ ایک دوسرے سے مختلف موضوعات پر بات کریں اور ان کی رائے قبول کریں۔
آیت چودھری (موتی گنج، سدھارتھ نگر، یوپی)
آپسی خلوص ضروری ہے


اس بات سے تو ہم سبھی اچھی طرح واقف ہیں کہ خاندان کچھ افراد سے مل کر بنتا ہے اور یہ افراد ایک ہی گھر میں مل جل کر مختلف رشتوں میں جڑ کر اپنی اپنی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ رشتوں میں محبت اور خلوص ہوں تو وہ مضبوط کہلاتا ہے۔ البتہ یہ اسی وقت تک مستحکم اور مضبوط رہتا ہے جب تک اس میں رہنے والے افراد خلوص اور اپنائیت کے ساتھ رہتے ہیں۔ جس خاندان میں ہر فرد  اپنی اپنی ذمہ داری بخوبی نبھاتا ہے وہ خاندان خوش و خرم رہتا ہے۔ خاندان کی اہمیت کو سمجھیں اور ایک دوسرے کا احترام کریں۔
ترنم پروین محمد الیاس (مئو ناتھ بھنجن، یوپی)
نیک گمان رکھیں
خاندانی اقدار کو بر قرار رکھنے کیلئے اول کلیہ یہ ہے کہ خاندان کے افراد میں باہمی ربط و محبت پائی جاتی ہوں۔ ہر فرد دوسرے فرد سے متعلق نیک خیالات اور نیک گمان رکھےکیونکہ خاندان کے انتشار میں سب سے بڑی وجہ بدگمانی ہے۔ ہر فرد کا تعلیم یافتہ ہونا ضروری ہے تاکہ خاندان کے بڑے اور بزرگ خاص طور پر والدین بچوں کی نگہداشت کریں۔ ان کو کھانے پینے، رہنے سہنے، اپنی ضروریات کی تکمیل کے صحیح اور جائز طریقہ کار سمجھائیں اور اس پر عمل کرنے کی تاکید کریں اور خود بھی عمل کرکے بتائیں۔ والدین بچوں کو بزرگوں سے محبت کرنا سکھائیں، خود بھی بزرگوں سے جھڑک کر بات نہ کریں۔ ان باتوں کو اپنا کر ایک خوشحال خاندان کی بنیاد ڈالی جاسکتی ہے۔
شبنم محمد فاروق (گوونڈی، ممبئی)
معاف کرنا سیکھیں


خاندان، اس لفظ کی سماعت میں ہی مٹھاس ہے۔ یہ لفظ ہماری خود کی شخصیت کی تجدید کرتا ہے۔ خاندان میں اتحاد برقرار رکھنا کوئی آسان کام نہیں ہے مگر ہم اپنے اخلاق سے ثابت کرسکتے ہیں کہ یہ اتنا مشکل بھی نہیں ہے۔ دیکھا جائے تو بہت آسان ہے کیونکہ یہ ہمارے مذہب کا بنیادی اصول ہے جس میں محبت، انکساری اور درگزر کرنا جیسی صفات شامل ہیں، جسے ہم اپنا لیں تو خاندان متحد ہوجائے گا۔ سب سے مشکل کام ہے معاف کرنا، اگر ہم اس اصول پر عمل کریں تو زندگی آسان ہوجاتی ہے۔
مومن رضوانہ محمد شاہد (ممبرا، تھانے)
بڑائی سے پرہیز کریں
خدا نے انسان کو ایک معاشرت پسند فطرت کے ساتھ پیدا کیا جب ایک بچہ پیدا ہوتا ہے تو وہ ایک ناتواں بچہ ہوتا ہے۔ بچے کی پرورش بہترین سے بہترین ہو اس کیلئے ایک خاندان کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے خاندان کے ساتھ معاملات کرتے وقت اللہ سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ خاندان میں جو کمزور ہیں ہمیشہ ان کی مدد مشورہ سے، مال سے اور ہر اس طریقے سے کرنی چاہئے جس طرح بھی آپ کرسکتے ہیں۔ خاندان کے لوگوں کی غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہئے۔ چھوٹی بڑی باتوں پر بحث و تکرار نہیں کرنی چاہئے اور تمام خاندان والوں کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہئے بھلے ہی وہ حیثیت میں آپ سے کمتر ہوں، تکبر اور بڑائی سے پرہیز کرنا چاہئے۔
سعودیٰ اشرف (سلطان پور، یوپی)

نئی نسلیں خاندان کی ضرورت کو سمجھیں


اقوام متحدہ کے مطابق ایک اچھا خاندان ہی بہتر سماج کی تشکیل میں معاون ہوتا ہے۔ یہ دن یقینی طور پر ان تمام لوگوں کو فکر و احساس کا موقع فراہم کرتا ہے جو خاندان کی اہمیت کے منکر ہیں لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ خاندانی نظام کی اہمیت و افادیت اور اس کی اثر پذیری کےتعلق سے لوگوں کی ذہن سازی کی جائے۔ نئی نسلیں خاندان کی اہمیت اور ضرورت کو سمجھیں اور ایک مثالی خاندان کے ذریعے سماج کی بہتر تشکیل میں اہم کردار ادا کریں۔ اس دن کے لئے جو علامت منتخب کی گئی ہے وہ بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ
 ’’خاندان دُنیا کے مرکز میں ہے اور خاندان میں ہی محبت بسیرا کرتی ہے۔‘‘
فوڈکر ساجدہ (جوگیشوری، ممبئی)
تھوڑی بہت قربانی دینی چاہئے


 جب کوئی شخص اس جہاں میں آتا ہے تو اس کا خاندان اس کے نام کے ساتھ جڑا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں جتنا اچھا خاندان اتنا اچھا رہن سہن اتنی اچھی تربیت مگر آج کے دور میں خاندان اپنی اہمیت کھوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کو سنگل فیملی میں رہنا زیادہ پسند آ رہا ہے۔ اب لوگ پابندیوں میں رہنا پسند نہیں کرتے۔ لیکن سبھی کو خاندان کو متحد رکھنے کے لئے تھوڑی بہت قربانی دینی چاہئے۔ اپنے دلوں سے حسد نکال کر ایک دوسرے کی خوشی میں خوش ہونا چاہئے۔ جب ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے تو اور بھی زیادہ ترقی کریں گے۔ ایک دوسرے کا سہارا بن کر ایک دوسرے کو مضبوطی دے سکتے ہیں اور مستحکم رہ سکتے ہیں۔
ہما انصاری (مولوی گنج، لکھنؤ)
چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھنا چھوڑ دیں


آج کے دور میں مشترکہ خاندان کا رواج پروان چڑھ رہا ہے۔ متحد ہوکر ایک ساتھ رہنا تقریباً ہر فرد کے لئے ناممکن ثابت ہو رہا ہے لیکن متحد ہو کر رہنے میں ہی ہماری بھلائی ہے اس بات کو ہمیں سمجھنا چاہئے اور آنے والی نسلوں کو بھی اس کی اہمیت کا احساس کروانا چاہئے۔ کئی مضر عناصر ہے جو خاندان کو بکھیر کر رکھ دیتے ہیں اس لئے متحد ہو کر رہنے کیلئے درج ذیل باتوں کو اپنانا چاہئے: ٭ بزرگوں نے نئی نسلوں کو ان کی بات کہنے اور آزادی سے جینے کی اجازت دینی چاہئے۔ ٭ گھر کی خواتین کو ان کے مسئلے خود سلجھانے پر آمادہ کرنا چاہئے۔ ٭ چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھنے کے بجائے درگزر کرنا چاہئے۔ ، ان تدابیر سے خاندان مستحکم ہوگا۔
ڈاکٹر روحینہ کوثر سیّد (ناگپور، مہاراشٹر)
لعن طعن سے پرہیز کریں


خاندان کو متحد رکھنے کیلئے بلند اخلاقی قدروں کا وجود اور استحکام نہایت ضروری ہے۔ اختلافات پیدا ہونے کی صورت میں لعن طعن سے پرہیز کریں، اس سے گھر کا ماحول پیچیدہ ہو جاتا ہے۔ بدگمانی اور تجسس سے اجتناب کریں۔ جس خاندان کے افراد ایک دوسرے کے تئیں بد گمانی میں مبتلا رہتے ہیں وہاں شکوے جنم لیتے ہیں اور رشتے کمزور ہو جاتے ہیں۔ ایسا ہی معاملہ تجسّس کا بھی ہے۔ ہر وقت کسی کی ٹوہ میں لگے رہنا انتہائی برا عمل ہے۔ خاندان کو متحد رکھنے کیلئے خاندان کے تمام افراد کو وقت دینا اور ان سے گفتگو کرنا بہت اہم ہے۔ اس سے رشتوں میں پختگی آتی ہے۔ نیز منفی رویوں سے دور رہیں خاندان میں اتحاد کی فضا قائم ہو گی۔
انصاری طیبہ اسرار احمد ( بھیونڈی، تھانے)
خاندان کی اہمیت کو سمجھیں


عہد حاضر کی یہ تلخ حقیقت ہے کہ گاؤں کی مشترکہ تہذیب اور وہاں کی بہت ساری مثبت خاندانی روایت کے ساتھ ساتھ گاؤں کی رونق، شادابی، تازگی، شگفتگی اور رعنائیوں کو شہر کی چکا چوند نے نگل لیا ہے۔ گاؤں کی خاندانی تہذیبی رویات، اقدار اور روایات اب قصہ پارینہ بنتی جارہی ہے۔ مغربی تہذیب کے گھروں میں بہت ساری سہولیات میسر ہونے کے باوجود بھی خوشی اور اطمینان نصیب نہیں، جو کبھی مشترکہ خاندان کو حاصل تھا۔
 کاش! عالمی یوم ِ خاندان کی اہمیت و افادیت کو سمجھتے ہوئے مشترکہ خاندان کے تصور کو پھر سے زندہ کیا جائے اور گھر کے ہر ایک فرد پرسکون اور خوشحال زندگی جئیں۔
عابدہ خاتون محمد الیاس (مئوناتھ بھنجن، یو پی)
افراد ایک دوسرے کی عزت کریں


گھر وہی اچھا ہے کہ جب گھر کا کوئی بھی فرد مایوس و پریشان حال اپنے گھر پہنچے تو وہاں اس کو سکون ملے، محبت و احترام ملے، عزت ملے، راحت ملے اور تعاون ملے۔ یہاں تک کہ مایوسی کا اندھیرا اس کی زندگی سے چھٹ جائے اور امید کی روشنی اس کے دل کو منور کردے۔ ایسا تبھی ہوسکتا ہے جب خاندان کا ہر فرد متحد ہو کر نفاق سے پاک زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے۔ جہاں سازشی سرگرمیوں کا شائبہ تک نہ ہو۔ ایسے ماحول کے لئے خاندان کا متحد ہونا اشد ضروری ہے۔ خاندان کے ہر فرد کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی جانب سے دوسروں کی عزت افزائی اور حوصلہ افزائی کرے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرے۔
ناز یاسمین سمن (پٹنه، بہار)

women Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK