صبح سویرے یا شام کو پانی دیں تاکہ گرمی میں پانی بخارات بن کر ضائع نہ ہو۔ پانی کو پانی کب دیں؟
EPAPER
Updated: June 02, 2026, 2:16 PM IST | Mumbai
صبح سویرے یا شام کو پانی دیں تاکہ گرمی میں پانی بخارات بن کر ضائع نہ ہو۔ پانی کو پانی کب دیں؟
ماہرین کہتے ہیں کہ گرمی کے موسم میں پودوں کی خصوصی دیکھ بھال کرنی چاہئے کیونکہ سورج کی شعاعوںاورزیادہ گرمی کی وجہ سے ان کے پتوں کے مسام بند ہو جاتے ہیں، جس کی وجہ سے Photosynthesis (وہ حیاتیاتی عمل ہے جس کے ذریعے سبز پودے، کائی، اور کچھ بیکٹیریا سورج کی روشنی کو جذب کرکے پانی اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کو کیمیائی توانائی (گلوکوز) اور آکسیجن میں تبدیل کرتے ہیں) کا عمل صحیح طور پر نہیں ہوپاتا اور پودوں میں خوراک بنانے کا عمل متاثر ہوجاتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے پودوں اور لگائی گئی سبزیوں کو بھی سورج کی تپش سے بچانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودوں کو گرمی سے بچانا ضروری ہے تاکہ وہ تر و تازہ اور صحتمند رہیں۔ یہاں آسان طریقے بتائے جا رہے ہیں:
پانی صحیح وقت پر دیں
صبح سویرے یا شام کو پانی دیں تاکہ گرمی میں پانی بخارات بن کر ضائع نہ ہو۔ پانی کو پانی کب دیں؟ اس کا ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ اپنی انگلی کو مٹی کے درمیان میں رکھیں اور دبائیں، اگر یہ نم محسوس ہو تو پانی مت دیں۔ لیکن اگر آپ کے باغیچے میں کنٹینر پلانٹ موجود ہیں تو انہیں پانی تب دیں جب وہ آپ کو خشک محسوس ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: بچوں کو مطمئن، پُرسکون اور بااعتماد بنانے کی ضرورت
سایہ فراہم کریں
نرم پتوں والے پودوں کو دھوپ سے بچانے کے لئے شیڈ یا جالی کا استعمال کریں۔ کھجور کی چھال سے بھی پودوں کو سایہ فراہم کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح یہ پودے سورج کے نقصان دہ اثرات سے محفوظ رہیں گے۔ یاد رکھیں کہ دوپہر کی گرمی زیادہ نقصان پہنچاتی ہے اس لئے دوپہر کے وقت پودوں کو خاص طور پر سایہ فراہم کریں۔
مٹی کو نم رکھیں
گملوں کی مٹی کو زیادہ دیر تک نم رکھنے کے لئے ملچ (خشک پتے یا بھوسہ) کا استعمال کریں۔ اس کے علاوہ پودوں کی پتیاں پیلی ہونے لگیں تو فوری طور پر ان کی کاٹ چھانٹ کر دیں۔ اس عمل کے ذریعے پودے یا پھولوں کے دیگر حصوں کو انفیکشن سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
پتوں پر اسپرے کریں
گرم دنوں میں پتوں پر ہلکا پانی اسپرے کریں تاکہ نمی برقرار رہے۔
یہ بھی پڑھئے: ان مسائل کا حل والدین، اساتذہ اور معاشرہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے!
کھاد کا استعمال کم کریں
زیادہ کھاد گرمی میں پودوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لئے احتیاط سے استعمال کریں۔ زیادہ بہتر ہوگا کہ کھاد کا انتخاب کرنے سے قبل ماہرین باغبانی کی رائے لی جائے۔