Inquilab Logo Happiest Places to Work

حسنِ سلوک ہمسائیگی کے حقوق کا نہایت اہم حصہ ہے

Updated: June 02, 2026, 2:00 PM IST | Hina Farheen Momin | Mumbai

ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ محبت، نرمی اور خلوص سے پیش آنا چاہئے۔ سلام میں پہل کرنا، خیریت دریافت کرنا اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔

Inquiring about the well-being of neighbors and meeting them with good manners are the distinguishing qualities of a good neighbor. Photo: INN
پڑوسیوں کی خیریت دریافت کرنا اور خوش اخلاقی سے ملنا اچھے ہمسائے کی امتیازی خوبی ہے۔ تصویر: آئی این این

انسان فطرتاً ایک معاشرتی مخلوق ہے جو باہم مل جل کر رہنا پسند کرتا ہے۔ اسی انسانی فطرت کی وجہ سے معاشرے میں مختلف رشتوں کا وجود میں آئے لہٰذا انہی رشتوں کی کڑی میں ہمسائیگی یعنی پڑوسیوں کا رشتہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ ایک اچھا پڑوسی زندگی کو پرسکون اور خوشگوار بنا دیتا ہے جبکہ ایک برا پڑوسی زندگی کو مشکلات سے بھر سکتا ہے۔ اسی لئے ہمارے دین میں ہمسائیگی کے حقوق پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ احادیث میں یہاں تک مذکور ہے کہ حضرت جبرئیلؑ نے نبی کریمؐ کو پڑوسیوں کے حقوق سے متعلق اتنی تاکید کی کہ آپؐ کو گمان ہونے لگا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں بھی حصہ دیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھئے: دوسروں کی راہ روشن کرنے سے ہماری راہ بھی منور ہوتی ہے

حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ پڑوسی تین قسم کے ہیں: رشتہ دار مسلمان پڑوسی: اس کے تم پر تین حق ہیں پڑوسی کا، مسلمان کا اور صلہ رحمی کا۔ مسلمان پڑوسی: اس کے تم پر دو حق ہیں پڑوسی کا اور مسلمان کا۔ غیر مسلم پڑوسی: اس کا تم پر ایک یعنی پڑوسی ہونے کا حق ہے۔ آئیے ذیل کی سطور میں ہم اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمسائیگی کا حق کیسے ادا ہو؟

(۱)حسن اخلاق: ہمیں اپنے پڑوسیوں کے ساتھ محبت، نرمی اور خلوص سے پیش آنا چاہئے۔ سلام میں پہل کرنا، خیریت دریافت کرنا اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرنا نہ صرف ایک اچھی عادت ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کا بھی حصہ ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتیں جیسے مسکرا کر بات کرنا یا مدد کی پیشکش کرنا دلوں کو قریب لے آتی ہیں۔

(۲)باہمی تعاون: اگر پڑوسی بیمار ہو جائے تو اس کی عیادت کرنا، اگر اسے کسی چیز کی ضرورت ہو تو اس کی مدد کرنا، اور اگر وہ کسی مشکل میں ہو تو اس کے ساتھ کھڑے ہونا ایک اچھے انسان کی پہچان ہے۔ اسی طرح خوشی اور غمی کے مواقع پر بھی ان کے ساتھ شریک ہونا، جیسے شادی یا کامیابی پر مبارکباد دینا، یا دکھ اور صدمہ ملنے پر تعزیت کرنا تعلقات کو مزید مضبوط بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایثار ایک مہذب اور کامیاب معاشرہ کی بنیاد ہے

(۳)رازداری اور عزت نفس کا خیال رکھنا: ہمیں اپنے پڑوسیوں کی نجی زندگی کا احترام کرنا چاہئے، ان کے رازوں کو افشا نہیں کرنا چاہئے اور نہ ہی ان کی برائی یا غیبت کرنی چاہئے۔ ایک اچھا ہمسایہ وہی ہوتا ہے جو قابلِ اعتماد ہو اور جس کے ساتھ انسان بے فکر ہو کر رہ سکے۔

(۴)برداشت اور درگزر: ہر انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، اس لئے اگر کبھی پڑوسی سے کوئی کوتاہی ہو جائے تو اسے معاف کر دینا چاہئے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرنا اور درگزر سے کام لینا تعلقات کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔

(۵)اذیت رسانی سے گریز: ایک اچھا ہمسایہ ہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کو کسی بھی قسم کی اذیت نہ پہنچائیں۔ شور شرابہ، اونچی آواز میں موسیقی چلانا، کچرا ان کے دروازے کے سامنے پھینکنا یا پارکنگ کے مسائل پیدا کرنا ایسے اعمال ہیں جو ہمسائیگی کے اصولوں کے خلاف ہیں۔ ہمیں ہمیشہ یہ سوچنا چاہئے کہ ہمارے کسی عمل سے ہمارے پڑوسی کو تکلیف تو نہیں ہو رہی۔

غیر مسلم پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک بھی ہمسائیگی کے حقوق کا نہایت اہم حصہ ہے۔ اسلام ہمیں صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر ہمارے پڑوسی غیر مسلم ہوں تو بھی ہمیں ان کے ساتھ محبت، احترام اور انصاف کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔ ان کے دکھ درد میں شریک ہونا، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنا ہمارے دین کی خوبصورتی کو ظاہر کرتا ہے۔ نبی کریمؐ نے ہمیشہ انسانیت، رواداری اور حسنِ سلوک کا درس دیا، جس میں مذہب کی بنیاد پر کوئی تفریق نہیں تھی۔ جس طرح کے حالات فی الحال ہمارے ملک میں ہیں کہ دلوں میں نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں ایسےوقت میں اس اصول پر عمل کرنا اور ضروری ہو جاتا ہے۔

مزید برآں، ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے پڑوسیوں کے بچوں اور بزرگوں کا بھی خیال رکھیں۔ بچوں کے ساتھ شفقت اور بڑوں کے ساتھ احترام کا برتاؤ ایک مہذب معاشرے کی علامت ہے۔ اسی طرح اگر پڑوسی مالی طور پر کمزور ہو تو اس کی خاموشی سے مدد کرنا بھی ایک اعلیٰ اخلاقی عمل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: گرمیوں میں بہتر صحت کے لئے پانچ بہترین عادتیں

اسلامی تعلیمات کے مطابق بہترین پڑوسی وہ ہے جس کے شر سے دوسرا محفوظ رہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا وجود دوسروں کیلئے سکون اور رحمت کا باعث ہونا چاہئے، نہ کہ پریشانی کا سبب۔

آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہم سائیگی کا حق ادا کرنا صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور دینی فریضہ بھی ہے۔ اگر ہر فرد اپنے پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھے تو معاشرہ محبت، امن اور بھائی چارے کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آج رشتوں کی پامالی کے اس دور میں جب لوگ ایک دوسرے سے دور ہوتے جا رہے ہیں، ہمیں پڑوسی کے اس رشتے کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔

لہٰذا ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے رویے بہتر بنائیں، دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا کریں اور ایک مثالی پڑوسی بننے کی کوشش کریں تاکہ ایک خوبصورت اور پُرامن معاشرہ تشکیل پا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK